برطانوی تاریخ کی سب سے بڑی انتخابی فتوحات میں سے ایک حاصل کرنے کے دو سال سے بھی کم عرصے بعد برطانیہ کے وزیرِ اعظم سر کیئر سٹامر کو ان کی اپنی جماعت نے ہی اقتدار سے نکال دیا ہے۔
وہ ایک ایسے وقت میں اقتدار میں آئے تھے جب برطانیہ کی سیاست افراتفری کا شکار تھی اور انھوں نے ملک کو ایک مستحکم اور پائیدار قیادت دینے کا وعدہ کیا تھا۔
تاہم ان کی مقبولیت تیزی سے گرنے لگی اور مئی میں انگلینڈ، سکاٹ لینڈ اور ویلز میں خراب انتخابی نتائج کے بعد ان پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ گیا تھا۔
ان کاکہنا ہے کہ ’میں لیبر پارٹی کی قیادت سے استعفیٰ دے دوں گا‘ تاکہ ستمبر میں پارلیمنٹ کے دوبارہ اجلاس سے پہلے نئی قیادت سامنے آ سکے۔
سر سٹامر نے تسلیم کیا کہ ان کی جماعت یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ آیا وہ اگلے عام انتخابات میں پارٹی کی رہنمائی کے لیے درست شخصیت ہیں یا نہیں۔
تاہم اپنے استعفے کے اعلان سے قبل سٹامر نے کہا کہ انھیں ایک ایسی لیبر پارٹی ورثے میں ملی تھی جو ’سیاسی، مالی اور اخلاقی طور پر دیوالیہ‘ تھی۔
جب 2024 میں ووٹروں نے لیبر پارٹی کے حق میں فیصلہ دیا تو اس کی وجہ وکیل سے سیاست دان بننے والی شخصیت سٹامر کے لیے پسندیدگی کم اور گذشتہ 14 برسوں میں کنزرویٹو قیادت پر لوگوں کی عدم دلچسپی زیادہ تھی۔
انتخاب جیتنے کے بعد اپنے خطاب میں س سٹامر نے ’افراتفری‘ کے خاتمے اور ’قومی تجدید‘ کا وعدہ کیا تھا۔
لیکن مہنگائی میں تیزی سے اضافے، امریکہ کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی اور لیبر پارٹی کے اندرونی اختلافات کے باعث نئے وزیرِ اعظم جلد ہی اپنی مقبولیت کھو بیٹھے۔
EPAسر سٹامر نے تسلیم کیا کہ ان کی جماعت یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ آیا وہ اگلے عام انتخابات میں پارٹی کی رہنمائی کے لیے درست شخصیت ہیں یا نہیں۔
دائیں بازو کے نظریات رکھنے والی جماعت ریفارم یو کے نے 2025 کی بہار تک عوامی سرویز میں لیبر پارٹی کو پیچھے چھوڑ دیا اور تب سے ہی اس نے اپنی برتری برقرار رکھی ہوئی ہے۔
مئی کے آغاز میں بلدیاتی انتخابات میں نشستیں کھونے کے بعد سر سٹامر کی اپنی جماعت میں بغاوت کے آثار ظاہر ہونے لگے۔
اس تحریر میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ کیسے ایک دہائی میں چھٹے برطانوی وزیرِ اعظم کو مستعفی ہونے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔
اقتصادی مشکلات
ابتدا ہی سے سر سٹامر کے دورِ اقتدار میں مشکلات کے آثار نمایاں تھے۔
اقتدار میں آنے اور وزیرِ اعظم بننے کے صرف تین ماہ بعد انھوں نے چھ ہزار پاؤنڈ سے زیادہ مالیت کے تحائف واپس کر دیے، جن میں ٹیلر سوئفٹ کے کنسرٹ کے ٹکٹس بھی شامل تھے۔
اگرچہ قواعد کی خلاف ورزی نہیں ہوئی تھی لیکن وزرا کی جانب سے مفت مراعات قبول کرنے کی اطلاعات عوام میں پسند نہیں کی گئیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کی معیشت سست روی کا شکار تھی اور حکومت اپنے وعدوں کے مطابقاصلاحات پر عملدرآمد کی صلاحیت کے حوالے سے دباؤ کا سامنا کر رہی تھی۔
