Getty Images
نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کا کہنا ہے کہ 117 کلومیٹر طویل کھاریاں، راولپنڈی موٹروے (ایم 13) منصوبہ دسمبر 2028 میں مکمل ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد اسلام آباد اور لاہور کے درمیان مسافت مزید ایک گھنٹہ کم ہو جائے گی۔
این ایچ اے کے مطابق 203 ارب روپے لاگت کے اس منصوبے کی تکمیل کے بعد اسلام آباد اور لاہور کے درمیان فاصلہ 100 کلومیٹر کم ہو جائے گا جبکہ یہ موجودہ موٹرویز پر ٹریفک کے بڑھتے دباؤ کو بھی کم کرے گا۔
واضح رہے کہ وزارتِ منصوبہ بندی کے ذیلی ادارے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی (P3A) نے 24 جون (بدھ) کو ہونے والے اجلاس میں یہ منصوبہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو دینے کی ابتدائی منظوری دی ہے۔
تاہم اس منصوبے پر ایک تنقید یہ کی جا رہی ہے کہ اس منصوبے کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی ایکٹ میں موجود ایک گنجائش، جس کے تحت عوامی مفاد اور مخصوص حالات میں کسی منصوبے پر مسابقتی بولی (کمپیٹیٹیو بڈنگ) کے بجائے اسے نیگوشیئیٹڈ پروکیورمنٹ کی بنیاد آگے بڑھایا جا سکتا ہے، پر کیوں عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
بی بی سی نے اس معاملے پر مؤقف کے لیے وزارت مواصلات سے رابطہ کیا تو انھوں نے اپنے ذیلی ادارے این ایچ اے سے رابطہ کرنے کو کہا۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے ایک عہدیدار نے بی بی سی سے گفتگو میں یہ ٹھیکہ ایف ڈبلیو او کو دینے کی تصدیق کی تاہم اُن کا کہنا تھا کہ مخصوص حالات اور قواعد کے تحت اٹھائے گئے اس عمل کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی، اور اگر ایسا نہ ہوا تو پھر اوپن بڈنگ کی طرف جایا جائے گا۔
اُن کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ لاہور-راولپنڈی موٹروے منصوبے کا ہی حصہ ہو گا۔ یاد رہے کہ اس بڑے منصوبے کا ایک حصہ ’لاہور-سیالکوٹ (ایم 11)‘ پہلے سے ہی آپریشنل ہے جسے ایف ڈبلیو او نے تعمیر کیا جبکہ این ایچ اے عہدیدار کے مطابق سمبڑیال-کھاریاں موٹروے سیکشن (ایم 12) پر بھی ایف ڈبلیو او کی معاونت سے ہی کام جاری ہے۔
تاہم بولی سے متعلق تنازع پر متعلقہ حکام کا کیا کہنا ہے، اس پر گفتگو آگے چل کر، پہلے جان لیتے ہیں کہ کھاریاں، راولپنڈی موٹروے (ایم 13) منصوبہ ہے کیا۔
203 ارب روپے لاگت کا منصوبہ ہے کیا اور اس سے کیا فائدہ ہو گا؟Getty Images
حکومت اور فوج کے اشتراک سے بننے والے معاشی و پالیسی ساز ادارے ’سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل‘ (ایس آئی ایف سی) نے اپنے ایکس ہینڈل پر تصدیق کی کہ لاہور سے راولپنڈی کے درمیان نئے موٹروے منصوبے کے ’کھاریاں، راولپنڈی سیکشن‘ کو ایس آئی ایف سی کی معاونت حاصل ہو گی۔
ایس آئی ایف سی کے مطابق ’یہ صرف ایک اور موٹروے نہیں ہے، یہ موجودہ ایم-2 موٹروے کا ایک سٹریٹجک متبادل ہے۔‘
ایس آئی ایف سی کے ’ایکس‘ ہینڈل پر 25 جون کو کی گئی ایک پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ کھاریاں، راولپنڈی (ایم 13) موٹروے منصوبے کو مسلسل ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے اور اس منصوبے میں جامع تبدیلی کرتے ہوئے اسے 117.2 کلومیٹر طویل، چھرویہ (لین) موٹروے میں اپ گریڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اس منصوبے سے متعلق اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں لکھا کہ اس کے ذریعے ’لاہور اور راولپنڈی و اسلام آباد کے درمیان تقریباً 100 کلومیٹر فاصلہ کم ہو گا جس کے باعث سفر میں تقریبا ایک گھنٹے کی کمی ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ ’تیر رفتار اور زیادہ مؤثر سفر کے ذریعے ’بہتر لاجسٹکس، نقل و حمل کے کم اخراجات اور علاقائی روابط میں اضافہ ہو گا۔‘
