Juan BARRETO / AFP via Getty Images
24 جون کو وینزویلا کے شمال میں آنے والے طاقتور زلزلوں نے سائنس دانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ بدھ کے روز یکے بعد دیگرے انتہائی شدت سے آنے والے ان زلزلوں میں 900 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی اور بے گھر ہوئے ہیں۔
طبیعیات دانوں(فزکس کے ماہر)، ماہرینِ ارضیات اور زلزلہ پیما ماہرین کے مطابق ملک کے شمالی حصے میں آنے والے ان دو زلزلوں کے درمیان صرف 39 سیکنڈ کا فرق تھا جنھیں ’سیزمک ڈبلٹ‘کہا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ سیزمک ڈبلٹ کا مطلب ہوتا ہے کہ دو بڑے زلزلے بہت کم وقت کے وقفے سے ایک ہی علاقے میں آئیں، لیکن دوسرا زلزلہ پہلے زلزلے کا آفٹر شاک نہیں ہوتا۔ انھیں عام الفاظ میں دوہرا زلزلہ بھی کہا جاتا ہے۔
عام طور پر پہلے ایک بڑا زلزلہ آتا ہے، جس کے بعد نسبتاً کم شدت کے آفٹر شاکس (جھٹکے) محسوس کیے جاتے ہیں۔
لیکن وینزویلا میں ایسا نہیں ہوا۔ وہاں آنے والے دونوں زلزلے تقریباً ایک جیسی شدت کے تھے، اسی لیے ماہرین اسے ’سیزمک ڈبلٹ‘ قرار دے رہے ہیں۔
سیزمک ڈبلٹ کیا ہے؟Getty Images
اگر سادہ لفظوں میں سمجھا جائے تو سیزمک ڈبلٹ میں دونوں جھٹکوں کی شدت تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے یا ان کے مرکز ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہیں اور یہی کچھ وینزویلا میں بالکل یہی ہوا۔
پہلا زلزلہ شام 6:04 پر وسطی ساحلی علاقے میں آیا جس کی شدت 7.2 تھی اور اس کا مرکز ریاست یاراکوئے کے شہر سان فیلپ کے قریب تھا جو کراکس سے تقریباً 280 کلومیٹر مغرب میں ہے۔
دوسرا زلزلہ اس کے محض 39 سیکنڈ بعد 45 کلومیٹر کے فاصلے پر آیا، جس کا مرکز یومارے کے علاقے کے قریب تھا۔ یہ زلزلہ پہلے سے بھی زیادہ طاقتور تھا اور اس کی شدت 7.5 تھی۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے زلزلہ خطرات سے متعلق پروگرام کے نائب کوآرڈینیٹر ولیم بارن ہارٹ نے بی بی سی منڈو کو بتایا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ایک سیزمک ڈبلٹ یا دوہرا زلزلہ تھا، یعنی دو زلزلے جو وقت وقت اور مقام، دونوں اعتبار سے ایک دوسرے کے بہت قریب آئے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’دوسرا زلزلہ پہلے سے تقریباً تین گنا زیادہ طاقتور تھا اور بہت ممکن ہے کہ 7.2 شدت والے زلزلے نے 7.5 شدت والے زلزلے کو متحرک کیا ہو۔
ان دونوں زلزلوں کے درمیان وقت کا فرق بھی اہم ہے، لیکن اس پر سائنس دانوں میں مکمل اتفاق نہیں پایا جاتا۔
کچھ محققین کے مطابق ڈبلٹ یا دوہرے زلزلے کے لیے ضروری ہے کہ دوسرا زلزلہ کم وقفے کے بعد آئے جو چند سیکنڈ، منٹ، گھنٹے یہاں تک کے دن بھی ہو سکتے ہیں۔
تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ دوسرا زلزلہ پہلے زلزلے کے کئی سال بعد بھی آ سکتا ہے اور اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ دونوں زلزلے جغرافیائی اور ارضیاتی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہوں۔