سر سٹامر کو پالیسیاں تبدیل کرنے کے متعدد فیصلوں پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جن میں گرین سرمایہ کاری کے وعدے سے پیچھے ہٹنا، فلاحی فوائد میں اصلاحات اور وراثتی ٹیکس میں تبدیلی شامل تھیں۔
اسی دوران انھیں دائیں بازو کی جانب سے اس مبینہ ناکامی پر بھی نشانہ بنایا گیا کہ وہ فرانس سے انگلش چینل عبور کر کے غیر قانونی طور پر آنے والے تارکینِ وطن کی تعداد کو کم نہیں کر سکے۔
برطانوی وزیر اعظم سر کیئر سٹامر کا مستعفی ہونے کا اعلان، لیبر پارٹی کی قیادت بھی چھوڑ دی’یہ ہمارے جمہوری نظام میں مداخلت کی کوشش ہے‘: برطانیہ کی نوواک ہنری کے قتل پر امریکی نائب صدر کے بیان پر تنقید برطانیہ کا بدلتا سیاسی منظر نامہ کیا تارکینِ وطن کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے؟ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ’ایچ ایم ایس ٹرمپ‘ کی گھنٹی کا شاہی تحفہ
رائے عامہ کا جائزہ لینے والی کمپنیوں کے سرویز میں مسلسل سامنے آیا ہے کہ سر سٹامر ملک میں خاصے غیر مقبول ہیں اور بعض اوقات ان کی اپروول (منظوری) کی شرح برطانیہ کے وزرائے اعظم کے لیے ریکارڈ کم ترین سطح کے قریب پہنچ گئی تھی۔
پہلے یوکرین اور پھر ایران کی جنگوں سے پیدا ہونے والے معاشی اثرات نے ان مشکلات میں مزید اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں برطانیہ ممکنہ طور پر کساد بازاری کے دہانے تک پہنچ گیا۔
درآمدات پر انحصار اور مشرقِ وسطیٰ میں تنازع سے پیدا ہونے والے توانائی بحرن کے سبب برطانیہ دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک قرار دیا گیا۔ یہ بات اپریل میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی ایک رپورٹ میں سامنے آئی۔
اپنی تازہ ترین پیش گوئی میں اس ادارے نے 2026 کے لیے شرحِ نمو کے تخمینے کو 0.8 فیصد سے بڑھا کر ایک فیصد کر دیا۔
Getty Imagesسر کیئر نے لارڈ مینڈلسن کو برطانیہ کے سب سے اہم اتحادی ملک میں سفیر مقرر کیاایپسٹین اور سفیر
سر سٹامر کے دورِ اقتدار میں سب سے بڑے سکینڈلز میں سے ایک اس وقت سامنے آیا جب ایپسٹین فائلز میں برطانیہ کے امریکہ میں سفیر لارڈ پیٹر مینڈلسن کا نام سامنے آیا۔
ٹونی بلیئر کے دور میں ایک شاندار سیاسی حکمتِ عملی کے ماہر کے طور پر شہرت حاصل کرنے والے لارڈ مینڈلسن اس سے قبل بھی لیبر حکومتوں سے دو مرتبہ تنازعات کے باعث مستعفی ہو چکے تھے۔
سر کیئر نے لارڈ مینڈلسن کو برطانیہ کے سب سے اہم اتحادی ملک میں سفیر مقرر کیا، باوجود اس کے کہ وہ جانتے تھے کہ سفارتکار نے جیفری ایپسٹین کے ساتھ اس وقت بھی تعلقات برقرار رکھے تھے جب انھیں کم عمر لڑکی کو جسم فروشی پر آمادہ کرنے کے جرم میں سزا ہو چکی تھی۔
جنوری میں امریکی حکومت کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں سزا یافتہ جنسی مجرم کے لارڈ مینڈلسن کے ساتھ روابط کے بارے میں نئی معلومات سامنے آئیں۔ جاری ہونے والے مواد کے نتیجے میں پولیس نے تحقیقات شروع کیں، جو بظاہر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ لارڈ مینڈلسن نے ایپسٹین کے ساتھ خفیہ سرکاری معلومات شیئر کیں۔