گلف سٹریم لگژری طیارہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے لیے خریدا گیا یا ائیر پنجاب کے لیے؟ہائبرڈ نظام کی معاشی شکل اور فوج کا کردار: زراعت اور سیاحت سے متعلق ’ایس آئی ایف سی‘ کے منصوبوں پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟فوج اور پنجاب حکومت چولستان کی بنجر زمینوں کو قابل کاشت کیوں بنانا چاہتے ہیں؟مارگلہ کے دو دیہات کی زمین پاکستانی فوج کو دفاعی مقاصد کے لیے مطلوب: ’حکومت ہم پر رحم کرے، ہمیں بےگھر نہ کرے‘
اُن کے مطابق ’ایم-11 (لاہور، سیالکوٹ موٹروے)، ایم-12 (سمبڑیال، کھاریاں موٹروے سیکشن) اور ایم-13 کوریڈور (کھاریاں، راولپنڈی موٹروے) کی تکمیل کے بعد توقع ہے کہ موجودہ ایم 2 موٹروے (لاہور سے راولپنڈی و اسلام آباد) کے درمیان پر چلنے والی ٹریفک (تقریباً 50 تا 60 فیصد) اس نئے چھ رویہ کوریڈور پر منتقل ہو جائے گی، جو مسافروں اور مال برداری کے لیے ایک مختصر، تیز رفتار اور زیادہ محفوظ متبادل فراہم کرے گا۔‘
خواجہ آصف نے مزید لکھا کہ ’یہ ایک مختصر راستہ، محفوظ اور تیز سفر فراہم کرنے والا جدید چھ رویہ کوریڈور ہو گا، جو پاکستان کے موٹروے نیٹ ورک کو مضبوط کرے گا، لاجسٹکس کی کارکردگی کو بہتر بنائے گا اور ایک سٹریٹجک رابطہ فراہم کرے گا۔ اس منصوبے سے ایندھن کی مد میں اربوں روپے کی بچت ہو گی اور ملک میں کاربن اخراج میں نمایاں کمی آئے گی۔‘
ایس آئی ایف سی کے مطابق موجودہ اسلام آباد، لاہور موٹروے کا فاصلہ 367 کلومیٹر ہے جو اس منصوبے کی تکمیل کے بعد 267 کلومیٹر رہ جائے گا۔
منصوبے پر تنازع: ’حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی‘Getty Images
مسابقتی بڈنگ کے بجائے یہ منصوبہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کو دینے سے متعلق تنازع پر بات کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کے ایک عہدیدار نے کہا کہ متعلقہ ضوابط کے تحت ابھی یہ منصوبہ ایف ڈبلیو او کو دینے کی صرف ابتدائی منظوری دی گئی ہے اور کابینہ کی جانب سے حتمی منظوری ہونا ابھی باقی ہے۔
اُن کے مطابق اگر کابینہ نے اس معاملے پر اعتراض اٹھایا تو پھر اس معاملے کو اوپن بڈنگ کی طرف لے جایا جائے گا۔
بی بی سی اُردو سے بات کرنے والے حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک پہلے سے جاری بڑے منصوبے کا ہی حصہ ہے اور اسے اس سے علیحدہ کر کے نہیں دیکھنا چاہیے۔
حکام کے مطابق اس بڑے منصوبے کا ایک حصہ لاہور-سیالکوٹ (ایم 11) پہلے سے ہی آپریشنل ہے جسے ایف ڈبلیو او نے تعمیر کیا جبکہ اسی منصوبے کے دوسرے حصے سیالکوٹ-کھاریاں موٹروے سیکشن (ایم 12) پر بھی ایف ڈبلیو او کی معاونت سے ہی کام جاری ہے۔
یاد رہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی ایکٹ کی سیکشن 20 میں یہ گنجائش موجود ہے کہ کوئی بھی ایمپلیمنٹنگ ایجنسی (عملدرآمد کرنے والا ادارہ) مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت کسی منصوبے کو نیگوشیئٹڈ پروکیورمنٹ کے تحت آگے بڑھا سکتی ہے مگر اس استثنا کے لیے تحریری وجوہات بیان کرتے ہوئے وفاقی کابینہ سے منظوری درکار ہوتی ہے۔
