کیا رابن ہُڈ ایک ہیرو نہیں لٹیرا تھا؟

بی بی سی اردو  |  Jun 29, 2026

Getty Images’رابن ہڈ‘ صدیوں سے دنیا بھر میں ایک مقبول کردار رہا ہے

’رابن ہڈ‘ صدیوں سے دنیا بھر میں ایک مقبول کردار رہا ہے۔ اس کی کہانی 12ویں صدی میں شروع ہوئی اور وہ وقت کے ساتھ ایک ایسے ہیرو میں بدل گیا جو امیروں سے مال و دولت چھین کر غریبوں میں بانٹتا تھا۔

خاص طور پر بچوں کے لیے بنائی گئی فلموں اور کہانیوں نے رابن ہڈ کو ایک بہادر، نیک دل اور خوش مزاج کردار کے طور پر پیش کیا۔

لیکن اب فلم ساز اس مشہور کردار کے ایک مختلف اور نسبتاً ’تاریک پہلو‘ کو سامنے لا رہے ہیں۔

ہدایت کار اور مصنف مائیکل سارنوسکی اپنی نئی فلم ’دی ڈیتھ آف رابن ہڈ‘ میں اس کردار کو ایک نئے انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم کی تیاری کے دوران انھوں نے اداکاروں اور عملے کو سنہ 1973 کی ڈزنی کی مشہور اینی میٹڈ فلم ’رابن ہڈ‘ بھی دکھائی، جو ان کی پسندیدہ فلموں میں سے ایک ہے۔

اس کلاسک فلم میں رابن ہڈ کو ایک چالاک اور دلکش لومڑی کے روپ میں دکھایا گیا تھا، جو سبز ٹوپی اور پر پہنے امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی مدد کرتا ہے۔ یہ کردار ہلکے پھلکے مزاح اور مہم جوئی سے بھرپور تھا۔

تاہم نئی فلم کا ماحول اس سے بالکل مختلف ہے۔ ’دی ڈیتھ آف رابن ہڈ‘ ایک سنجیدہ اور جذباتی کہانی ہے، جس میں رابن ہڈ کو ایک عمر رسیدہ اور جنگوں سے تھکا ہوا انسان دکھایا گیا ہے۔

فلم میں ہیو جیک مین رابن ہڈ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا رابن ہڈ اب نوجوان اور بے فکر نہیں بلکہ ایک ایسا شخص ہے جو زندگی کے آخری حصے میں اپنے فیصلوں، اپنی جدوجہد اور اپنی شہرت کے بارے میں سوچتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ لوگ اسے ایک ہیرو تو سمجھتے ہیں، لیکن اس کے اندر ایک عام انسان کی کمزوریاں اور پچھتاوے بھی موجود ہیں۔

تنبیہ: اس مضمون میں تشدد کی ایسی تفصیلات شامل ہیں جو بعض قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

جب رابن ہڈ کا سامنا ایک ایسی خاتون سے ہوتا ہے جو اسے انصاف کے محافظ اور نیک کردار ہیرو کے طور پر بیان کرتی ہے، تو وہ اپنی شناخت سے انکار کر دیتا ہے اور اپنے بارے میں تیسرے شخص کے انداز میں بات کرتا ہے۔

وہ کہتا ہے کہ ’وہ کوئی ہیرو نہیں تھا۔ وہ صرف اپنے سکون کے لیے لوٹ مار کرتا اور لوگوں کو قتل کرتا تھا، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔‘

حقیقت یہ ہے کہ رابن ہڈ کا یہ پرتشدد روپ اور اس کردار کی نئی تشریح اس کی روایتی ہیرو والی شبیہ پر سوال اٹھاتی ہیں۔ یہ قرونِ وسطیٰ کی اصل کہانیوں کے زیادہ قریب ہیں، بنسبت اس مقبول تصور کے جو آج زیادہ تر لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے۔

Getty Imagesرابن ہڈ کو ہمیشہ ایک ایسے روپ میں دکھایا گیا کہ جو سبز ٹوپی اور پر پہنے امیروں سے دولت لے کر غریبوں کی مدد کرتا ہے۔