لارڈ مینڈلسن نے ان ای میلز پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ ان کا مؤقف یہ ہے کہ انھوں نے کسی بھی طرح کا کوئی مجرمانہ فعل نہیں کیا اور نہ ہی ان کا کوئی مالی فائدہ حاصل کرنے کا ارادہ تھا۔
سٹامر نے ستمبر میں لارڈ مینڈلسن کو عہدے سے ہٹا دیا، تاہم اس معاملے نے بہت سے لوگوں کو وزیرِ اعظم کے فیصلے پر سوال اٹھانے پر مجبور کیا اور اس مستحکم اور اہل قیادت کے تصور کو کمزور کر دیا جو وہ پیش کرنا چاہتے تھے۔
AFPاگرچہ ابتدا میں امریکی اور برطانوی رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ملاقاتیں ہوئیں، لیکن ایران کے ساتھ جنگ میں شمولیت سے ابتدائی انکار کے بعد دونوں ممالک کے درمیان 'خاص رشتے' میں بتدریج کشیدگی پیدا ہونے لگی۔ٹرمپ سے تعلقات میں کشیدگی
لارڈ مینڈلسن کو امریکہ میں سفیر مقرر کرنے کا خطرہ مول لینے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ سر سٹامر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنا چاہتے تھے۔
اگرچہ ابتدا میں امریکی اور برطانوی رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ملاقاتیں ہوئیں، لیکن ایران کے ساتھ جنگ میں شمولیت سے ابتدائی انکار کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ’خاص رشتے‘ میں بتدریج کشیدگی پیدا ہونے لگی۔
بعد ازاں وزیرِ اعظم نے اپنا مؤقف تبدیل کیا اور امریکی افواج کو ایرانی میزائل تنصیبات پر ’دفاعی‘ حملوں کے لیے برطانوی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے دی۔
لیکن یہ درمیانی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ بھی ٹرمپ کو مطمئن نہ کر سکا اور انھوں نے سر سٹامر پر تنقید جاری رکھی۔ تعلقات میں اس دراڑ نے لیبر پارٹی کے روایتی حامیوں کو بھی ناراض کر دیا، جو تنازع میں کسی بھی طرح کی شمولیت کے خلاف تھے۔
وزیراعظم کے بعض ناقدین کے لیے یہ رعایت ان کی قیادت کی علامت بن گئی: ایک ایسا سمجھوتہ جس تک وہ تاخیر سے پہنچے اور جس سے دونوں جانب ناراضی پیدا ہوئی۔
درحقیقت ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر نے سر سٹامر کے استعفے کا پیشگی اندازہ لگا لیا تھا۔
اتوار کو سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ سر سٹامر ’وزیرِ اعظم کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔‘ امریکی صدر نے ان پر امیگریشن اور توانائی پالیسی میں ’بُری طرح ناکام‘ ہونے کا الزام عائد کیا۔
انھوں نے مزید کہا: ’میں ان کے لیے نیک خواہشات رکھتا ہوں!‘
برطانیہ قیام کے لیے پناہ گزینوں کے گھریلو تشدد کے جھوٹے دعوے، بی بی سی کی تحقیق میں انکشافقبرص میں موجود برطانوی ائیر فورس ایرانی ڈرونز کے خلاف دفاعی مشن کیسے انجام دے رہی ہے؟برطانیہ داخلے کا نیا نظام اور پیچیدگیاں: اب آپ کو ویزا چاہیے یا ’ای ٹی اے‘؟مخبری اور ’مہارت سے زیادہ قسمت‘: فوٹوگرافر نے سابق برطانوی شہزادے اینڈریو کی گرفتاری کی تصویر کیسے کھینچی؟پاکستانی نژاد برطانوی سیاستدان ساجد جاوید پر تنقید: ’خود والدین کے برطانیہ آنے کے فیصلے سے فائدہ اُٹھایا، دوسروں کو روک رہے ہیں‘’نیٹو کے فوجی افغانستان میں اگلے مورچوں پر نہیں لڑے:‘ ٹرمپ کے بیان پر برطانیہ میں شدید ردِعمل، معافی کے مطالبات