اسی معاملے پر بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ یہ سیکشن پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت پہلے سے ہی ایف ڈبلیو او کو ایوارڈ کیا چکا ہے اور یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’دفاعی نقطہ نظر سے اس سڑک کی ری روٹنگ اور ری الائنمٹ بھی ہوئی تھی اور اسے ری سٹرکچر بھی کیا گیا ہے اور اسے بہت پہلے ہی ایف ڈبلیو او کو ایوارڈ کیا جا چکا ہے۔‘
اس منصوبے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
اس منصوبے پر ہونے والی تنقید پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں ترقیاتی منصوبے پسند یا ناپسند کی بنیاد پر نہیں بلکہ ضرورت کے مطابق بنائے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ لاہور-راولپنڈی جی ٹی روڈ پہلے سنگل لین ہوتی تھی، ٹریفک کا دباؤ بڑھنے پر اس میں توسیع کی گئی اور کئی دہائیوں بعد اسے ڈبل لین کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ این فائیو پر ٹریفک بہت بڑھ گئی تھی اس لیے اس نئی موٹروے کی ضرورت محسوس ہوئی۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ موجودہ اسلام آباد، لاہور موٹروے (ایم ٹو) سرگودھا اور فیصل آباد ڈویژن کو لاہور اور اسلام آباد سے منسلک کرتی ہے اور اسی وجہ سے یہ لاہور اور اسلام آباد کے درمیان سفر کو ایک گھنٹہ بڑھا دیتی ہے۔ اور اسی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے لاہور اور اسلام آباد کے درمیان سفر کو کم کرنے کے لیے نئی موٹروے بن رہی ہے۔
این ایچ اے کے ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق لاہور سے جی ٹی روڈ کے درمیان آنے والے شہروں کے رہائشیوں کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ اِن شہروں کو بھی تیز رفتار روڈ نیٹ ورکس سے منسلک کیا جائے۔
اُن کے مطابق اس منصوبے سے بڑے صنعتی شہر موٹروے سے منسلک ہوں گے اور اس سے لامحالہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
اُن کا کہنا تھا کہ لاہور-سیالکوٹ ایم 11 ابھی چار لینز پر مشتمل ہے، لیکن یہ پوری موٹروے چھ لینز کی ہو گی۔
Getty Images
این ایچ اے کے عہدے دار کے مطابق یہ نئی موٹروے این فائیو جی ٹی روڈ اور ایم ٹو موٹروے کا متبادل کوریڈور ہے جس کا مقصد ان شاہراہوں پر ٹریفک کا دباؤ کرنا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ لاہور سے راولپنڈی جی ٹی روڈ پر ٹریفک کا دباؤ بہت بڑھ چکا ہے اور اب یہاں اوسط رفتار 70 کلو میٹر کے لگ بھگ رہتی ہے، لہذا اس موٹروے سے ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری آئے گی۔
این ایچ اے کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت این ایچ اے کی سب سے بڑی ترجیح سکھر-حیدر آباد موٹروے کی تکمیل ہے اور اس کی بڈنگ کا عمل جاری ہے۔
این ایچ اے عہدے دار کا مزید کہنا تھا کہ اسی طرح بلوچستان میں این 25 منصوبے پر بھی کام ہو رہا ہے۔
پاکستان کے بڑے کاروباری گروپس میں فوجی فاؤنڈیشن سرِفہرست: آخر ان کمپنیوں کی ترقی کا راز کیا ہے؟جمود کا شکار برآمدات، ڈوبتی صنعتیں اور بیروزگاری: شہباز شریف کے دور اقتدار میں پاکستان صنعتی ترقی کیوں نہیں کر پا رہا؟ہائبرڈ نظام کی معاشی شکل اور فوج کا کردار: زراعت اور سیاحت سے متعلق ’ایس آئی ایف سی‘ کے منصوبوں پر تنقید کیوں ہو رہی ہے؟اُڑان پاکستان: معاشی بحالی کا 10 سالہ منصوبہ ’گیم چینجر‘ یا ’غیر حقیقی‘؟