Getty Images
یہ سطریں پڑھتے ہوئے آپ کا جسم کیسا ہے؟ سیدھا یا جھکا ہوا؟ اور آپ کا چہرہ، کیا یہ آرام دہ ہے یا تیوریاں چڑھی ہوئی ہیں؟
ہمارے انداز اور ہمارا چہرہ ہمارے دماغ کو اہم اشارے بھیجتا ہے، اور یہ وہ معلومات ہیں جن پر ہمارا دماغ جواب دیتا ہے، جیسا کہ ہسپانوی نیورو سائنس دان نازاریتھ کاسٹیلانوس نے وضاحت کی ہے۔ وہ نیراکارا-لیب لیبارٹری کی محققہیں۔
وہ کہتی ہیں ’اگر میرے چہرے پر غصے کے تاثرات ہیں، تو دماغ اس سے اخذ کرتا ہے کہ یہ چہرہ غصے کے لیے مخصوص ہے اور اس لیے وہ غصے کے میکانزم کو متحرک کرتا ہے۔‘
اسی طرح، ’جسم اداس ہونے کے لیے مناسب انداز رکھتا ہے، تو دماغ اداس ہونے کے مخصوص اعصابی میکانزم کو متحرک کرنا شروع کر دیتا ہے۔‘
ہمارا دماغ باقی جسم کے ساتھ اس سے کہیں زیادہ طریقوں سے رابطہ کرتا ہے جتنا پہلے سوچا گیا تھا۔ اور سائنسدان کے بقول’ ہمارے پاس صرف پانچ حواس نہیں ہیں، لیکن ہمارے پاس سات ہیں‘۔ اور پانچ مشہور حواس، ذائقہ، بو، وغیرہ دماغ کے لیے سب سے کم اہم ہیں۔‘
بی بی سی منڈو نے نازاریتھ کاسٹیلانوس سے اس بارے میں بات کی کہ کس طرح انداز اور چہرے کے تاثرات دماغ پر اثر انداز ہوتے ہیں، مسکراہٹ کی طاقت کیا ہے، اور ’جسم کی سرگوشیاں‘ سننے کے لیے کیا سیکھنا چاہیے:
آپ نے انداز اور دماغ کے درمیان تعلق کی تحقیقات کیسے شروع کی؟
میں نے 20 سال صرف دماغ پر تحقیق کرنے کے بعد نیورو سائنس پر دوبارہ غور کرنا شروع کیا۔ مجھے یہ بات عجیب لگ رہی تھی کہ انسانی رویے کو صرف ایک عضو سے سہارا ملتا ہے، یعنی دماغ، جو کہ سر میں تھا۔
اس سے پہلے میں نے دماغ پر آنت جیسے اعضا کے اثرات کا مطالعہ شروع کر دیا تھا۔ اور یہ پایا کہ دماغ کے لیے یہ ایک جیسا نہیں ہو سکتا کہ میرا جسم جھکا ہوا ہو یا میرا جسم سیدھا ہو۔
چنانچہ میں نے تحقیق کرنا شروع کی، یہ دیکھنے کے لیے کہ سائنسی ادب کیا کہتا ہے؛ میں نے ایسی چیزیں دریافت کیں جو مجھے بالکل حیران کن لگ رہی تھیں اور میں نے سوچا، یہ سب کو معلوم ہونا چاہیے۔
پھر کیا آپ ہمیں بتا سکتی ہیں کہ انداز کیوں اہم ہے اور یہ دماغ کو کیسے متاثر کرتا ہے؟
اہم بات یہ سمجھنا ہے کہ نیورو سائنس اب تسلیم کرتی ہے کہ ہمارے پاس سات حواس ہیں۔
سکول میں ہمیں ہمیشہ یہ سکھایا جاتا ہے کہ ہمارے پاس پانچ ہیں: بو، نظر، سماعت، لمس اور ذائقہ، جو کہ ایکسٹروسیپشن کے حواس ہیں، یعنی بیرونی اور یہ بہت علامتی ہیں، کیونکہ اب تک سائنس انسان کے بیرونی ماحول کے ساتھ تعلقات کا مطالعہ کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔
اب نیورو سائنس نے تقریباً پانچ سال سے کہا ہے کہ ان کو بڑھانا ہے۔ ہمارے پاس صرف پانچ حواس نہیں ہیں، ہمارے پاس سات ہیں۔ اور یہ پتہ چلتا ہے کہ خارجی پانچ حواس سب سے کم اہم ہی جبکہ داخلی حواس زیادہ اہم احساس ہیں۔
Getty Imagesانٹرو سیپشن یا داخلی حواس کا کیا مطلب ہے؟
