پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہڑتال کا ساتواں روز: شہریوں کا راشن کی قلت کا شکوہ، کشیدگی تاحال برقرار

بی بی سی اردو  |  Jun 15, 2026

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میںکالعدم تنظیم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر ہڑتال ساتویں روز میں داخل ہوگئی ہے اور اس کے ہزاروں کارکنان راولاکوٹ کے علاقوں دریک عید گاہ اور آزاد پتن کے قریب موجود ہیں۔

مظاہرین بھمبر اور میر پور سے لانگ مارچ کر کے راولاکورٹکے گردنواح میں پہنچے ہیں لیکن انھیں شہر کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران مظاہرین، سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں 10 شہری اور چار پولیس اہلکار شامل ہیں۔

راولاکوٹ شہر میں غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے اور پولیس کی گاڑیوں کے علاوہ شہر کی مساجد میں بھی اعلانات کروائے جارہے ہیں، جس میں رہائشیوں سے کہا جارہا ہے کہ وہ اپنے گھروں میں ہی رہیں کیونکہ شہر میں کرفیو نافذ ہے، تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس ضمن میں کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔

گذشتہ روز پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ راولاکوٹ کے علاقے دریک عید گاہ کے قریب کالعدم جماعت جموں کشمیر جوائینٹ ایکشن کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان اتوار کی علی الصبح فائرنگ کے مبینہ تبادلے میں دو افراد مارے گئے جبکہ آٹھ سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔

اس سے پہلے اتوار کی صبح کمشنر وحید خان نے بتایا تھا کہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک شخص زخمی ہوا ہے جبکہ عینی شاہین کے مطابق سکیورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے تین کی حالت تشویش ناک ہے۔

کمشنر پونچھ کہتے ہیں کہ مظاہرین پر واضحکر دیا گیا ہے کہ حکومت کالعدم تنظیم کے چار اراکین، جن کی گرفتاری کے حوالے سے انعامی رقم بھی رکھی گئی ہے، کوچھوڑ کر دیگر افراد کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین کا کہنا تھا کہ اس طرح مذاکرات کی دعوت دینا ان کی تنظیم کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے اور ان کی تنظیم ایسی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

اس سے قبل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی انتظامیہ نے راولا کوٹ کے قریب دریک عیدگاہ میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرکے علاقہ خالی کروانے کا دعویٰ کیا تھا۔ تاہم حکام کا کہنا تھا کہ آزاد پتن کے مقام پر مظاہرین موجود ہیں جن کی تعداد 500 سے بھی کم ہے۔

پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس دوران اہلکاروں اور پولیس کی بکتر بندی گاڑی کو گولیوں کا نشانہ بھی بنایا گیا، تاہم چونکہ یہ گاڑی بم پروف ہوتی ہے اس لیے نقصان نہیں ہوا۔

ادھر کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ایک رکن اکرم عباسی نے الزام عائد کیا تھا کہ رینجرز اور پولیس نے دریک عید گاہ کے مقام پر لانگ مارچ کے شرکا پر اس وقت دھاوا بول دیا جب وہ پرامن طور پر بیٹھے ہوئے تھے۔

اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے لاٹھی چارج کے علاوہ آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ بھی کی جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں سے تین کی حالت تشویش ناک ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں 9 جون سے احتجاجاور لانگ مارچ شروع کر رکھا ہے۔

حکام نے اس گروپ پر بغاوت کا الزام لگا کر اس پر پابندی لگا دی ہے اور اس کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا اور روپوش ہونے والے رہنماؤں کے بارے میں معلومات دینے پر ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا۔

یاد رہے کہ اس احتجاج کے دوران جھڑپوں میں اب تک چار سکیورٹی اہلکاروں سمیت کم از کم 15 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب وزارتِ داخلہ نے کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی اور متحرک کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی درخواست بھی متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی ہے۔

Getty Imagesراولا کوٹ میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت

راولاکوٹ کی طرف جانے والے راستوں کی بندش کی وجہ سے شہر میں آٹے کا بحران پیدا ہوگیا ہے اور لوگ پلندری اور دوسرے راستوں سے کھانے پینے کی اشیا لانے پر مجبور ہیں۔

راولاکوٹ کی رہائشینذیراں بی بی کے مطابقانھوں نے عوامی ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ کی کال کے پیش نظر ایک ہفتے کا راشن محفوظ کر لیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’سات روز کا یہ راشن یہ سوچ کر محفوظ کیا گیا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنانزیادہ سے زیادہ ایک، دو روز راولاکوٹ میں قیام کے بعد مظفر آباد کی طرف لانگ مارچ کے لیے نکل جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘

