اِن دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس میں عراق کے سابق صدر صدام حسین عربی میں کچھ کہتے نظر آرہے ہیں۔
اس ویڈیو کی وضاحت پاکستانی صحافی سمیع ابراہیم نے کرتے ہوئے کہا کہ 'یہ بات کافی عجیب ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں عراق کے سابق صدام حسین جن کو امریکہ نے پھانسی دے دی تھی، وہ اپنی حکومت کی ایک میٹنگ میں کہہ رہے ہیں کہ امریکا نے ہمیں دھمکی دی ہے کہ ہماری بات نہ مانی گئی تو وائرس پھیلا دیں گے۔ عربی میں یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے'۔
سمیع ابراہیم کا کہنا ہے کہ 'چین کے شہر ووہان میں پھیلنے والا وائرس امریکا سے آیا ہے۔ چین نے اس وائرس کو پیدا نہیں کیا جس کے بعد یہ بحث شروع ہو گئی کہ کیا یہ واقعی کوئی بائیولوجیکل ہتھیار تھا یا کوئی تجربہ تھا جو بگڑ گیا'۔
تاہم اس ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملے جلے تاثرات سامنے آرہے ہیں۔
ایک صارف کا کہنا تھا کہ 'یہ ویڈیو میں موجود آواز صدام حسین کی نہیں لگتی'۔
دانش پیرزادہ نامی ایک صارف نے کہا کہ 'جس کورونا نام کے وائرس کا ذکر محترم صدام حسین کر رہے تھے ان کی وہ بات آج سچ ثابت ہو رہی ہے'۔