اس زمانے میں برا سمجھے جانے کے باوجود نرسنگ کے شعبے میں کیسے آئیں؟ نرسنگ کو عزت بخشنے والی فلورنس نائٹ انگیل کی زندگی کی کہانی

ہماری ویب  |  Mar 26, 2020

نرسنگ جیسے نوبیل شعبے کو وقار بخشنے والی فلورنس نے 1820 میں جنم لیا۔ ان کا تعلق مالی طور پر ایک انتہائی مستحکم گھرانے سے تھا۔ والد زمیندار اور والدہ سیاسی اور سماجی میدان میں معروف اور نہایت متحرک خاتون تھیں۔

اس دور میں رواج ہوا کرتا تھا کہ ہر بچہ ابتدائی تعلیم گھر میں ہی حاصل کرے گا، فلورینس نے بھی بالکل ایسا ہی کیا، اس دوران انہوں نے دیکھا کہ ان کے والدین انسانیت سے محبت کرنے والے انتہائی رحم دل انسان ہیں۔ وہ سماج کے کمزور اور کم تر طبقے کی مدد اور ان سے تعاون کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی یہی درس دیتے ہیں۔ یہی جذبہ فلورنس کے اندر بھی پروان چڑھا۔ وہ نرم دل اور دوسروں کی مدد گار ثابت ہوئی۔ اس جذبے سے سرشار فلورنس کو ان کی سماجی خدمات کی وجہ سے دنیا بھر میں نہایت عزت اور احترام حاصل ہے۔

فلورنس نائٹ انگیل نے کئی ماہ تک ایک اسپتال میں مریضوں کی دیکھ بھال اور خدمت کی جس پر ان کے خاندان کی جانب سے انھیں اور ان کے والدین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ دنیائے طب میں نرسنگ کے شعبے کی بانی ہیں۔ فلورنس نے اس وقت اس شعبے کا چناؤ کرتے ہوئے مریضوں کی دیکھ بھال اور مرہم پٹی کرنے کا سلسلہ شروع کیا، انھوں نے دُکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا فرض سمجھا۔

یہ وہ زمانہ تھا جب عورتوں کا کام کرنا اور ان کے گھروں سے باہر رہنے کو اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ نرسنگ کے باقاعدہ شعبے کا تو تصور ہی نہیں تھا اور ایسے لوگوں کو حقیر اور معمولی کہا جاتا تھا۔

ان حالات میں کسی امیر گھرانے سے تعلیم یافتہ عورت کا یوں مریضوں کے ساتھ وقت گزارنا اور ان کی خدمت کرنا کیسے قابلِ قبول ہوتا، مگر فلورنس نائٹ انگیل نے ان سب کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ فلورنس نے صرف نرس کے طور پر کام نہیں کیا بلکہ ایک قابل اور پڑھی لکھی عورت ہوتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کیا اور اسپتالوں اور مریضوں سے متعلق معلومات جمع کیں اور صحتِ عامہ کے مسائل کو اجاگر کیا۔

انسانیت کی اس نوجوان مسیحا نے ہر رکاوٹ اور مشکل کو عبور کر کے نرسنگ کے شعبے کو باعزت اور قابلِ احترام بنایا۔

1910 میں وہ ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہوگئیں، مگر آج بھی ان کا جذبہ خدمت اور انسانوں سے ہمدردی کا درس انھیں سب کے دلوں میں زندہ رکھے ہوئے ہے۔

مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More