نذیراں بی بی کہتی ہیں کہ ان کے گھر میں آٹا اور گھی ختم ہو چکا ہے اور جب وہ قریبی علاقے میں رہائش پزیر رشتہ داروں سے یہ اشیا لینے گئیں تو انھیں معلوم ہوا کہ ’ان کے حالات بھی میرے گھر کے حالات جیسے ہی تھے، یعنی وہاں پر بھی کھانے پینے کی اشیا ختم ہو چکی تھیں۔‘

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ دوسرے شہروں سے ان کے گھر آنے والے ان کے عزیز و اقارب بھی کشیدہ حالات کے سبب اپنے گھروں کو جانے سے قاصر ہیں۔

راولاکوٹ کے رہائشی سردار طارق کے مطابق راولپنڈی سے ان کے قریبی رشتہ دار انھیں ملنے کے لیےپانچ جون کو راولاکوٹ آئے تھےاور ابھی تک اس علاقے میں ہی مقید ہو کر رہ گئے ہیں۔

سردار طارق کا کہنا تھا کہ ’جتنی استطاعتتھی اس کے مطابق میں اپنے مہمانوں کی خدمت کر رہا ہوں لیکن اب تو گھر میں راشن ختم ہی ہوکر رہ گیا ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ شہر کی تمام دوکانیں بند ہیں جبکہ راولاکوٹ کی طرف آنے والے تمام راستے بند ہیں، جس کی وجہ سے گذشتہ ایک ہفتے سے شہر میں کھانے پینے کی اشیا کی سپلائی نہیں ہو رہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے کوٹلی اور پلندری سےموٹر سایکل پرکچھ سامانآجاتا تھا لیکن اب تو شہر میں پیٹرول بھی نایاب ہے۔‘

جب پونچھ ڈویژن کے کمشنر سردار وحید خان سے ان حالات پر جواب طلب کیا گیا تو ان کا دعویٰ تھا کہ ضلعی انتظامیہ نےلوگوں کو اپنی دوکانیں بند رکھنے کا نہیں کہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں نے اپنی مرضی سے دوکانیں بند کی ہوئی ہیں اس لیے انھیں زبردستی دوکانیں کھولنے کا نہیں کہہ سکتے۔‘

سردار وحید خان کے مطابق میر پور اور بھمبر میں کاروباری مراکز کھلے ہیں، جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے تمامشہروں میں مکمل ہڑتال ہے۔

مظفر آباد میں کاروبار نہ کھولنے پر کارروائی کی دھمکی

دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کی ضلعی انتظامیہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں دوکانداروں اور تاجروں سے کہا گیا ہے کہ عوام کی سہولتاور خدمت کے لیے اشیائے ضروریہ فراہمکرنے والے دوکاندار اپنے کاروبار کھولیں اور عدم تعمیل کی صورت میں ضابطے کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابقضلعی انتظامیہکے اس نوٹیفکیشن کے باوجود مظفر آبادکی تمام بڑی مارکٹیں اور دوکانیں بند ہیں۔

ان کے مطابق ’بسوں کے اڈے ویران ہیں، پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے اور لوگوں کو سفر کرنے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔‘

’ضلعی انتظامیہ کے افسران پولیس اور رینجرز کے ساتھ مارکیٹوں کا دورہ تو ضرور کر رہے ہیں لیکن وہاں پر کسی نے دوکان نہیں کھولی۔ کچھ علاقوں میں چند ایک میڈیکل سٹور اور دودھ دہی والی دوکانیں کھلی ہیں۔‘

کالعدم تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک اپنا لانگ مارچ اور احتجاج ختم نہیں کرے گی جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور ان کے مطالبات میں اولین مطالبہ ان کیتنظیم کو کالعدم قرار دیے جانے کا فیصلہ واپس لینا اور ان کارکنوں کی لاشوں کا حصول ہے، جن کے متعلق کمیٹی کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ہیں۔

عوامی ایکشن کمیٹی کی کور کمیٹی کے رکن عابد شاہین کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کے لاکھوں کارکنان اس وقت دریک عید گاہ اور آزاد پتن سمیت مختلف علاقوں میں موجود ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’فی الوقت راشن کی کمی نہیں ہے کیونکہ مختلف علاقوں کے لوگ اس لانگ مارچ میں شامل کارکنان کے لیے کھانے پینے کا بندو بست کر رہے ہیں۔‘

