چین سے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک تک پہنچ جانے والے مہلک کورونا وائرس کی تا حال ویکسین موجود نہیں، مگر اس کی علامات پر قابو پا کر مریض کو اس وائرس سے بچایا جا سکتا ہے۔
اس وائرس سے اب تک 82 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے جن میں سے 32 ہزار افراد صحت یاب بھی ہو گئے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص پہلے اس وائرس کا شکار ہو کر ٹھیک ہو گئے ہیں تو کیا وہ دوبارہ کورونا وائرس کا شکار تو نہیں ہو سکتے؟
جاپان کے شہر اوساکا کی رہائشی ایک خاتون ایک بار پھر نئے جنم لینے والے کورونا وائرس کووڈ 19 کا شکار ہو گئی ہیں اس سے قبل وہ اس وائرس میں مبتلا ہو کر علاج کے بعد صحت یاب ہو گئی تھیں۔
40 سالہ خاتون مریضہ نے بدھ کے روز ٹیسٹ کروایا تھا جس میں ان کی رپورٹ کلیئر آئیں تھیں۔
مگر 19 فروری کو وہ گلے اور سینے میں درد کی شکایت لے کر ڈاکٹروں کے پاس آئی، مگر اسے گھر واپس بھیج دیا گیا۔
تاہم 21، 22 اور 25 فروری کو یہ خاتون 3 بار ڈاکٹروں کے پاس چیک اپ کروانے سینے میں درد کی شکایت لے کر گئیں تو 26 فروری کو معلوم ہوا کہ یہ خاتون دوبارہ اس مہلک وائرس کا شکار ہو گئیں۔
تا حال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ خاتون دوسری بار اس وائرس کا شکار کیسے ہوئی ، جاپان میں یہ اس طرح کا پہلا کیس ہے مگر رائٹرز کے مطابق اس طرح کے کیسز پہلے بھی سامنے آ چکے ہیں۔
کورونا وائرس سے بہت سے افراد ٹھیک ہو جاتے ہیں مگر اس وائرس کے لوٹنے کے امکانات دوبارہ ہو سکتے ہیں۔ طبی ماہرین اس وائرس کو جڑ سے مٹانے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