Getty Imagesبعض اوقات اسے 'غیر متوقع طلاق کا سنڈروم' بھی کہا جاتا ہے
ایو سیمنز ساڑھے آٹھ سال تک ایک رومانوی تعلق میں رہیں اور چھ ماہ تک شادی شدہ تھیں، جب ایک دن ان کے شوہر نے ان کے سامنے پاستا کا پیالہ رکھا اور ساتھ ہی کہا ’میں خوش نہیں ہوں۔‘
یہ ایک بالکل غیر متوقع بات تھی۔ چند دن بعد انھوں نے بتایا کہ وہ اپنی شادی کو سنوارنے کی کوشش بھی نہیں کرنا چاہتے۔
سیمنز کے مطابق یہ ایک ’سنگدل علیحدگی‘ تھی۔
ریڈٹ اور دیگر سوشل فورمز پر ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں، جہاں سابقہ شریکِ حیات یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھیں ’بلائنڈ سائیڈ طلاق‘ یا غیر متوقع طلاق کا سامنا کرنا پڑا۔
بعض اوقات اسے ’اچانک طلاق کا سنڈروم‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس طرح اچانک طلاق اور علیحدگی ہمیں جدید محبت اور تعلقات کی حالت کے بارے میں کیا بتاتی ہے؟
بے خبری کا صدمہ
ایڈم ڈیوس (جن کا اصل نام رازداری کی خاطر ظاہر نہیں کیا گیا) اپنی بیوی کے ساتھ 10 سال تک تعلق میں رہے اور چار سال شادی شدہ رہے۔ پھر ایک دن ان کی ’بیوی گھر سے شاپنگ کے لیے باہر نکلیں اور کبھی واپس نہیں آئیں۔‘
ان کی خیریت کے بارے میں فکر مند ہو کر ڈیوس نے پولیس سے رابطہ کیا، جس نے تصدیق کی کہ وہ خیریت سے ہیں، مگر انھوں نے واضح کیا کہ وہ ڈیوس سے کوئی رابطہ نہیں کرنا چاہتیں۔ چند ہفتوں بعد انہیں ڈاک کے ذریعے طلاق کے کاغذات موصول ہوئے۔
وہ کہتے ہیں ’کوئی وضاحت نہیں تھی، کوئی اختتام یا تسلی نہیں ملی، کوئی الوداع نہیں کہا گیا۔‘
بیوی کے جانے کے بعد ڈیوس میں پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئیں۔
وہ کہتے ہیں ’میں سو نہیں پاتا تھا، کھا نہیں سکتا تھا۔۔۔ کام پر توجہ نہیں دے سکتا تھا۔ روزمرہ کے کام بھی مشکل ہو گئے تھے، جیسے صبح بستر سے اٹھنا، نہانا یا دانت برش کرنا۔‘
وہ کہتے ہیں ابتدائی صدمہ کم ہونے کے بعد ’پھر غم نے اپنی جگہ لے لی، کیونکہ تب حقیقت سامنے آئی کہ وہ جا چکی ہے۔‘
ڈیوس کو خدشہ ہے کہ یہ اچانک طلاق ان کی زندگی، مستقبل کے تعلقات، حتیٰ کہ عام دوستیوں پر بھی دیرپا اثر ڈالے گی۔
وہ کہتے ہیں ’میں نے اس سے پہلے کبھی اتنا صدمہ دینے والا بریک اپ نہیں دیکھا، جس نے مجھے یہ محسوس کروایا کہ میں دوبارہ لوگوں پر اعتماد نہیں کر سکتا۔ میں دوستوں کے ساتھ باہر جاتا ہوں تو خود کو عجیب محسوس کرتا ہوں۔ اس نے میری خود اعتمادی کو متاثر کیا ہے۔۔۔ اب میں ہمیشہ لوگوں کے ارادوں اور نیت پر شک کرتا رہتا ہوں۔‘
ایو سیمنز کہتی ہیں کہ ان کی طلاق کا سب سے حیران کن پہلو یہ تھا کہ ’نہ تو معاملات کو بہتر بنانے کی کوئی خواہش تھی، نہ زخموں کو بھرنے کی کوشش اور نہ ہی اس بات پر گفتگو کہ کیا اس رشتے کو بچایا جا سکتا ہے۔‘
ان واقعات نے سوال اٹھایا کہ آخر شادی کا مقصد کیا ہے؟
سیمنز کہتی ہیں ’آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اپنی زندگی کے سب سے محفوظ اور مستحکم مقام پر ہیں اور پھر اچانک ایک لمحے میں سب کچھ آپ کے قدموں تلے سے کھینچ لیا جاتا ہے۔‘
Getty Imagesغیر متوقع طلاق کیوں ہوتی ہے؟
سب سے پہلے یہ بات اہم ہے کہ بعض صورتوں میں کسی شریکِ حیات کا اچانک تعلق چھوڑ دینا جائز وجوہات کی بنا پر بھی ہو سکتا ہے، جیسے کہ تشدد یا زبردستی پر مبنی کنٹرول۔
