تربوز کو گرمیوں کا دشمن کہا جاتا ہے جس کا استعمال موسم گرما میں بڑھ جاتا ہے۔ آگے رمضان المبارک کی آمد ہے اور تقریباً ہر گھر میں افطاری کے اوقات میں تربوز کا استعمال کیا جائے گا۔
تربوز کے بہت سارے فائدے ہیں جیسے یہ پھل ڈی ہائیڈریشن سے محفوظ رکھتا ہے اور ساتھ میں پانی کی کمی کو بھی پورا کرتا ہے۔
تربوز کا استعمال کس بیماری میں نقصان کا سبب بن سکتا ہے؟
جیسا کہ پاکستان میں شوگر کے مریضوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ وہیں ذیابطیس کے مریضوں کے لیے تربوز کا زیادہ استعمال خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
طبی ماہرین کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ تربوز صحت کے لیے ایک بہترین پھل ہے مگر اس کا زیادہ استعمال شوگر کے مریضوں کے لیے نقصان کا باعث بنتا ہے۔
طبی و غذائی ماہرین کے مطابق ذیابطیس کے مریضوں کو تربوز کا استعمال دوسری غذاؤں کے ساتھ ملا کر کرنا چاہیے جن میں چکنائی، پروٹین اور فائبر کی مقدار بھی شامل ہو، اس عمل سے شوگر کے مریض کا پیٹ زیادہ دیر تک بھرا رہتا ہے اور خون میں مٹھاس کے جذب ہونے کی رفتار بھی سست ہو جاتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ تربوز میں پانی زیادہ ہونے کے سبب اس کا زیادہ استعمال صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے، لیکن وہیں غذائی ماہرین یہ بھی کہتے ہیں ذیابطیس کے مریض تربوز کو دیگر پھلوں اور سبزیوں کے ساتھ ملا کر کھا سکتے ہیں۔