BBC

تاہم پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پولیس کے سربراہ ملک لیاقت اعوان نے بی بی سی کو بتایا کہمختلف علاقوں میں سڑکوں کی بندش، پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے نہیں بلکہ مظاہرین کی جانب سے ہے۔

انھوں نے کہا کہ راولاکوٹ یا کشمیر کے کسی علاقے میں اگر خوارک کی قلت پیدا ہوگئی ہے تو اس کی ذمہ داری پولیس، ضلعی انتظامیہ یا رینجرز پر عائد نہیں کی جاسکتی۔

انھوں نے کہا کہ پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے لانگ مارچ میں شاملمظاہرین کو یہ بارہا پیغام دیا جارہا ہے کہ جو لوگ اپنے گھروں کو جانا چاہتے ہیں پولیس اور ضلعی انتظامیہ ان کو معاونت فراہم کرے گی۔

ملک لیاقت کے بقول بہت سے مظاہریناپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں اور پولیس کی جانب سے ان کی اس ضمن میں مدد بھی کی گئی ہے ،تاہم عوامی ایکشن کمیٹی اس دعوے کی تردید کرتی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’اس لانگ مارچ میں شامل ان شرپسندوں کے ساتھ کیسے رعایت برتی جا سکتی ہے جنھوں نے پولیس اور سکیورٹی فورسز پر گولیاں چلائیں۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’دو روز قبل مظاہرین کی جانب سے آرمڈ پرسنیل کیریئریعنی اے پی سی پر جو فائرنگ کی گئی اس کی گولیاں اے پی سی کے اندر تک چلی گئیں حالانکہ اے پی سی بم پروف ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مظاہرے میں شامل لوگوں کو پاس کس قسم کا جدید ہتھیار ہے۔‘

AFP via Getty Imagesمختلف مقامات پر عارضی چیک پوسٹیں اور حفاظتی بنکرز

پونچھڈویژن کے کمشنر وحید خان کا کہنا ہے کہ کہوٹہ سے راولا کوٹ آنے والی شاہراہ کو مظاہرین نے پتھر اور درختوں کے تنے رکھ کر بند کر رکھا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پونچھ ڈویژن کے علاقوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی ایک حکمتِ عملی کے تحت ابھی تک معطل ہے۔

دوسری جانب مظفر آباد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کے مختلف مقامات پر عارضی چیک پوسٹیں اور حفاظتی بنکرز بھی بنا لیے ہیں۔

مقامی صحافی فرحان طارق کے مطابق مظفر آباد کے ٹانگہ سٹینڈ اور دیگر علاقوں میں پولیس نے ریت کی بوریوں کی عارضی دیوار بنا کر چیک پوسٹیں بنا لی ہیں۔

تھانہ سٹی میں تعینات ایک پولیس اہلکار کے مطابق یہ اقدامات کالعدم جماعت جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کی طرف سے ممکنہ طور پر مظفر آباد میں دھرنا دینے کی کال کے پیشِ نظر کیا گیا۔

فرحان طارق کے مطابق پولیس نے کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی کے رکن راجہ صہیب جاوید کے گھر پر چھاپہ مارا۔

مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ راجہ صہیب اپنے گھر آئے ہوئے ہیں جس پر پولیس انھیں گرفتار کرنے گئی تاہم وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

فیصل ممتاز راٹھور کی مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت: ’جن کے پاس شواہد ہیں انھوں نے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا‘پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کشیدگی پر برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کا خط اور دفتر خارجہ کا جواب: ’بہتر ہوگا وہ اپنے ملک میں مثبت کردار ادا کریں‘’منظم کارروائی کرتے ہوئے راولا کوٹ سی ایم ایچ کا محاصرہ ختم کروا لیا‘: چار پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے، کشمیر پولیس’انڈیا گہری نظر رکھے ہوئے ہے‘: پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کو کالعدم قرار دینے کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟مارکیٹس اور کاروباری مراکز کی صورتحال

مقامی صحافی فرحان طارق نے بتایا کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مارکیٹیں اور دکانیں بند ہیں اور مظفر آباد میں پھلوں اور سبزیوں اور دیگر اشیائے خورد ونوش کی سپلائی نہیں ہو رہی۔

فرحان طارق کا کہنا ہے کہ لوگ صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے گڑھی حبیب اللہ اور مانسہرہ سے سامان خرید کر مظفر آباد لا رہے ہیں۔