صدیوں کے دوران رابن ہڈ کے کردار کی پیشکش مسلسل بدلتی رہی ہے اور ہر تبدیلی اس دور کی عکاسی کرتی ہے جس نے اس کہانی کو نئے انداز میں بیان کیا۔

اکیسویں صدی میں سامنے آنے والی یہ نسبتاً تاریک تشریح ایک طرف تو اس کردار کی تاریخ کی طرف واپس جاتی ہے، لیکن ان کے تخلیق کاروں کے مطابق یہ آج کے دور کے مسائل اور خیالات کی بھی نمائندگی کرتی ہیں۔

رابن ہڈ کے کردار کی یہ پیچیدہ اور مختلف شکلیں ایک ایسی دنیا کو چیلنج کرتی ہیں جہاں ہیروز اور ولن کو عموماً مکمل طور پر اچھا یا مکمل طور پر برا سمجھا جاتا ہے اور یہی سب رابن ہڈ کی کہانی کے ساتھ بھی ہوا ہے۔

رابن ہُڈ کون تھا؟

اگرچہ رابن ہڈ کے حقیقی وجود کے بارے میں بہت سی قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں، لیکن بیشتر مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ اس کردار کے پیچھے کوئی ایک حقیقی شخص موجود نہیں تھا۔ دراصل یہ کردار ایک ایسے معاشرے کی پیداوار تھا، جہاں ایک طرف طاقتور جاگیردار تھے اور دوسری طرف غریب کسان اور اسی عدم مساوات نے اس کہانی کو جنم دیا۔

رابن ہڈ کی داستانیں 12ویں صدی میں زبانی روایات کے طور پر شروع ہوئیں، لیکن ان کا پہلا تحریری ذکر دو صدیوں بعد لوک گیتوں اور کہانیوں میں ملتا ہے، جہاں وہ پہلے ہی ایک معروف شخصیت کے طور پر پیش کیا جا چکا تھا۔

ان ابتدائی تحریری روایات میں رابن ہڈ وہ معزز ’سر رابن آف لاکسلی‘ نہیں تھا، جسے بعد کی کہانیوں میں دکھایا گیا۔ وہ کوئی رئیس یا نواب نہیں بلکہ ایک خوش حال کسان طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص تھا۔

اسی طرح رابن ہڈ کی محبوبہ ماریان کا کردار بھی اصل کہانیوں میں موجود نہیں تھا۔ وہ 16ویں صدی میں جا کر اس داستان کا حصہ بنی۔ اگرچہ رابن ہڈ غریبوں کے ساتھ ہمدردی رکھتا تھا لیکن ان کی مدد کرنا اس کا بنیادی مقصد نہیں تھا۔

اس کے اصل دشمن بدعنوان مذہبی رہنما اور وہ جاگیردار تھے جو اپنے ماتحت لوگوں پر ظلم کرتے تھے۔

سنہ 2025 میں شائع ہونے والے اپنے ناول ’دی ٹریٹر آف شیرووڈ فاریسٹ‘ کے اختتامی نوٹ میں قرونِ وسطیٰ کی تاریخ کی ماہر ایمی ایس کافمین نے ابتدائی رابن ہڈ کو ’اخلاقی طور پر مبہم کردار‘ اور ’پرتشدد اور باغی مزاج شخص‘ قرار دیا ہے۔

البتہ ایک بات ڈزنی کی مشہور فلم نے درست دکھائی تھی، ابتدائی کہانیوں کے مطابق رابن ہڈ واقعی لومڑی کی طرح چالاک اور ہوشیار تھا۔

رابن ہڈ کی داستان میں ایک بڑی تبدیلی 16ویں صدی میں آئی۔

بادشاہ ہنری ہشتم رابن ہڈ کے مداح تھے اور بعض اوقات خود بھی اس کا روپ دھار لیتے تھے۔ ہنری ہشتم نے کیتھولک چرچ سے علیحدگی اختیار کر لی تھی جس کے بعد رابن ہڈ کی کہانی میں سے حضرت مریم کا ذکر بھی غائب ہو گیا۔