ڈبلٹ کے بننے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ دونوں زلزلے ایک ہی زمینی ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے جڑے ہوں، جہاں ایک زلزلہ دوسرے کے آنے میں مدد دے یا اسے شروع کرنےکا سبب بنے۔
دوسرا زلزلہ متحرک کیسے ہوتا ہے؟Getty Images
پہلا زلزلہ زمین کے اندر برسوں بلکہ صدیوں میں جمع ہونے والے دباؤ کے باعث ٹوٹ پھوٹ یا تقسیم کے عمل سے بنتا ہے۔
یہ حرکت کسی فالٹ یا زون میں دوسرے زلزلے کو متحرک کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے جو پہلے ہی اپنے بریکنگ پوائنٹ پر ہو۔
سپین کے شہر بارسلونا میں قائم سائنسی تحقیقاتی ادارے کے محقق انتونیو ویلا سینیور کہتے ہیں کہ ’اگر ایک فالٹ (زمینی دراڑ) کے ٹوٹنے کا عمل کسی دوسری ایسی فالٹ کے قریب ہو جو خود بھی ٹوٹنے کے قریب ہو، تو پہلا زلزلہ دوسرے فالٹ کے ٹوٹنے کا عمل متحرک کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ زلزلہ برسوں یا حتیٰ کہ کئی دہائیاں پہلے آ سکتا ہے۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ عام طور پر اس کی یہی وضاحت دی جاتی ہے کہ ایک زلزلہ قدرتی طور پر آتا ہے اور اتفاق سے اس کے قریب ایک ایسا علاقہ موجود ہوتا ہے جہاں فالٹ پہلے ہی ٹوٹنے کے قریب ہوتی ہے۔ پہلے زلزلے سے پیدا ہونے والی یہی ہلچل دوسری فالٹ کے ٹوٹنے کا سبب بن جاتی ہے، جس سے دوسرا زلزلہ بھی آ جاتا ہے۔‘
انتونیو ویلا سینیور نے خاص طور پر وینزویلا اور کیریبین کے علاقے پر تحقیق کی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ابھی بہت سی باتوں کو مزید معلومات کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اصل میں کیا ہوا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’خاص طور پر پہلے زلزلے کے بارے میں ابھی بہت کچھ واضح ہونا باقی ہے۔ دوسرے زلزلے کے بارے میں واضح ہے کہ یہ عام قسم کا ٹوٹ پھوٹ کا عمل تھا۔ لیکن پہلے زلزلے کے بارے میں ابھی یہ سمجھنا باقی ہے کہ یہ کس فالٹ پر پیدا ہوا اور اس کے پیچھے ارضیاتی طریقۂ کار کیا تھا۔‘
ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحدReuters
ماہرین کے مطابق، وینزویلا میں جو کچھ ہوا وہ متوقع تھا۔
وینزویلا ایک حساس علاقے میں واقع ہے۔ جس جانب زلزلے آئے، وہاں کیریبین اور جنوبی امریکی دو زمینی پلیٹیں ملتی ہیں، جس کی وجہ سے یہ علاقہ زلزلے کے لیے فعال سمجھا جاتا ہے۔
اس علاقے میں اسی شدت کا آخری زلزلہ 100 سال سے زیادہ پہلے، 29 اکتوبر 1900 کو آیا تھا اس لیے سائنس دان کچھ عرصے سے ایک بڑے زلزلے کی توقع کر رہے تھے۔
ویلا سینیور کہتے ہیں کہ ’یہ حیران کن نہیں کیونکہ شمالی وینزویلا کا یہ علاقہ ٹیکٹونک پلیٹس کی سرحد پر ہے اور یہاں اگرچہ کثرت سے نہیں تاہم بڑے زلزلے وقتاً فوقتاً آتے رہتے ہیں۔‘
بارسلونا سپر کمپیوٹنگ سینٹر کے محقق ماریسول مونتروبیو ویلاسکو کہتے ہیں کہ ’اس علاقے میں پہلے ہی ایسے زلزلوں کی صلاحیت موجود تھی۔‘