یہ وہ معلومات ہیں جو دماغ تک پہنچتی ہیں کہ جاندار کے اندر کیا ہوتا ہے اور اعضا کے اندر کیا ہو رہا ہے۔
ہم دل، سانس، معدہ، آنت کی بات کر رہے ہیں۔ یہ نمبر ون سینس ہے کیونکہ جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ وہی ہوتا ہے جسے دماغ سب سے زیادہ اہمیت دے گا، یہ دماغ کے لیے ترجیح ہے۔
اور دوسری ترجیح پروپیوسیپشنیعنی جسم کی پوزیشن اور حرکت کا ادراک یا احساس، وہ معلومات جو دماغ تک پہنچتی ہیں کہ ہمارا جسم باہر سے کیسا ہے انداز، تاثرات اور احساسات جو ہمارے پورے جسم میں ہیں۔
مثال کے طور پر، جب ہم گھبرا جاتے ہیں تو آنت میں ہونے والی حسیں، یا گلے میں ایک گانٹھ، یا جب ہم تھکے ہوئے ہوتے ہیں تو آنکھوں کا بوجھل ہونا۔ پروپیوسیپشن دوسرا سب سے اہم احساس ہے۔ اور پھر باقی کے پانچ حواس آتے ہیں۔
انٹرو سیپشن اور پروپیوسیپشن دماغ کے لیے اول اور دوم حواس ہونے سے کیا مراد ہے؟
یہ تو پہلے سے ہی معلوم تھا کہ دماغ کو یہ جاننا ہوتا ہے کہ پورا جسم کیسا ہے، لیکن اس سے پہلے اسے غیر فعال معلومات سمجھا جاتا تھا، اب تبدیلی یہ ہے کہ یہ ایک باقاعدہ احساس ہے۔ یعنی ایک احساس کے جو معلومات دماغ حاصل کرتا ہے اسے اس کا جواب دینا ہوگا۔
اب اس بات کا انحصار اس بات پر ہےکہ کیا ہو رہا ہے، دماغ کو کسی نہ کسی طریقے سےردِ عمل دینا ہوتا ہے اور یہ ایک بڑی تبدیلی ہے۔
دماغ کے کس حصے میں ہم اپنے انداز اور تاثرات کو محسوس کرتے ہیں؟
ہمارے دماغ میں ایک ایسا حصہ ہوتا ہے جو اس ہیڈ بینڈ جیسا ہوتا ہے جس سے آپ اپنے بالوں کو باندھ کے رکھتے ہیں۔ اسے سوماٹوسینسری کورٹیکس کہا جاتا ہے ، اور دماغ کا یہ حصہ ہمارے جسم کی نمائندگی کرتا ہے کہ ہمارا جسم کیسا ہے۔
سوماٹوسینسری کورٹیکس کی دریافت 1952 میں ہوئی تھا اور سائنسدانوں کا خیال تھا ہمارے جسم کا کوئی حصہ جتنا بڑا ہوتا ہے، دماغ کے حصے میں اس کے لیے مخصوص نیورونز کی تعداد بھی اتنی زیادہ ہوتی ہے۔
اس مناسبت سے سائنسدانوں کا خیال تھا کہ ہمارے دماغ میں سب سے زیادہ نیورون ہماری کمر سے متعلق ہوتے ہیں اور ہماری چھوٹی انگلی کے لیے سب سے کم نیوروز ہوتے ہیں۔
لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ ہوتا یہ ہے کہ ہمارا دماغ جسم کے کچھ حصوں کو زیادہ اہمیت دیتا ہے اور اس کا تعلق اس حصے کے حجم سے نہیں ہوتا۔
اس تحقیق کے نتیجے میں یہ سامنے آیا کہ ہمارا دماغ پورے جسم میں جس چیز کو زیادہ اہمیت دیتا ہے وہ ہمارا چہرہ، ہمارے ہاتھ اور ہمارے بیٹھنے کا انداز یا کمر ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ چونکہ ہمارے ہاتھ بہت اہم ہیں، اس لیے میری چھوٹی انگلی میں پوری کمر اور ٹانگ کے مقابلے میں سو گنا زیادہ نیورونز ہیں۔ جب ہم بولتے ہیں تو ہم اپنے ہاتھوں کا استعمال کر رہے ہوتے ہیں جس سے ہم دماغ کے ان حصوں کو زیادہ فعال کر رہے ہیں.