جوں جوں اشرافیہ نے اس کردار کو اپنایا، مؤثر تاریخی روایات میں رابن ہڈ نے امرا سے نفرت کرنا چھوڑ دی اور خود ایک رئیس بن گیا۔

سلطانا ڈاکو اور برصغیر میں امیر کو لوٹ کر غریب کو دینے کی روایتبرطانیہ کے ’رابن ہُڈ‘ پولیس اہلکار جو جرمن نازی فوج سے کھانا چُراتے تھےمحمد انصار: جہانگیر پوری کے ’رابن ہُڈ‘ فسادات کے مرکزی ملزمان میں کیسے شامل؟دہلی کے ’رابن ہُڈ‘ وسیم اکرم کو پولیس نے آخر کار پکڑ لیا

اب اسے ایک ایسے بااخلاق نواب کے طور پر پیش کیا جانے لگا جو بدکردار اشرافیہ کے خلاف لڑتا تھا۔ اس طرح وہ معاشرے کے طاقت کے ڈھانچے پر سوال اٹھانے والا کردار نہیں رہا۔

بعد ازاں اسے اس نیک بادشاہ رچرڈ کی مددگار شخصیت بنا دیا گیا جو اپنے بڑے بھائی شہزادہ جان سے تخت واپس حاصل کرنا چاہتا تھا۔ یہی تصور بعد میں بھی زندہ رہا، حتیٰ کہ ڈزنی کی فلم میں شہزادہ جان کو ایک لالچی اور اقتدار کا بھوکا شیر دکھایا گیا۔

19ویں صدی میں بچوں کی کتابوں نے رابن ہڈ کی شخصیت کو مزید تبدیل کیا اور اسے ایک مثالی، فیاض اور نیک دل ہیرو بنا دیا، جو وکٹورین دور کے اخلاقی معیار کے مطابق تھا۔

20ویں صدی میں فلموں نے اس تصور کو مزید مضبوط کیا۔ سنہ 1938 کی مقبول فلم دی ایڈونچرز آف رابن ہڈ میں فلمی ستارے ایرول فلن نے ایک دلیر اور رومانوی سر رابن کا کردار ادا کیا۔

پھر ڈزنی نے اپنی شاید سب سے مشہور پیشکش کے ذریعے اس تصویر کو عوامی ثقافت میں ہمیشہ کے لیے مستحکم کر دیا۔

ایک ہی کردار کی دو مختلف تصاویر

مائیکل سارنوسکی کا کہنا ہے کہ ڈزنی کی فلم میں دکھائے گئے رابن ہڈ اور اصل قرونِ وسطیٰ کی داستانوں کے رابن ہڈ کے درمیان فرق نے انھیں بچپن ہی سے متجسس رکھا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ انھوں نے بچوں کی ایک کتاب میں قرونِ وسطیٰ کی مشہور نظم ’دی ڈیتھ آف رابن ہڈ‘ پڑھی تھی۔

اس کہانی میں رابن ہڈ خاموشی سے موت کے منھ میں چلا جاتا ہے۔ اسے ایک بدکردار خاتون مذہبی پیشوا اور اس کے عاشق کے ہاتھوں قتل کر دیا جاتا ہے۔

سارنوسکی کہتے ہیں کہ ’ڈزنی کے رابن ہڈ کو جاننے کے بعد جب میں نے ’دی ڈیتھ آف رابن ہڈ‘ پڑھی تو میں یہ سمجھنے کی کوشش کرتا رہا کہ ان دونوں میں ایک ہی کردار کیسے ہو سکتا ہے۔ بچپن میں یہی بات میرے ذہن میں گھر کر گئی تھی۔‘

سارنوسکی کی نئی فلم میں رابن ہڈ ایک لڑائی کے دوران زخمی ہو جاتا ہے۔ ایک تیر ایک لڑکے کے سر کے پچھلے حصے میں لگتا ہے اور اس کی آنکھ سے نکل جاتا ہے۔ زخمی رابن ہڈ کو علاج کے لیے ایک مذہبی خانقاہ لے جایا جاتا ہے۔

فلم میں جوڈی کومر خانقاہ کے سربراہ کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ تاہم اس بار وہ اصل داستان کے برعکس ایک مہربان اور ہمدرد شخصیت کے طور پر سامنے آتی ہیں۔