وینزویلا میں زلزلے سے اموات کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی، درجنوں افراد کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیاصدیوں پہلے آنے والا مہلک ترین زلزلہ، جس سے قبل لوگ قدرتی آفات کو ’خدا کا عذاب‘ سمجھتے تھےاسلام آباد اور راولپنڈی میں زلزلے کے جھٹکے: روات فالٹ لائن کیا ہے اور یہ کتنی طویل ہے؟’ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا‘: روس میں 8.8 شدت کے زلزلے کے بعد آنے والی سونامی کیا ہے اور یہ کیوں آتی ہیں؟
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق، بدھ کو آنے والے دونوں زلزلوں میں سے دوسرا اور زیادہ طاقتور زلزلہ ایک ’کم گہرائی والی سٹرائیک سلِپ فالٹ‘ کے متحرک ہونے کے نتیجے میں آیا، جو دونوں ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد کے بالکل قریب واقع ہے۔
سٹرائیک سلِپ فالٹ اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ٹیکٹونک پلیٹوں میں موجود فالٹس یا دراڑیں ایک دوسرے کے مقابل افقی سمت میں سرکتی ہیں۔
جس علاقے میں زلزلے آئے وہ فالٹ سسٹم کا حصہ ہے۔
یہ دراصل ٹیکٹونک دراڑوں کا ایک ایسا جال ہے جو دونوں ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والے دباؤ کو جذب کرتا ہے۔
ان میں بوکونو، ال پیلر اور سان سیبسٹیان فالٹس شامل ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق، وینزویلا میں آنے والے یہ دونوں زلزلے غالباً فالٹس کے درمیان باہمی تعامل اور ٹوٹ پھوٹ کے ایک پیچیدہ عمل کی نشاندہی کرتے ہیں۔
دیگر دوہرے زلزلےGetty Images
اگرچہ اس طرح کے واقعات کم ہوتے ہیں لیکن اس کی مثالیں خطے اور دنیا کے دیگر حصوں میں بھی ملتی ہیں۔
سب سے زیادہ مشہور واقعات میں سے ایک 1982 میں میکسیکو کی ریاست گوریرو کے اومیٹیپیک میں آنے والا دوہرا زلزلہ ہے۔
اس سال سات جون کو 6.9 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے چار گھنٹے بعد 7.0 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا۔
اس کی حالیہ مثال 2025 میں وینزویلا میں بھی دیکھنے کو ملی، جب ملک کے مغربی حصے میں پے در پے دو زلزلے آئے۔
ان زلزلوں کا مرکز ریاست زولیا کے علاقے مینے گراندے کے قریب تھا تاہم ان کی شدت کم تھی اور تقریباً 6.2 رہی اور ان میں ایک شخص ہلاک اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔
اس رجحان کے سائنسی مطالعے کی نمایاں مثالوں میں سے ایک دو سال قبل ترکیہ اور شام میں آنے والے زلزلے تھے، جنھوں نے ماہرین کو اس غیر معمولی عمل کو سمجھنے کا اہم موقع فراہم کیا۔
چھ فروری 2023 کو اس خطے میں تقریباً ایک صدی کے دوران آنے والے دو سب سے طاقتور زلزلے نو گھنٹے کے وقفے سے آئے جن کی شدت 7.8 اور 7.7 تھی۔
ماہرین کے مطابق زلزلہ پیما لوکا ڈال زیلیو اور ژاں پال امپیورو نے اسپر تحقیق کی اور نیچر گروپ کے جرائد میں مضامین شائع کیے۔
دونوں زلزلے ایک ہی زمینی نظام میں قریبی مگر مختلف فالٹس کے ٹوٹنے سے جڑے تھے اور دوسرا زلزلہ پہلے کی وجہ سے آیا۔
Getty Imagesان زلزلوں کی تباہی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ زمین کی سطح کے بہت قریب آئے۔تباہ کن طاقت
آگے پیچھے آنے والے یہ دوہرے زلزلے نقصان کو بڑھا سکتے ہیں۔
