شمالی بحر الکاہل میں اورکا وھیل پر ہونے والی ایک تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ کِلر وھیل مائیں اپنے بیٹوں کے لیے ایک بڑی قربانی دیتی ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ بیٹے کی پرورش ایک مادہ کلر وھیل کی اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کو کافی حد تک کم کر دیتی ہے۔
تحقیق کے مطابق بیٹوں کی پرورش ڈولفن کی نسل سے تعلق رکھنے والی ان وھیلز کی صحت کو متاثر کرتی ہے جس کی وجہ سے ان کو مستقبل میں اولاد پیدا کرنے اور ان کی پرورش کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
یونیورسٹی آف ایکسٹر کے پروفیسر ڈیرن کروفٹ کا کہنا ہے کہ ’یہ مائیں اپنی خوراک اور توانائی قربان کرتی ہیں۔‘
یہ اورکا زندگی بھر خاندان سے قریبی تعلق رکھتی ہیں۔ تاہم جب مادہ اولاد نوجوان ہو جاتی ہے تو وہ آزاد ہو جاتی ہے جبکہ نر اولاد ماں پر انحصار کرتی ہے حتٰی کہ اپنی ماں کے شکار میں سے خوراک کے حصے کا بھی مطالبہ کرتی ہے۔
پروفیسر کروفٹ کہتے ہیں کہ اس تحقیق سے ان شاندار جانوروں کی خاندانی اور معاشرتی طور پر پیچیدہ زندگیوں کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔
دہائیوں پر محیط یہ تحقیق حال ہی میں جرنل کرنٹ بائیولوجی میں شائع ہوئی ہے جس کا مقصد مادہ کلر وھیل کو سمجھنا ہے۔
اس تحقیق کو سینٹر فار وھیل ریسرچ نے ممکن بنایا جس کے تحت 40 سال سے زیادہ عرصے تک جنوبی ریزیڈنٹ کہلائے جانے والی کلر وھیلز کے غول کا پیچھا کیا گیا۔
1976 تک اس سینٹر نے کلر وھیلز کی اس آبادی کا حساب رکھا ہے جس نے سالوں پر محیط اس تحقیق میں کئی نسلوں کے پیچیدہ رویے اور خاندانی تعلق کی جانچ ماہرین کے لیے ممکن بنائی۔
سائنس دانوں نے 1982 سے 2021 تک 40 مادہ اورکا وھیلوں کی زندگی کا جائزہ لیا اور ان کو معلوم ہوا کہ ہر بیٹے کی پیدائش پر ماں کا ایک اور اولاد پیدا کرنے کا امکان کم ہو گیا۔
یونیورسٹی آف ایکسٹر کے ڈاکٹر مائیکل ویز کا کہنا ہے کہ پرانی تحقیق میں معلوم ہوا تھا کہ بیٹوں کے زندہ رہنے کا امکان بھی اس صورت میں بڑھ جاتا ہے اگر ان کی ماں ان کے پاس رہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم یہ جاننا چاہتے تھے کہ ماں کی یہ مدد کس قیمت پر ملتی ہے اور اس کا جواب یہ ہے کہ مادہ وھیل اپنے بیٹوں کو زندہ کھنے کے لیے مستقبل میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت کی قربانی دیتی ہے۔‘
کلر وھیل کے خاندان
وینکوور اور سیئیٹل کے درمیان موجود اس وھیل آبادی پر جاری تحقیق کو ڈاکٹر کین بالکومب نے شروع کیا تھا۔
اس وقت وہ چاہتے تھے کہ اس جانور کو درپیش خطرات کا جائزہ لیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
کیا آپ کو معلوم ہے کہ وھیل کی قے کروڑوں روپے میں کیوں فروخت ہوتی ہے؟
وھیل جو ’ہیلو‘ اور ’بائی بائی‘ کہہ سکتی ہے
مصر میں چار ٹانگوں والی ایک قدیم وھیل کی دریافت، جو خشکی پر چل اور اور پانی میں تیر سکتی تھی
اس سوال کا جواب جاننے کی کوشش میں ایسی معلومات حاصل ہوئی ہیں جو دہائیوں کے کام کے بعد ہی حاصل ہو سکتی تھیں۔
اس دوران سائنس دانوں نے کلر وھیل دادیوں کے کردار کو بھی جانا اور ان کو یہ بھی علم ہوا کہ اس جانور کی مادہ انسانوں کی طرح اپنی پیداواری صلاحیت زندگی کے دوران ہی کیوں کھو دیتی ہے۔
سائنس دان یہ بات تو پہلے ہی جان گئے تھے کہ مائیں اپنے بیٹوں کی جوانی تک ان کے ساتھ ہی گھومتی رہتی ہیں۔
پروفیسر کروفٹ بتاتے ہیں کہ ایک جانب جہاں مادہ وھیل بڑی ہونے کے بعد خودمختار ہو جاتی ہے اور اپنا شکار خود کرتی ہے، نر جانور کو اس کی ماں شکار کے بعد مچھلی تک خود کھلاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایک ماں اپنے بیٹے کو اس آبادی میں سب سے بڑا نر بنانے کے قابل ہو جائے، تو اس کا بیٹا ہی پھر اگلی نسل کا باپ بنے گا۔
یہ ایک پیچیدہ سی بات لگتی ہے کہ اتنا طاقت ور اور ذہین جانور اپنی زندگی کے اہم حصے میں اپنی ماں پر تکیہ کرتا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ نر جانور کو خودمختار ہونے کا موقع ہی نہیں ملتا کیوں کہ ان کی مائیں ہر وقت ان کے ساتھ رہتی ہیں۔
پروفیسر کروفٹ نے مذاق کیا کہ ’اگر میری ماں روز میرے لیے رات کا کھانا پکائے تو شاید میں خود کھانا پکانا نہیں سیکھوں گا۔‘
تاہم بلاواسطہ طریقے سے دیکھیں تو اس میں ماں کا بھی ایک فائدہ ہے۔
ان کلر وھیل کی آبادی صرف 73 جانوروں پر مشتمل ہے اس لیے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ ان کو کیسے محفوظ رکھا جائے۔
پروفیسر کروفٹ کہتے ہیں کہ ان جنوبی ریزیڈنٹ کلر وھیل کی آبادی معدومیت کا شکار ہے اس لیے مادہ کی پیداواری صلاحیت کم ہونا ایک تشویش ناک امر ہے۔