تاہم ایسے رشتوں میں جو بظاہر محفوظ اور غیر خطرناک ہوتے ہیں، شخصیت اور اٹیچمنٹ سٹائل (تعلق قائم کرنے کا انداز) اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ کچھ لوگ بغیر کسی اطلاع یا واضح وجہ کے اچانک کیوں چلے جاتے ہیں۔
امریکہ کی یونیورسٹی آف منیسوٹا کے ماہرِ نفسیات جیفری سمپسن کہتے ہیں ’کچھ شخصیتی انداز ایسے ہوتے ہیں جو ایسے فیصلے لینے کے لیے زیادہ حساس ہوتے ہیں۔۔۔ مثلاً وہ لوگ جو سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔‘
تحقیقی مطالعات کے مطابق اضطرابی اٹیچمنٹ (جہاں انسان کو جدائی یا ترک کیے جانے کا خوف ہوتا ہے) اور اجتنابی اٹیچمنٹ (جہاں انسان جذباتی فاصلے کو ترجیح دیتا ہے یا تعلق میں گھٹن محسوس کرتا ہے) دونوں ہی رشتوں کے معیار پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
مزید تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جن لوگوں کا اٹیچمنٹ انداز اجتنابی ہوتا ہے، زیادہ امکان ہے کہ وہ ’متبادل تعلقات تلاش کرتے ہیں یا بے وفائی میں ملوث ہوتے ہیں۔‘
سمپسن مزید کہتے ہیں:’ہم نے اپنی تحقیق میں دیکھا ہے کہ جو لوگ اپنے شریکِ حیات کے ساتھ اجتنابی انداز رکھتے ہیں، وہ اکثر واضح اور مؤثر طریقے سے بات چیت نہیں کرتے اور کبھی کبھار بہت سخت اور یکطرفہ فیصلے کر لیتے ہیں۔‘
اس کے برعکس سمپسن کے مطابق ایک ایسا شخص جس کا اٹیچمنٹ انداز محفوظ ہو (یعنی جو تعلقات میں اعتماد، تحفظ اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتا ہو)، اس کے نزدیک ’اس بات کا بہت کم امکان ہوتا ہے کہ وہ بغیر کوشش کیے یا بغیر وجہ بتائے اچانک تعلق ختم کر دے۔‘
اسلام آباد میں گھریلو تشدد کے نئے قانون میں ’طلاق اور دوسری شادی کی دھمکی‘ قابل سزا جرم کیوں ہے؟’پتا نہیں تھا کہ زبانی طلاق کافی نہیں، اس لیے پہلے ایک عدت پوری کی اور عدالتی کارروائی کے دوران دوسری‘جب بچے کے نام پر شروع ہونے والی لڑائی طلاق اور عدالت تک پہنچ گئی’سلیپ ڈائیورس‘ یا سوتے وقت کی طلاق: جوڑوں میں یہ نیا رجحان کیا ہے اور اس میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟
یونیورسٹی آف ڈینور سے منسلک ماہرِ نفسیات گلینا روڈز، جو فائٹنگ فار یور میرج کی شریک مصنفہ بھی ہیں، کہتی ہیں: ’بہت سی طلاقیں دراصل بلائنڈ سائیڈ ہوتی ہیں، کیونکہ ہم ان کی اچھی طرح پیش گوئی نہیں کر سکتے۔‘
وہ مزید کہتی ہیں ’بدقسمتی سے طلاق اکثر ایسا فیصلہ نہیں ہوتا، جس پر دونوں افراد باہمی رضامندی سے پہنچتے ہوں۔‘
بلائنڈ سائیڈ یا غیر متوقع طلاق کے بارے میں فی الحال کوئی مخصوص ڈیٹا یا تحقیق موجود نہیں ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ہر رشتہ اور اس کے حالات منفرد ہوتے ہیں۔
تاہم عام طور پر طلاق پر ہونے والی تحقیق ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ اچانک علیحدگی کے کیا اثرات ہوتے ہیں اور ان سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے۔
Getty Imagesطلاق کے اثرات
آج کل امریکہ میں نوجوان اور درمیانی عمر کے افراد میں طلاق کی شرح گذشتہ دہائیوں میں کم ہوئی ہے، جبکہ 50 سال یا اس سے زیادہ عمر کے جوڑوں میں ’گرے ڈائیورس‘ (یعنی بڑھاپے کی طلاق) میں اضافہ ہوا ہے۔