چہرے کے تاثرات دماغ کو کس طرح متاثر کرتے ہیں؟
ہمارے چہرے پر جو کچھ ہوتا ہے اسے دماغ بہت اہمیت دیتا ہے۔
کئی ایسی چیزوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے جو بہت اہم ہیں۔ ایک جانب یہ دیکھا گیا ہے جو لوگ گھورتے ہیں، جیسا کہ ہم اکثر موبائل فون دیکھتے ہوئے کرتے ہیں، اس سے ہم دماغ کے اس حصے کو چھیڑ دیتے ہیں جسے امیگڈلا کہا جاتا ہے۔ دماغ کی گہرائی میں واقع اس حصے کا تعلق ہمارےجذبات سے ہوتا ہے۔
یوں میں جب ناخوش ہوتی ہوں، تو میں اپنے امیگڈلا کو فعال کر رہی ہوتی ہوں۔ لہٰذا، اگر کوئی ذہنی تناؤ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے، تو میں زیادہ پرجوش ہو جاتی ہوں۔ یوں میرا ردعمل زیادہ ہوجاتا ہے کیونکہ میرے دماغ کا وہ حصہ پہلے ہی تیار بیٹھا ہے جو جذبات کو ابھارتا ہے۔ اگر مجھے غصے سے بچنا ہے تو ایسی صورت حال میں مجھے پرسکون رہنا چاہیے۔
لیکن اگر یہ حصہ پہلے سے ہی فعال ہے تو، جب تناؤ کی صورتحال آتی ہے تو یہ ہائپر ایکٹیو یا زیادہ متحرک ہوجائے گا، اور اس سے مجھے ہائپر ری ایکشن یا شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس حصے کو نرم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے، نا اُمیدی، ہمارے امیگڈلا کو تھوڑا سا غیر فعال کر دیتی ہے تو ہمیں آرام ملتاہے۔
ایک گفتگو میں آپ نے ایک دلچسپ تحقیق کا ذکر کیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ کیسے قلم کے ساتھ ایک دلچسپ مطالعہ کا ذکر کیا جس سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح ماتھے پر بل ڈالنے یا مسکراہٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم دنیا کو کیسے دیکھتے ہیں۔ اس بارے میں ہمیں مزید بتائیں۔
آنکھوں کے ارد گرد عضلات کے علاوہ دماغ کے لیے چہرے کا دوسرا اہم حصہ منہ ہے۔ ہم اس کی طاقت سے واقف نہیں ہیں، لیکن یہ طاقت بڑی یہ متاثر کن ہے.