جب دو طاقتور زلزلے ایک کے بعد ایک آتے ہیں تو پہلا زلزلہ عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو کمزور کر دیتا ہے، جس کے بعد دوسرا زلزلہ انھیں مکمل طور پر گرا سکتا ہے۔
بدھ کو آنے والے زلزلوں کے بعد کراکس اور لا گوائیرا جیسے شہروں میں پوری عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ اسی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہوئی ہے اور حکام کے مطابق یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔
ان زلزلوں کی تباہی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ زمین کی سطح کے بہت قریب آئے۔
امریکن جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ زلزلے 22 اور 10 کلومیٹر زمین کی گہرائی میں آئے یعنی سطح کے قریب، جس سے نقصان کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
مونتروبیو کے مطابق ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ کاراکاس کا بڑا حصہ دریاؤں کے بہاؤ سے جمع ہونے والی نرم تلچھٹی مٹی (آلویئل سیڈیمنٹس) اور نرم زمینی تہوں پر آباد ہے، جو زلزلے کی لہروں کو مزید طاقتور بنا دیتی ہیں۔
ویلا سینیور کے مطابق وینزویلا میں ایسے علاقوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے جہاں زلزلے کی صورت میں زیادہ نقصان کا خدشہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس کی ایک مثال 1967 کا زلزلہ ہے، جس نے دارالحکومت کے کچھ حصوں کو بھی متاثر کیا تھا اور اس سے ظاہر ہوا کہ جہاں تلچھٹی مٹی کی تہیں زیادہ تھیں، وہاں زلزلے کی لہریں زیادہ شدت اختیار کر گئیں، جس کے باعث تباہی بھی نسبتاً زیادہ ہوئی۔
ایک اور اہم وجہ وینزویلا کے بنیادی ڈھانچے کی کمزوری ہے۔
مونتروبیو کے مطابق ’زلزلہ خود تباہی نہیں کرتا، اصل تباہی عمارت کے گرنے سے ہوتی ہے۔ زلزلے قدرتی عمل ہیں اور ہم ان کے ساتھ ہی رہتے ہیں، اصل فرق اس بنیادی ڈھانچے سے پڑتا ہے جو ہمارے پاس موجود ہوتا ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ اس تناظر میں وینزویلا کے سیاسی اور سماجی حالات بھی اس بات پر اثر انداز ہوتے ہیں کہ ایسے قدرتی سانحے کتنے تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔
’وینزویلا کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا رہا ہے، اس لیے ممکن ہے کہ بنیادی ڈھانچے کا مسئلہ حکومتی ترجیحات میں سرفہرست نہ ہو۔‘
وینزویلا میں زلزلے سے اموات کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی، درجنوں افراد کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیاصدیوں پہلے آنے والا مہلک ترین زلزلہ، جس سے قبل لوگ قدرتی آفات کو ’خدا کا عذاب‘ سمجھتے تھےاسلام آباد اور راولپنڈی میں زلزلے کے جھٹکے: روات فالٹ لائن کیا ہے اور یہ کتنی طویل ہے؟’ایسا منظر پہلے کبھی نہیں دیکھا‘: روس میں 8.8 شدت کے زلزلے کے بعد آنے والی سونامی کیا ہے اور یہ کیوں آتی ہیں؟9.1 شدت کا زلزلہ اور تباہ کُن سمندری لہریں: 20 سال قبل آنے والی قدرتی آفت جس کا شکار بننے والے بہت سے لوگ آج بھی لاپتہ ہیںکوئٹہ زلزلہ 1935: جب 45 سیکنڈ میں پورا شہر ملبے کا ڈھیر بن گیا