اس کے ساتھ ہی لوگ پہلے کے مقابلے میں زیادہ دیر سے شادی کر رہے ہیں یا بعض اوقات شادی ہی نہیں کرتے۔ سنگل پیرنٹ والے گھرانوں کی تعداد اور شادی کے بغیر پیدا ہونے والے بچوں کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
یہ کہنا بجا ہوگا کہ 20ویں صدی کے آخر کے بعد شادی اور طویل المدتی تعلقات کے بارے میں لوگوں کے نظریات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ اب زیادہ تر لوگوں کے لیے شادی کوئی لازمی قدم نہیں بلکہ ایک ذاتی انتخاب ہے۔
پھر بھی طلاقچاہے وہ بلائنڈ سائیڈ ہو یا نہ ہو لوگوں کو مختلف طریقوں سے متاثر کرتی ہے۔
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ طلاق کے بعد خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسے:
آمدنی میں کمیرہائش کے مسائلسماجی دباؤبچوں کی دیکھ بھال کی بنیادی یا مکمل ذمہ داری
(یہاں تک کہ وہ خواتین بھی جو اپنے شوہروں سے زیادہ کماتی ہیں، اب بھی بچوں کی دیکھ بھال میں زیادہ حصہ ڈالتی ہیں۔)
طلاق یافتہ خواتین کو ذہنی صحت کے مسائل کا بھی سامنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر بچوں کی کفالت کے حوالے سے دباؤ۔ تاہم ہم جنس شادیوں میں خواتین کے حوالے سے ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ طلاق کے بعد مالی نقصان نسبتاً کم ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف مردوں کے لیے خطرات مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق مرد مالی طور پر خواتین کے مقابلے میں جلد سنبھل جاتے ہیں، لیکن شادی شدہ مردوں کے مقابلے میں پھر بھی کم خوشحال رہتے ہیں۔
طلاق کے بعد مردوں میں شدید صحت کے مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ذہنی صحت کے حوالے سے طلاق کے بعد مردوں میں خودکشی کا خطرہ شادی شدہ مردوں اور خواتین کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔
مزید یہ کہ مرد عام طور پر قربت، جذباتی سہارا اور سماجی روابط کے لیے اپنی شریکِ حیات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے طلاق کے بعد وہ سماجی تنہائی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
Getty Images
ماہرِ نفسیات گلینا روڈز کہتی ہیں کہ ’خواتین کی توجہ عموماً تعلقات پر مرکوز ہوتی ہیں، یعنی وہ جذباتی طور پر مضبوط دوستیوں کو برقرار رکھنے اور نئے تعلقات بنانے کا رجحان رکھتی ہیں۔‘
’مردوں کے لیے جذباتی یا سماجی طور پر مشکلات زیادہ ہو سکتی ہیں کیونکہ ان کے پاس وہ باہمی یا سماجی وسائل نہیں ہوتے جو عموماً خواتین کے پاس ہوتے ہیں۔‘
روڈز کے مطابق خواتین کے لیے بلائنڈ سائیڈ طلاق خاص طور پر چونکا دینے والی ہو سکتی ہے کیونکہ وہ رومانوی تعلقات میں ایک مخصوص کردار ادا کرتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خواتین ہی تعلقات میں گفتگو کا آغاز کرتی ہیں، گویا وہ اس بات کا پیمانہ ہوتی ہیں کہ رشتہ کیسا چل رہا ہے۔۔۔ اسی لیے اگر شوہر کی طرف سے اچانک طلاق ہو تو یہ زیادہ حیران کن ہوتی ہے، کیونکہ خواتین عموماً رشتے کے توازن اور ہر شریک کی کیفیت سے باخبر ہوتی ہیں۔‘
غیر متوقع طلاق کے معاملے میں علیحدگی کے لیے کم وقت یا بالکل وقت نہ ملنا بھی معاملے کو زیادہ مشکل بنا دیتا ہے — چاہے بات عملی مسائل کی ہو، جیسے رہائش کا بندوبست، یا ذہنی طور پر اس صدمے سے نمٹنے کی ہو۔
