خواجہ آصف کا راولا کوٹ اور میرپور سے متعلق متنازع بیان: ’ایسا وزیر ابھی تک کابینہ میں موجود کیوں ہے؟‘

بی بی سی اردو  |  Jun 24, 2026

Getty Images

پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے لوگوں کے حوالے سے دیا گیا ایک متنازع بیان اب سوشل میڈیا کے بحث کا موضوع بننے کے بعد اب پارلیمان تک پہنچ گیا ہے جہاں انھیں سینیئر سیاستدانوں کی جانب سے بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے 22 جون کو نجی ٹی وی چینل ’سما‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران کہا تھا کہ ’راولاکوٹ، دھیر کوٹ اور۔۔۔ میں تو ویسے بھی راولاکوٹ والوں کو اتنا لمبا چوڑا کشمیری مانتا بھی نہیں ہوں۔ وہ اپر پوٹھوہار والی زبان ہی بولتے ہیں اور یہی حال میرپور والوں کا بھی ہے۔‘

یاد رہے کہ اس پروگرام میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری کشیدگی اور حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے احتجاج پر بات ہو رہی تھی۔

کشمیر کے اضلاع راولا کوٹ اور میر پور کے باسیوں کے حوالے سے ادا کیے گئے ان جملوں پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے اور بدھ کے روز قومی اسمبلی میں بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خواجہ آصف کی وفاقی کابینہ میں موجودگی پر بھی سوال اٹھایا۔

یاد رہے کہ خواجہ آصف نے ٹی وی انٹرویو کے دوران دیے گئے اپنے متنازع بیان سے متعلق بعدازاں سوشل میڈیا پر ایک وضاحت بھی جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے بیان پر قائم ہیں اور یہ کہ کشمیری شناخت کا تعین محض ’پیدائشی سرٹیفکیٹ‘ سے نہیں بلکہ جدوجہد اور قربانیوں سے ہوتا ہے، اور کشمیر میں رہنے والوں کو ’مقبوضہ کشمیر‘ اور ’مہاجر کشمیریوں‘ کی قربانیوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔

بُدھ کے روز یہ معاملہ قومی اسمبلی میں بھی زیر بحث آیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی موجودہ صورتحال اور حالیہ تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ایسا وزیر ابھی تک کابینہ میں موجود کیوں ہے، کہ جو یہ الفاظ کہے کہ راولاکوٹ کے کشمیری، کشمیری نہیں ہیں، اور پھر (اپنے بیان سے) پیچھے نہ ہٹے۔‘

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم ایسے بیانات برداشت کریں، جو نہ صرف ایک سینیئر سیاستدان بلکہ ملک کے وزیرِ دفاع کی جانب سے آ رہے ہیں؟‘

انھوں نے کہا کہ کشمیر میں احتجاج کرنے والے رہنماؤں کے متنازع بیانات پر تنقید جائز ہے، لیکن وہ افراد نہ عوامی عہدے پر ہوتے ہیں اور نہ ہی اسمبلی کے رُکن ہوتے ہیں۔

’تو پھر ہم ایسے بیانات کا کیا جواز دے سکتے ہیں، جب وہ ایک وفاقی وزیر کی طرف سے آئیں؟‘

انھوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’موجودہ حکومت کے بعض وزرا وزیرِ اعظم کے کام میں مدد دینے کے بجائے رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ بطور اتحادی، اُن کا مشورہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو مظاہرین، وفاقی حکومت اور کشمیر حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے موقع دیا جائے تاکہ اس مسئلے کا ایک پائیدار حل نکالا جا سکے۔

بلاول نے کہا کہ اگر وزرا مسلسل ایسے متضاد بیانات دیتے رہیں، جو وزیرِ اعظم کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتے تو اس سے مزید رکاوٹیں پیدا ہوں گی۔

خیال رہے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں گذشتہ کئی ہفتوں سے کشیدگی برقرار ہے اور اس کی بنیادی وجہ ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کی 12 نشستیں ہیں۔