اس تحقیق میں ہوا یہ تھا کہ ماہرین نے چند لوگ لیے اور ان کے منہ میں قلم دے دیے۔ وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ اس سے ان چہرے کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔
سب سے پہلے ان لوگوں کو قلم کواپنے دانتوں کے درمیان پکڑنا تھا۔ یوں کرتے ہوئے وہ مسکراہٹ کی نقل کر رہے تھے، لیکن مسکرائے بغیر، جو کہ ایک اہم بات تھی۔ ان کے سامنے کئی تصویریں لگائی گئیں اور ان سے پوچھا گیا کہ یہ منظر انھیں کتنا اچھا لگ رہا ہے۔
دیکھا گیا کہ ان کے دانتوں میں جتنا زیادہ قلم تھا، اس سے ان کی مسکراہٹ میں اضافہ نظر آ رہا تھا انھیں تصویریں اچھی لگ رہی تھیں۔
لیکن جب قلم ان کے ہونٹوں کے درمیان رکھا گیا ان کے چہرے پر غصے کی عکاسی ہونے لگی تو انھیں وہی تصاویر بری لگنے لگیں۔
یہ تحقیق 1980 کی دہائی میں کی گئی تھی، تاہم اس حوالے سے اب بہت زیادہ تحقیق ہو چکی ہے۔
مثال کے طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب ہم مسکراتے ہوئے لوگوں کو دیکھتے ہیں تو ہم زیادہ تخلیقی ہو جاتے ہیں اور ہماری علمی صلاحیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
جب ہم مسکرا رہے ہوتے ہیں یا ناخوش ہوتے ہیں تو دماغ کس طرح جواب دیتا ہے؟
جیسا کہ ہم نے کہا ہے، پروپریوسیپشندماغ کو ملنے والی معلومات ہوتیں ہیں جن کے جواب میں دماغ اپنا ردعمل ظاہر کرتا ہے۔
اگر میں اداس ہوتی ہوں، اگر مجھے غصہ آتا ہے، یا میں خوش ہوں، تو میرا چہرہ ان تمام جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر میرا چہرہ غصیلا ہے تو دماغ میں غصے والے عمل کو فعال کردیتا ہے۔ اسی طرح اگر دماغ یہ سمجھتا ہے کہ یہ چہرہ مسکراہٹ والا ہے تو وہ دماغ کے پُرسکون رہنے والے عمل کو فعال کر دیتا ہے۔
Getty Images
اس کا مطلب یہ ہے کہ دماغ ہمیشہ یہ کوشش کرتا ہے کہ دماغ اور جسممیں ہم آہنگی رہے۔
اور یہ ایک دلچسپ باتہے کیونکہ اگر میں اداس یا غصے میں ہوں، تناؤ کا شکار ہوں، اور میں اپنے چہرے سے یہ ظاہر کرتی ہوں کہ میں تو پرسکون ہوں تو ایسے میں کیا ہوگا؟ سب سے پہلے دماغ کہتا ہے کہ یہ چیز درست نہیں لگ رہی کیونکہ اصل میں تو یہ گھبرائی ہوئی ہے لیکن اس نے خود پر ایک پرسکون چہرہ چڑھایا ہوا ہے۔ ایسے میں میرا دماغکہتا ہے کہ میں خود کو اس خاتون کے چہرے کے مطابق بنانے کی کوشش کرتا ہوں۔
دوسرے الفاظ میں دماغ کہتا ہے کہ دیکھتا ہوں اس کے لیے میرے پاس کیا وسائل موجود ہیں۔
آپ نے ایک اور پہلو پر بھی بات کی جو جسم کا انداز ہے۔ آج کل جس طرح ہم لوگ موبائل پر جھکے رہتے ہیں، اس سے دماغ کیسے متاثر ہوتا ہے؟