ڈیوس کہتے ہیں کہ ابتدائی صدمے کے بعد وہ شدید غم میں مبتلا ہو گئے۔۔۔ اور وضاحت نہ ملنے کی وجہ سے یہ احساس مزید گہرا ہو گیا۔ خود کو ’مایوسی کی گہرائیوں‘ سے بچانے کے لیے انھوں نے ورزش شروع کی اور اپنی غذا بہتر بنائی۔
ایو نے اپنی والدہ کے گھر میں سہارا لیا اور دوستوں اور خاندان کی مدد پر انحصار کیا۔
دونوں نے اپنے طلاق کے جذباتی اثرات سے نمٹنے کے لیے ماہرِ نفسیات کی مدد بھی لی۔
اپنی شادیوں پر غور کرتے ہوئے، سیمنز اور ڈیوس دونوں اس نتیجے پر پہنچے کہ ان کے درمیان بات چیت کے انداز میں فرق تھا۔
سیمنز کہتی ہیں ’بہت سے دیگر رشتوں کی طرح، ہمارے بھی مسائل تھے۔ یہ مکمل نہیں تھا، کیونکہ رشتے ہوتے ہی ایسے ہیں۔۔۔ سب کچھ آسان نہیں تھا۔ اور ہم کافی عرصے سے ساتھ تھے، اپنی بیس کی دہائی سے۔‘
امریکہ کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے سماجی نفسیات کے پروفیسر ایلی فنکل کہتے ہیں کہ امریکہ میں شادی کی موجودہ صورتحال ’ملی جلی‘ ہے۔
اپنی کتاب دا آل اور نتھنگ میرج میں وہ بیان کرتے ہیں کہ شادی سے متعلق ہماری بدلتی توقعات کے دو بڑے نتائج سامنے آئے ہیں ’پہلا، اس نے شادی کو زیادہ نازک بنا دیا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اب اس سطح کے رشتے سے مطمئن نہیں ہوتے جو ہمارے دادا دادی کے لیے کافی ہوتا تھا۔‘
وہ کہتے ہیں ’لیکن دوسرا، اس نے بہترین شادیوں کو پہلے سے کہیں بہتر بنا دیا ہے۔ ہم اب نفسیاتی سطح پر گہرے تعلقات کی خواہش رکھتے ہیں اور جو شادیاں اس معیار پر پورا اترتی ہیں وہ انتہائی اطمینان بخش ہوتی ہیں۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ نومبر 2025 میں پیو ریسرچ کے ایک سروے کے مطابق امریکہ میں ہائی سکول کے طلبہ اب شادی کرنے کی خواہش کم ظاہر کر رہے ہیں۔ 17–18 سال کے 67 فیصد نوجوان کہتے ہیں کہ وہ کسی وقت شادی کرلیں گے، جبکہ 1993 میں یہ شرح 80 فیصد تھی۔ لڑکے لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ کہتے ہیں کہ وہ شادی کریں گے۔
فنکل شادی اور طلاق میں صنفی فرق کی وجوہات پر محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ اس فرق کی وجہ اب تک مکمل طور پر واضح نہیں۔
وہ کہتے ہیں ’میری تحقیق کے مطابق خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ امکان رکھتی ہیں کہ وہ طلاق کی ابتدا کریں۔ اس فرق کی وجوہات پر بہت سی قیاس آرائیاں ہیں، لیکن میں اعتماد سے نہیں کہہ سکتا کہ کوئی ایک وجہ بہت مضبوط ثبوت رکھتی ہے۔‘
Getty Imagesکیا جدید ڈیٹنگ بلائنڈ سائیڈ طلاق کی وجہ ہو سکتی ہے؟
مغربی دنیا میں لوگوں کے پاس انتخاب کے بے شمار مواقع موجود ہیں، جس نے جدید محبت اور شادی کی سمت کو یقیناً بدل دیا ہے۔
مثال کے طور پر ڈیٹنگ ایپس کو ہی لے لیں، جنہوں نے غیر رسمی تعلقات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے۔ ان کی مقبولیت کا تعلق اس بات سے بھی ہے کہ لوگ اب دیر سے شادی کرتے ہیں اور پہلے کیریئر بنانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اگرچہ ڈیٹنگ ایپس استعمال کرنے والوں کی تعداد میں کچھ کمی آئی ہے، پھر بھی یہ بہت زیادہ ہیں۔۔۔ برطانیہ میں اندازہ ہے کہ 2028 تک ڈیٹنگ ایپس کے صارفین کی تعداد 1 کروڑ 20 لاکھ ہو جائے گی۔ امریکہ میں ہر 10 میں سے 3 بالغ افراد نے کبھی نہ کبھی ڈیٹنگ ایپ استعمال کی ہے۔