کالعدم جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ان 12 نشستوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے، تاہم حکومت اور کمیٹی کے درمیان اس ضمن میں ہونے والے مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے جس کے بعد کمیٹی کی جانب سے کشمیر بھر میں احتجاج کا اعلان کیا گیا۔ یہ اعلان سامنے آنے کے بعد کشمیر حکومت نے ایکشن کمیٹی پر ’دہشتگردی‘ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے کالعدم قرار دے دیا۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں احتجاج کی اس صورتحال کے باعث متعدد علاقوں میں خوراک و دیگر روز مرہ اشیا کی قلت کی رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں۔

اپنی تقریر میں بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ ایک وفاقی وزیر نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں انتخابات سے قبل یہ بھی کہا تھا کہ ’12 نشستیں ہماری جیب میں ہیں۔‘

چیئرمین پیپلز پارٹی کے مطابق ’ایسے بیانات نے ان عناصر کو جواز فراہم کیا جو کشمیر میں بدامنی پیدا کرنا چاہتے ہیں اور اس سے صورتحال مزید خراب ہوئی۔‘

تاہم بلاول کے اس خطاب کے بعد وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے اپنے خطاب میں وضاحت دی کہ ’ہمارے کسی وزیرنے ایسی بات نہیں کی کہ ہم 12 نشستیں جیب میں لاتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’12 نشستیں جیب میں لانے والی بات کی بالکل تردید کرتا ہوں۔‘

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور دیگر ارکان نے بھی وزیر دفاع خواجہ آصف کے اس بیان کو ’نامناسب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بیانات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

انھوں نے سپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’خواجہ آصف نے جو باتیں کی ہیں وہ بطور وزیر دفاع نہیں کرنی چاہیے تھیں، آپ نے لڑائی خواجہ آصف اور صلح اسحاق ڈار کے حوالے کر رکھی ہے۔‘

سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران کہا کہ وہ خواجہ آصف کے بیان پر رنجیدہ ہیں اور وہ وزیر دفاع کے کشمیریوں سے متعلق ریمارکس پر کشمیری عوام سے معافی مانگتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ وہ خواب میں بھی کشمیر سے متعلق غلطی نہیں کر سکتے۔‘

’ہم نے بھی پانچ جنگیں لڑی ہیں‘

خواجہ آصف نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر اپنے ابتدائی بیان پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اُن کے ریمارکس ’صاف گو اور دیانتدارانہ‘ تھے اور انھیں سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

وزیر دفاع نے بدھ کو قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر جواب دیتے ہوئے مزید کہا کہ ’کشمیر سے متعلق دیے گئے اپنے بیان پر قائم ہوں، انھوں نے جو بیانات دیے میں نے اس کا جواب دیا اور میں نے جو بات کی اس کی دلیل بھی دی ہے۔‘

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کشیدگی پر برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کا خط اور دفتر خارجہ کا جواب: ’بہتر ہوگا وہ اپنے ملک میں مثبت کردار ادا کریں‘فیصل ممتاز راٹھور کی مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت: ’جن کے پاس شواہد ہیں انھوں نے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا‘گلگت بلتستان کا خطہ پاکستان کے زیرِ انتظام کیسے آیا؟’ایک آئینی، قانونی مسئلے کو جذباتی مسئلہ بنا دیا گیا‘: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کی 12 نشستوں کا تنازع کیا ہے؟

خواجہ آصف نے کہا کہ ’جناب سپیکر میں نے اس حوالے سے ٹویٹ بھی کی، برتھ سرٹیفکیٹ کے ساتھ کوئی کشمیری یا پاکستانی نہیں بنتا، کشمیریوں نے جانیں دی لیکن ہم نے بھی جانیں دیں، ہم نے پانچ جنگیں لڑی ہیں۔‘