سارنوسکی کہتے ہیں کہ ’میں نہیں چاہتا تھا کہ خانقاہ کی سربراہ محض ایک ظالم راہبہ ہو اور نہ ہی رابن ہڈ صرف ایک نیک دل ہیرو کے طور پر دکھائی دے۔ میری کوشش تھی کہ دونوں کرداروں میں گہرائی ہو۔‘

فلم میں جیسے جیسے رابن ہڈ اپنے ماضی پر غور کرتا ہے اور اپنے بعض اعمال پر پچھتاوا محسوس کرتا ہے، کہانی اس کے اپنے افسانوی مقام اور اپنی پسندیدہ موت کے تصور کا سامنا کرنے کی طرف بڑھتی ہے۔

افسانوں اور روایات کی حقیقت پر سوال اٹھانا ایمی کافمین کے ناول کا بھی ایک اہم موضوع ہے۔ ان کے ابتدائی تاثرات پر بھی ڈزنی کے رابن ہڈ کا گہرا اثر تھا۔

اُن کا بی بی سی سے گفتگو میں کہنا ہے کہ ’میں لومڑی والے رابن ہڈ کو دیکھتے ہوئے بڑی ہوئی تھی، لیکن جب میں نے قرونِ وسطیٰ کی تاریخ کا مطالعہ کیا اور اصل داستانیں پڑھیں تو میرے ذہن میں سوال آیا کہ میرا وہ رابن ہڈ کہاں ہے جسے میں جانتی اور پسند کرتی تھی؟‘

ان کے ناول ’دی ٹریٹر آف شیرووڈ فاریسٹ‘ کی مرکزی کردار جین نامی ایک فرضی دیہاتی لڑکی ہے جو رابن ہڈ کی شہرت اور داستان سے متاثر ہو جاتی ہے۔

وہ رابن ہڈ سے محبت کرنے لگتی ہے اور اس کے باغی ساتھیوں کے گروہ میں شامل ہو جاتی ہے لیکن وقت کے ساتھ اسے شک ہونے لگتا ہے کہ شاید رابن ہڈ کی ہیرو والی شبیہ اور خود رابن ہڈ کی دلکش شخصیت نے اسے غلط راستے پر ڈال دیا ہے۔

کافمین کے نزدیک رابن ہڈ نہ مکمل ہیرو ہے اور نہ مکمل ولن اور یہی تصویر اس کے اصل تاریخی کردار کے زیادہ قریب ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ابتدائی داستانوں میں ’یہ بات انتہائی چونکا دینے والی ہے کہ رابن ہڈ بادشاہوں، اشرافیہ اور چرچ جیسے طاقتور اداروں کو چیلنج کرتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی تقریباً تمام داستانوں میں اس کا انجام یا تو المناک ہوتا ہے یا پھر وہ اپنی ہی کمزوریوں کا شکار بن جاتا ہے۔‘

Getty Images

گذشتہ صدی میں رابن ہڈ کی ایسی پیچیدہ اور گہرے پہلوؤں پر مبنی تشریحات بہت کم دیکھنے میں آئیں۔

فلمی دنیا میں ڈگلس فیئربینکس، کیون کوسٹنر اور رسل کرو جیسے اداکاروں نے رابن ہڈ کا کردار ادا کیا، لیکن ان میں سے زیادہ تر نے اسی روایتی اور مقبول تصور کو پیش کیا، جس میں رابن ہڈ ایک مثالی ہیرو کے طور پر نظر آتا ہے۔

اس حوالے سے سنہ 1976 کی فلم رابن اینڈ میریئن ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہ ایک ذہین اور خوبصورت فلم ہے جو شاید اس سے کہیں زیادہ شہرت کی مستحق ہے جتنی اسے حاصل ہوئی۔

اس فلم میں شان کونری نے عمر رسیدہ رابن ہڈ کا کردار ادا کیا ہے، جو کئی دہائیوں بعد اپنی پرانی محبوبہ میریئن سے دوبارہ ملتا ہے۔ آڈری ہیپ برن نے میریئن کا کردار نبھایا ہے جو اب ایک مذہبی خانقاہ کی سربراہ بن چکی ہے۔

