سٹار شپ: کیا ایلون مسک کا طاقت ور ترین خلائی راکٹ مریخ تک پہنچ سکے گا؟

بی بی سی اردو  |  Feb 10, 2023

امریکی ارب پتی ایلون مسک کی کمپنی سپیس ایکس نے ایک نئے راکٹ سسٹم کا ٹیسٹ کیا ہے جو تاریخ میں سب سے طاقت ور راکٹ سسٹم بننے کی اہلیت رکھتا ہے۔

سٹار شپ نامی اس راکٹ سسٹم کے 33 انجنوں میں سے 31 کو اکھٹے اس سٹیٹک ٹیسٹ کے دوران چلایا گیا۔

اس ٹیسٹ کے دوران، جو صرف چند سیکنڈ پر محیط تھا، تمام چیزوں کو اس طرح جوڑ کر رکھا گیا کہ کوئی حرکت ممکن نہ ہو سکے۔

سپیس شپ کا پہلا خلائی سفر آئندہ چند ہفتوں میں ممکن ہو سکتا ہے تاہم اس سے قبل سپیس ایکس جمعرات کو ہونے والے ٹیسٹ کے نتائج کا جائزہ لے گی۔

یہ ٹیسٹ امریکہ اور میکسیکو کی سرحد کے قریب بوکو چیکا نامی مقام پر کیا گیا جہاں سپیس ایکس نے تحقیقی مرکز قائم کر کھا ہے۔

اس ٹیسٹ کے بعد ایلون مسک نے ٹوئٹر پر بیان دیا کہ ٹیم نے ایک انجن خود ہی ٹیسٹ سے قبل بند کر دیا تھا جبکہ ایک انجن خود بند ہوا جس کی وجہ سے 33 میں سے 31 انجن چلائے گئے۔

انھوں نے کہا کہ خلا تک رسائی کے لیے یہ تعداد بھی کافی ہے۔

واضح رہے کہ اتنے زیادہ انجنوں کی تعداد ہی اس راکٹ نظام کی خصوصیت ہے۔

اس سے قریب تر نظام 1960 میں سوویت یونین کا این ون راکٹ تھا جسے خلابازوں کو چاند تک پہنچانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

اس راکٹ میں بھی 30 انجن تھے جن کو دو دائروں میں ترتیب دیا گیا تھا۔ تاہم این ون راکٹ کو چار بار خلا میں بھیجنے کی کوشش ناکام ہوئی تو اسے منسوخ کر دیا گیا۔

سپیس ایکس کا یہ سپر ہیوی بوسٹر اپنے 33 جدید یونٹس کے ساتھ این ون کی نسبت 70 فیصد زیادہ تھرسٹ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا نیا میگا راکٹ سپیس لانچ سسٹم، جو نومبر میں پہلی بار خلا میں بھیجا گیا تھا، بھی سپیس ایکس کے سٹار شپ کی صلاحیت کے سامنے کچھ نہیں۔

ایلون مسک کو اس راکٹ سے بہت امیدیں ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اسے لوگوں اور سیٹلائیٹس کو خلا میں بھیجنے کے لیے استعمال کیا جائے۔

https://twitter.com/elonmusk/status/1623822130197708802

ناسا پہلے ہی سپیس ایکس سے ایک ایسے راکٹ نظام کی تیاری کے لیے رابطہ کر چکا ہے جو آرٹیمس پروگرام کے تحت خلا بازوں کو ایک بار پھر چاند کی سطح پر اتار سکے۔

ایلون مسک بذات خود اپنی توجہ مریخ پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اس دور دراز سیارے تک رسائی اور آبادی کا قیام ان کا دیرینہ خواب ہے۔

تاہم اگر سٹار شپ کو فعال بنا لیا گیا تو یہ ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے جس کی وجہ صرف وہ حجم ہی نہیں جسے یہ خلا تک لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس راکٹ کی ایک اور اہم چیز یہ ہے کہ اس کا تصور اسے دوبارہ استعمال کے قابل بناتا ہے جس کے تحت سپر ہیوی بوسٹر اور اس کے اوپر نصب جہاز، دونوں زمین پر واپس آ سکیں گے اور دوبارہ خلا میں بھجوائے جا سکیں گے۔

جس کا مطلب ہے کہ سٹار شپ کسی ایئر لائن کی طرح کام کرے گا اور صرف ایک بار راکٹ استعمال نہیں ہو گا جس سے طویل المدتی دورانیے میں پیسے کی بچت بھی ہو گی۔

اس وقت سپیس ایکس یہ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس راکٹ کے تمام انجن کیوں نہیں چل سکے۔

اس ٹیسٹنگ کے دوران لانچ پیڈ کو پہنچنے والے نقصان کا بھی جائزہ لیا جائے گا کیوں کہ اس سے پہلے چھوٹے حجم کے انجن نیچے کنکریٹ کی سطح کو توڑ چکے ہیں جس کی مرمت کرنا پڑی تھی۔

ایلون مسک نے فروری یا مارچ میں سٹار شپ کے ذریعے خلائی سفر کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ تاہم حالیہ ٹیسٹ کے لیے راکٹ کے اوپر والے حصے، جسے شپ یا ’اپر سٹیج آف راکٹ‘ کہا جاتا ہے، کو ہٹا دیا گیا تھا تاکہ کوئی نقصان نہ پہنچے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More