پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مکمل ہڑتال: راولاکوٹ میں کرفیو نافذ جبکہ کوٹلی میں پرتشدد جھڑپوں میں تین افراد ہلاک

بی بی سی اردو  |  Jun 10, 2026

Reuters

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے مختلف اضلاع میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر آج (بدھ) دوسرے روز بھی مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جا رہی ہے جبکہ راولا کوٹ میں کرفیو کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر پونچھ ممتاز کاظمی نے بی بی سی کو تصدیق کی ہے کہ راولاکوٹ میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

مقامی صحافی خورشید بیگ کے مطابق راولاکوٹ کی مساجد سے اعلان کیا جا رہا ہے کہ شہر میں کوفیو نافذ کر دیا گیا ہے لہذا باہر کے افراد شہر کی جانب نہ آئیں اور مقامی افراد گھروں سے نہ نکلیں۔ راولا کوٹ کے ایک شہری نے بھی مساجد سے کرفیو کے نفاذ کے إعلانات کی تصدیق کی ہے۔

راولا کوٹ کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ لانگ مارچ میں شرکت کے لیے قافلوں کی صورت میں آنے والے مظاہرین اِس وقت ہجیرہ نامی علاقے میں موجود ہیں اور وہ راولا کوٹ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

احتجاج کے پیش نظر کشمیر بھر میں سکیورٹی انتہائی سخت ہے اور ریاستی دارالحکومت مظفر آباد میں ہیلی کاپٹر علی الصبح سے فضاؤں میں نگرانی کی غرض سے پروازیں کر رہے ہیں۔

مظفر آباد کے علاوہ کشمیر کے بڑے اضلاع بشمول باغ، میرپور، راولا کوٹ اور کوٹلی میں آج دوسرے روز بھی کاروباری مراکز، پبلک ٹرانسپورٹ، بینک اور پیٹرول پمپس بند ہیں جبکہ سڑکوں پر عام ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگرچہ کشمیر میں سرکاری دفاتر کُھلے ہوئے تاہم اُن میں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں کشمیر حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں نو جون سے احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

ایکشن کمیٹی کے مطابق احتجاج کا سلسلہ اُس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک یہ مطالبہ منظور نہیں ہو جاتا۔ اس احتجاج کے پیش نظر کشمیر بھر میں صورتحال کشیدہ ہے اور ممکنہ امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں کشمیر حکومت کی درخواست پر وفاق کی جانب سے اضافی نفری کشمیر میں تعینات کی گئی ہے۔

منگل کے روز کشمیر کے مختلف اضلاع سے مظفر آباد کے لیے نکلنے والے مظاہرین کے قافلے اِس وقت مختلف مقامات پر موجود ہیں اور گذشتہ رات مظاہرین کی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔

کوٹلی میں گذشتہ رات مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی پُرتشدد جھڑپ میں اب تک کم از کم تین افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

کوٹلی سے پولیس اہلکار راجہ حبیب نے بی بی سی کو بتایا کہ کالعدم تنظیم (ایکشن کمیٹی) سے تعلق رکھنے والے افراد لانگ مارچ میں شرکت کے لیے میرپور کی طرف جا رہے تھے جب راستے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے انھیں روکنے کی کوشش کی۔

انھوں نے کہا کہ اسی دوران ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ 20 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ اُن کے مطابق زخمی ہونے والوں میں پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

ڈی ایس پی کوٹلی چوہدری شہزاد نے بی بی سی اُردو کو بتایا کہ گذشتہ رات اُن کے اہلخانہ میں یہ افوہ پھیل گئی کہ وہ ایک جھڑپ میں وہ زخمی ہوئے ہیں۔ اُن کے مطابق یہ اطلاع ملنے پر اُن کا بھتیجا انھیں ڈھونڈتے ہوئے کوٹلی ہسپتال پہنچا تو اسی دوران وہاں ہونے والی جھڑپ کے دوران وہ گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا۔

ڈی ایس پی کوٹلی نے اس جھڑپ میں اپنے بھتیجے کے علاوہ ایک اور شخص کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی۔