تین ماہ پہلے کی ایک دریافت کے مطابق ہمارے دماغ کا ایک حصہ ایسا ہے جو خاص طور پر ہمارے جسم کی پوزیشن کو دیکھنے کے لیے وقف ہے۔
دیکھا یہ گیا ہے کہ ہم جس انداز میں بیٹھتے ہیں اس کا تعلق ہماری جذباتی کیفیت سے ہوتا ہے۔ مثلاً اگر میں اپنے بازؤں کو اوپر نیچے کرتی رہتی ہوں میرے دماغ کو معلوم نہیں ہوتا کہ آیا میں جذباتی کیفیت سے گزر رہی ہوں یا نہیں، کیونکہ جب ہم جذباتی ہوتے ہیں ہم عموماً ایسا نہیں کرتے۔
لیکن اس کے برعکس اگر ہمارے شانے اور سر جھکا ہوا ہو تو اس سے ظاہر ہو جاتا ہےکہ ہم اداس ہیں۔ ایسے میں دماغ کو ذہن اور جسم کی پوزیشن میں ہم آہنگی دکھائی دیتی ہے اور یہ چیز معمول کے مطابق لگتی ہے۔
Getty Imagesکیا یہاں آپ اس تحقیق کی جانب اشارہ کر رہی ہیں جو کمپیوٹر کے استعمال کے حوالے سے کی گئی ہے؟
جب ہم آگے کو جھکے ہوئے ہوتے ہیں تو اس سے ہماری جذباتی کیفیت اور یادداشت دونوں مثاتر ہوتی ہیں۔ اس حوالے سے ایک مشہور تجربہ کیا گیا تھا جب کچھ لوگوں کی آنکھوں کے نہایت قریب کمپیوٹر رکھے گئے اور ان کی نظروں کے سامنے سے کئی الفاظ گزارے گئے۔
آخر میں کمپیوٹر بند ہو جاتا ہے اور ان لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ کو کتنے الفاظ یاد ہیں۔ پھر کمپیوٹرز کو فرش پر رکھا گیا اور یہ تجربہ دہرایا گیا۔ اس تجربے میں لوگ آگے کو جھکنے پر مجبور ہو گئے۔
دیکھا گیا کہ جب جسم نیچے کو جھکا ہوتا ہے تو لوگوں کو کم الفاظ یاد رہتے ہیں، یعنی وہ یادداشت کی صلاحیت کھو دیتے تھے اور انھیں مثبت الفاظ کی نسبتمنفی الفاظ زیادہ یاد آتے ہیں۔
دوسرے الفاظ میں ، جب جب ہم اداس ہوتے ہیں، جب ہم علمی طور پر اتنے چاق و چوبند نہیں ہوتے ہیں اور ہم منفی پر زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں، تو ہمارا دماغ اداس ہونے کے اعصابی عمل کو فعال کرنا شروع کر دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
موت کا شعوری تجربہ کرنے والے لوگ جنھیں ’جسم میں واپس لوٹنے کا احساس ہوا‘
کچھ لوگ دائیں اور بائیں میں فرق کیوں نہیں کرپاتے؟
کمر درد کے بارے میں کب پریشان ہونا چاہیے اور کب نہیں؟
Getty Images
آخر سائنس ہمیں کیا بتا رہی ہے؟صاف ظاہر ہے سائنس ہمیں یہ تو نہیں کہتی کہ آپ آگے کو نہ جھکیںلیکن اگر ہم دن بھر اپنے جسم کی پوزیشن کے بارے میں باخبر رہیں تو ہممنفی جذبات سے بچ سکتے ہیں۔
مثلاً میں اکثر اپنے بیٹھنے اٹھنے کے انداز پر نظر رکھتی ہوں اور گاہے بگاہے خود کو یاد دلاتی ہوں کہ مجھے آگے کو جھک کر نہیں بیٹھنا۔ آپ آہستہ آہستہ اس پر کام کرتے رہتے ہیں اور اس غلط عادت کو کم کر دیتے ہیں۔.