خواجہ آصف نے کہا کہ ’کشمیر سے پاکستان کے خلاف اٹھنے والی بیرونی اور منفی ایجنڈے سے متاثر آوازوں کا سختی سے جواب دیا جانا چاہیے۔‘

سوشل میڈیا پر ردعمل

خواجہ آصف کے بیان پر سوشل میڈیا پر بھی ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

چند صارفین نے اسے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے عوام کی شناخت کی ’توہین‘ قرار دیا، جبکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات حساس قومی مسئلے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

کچھ صارفین نے اس مؤقف کی حمایت بھی کی اور کہا کہ وزیر دفاع کا اصل نکتہ کشمیریوں کی قربانیوں کو اجاگر کرنا تھا، لیکن اِس کی ترجمانی غلط انداز میں ہوئی۔

کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک صارف راجہ بشارت نے لکھا کہ ’خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر راولاکوٹ تو نہیں ہے، میں راولا کوٹ والوں کولمبا چوڑا کشمیری مانتا ہی نہیں، وہ پوٹھوہاری بولتے ہیں اور یہی میرپوریوں کا حال ہے۔‘

’خواجہ صاحب کوئی کہے کہ سیالکوٹ کا لہجہ پنجابی نہیں اور سیالکوٹ کے رہنے والے پنجاب کا حصہ نہیں تو آپ کو کیسا لگے گا؟‘

صحافی ثمر عباس نے بھی وزیر دفاع کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ’خواجہ آصف صاحب، آپ کا راولاکوٹ اور میرپور کے کشمیریوں کے بارے میں بیان بالکل حقائق کے منافی ہے۔ کشمیر کے جو علاقے پاکستان کے جن جن علاقوں کے قریب واقع ہیں وہاں انہی پاکستانی علاقوں کی زبانوں کا رنگ اور ثقافت غالب نظر آتے ہیں۔‘

ان کی رائے میں ’سات دہائیوں سے خونی لکیر نےصرف آر پار کے کشمیریوں کو تقسیم نہیں کیا بلکہ ثقافتوں کو بھی تقسیم و تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔‘

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ سے ہی تعلق رکھنے والے خواجہ سعد رفیق نے اپنی ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’کشمیریوں کی کشمیریت یا پاکستانیوں کی پاکستانیت یا پاکستان اور کشمیر کے رشتے پر سوال اٹھانا نہایت افسوسناک اور اذیت ناک ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مجھے ذاتی طور پر کشمیر ایکشن کمیٹی کے طریقہکار اور بعض مطالبات سے اتفاق نہیں ہے، لیکن مطالبات تسلیم نہ کیے جانے یا مطالبات کرنے پر کشمیر دشمنی یا پاکستان سے غداری کے الزامات ناروا اور آپسی فاصلےپیدا کرنے کے مترادف ہیں۔‘

تنقید کے جواب میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور کشمیر کے درمیان رشتہ ’ناقابلِ جدا‘ ہے اور کوئی بیان اس تعلق کو متاثر نہیں کر سکتا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف اقوام متحدہ کی قراردادوں اور حقِ خودارادیت پر مبنی ہے، اور ان کا بیان اسی تناظر میں تھا۔

’گاڑی روک کر پولیس نے کہا خوراک اور ادویات ضائع کرو‘: پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اشیا کی قلت سے لوگ پریشانراولاکوٹ میں احتجاج جاری، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 150 سے زیادہ کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول میں شاملپاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں 12 مہاجرین نشستوں کا تنازع: کیا سیاسی جماعتوں کے مفادات نے معاملے کو ڈیڈ لاک تک پہنچایا اور اب آگے کیا ہو گا؟راولاکوٹ میں احتجاج جاری، کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 150 سے زیادہ کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول میں شاملراولاکوٹ میں 8 سے 10 ہزار مظاہرین کو منتشر کرنے کا حکومتی دعویٰ، کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا لانگ مارچ جاری رکھنے کا اعلانطلبہ رہنما سے انتہائی مطلوب تک: پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما کون ہیں؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More