مقامی صحافی جمیل صدیقی کے مطابق ضلع حویلی میں بازاروں میں آٹا دستیاب ہے نہ پیٹرول اور شہری اشیائے خورد ونوش کی تلاش میں نکلیں بھی تو پیٹرول دستیاب نہیں جس کے باعث وہ پیدل کئی کئی میل کا سفر طے کرنے پر مجبور ہیں۔

دوسری جانب ڈپٹی کمشنر مظفر آباد منیر قریشی کا کہنا ہے کہ شہر کی طرف آنے والے تمام راستے کھلے ہیں اور کسی کو بھی سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں۔

انھوں نے کہ شہر میں سبزی اور فروٹ کے علاوہ اشیائے خوردو نوش کی دکانیں کھلی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر کی دکان کو سیل کردیا ہے۔

منیر قریشی کے مطابق جمعے کی شام طارق آباد اور سبزی منڈی میں دکانیں کھلی رہیں جبکہ دودھدہی کی دکانیں بھی کھلی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کسی بھی دکان دار کو زبردستی اپنی دکان پر کھولنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔

منیر قریشی کا مزید کہنا تھا کہ نیلم ویلی سے کالعدم تنظیم کے کارکنان مظفر آباد کی طرف مارچ کر رہے تھے تاہم وہاں موجود قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی وجہ سے مظاہرین واپس اٹھمقام کی طرف لوٹ گئے۔

Getty Imagesکالعدم تنظیم کے کارکنوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی تجویز

پاکستانی وزارت داخلہ نے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چیف سیکریٹری کی طرف سے کالعدم تنظیم کی کور کمیٹی اور سرکردہ کارکنوں کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی تجویز متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دی ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ کمیٹی ایک دو روز میں ان سفارشات کے بارے میں فیصلہ کرکے وفاقی حکومت کے علاوہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت کو بھی آگاہ کرے گی۔

کشمیر میں احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟

کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ کشمیر اسمبلی میں ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کی اِن 12 نشستوں پر منتخب ہونے والے نمائندوں کو متعدد بار کشمیر میں حکومت گرانے اور وزرائے اعظم کی تبدیلی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ ’مقامی وسائل کے بے دریغ ضیاع میں مہاجرین کے نام پر پاکستان میں موجود 12 حلقوں کا ایک بڑا کردار ہے۔‘

ایکشن کمیٹی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ’ان حلقوں کو حکومت پاکستان ایک ٹول کے طور پر استعمال کرتی ہے اور ان حلقوں کے ممبران کو عدم استحکام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے ان حلقہ جات کو فوری ختم کیا جائے اور وہ مہاجرین جو خطے کے اندر رہائش پذیر ہیں انھیں ہی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔‘

جوائنٹ ایکشن کمیٹی ان سیٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے تاہم کشمیر میں موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ سیٹوں کا خاتمہ آئینی ترمیم ہی کے ذریعے ممکن ہے جس کے لیے دو تہائی اکثریت چاہیے اور یہ کہ اب یہ کام آئندہ منتخب ہونے والی اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔

یاد رہے کہ کشمیر میں اسمبلی الیکشن جولائی 2026 میں منعقد ہوں گے۔ کشمیر کی سپریم کورٹ بھی اس معاملے پر اسی رائے کا اظہار کر چکی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز نے گذشتہ دنوں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ کشمیر کے فنڈز کے باہر جانے اور (ان سیٹوں کے ذریعے) پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا کشمیر کی سیاست پر اثر انداز ہونے جیسے الزامات کسی حد تک درست ہیں، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اِن شکایات پر بات ہو سکتی ہے اور اِن کا حل نکالا جا سکتا ہے مگر سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے یہ کام ممکن نہیں۔

کشمیر حکومت کا الزام ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی عوامی مسائل کے نام پر عوام میں گمراہ کُن اور بے بنیاد بیانیہ پھیلا رہی ہے جس کا ہر صورت تدارک کیا جائے گا اور کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے گا۔

’ایک آئینی، قانونی مسئلے کو جذباتی مسئلہ بنا دیا گیا‘: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کی 12 نشستوں کا تنازع کیا ہے؟’انڈیا گہری نظر رکھے ہوئے ہے‘: پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کو کالعدم قرار دینے کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟8.7 کلومیٹر طویل ٹنل کے ذریعے چناب کا پانی بیاس میں موڑنے کا انڈیا کا اربوں روپے کا منصوبہ کیا ہے اور پاکستان کو اس پر کیوں اعتراض ہے؟فیصل ممتاز راٹھور کی مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت: ’جن کے پاس شواہد ہیں انھوں نے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا‘پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں احتجاجی مظاہرے کیوں ہو رہے ہیں؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More