اس علاقے سے تعلق رکھنے والی ایک حکومتی وزیر نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کم از کم تین ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے میر پور ڈویژن کے کمشنر طاہر ممتاز نے بی بی سی کو بتایا کہ مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں اور زخمیوں کے بارے میں تفصیلات محکمہ داخلہ جاری کرے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل راولا کوٹ میں سی ایم ایچ کے سامنے مظاہرین اور پولیس میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں، چار پولیس اہلکار اور پانچ مظاہرین ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم بعدازاں کشمیر پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ ہلاک ہونے والے مظاہرین کی تعداد تین ہے جو 'اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ' سے ہلاک ہوئے تاہم ایکشن کمیٹی نے اس کی تردید کرتے ہوئے پولیس پر پرامن احتجاج کرنے والوں پر گولی چلانے کا الزام عائد کیا تھا۔

راولا کوٹ میں کم از کم پانچ مظاہرین کی ہلاکت کی تصدیق کمشنر راولا کوٹ سردار وحید خان نے بھی کی تھی۔

BBCمظفر آباد سمیت کشمیر کے مختلف اضلاع میں کاروباری مراکز آج دوسرے روز بھی بند ہیں

بدھ کی صبح بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کمشنر پونچھ سردار وحید نے بتایا کہ کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم کے کارکن میر پور شہر سے نکل ائے ہیں اوراِس وقت ہجیرہ نامی علاقےکے قریب ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان مظاہرین کی تعداد تین سے چار ہزار کے درمیان ہے۔

کمشنر سردار وحید کے مطابق ان مظاہرین کا آگے راولاکوٹ کے مقام پر اکھٹا ہونے کا منصوبہ ہے لیکن چونکہ شہر میں دفعہ 144 نافذ ہے اس لیے مظاہرین کو اکھٹا ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون پر عملدرآمد کروایا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ مظاہرین کی چند ٹولیوں کے منگ اور دیگر علاقوں میں جمع ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ سردار وحید خان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس اور پیرا ملڑی فورسز کے جوانوں کو مخلتف علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے ۔

دوسری جانب راولاکوٹ کے مقامی صحافی جنید کے مطابق پولیس کی گاڑیوں میںلگے ہوئے لاؤڈسپیکر ز سےشہر بھر میں اعلاناتکروائے جا رہے ہیں جس میں شہریوں کو متنبہ کیا جا رہا کہ وہ دفعہ 144 (چار یا چار سے زیادہ افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی) کی پابندی کریں اور بلاضرورت گھروں سے نہ نکلیں۔

دوسری جانب کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد میںامن و امان کی صورتحال فی الحال نارمل ہے تاہم کاروباری مراکز، دکانیں، بینک، پیٹرول پمپس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند ہیں۔منگل کی شام مظفر آباد میں کھانے پینے کا سامان فروخت کرنے والی کچھ دوکانیں کھولی گئی تھیں اور لوگ بھی باہر نکلے تھے۔

شوکت نواز میر پر غداری کا مقدمہ اور گرفتاری میں مدد پر انعام کا اعلانGetty Images

دوسری جانبمظفر آباد پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رُکن شوکت نواز میر کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندراج کے بعد تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے

مظفر آباد کے تھانہ سٹی پولیس کے مطابق متعلقہ عدالت سے آج ملزم (شوکت میر) کے گھر کا سرچ وارنٹ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی جبکہ ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس کی ٹیمیں بھی تشکیل دی گئی ہے جو کہ مختلف علاقوں میں ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہیں۔

فیصل ممتاز راٹھور کی مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت: ’جن کے پاس شواہد ہیں انھوں نے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا‘پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کشیدگی پر برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کا خط اور دفتر خارجہ کا جواب: ’بہتر ہوگا وہ اپنے ملک میں مثبت کردار ادا کریں‘’منظم کارروائی کرتے ہوئے راولا کوٹ سی ایم ایچ کا محاصرہ ختم کروا لیا‘: چار پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہوئے، کشمیر پولیس’انڈیا گہری نظر رکھے ہوئے ہے‘: پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کو کالعدم قرار دینے کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اُن مقدمات کا سٹیٹس بحال کرنے کے لیے متعلقہ عدالتوں سے رجوع کر رہی ہے جو کہ گذشتہ برس عوامی ایکشن کمیٹی کے سینکڑوں کارکنوں کے خلاف درج کیے گئے تھے تاہم حکومت اور کمیٹی کے درمیان معاہدہ ہونے کی صورت میں پراسیکوشن کی طرف سے ان مقدمات کو واپس لے لیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ منگل کی شام کشمیر کی حکومت نے ایکشن کمیٹی کے دو سرکردہ رہنماؤں کے خلاف بغاوت کا الزام عائد کرتے ہوئے قانونی کارروائی کا حکم دیا تھا۔ اس سے قبل پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ شوکت نواز میر اور مہران ارشد کو 'اپنی تقاریر، تحریری مواد، ویڈیو و آڈیوز کے ذریعے بغاوت' کا ارتکاب کیا ہے جو کہ ایک قابل سزا جرم ہے۔