لیکن اگر آپ کے پاس اپنے جسم کا مشاہدہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے تو، آپ گھنٹوں اسی طرح جھکے رہتے ہیں اور آپ کو احساس نہیں ہوتا ہے کہ آپ غلط کام کر رہے ہیں۔
پھر ہم اپنے جسم کی بات سننے کے لیے اپنی تربیت کیسے کر سکتے ہیں؟ آپ اکثر کہتی ہیں کہ جسم چیختا نہیں ہے، یہ سرگوشی کرتا ہے، لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ جسم کو کیسے سنا جائے؟
میں سمجھتی ہوں کہ یہ جاننے کے لیے کہ ہمارا جسم کیسا ہے، پہلی چیز یہ ہے کہ اس کا مشاہدہ کرنا سیکھیں۔ تحقیقت بتاتی ہے کہآبادی کے ایک بڑے حصے میں جسمانی شعور بہت کم ہے۔
مثال کے طور پر، جب بھی ہم کسی قسم کے جذبات کو محسوس کرتے ہیں تو کس حصے میں محسوس کرتے ہیں کیونکہ جسم کے بغیر جذبات محض ایک تصور ہے۔
ایسے تجربات کیے جا سکتے ہیں جن میں لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ جب آپ پریشان ہوتے ہیں تو آپ اپنے جسم میں اس احساس کو کہاں تلاش کریں گے؟ اکثر لوگ یہ بات نہیں جانتے کیونکہ وہ کبھی رک کے اپنے جسم کا مشاہدہ کرتے ہی نہیں۔
تو پہلی چیز یہ ہے کہ دن بھر یہ دیکھنا بند کریں کہ میرا جسم کیسا ہے؟ اور جب ہم کسی جذباتی کیفیت کو محسوس کریں تو ایک لمحے کے لیے رک جائیں اور سوچیں کہ میں اس جذباتی کیفیت کو جسم میں کہاں تلاش کروں؟ میں اس وقت جسم میں کیا محسوس کر رہا ہوں؟ یعنی اپنے جسم کا بہت زیادہ مشاہدہ کریں۔
اور کیا جسم کا شعور مشکل جذبات میں مدد کرتا ہے؟
مثال کے طور پر جب میں گھبراتی ہوں تو مجھے اپنے پیٹ میں کچھ محسوس ہوتا ہے یا گلے میں گلٹی محسوس ہوتی ہے۔ یہ سب میرے دماغ کو محسوس ہو رہاہوتا ہے۔ تاہم جب میں اپنے ان احساسات سےشعوری طور آگاہ ہوتی ہوں،تو دماغ تک پہنچنے والی معلومات واضح ہو جاتی ہیں، اور دماغ کو ایک قسم کے جذبات کو دوسری کیفیت سے الگ کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ لاشعوری سرگوشی ایک چیز ہے اور اسےالفاظ میں ڈھالنا دوسری چیز ہے۔
اور ہم ایسا تبھی کرتے ہیں جب ہمیں شعور ہوتا اور یہ شعور ہمیں اپنے جذبات پر قابو پانے میں مدد کرتا ہے۔جب ہم کسی قسم کے جذبات میں ملوث ہوتے ہیں، اگر ہم اس لمحے رک جائیں اور اپنی توجہ جسم کے احساسات کی طرف موڑ دیں تو اس سے ہمیں بہت سکون ملتا ہے۔
یہ خود کو سکون دینے کا ایک طریقہ ہے جس سے ہم دماغ میں پیدا ہونے والے گرداب کو روک سکتے ہیں۔ اسی چیز کو اپنے باڈی اویئرنیس یا اپنے جسم کا ادراک کہتے ہیں۔
سنہ 1990 کے عشرے میں ہمارے دور کے اعصابی نظام کے سب سے بڑے ماہر، انتونیو دماسیو نے ہمیں جسمانی ادراک کے بارے میں بتا دیا تھا۔ انھوں نے کئی تجربات کیے تھے جن میں دیکھا گیا تھا کہ وہ لوگ جنھیں اپنے جسم کا بہتر ادارک ہوتا ہے، وہ بہتر فیصلے کرتے ہیں۔
میری رائے میں، ایسا اس لیے ہے کیونکہ ایسا نہیں ہے کہ جسم آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کو کہاں جانا ہے، بلکہ یہ آپ کو بتاتا ہے کہ آپ اس وقت کہاں ہیں۔ اور اگر ہم ایک ایسی صورتحال میں ہیں جو پیچیدہ ہے اور اس میں جذبات بھی شامل ہیں تو میرے لیے یہ جاننا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے مجھے آگے کہاں جانا ہے۔