اس فلم کا رابن ہڈ ان مشہور داستانوں کو حقیقت ماننے سے انکار کرتا ہے جو اس کے بارے میں پھیل چکی ہیں اور زندگی کے آخری حصے میں وہ ایک سنجیدہ اور سوچنے والے انسان کے طور پر سامنے آتا ہے۔

وہ میریئن سے کہتا ہے کہ ’میں بار بار ان تمام لوگوں کی ہلاکت کے بارے میں سوچتا ہوں کہ جن کی جان میرے ہاتھ سے گئی اور یہ بھی کہ آخر یہ سب کس لیے تھا؟‘

صدیوں پرانی کہانی جو آج بھی موجودہ دور کا احساس دلاتی ہے

طاقت اور تاریخی ہیروز اور ان کی کہانیوں کے بارے میں سامنے آنے والے یہ سوالات ہی وہ چیز ہیں کہ جو رابن ہڈ کے نظرثانی شدہ تصورات کو آج کے دور میں اہم بناتے ہیں۔

کافمین کہتی ہیں کہ ’دنیا میں طاقت دوبارہ اسی طرح سب پر حاوی ہو رہی ہے جیسے قرونِ وسطیٰ میں ہوا کرتی تھی۔ کچھ مسائل جن پر وہ لوگ غور کرتے تھے ہمیں بھی ان پر غور کرنا پڑے گا۔‘

سارنوسکی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ان کے کردار کہانیوں کو بھی ایک طاقت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

ان کے مطابق ’رابن ہڈ کہانیوں کو ایک ہتھیار اور تشدد کو جاری رکھنے کے ذریعے کے طور پر استعمال کرتا تھا، کیونکہ اسی طریقے سے وہ اپنے ساتھ لوگوں کو شامل کرتا تھا۔‘

اس کے برعکس ’خانقاہ کی سربراہ کہانیوں کو لوگوں کی مدد اور شفا دینے کے لیے استعمال کرتی ہے۔‘

سارنوسکی کے مطابق آج کے دور میں یہ رویے ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہم اس وقت مکمل طور پر کہانیوں کے کے درمیان گھرے ہوئے ہیں، سوشل میڈیا، انٹرنیٹ اور اردگرد کی تمام چیزوں کے ذریعے۔‘

وہ مزید کہتے ہیں کہ ’ہم بہت جلد خود کو مختلف گروہوں میں تقسیم کر لیتے ہیں، ہیروز اور ولن بنا لیتے ہیں اور اس دھندلے یا درمیانی علاقے میں رہنے سے گریز کرتے ہیں جہاں اصل زندگی موجود ہوتی ہے۔‘

رابن ہڈ کی یہ نسبتاً تاریک اور نئی تشریحات چاہے جتنی بھی حیران کن ہوں لیکن وہ ڈزنی کے مقبول تصور کو مکمل طور پر بدلنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

کافمین کا کہنا ہے کہ ’ہر کوئی نہیں چاہتا کہ ان کا رابن ہڈ کا تصور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو۔‘

وہ مزید کہتی ہیں ’وہ ایک طرح سے سانتا کلاز جیسا بن چکا ہے یعنی ایک ایسی علامت جو اصل کہانی سے کہیں بڑی اور وسیع معنی رکھتی ہے۔‘

سلطانا ڈاکو اور برصغیر میں امیر کو لوٹ کر غریب کو دینے کی روایتبرطانیہ کے ’رابن ہُڈ‘ پولیس اہلکار جو جرمن نازی فوج سے کھانا چُراتے تھےمحمد انصار: جہانگیر پوری کے ’رابن ہُڈ‘ فسادات کے مرکزی ملزمان میں کیسے شامل؟دہلی کے ’رابن ہُڈ‘ وسیم اکرم کو پولیس نے آخر کار پکڑ لیاانڈیا میں ’چوروں کے گاؤں‘ کا وہ لٹیرا، جو امیروں سے مال لوٹ کر غریبوں میں تقسیم کرتا تھا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More