منگل ہی کے روز کشمیر حکومت نے شوکت نواز میر سمیت جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد یا ان کے بارے میں اطلاع فراہم کرنے والوں کے لیے انعام کا اعلان کیا تھا۔

ایک سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں شوکت نواز میر، عمر نذیر کشمیری، سردار امان اور خواجہ مہران کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے افراد کو ایک کروڑ روپے انعام دیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ مطلوب افراد کی موجودگی یا گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات فراہم کرنے والوں کی شناخت صیغۂ راز میں رکھی جائے گی۔

سینیئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ریاض مغل نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ کالعدم تنظیم کے مذکورہ ارکان اس وقت روپوش ہیں اور پولیس ان کی تلاش میں مصروف ہے۔

کشمیر میں احتجاج کیوں ہو رہا ہے؟Getty Images

کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ کشمیر اسمبلی میں 'مہاجرین مقیم پاکستان' کی اِن 12 نشستوں پر منتخب ہونے والے نمائندوں کو متعدد بار کشمیر میں حکومت گرانے اور وزرائے اعظم کی تبدیلی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جبکہ 'مقامی وسائل کے بے دریغ ضیاع میں مہاجرین کے نام پر پاکستان میں موجود 12 حلقوں کا ایک بڑا کردار ہے۔'

ایکشن کمیٹی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ 'ان حلقوں کو حکومت پاکستان ایک ٹول کے طور پر استعمال کرتی ہے اور ان حلقوں کے ممبران کو عدم استحکام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے ان حلقہ جات کو فوری ختم کیا جائے اور وہ مہاجرین جو خطے کے اندر رہائش پذیر ہیں انھیں ہی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔'

جوائنٹ ایکشن کمیٹی ان سیٹوں کے خاتمے کا مطالبہ کرتی ہے تاہم کشمیر میں موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ سیٹوں کا خاتمہ آئینی ترمیم ہی کے ذریعے ممکن ہے جس کے لیے دو تہائی اکثریت چاہیے اور یہ کہ اب یہ کام آئندہ منتخب ہونے والی اسمبلی ہی کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ کشمیر میں اسمبلی الیکشن جولائی 2026 میں منعقد ہوں گے۔ کشمیر کی سپریم کورٹ بھی اس معاملے پر اسی رائے کا اظہار کر چکی ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم فیصل ممتاز نے گذشتہ دنوں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تسلیم کیا تھا کہ کشمیر کے فنڈز کے باہر جانے اور (ان سیٹوں کے ذریعے) پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا کشمیر کی سیاست پر اثر انداز ہونے جیسے الزامات کسی حد تک درست ہیں، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ اِن شکایات پر بات ہو سکتی ہے اور اِن کا حل نکالا جا سکتا ہے مگر سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے یہ کام ممکن نہیں۔

کشمیر حکومت کا الزام ہے کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی عوامی مسائل کے نام پر عوام میں گمراہ کُن اور بے بنیاد بیانیہ پھیلا رہی ہے جس کا ہر صورت تدارک کیا جائے گا اور کسی کو قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیا جائے گا۔

’انڈیا گہری نظر رکھے ہوئے ہے‘: پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ’عوامی ایکشن کمیٹی‘ کو کالعدم قرار دینے کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟’ایک آئینی، قانونی مسئلے کو جذباتی مسئلہ بنا دیا گیا‘: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کی 12 نشستوں کا تنازع کیا ہے؟8.7 کلومیٹر طویل ٹنل کے ذریعے چناب کا پانی بیاس میں موڑنے کا انڈیا کا اربوں روپے کا منصوبہ کیا ہے اور پاکستان کو اس پر کیوں اعتراض ہے؟فیصل ممتاز راٹھور کی مظاہرین کو مذاکرات کی دعوت: ’جن کے پاس شواہد ہیں انھوں نے ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کیا‘پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں احتجاجی مظاہرے کیوں ہو رہے ہیں؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More