جذبات بہت پیچیدہ ہوتے ہیں اور اکثر ملے جلے ہوتے ہیں۔ کسی بھی قسم کے جذباتکو اپنی جسمانی کیفیت کی بجائے ذہن سے سمجھنا زیادہ مشکل کام ہے۔ لیکن، صاف ظاہر ہے کہ اس کے لیے ہمیں اپنی تربیت کرنا پڑتی ہے اور یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ تمام دن میں ہمارے جسم کی کیفیت کیا رہی۔ میں کب تھکا ہوا ہوں، کب خوش ہوں، کبھی میں نہ خوش نہ اداس ہوں، میں کب غصے میں ہوں، اور یہ جذبات میں جسم کے کس حصے میں محسوس کر رہا ہوں۔ اس سے ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنے میں بھی بہت مدد ملتی ہے۔
Getty Imagesجب ہم جھکے ہوئے ہوتے ہیں تو ہمیں سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔کیا آپ سانس لینے اور اس میں د ماغ کے کردار کے بارے میں کچھ بتا سکتی ہیں؟
سانس لینا ایک ایسا عمل جو مکمل طور پر ہمارے ہاتھوں میں ہے ، لیکن ہم جانتے نہیں کہ سانس لیتے کیسے ہیں۔
ہمارے اٹھنے بیٹھنے کے انداز یا ہماری پوزیشن اور سانس لینے کا عمل کا قریبی تعلق ہے۔ اگر آپ اپنی پوزیشن کا خیال رکھتے ہیں تو آپ اپنے سانس لینے کا خیال رکھتے ہیں۔ نیورواناٹومی کے مطابق سانس لینے سے ہماری یادداشت، توجہ اور جذبات کے انتظام پر اثر پڑتا ہے. لیکن ہمیں اس حوالے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ ہم سانس ناک سے لے رہے ہیں یا منھ سے۔
اگر ہم منھ کے ذریعے سانس لیتے ہیں، اور اکثر لوگ منھ سے سانس لیتے ہیں، تو اس سے ہمارا دماغ اتنا فعال نہیں ہوتا۔.
دماغ کو کام کرنے کے لیے ایک خاص ردھم یا تال کی ضرورت ہوتی ہےکیونکہ اس ردھم سے ہمارے جسم میں نیورونز پیدا ہوتے ہیں، باکل اسی طرح جیسے پیس میکر دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرتا ہے۔ لیکن اگر ہم اپنے منہ سے سانس لیتے ہیں، تو یہ تال میل کمزور پڑ جاتا ہے، اسی لیے ہمارا دماغ ناک سے سانس لینے کی ترغیب دیتا ہے۔
Getty Images
جب ہم سانس لیتے ہیں تو وہ لمحہ جس میں ہماری یادداشت سب سے زیادہ ہوتی ہے، یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جس میں ہم ناک کے ذریعے سانس لے رہے ہوتے ہیں۔
آہستہ سانس لینا کتنا اہم ہے؟
ہم نے حال ہی میں ایک تحقیق کا آغاز کیا ہے جس میں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ ریڑھ کی ہڈی کے درمیان پائی جانے والی ڈسک کی بیماری کے دوران آہستہ آہستہ سانس لینا کیوں بہتر ہوتا ہے۔
اور جذبات کے لیے اہم بات یہ ہے کہ سانس چھوڑنے، ہوا کو باہر نکالنے میں جو وقت لگتا ہے، وہ سانس لینے میں لگنے والے وقت سے زیادہ ہوتا ہے۔ دیکھو ہم اپنے جسم کے ساتھ کتنی اہم، کتنی چیزیں کر سکتے ہیں.
میں سمجھتی ہوں کہ ہمارا جسم وہ آلہ ہے جس سے ہماری زندگی کی آواز آتی ہے، لیکن یہ ایک ایسا آلہ ہے جسے ہم بجانا نہیں جانتے۔
ہمیں پہلے اسے جاننا اور سیکھنا ہوگا، اور پھر اسے چُھونا ہوگا۔