ڈیٹنگ ایپس بعض اوقات ’انتخاب کی کثرت‘ پیدا کرتی ہیں، جہاں صارفین کو بہت زیادہ ممکنہ شریک حیات نظر آتے ہیں۔ اگرچہ یہ لگتا ہے کہ اس سے ساتھی ملنے کے امکانات بڑھیں گے، تحقیق بتاتی ہے کہ اس کا اثر الٹا بھی ہو سکتا ہے یعنی لوگ زیادہ سنگل رہ جاتے ہیں۔
امریکی ماہرِ نفسیات بیری شوارٹز نے اس تضاد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ انتخاب ہمیشہ زیادہ آزادی نہیں دیتا۔ اپنی مشہور ٹیڈ ٹاک میں وہ کہتے ہیں کہ زیادہ آپشنز کی وجہ سے لوگوں میں زیادہ ذمہ داری اور انتخاب کے بعد پچھتاوے کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ اس رجحان کو ’متبادل پر نظر رکھنا‘ بھی کہا جاتا ہے۔
روڈز کے مطابق ’جتنا زیادہ آپ متبادل امکانات کے بارے میں سوچتے ہیں چاہے وہ کوئی پرانا تعلق ہو، دفتر میں کوئی ایسا شخص ہو جو آپ کو کچھ حد تک پسند ہو، یا آج کل کے دور میں نئے ممکنہ ساتھیوں کی بھرماریہ دراصل آپ کے لیے اپنے موجودہ رشتے کے ساتھ سنجیدہ وابستگی پیدا کرنا اور اس پر محنت کرنا مشکل بنا دیتا ہے۔‘
تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ متبادل پر نظر رکھنا اکثر بریک اپ اور بے وفائی سے پہلے ظاہر ہوتا ہے۔
یقیناً یہ رجحان وابستگی سے گریز کا سبب بھی بن سکتا ہے اسی لیے آج کل ’لیبل دینے کا خوف‘ اور سیچویشن شپ جیسی اصطلاحات عام ہو گئی ہیں (یعنی ایسے غیر واضح اور غیر وابستہ تعلقات جو مکمل عزم سے خالی ہوتے ہیں)۔
سیمنز کہتی ہی ’ایسا لگتا ہے جیسے ایک طرح کی ’استعمال کر کے پھینک دینے والی ثقافت‘ پیدا ہو گئی ہے۔ یہ خیال کہ میں کسی کے ساتھ طویل عرصے سے ہوں، لیکن شاید اس سے بہتر کوئی اور جلد ہی مل جائے گا اور وہ آسانی سے دستیاب ہوگا، کم محنت مانگے گا اور میرے تمام مسائل حل کر دے گا۔ مجھے نہیں معلوم کہ اس میں ڈیٹنگ ایپس یا سوشل میڈیا کا کردار ہے، کیونکہ ہم مسلسل ایک طرح کی کھپت کی کیفیت میں رہتے ہیں۔‘
تعلقات میں محنت، وابستگی اور کوشش درکار ہوتی ہے۔
فنکل کہتے ہیں ’خوشگوار تعلقات خود بخود نہیں بنتے۔ ان کے لیے وقت، توجہ اور وسائل کی سمجھداری سے سرمایہ کاری ضروری ہوتی ہے۔‘
اور جو لوگ محبت پر یقین رکھتے ہیں، ان کے لیے امید ابھی باقی ہے۔
90 ممالک پر مشتمل ایک بڑی حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ لوگ اب بھی طویل مدتی تعلقات میں رومانوی محبت کو اہمیت دیتے ہیں، حتیٰ کہ اُن معاشروں میں بھی جہاں اب بھی طے شدہ شادیاں عام ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق رومانوی محبت ایک ایسی طاقت ہے جو لوگوں کو اپنے تعلقات میں وابستگی پیدا کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔
Getty Imagesبلائنڈ سائیڈ طلاق کے بعد زندگی
ڈیوس اس وقت اپنی طلاق کے عمل سے گزر رہے ہیں اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں ’اب میں دوبارہ تعلق جوڑنے کی امید بھی نہیں کر سکتا۔‘
وہ یہ سوچ سکتے ہیں کہ ان کی بیوی طلاق کیوں چاہتی تھی، لیکن اب تک انھیں ان کی طرف سے کوئی وضاحت نہیں ملی۔
دوسری طرف، سیمنز اب ایک خوشگوار تعلق میں ہیں اور حال ہی میں ایک بچے کی ماں بنی ہیں۔ ماضی پر نظر ڈالتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ کچھ اشارے ایسے تھے کہ وہ اور ان کے سابق شوہر ایک دوسرے کے لیے مکمل طور پر موزوں نہیں تھے، مگر یہ بات بعد میں سمجھ میں آتی ہے۔
انھوں نے اپنے ذاتی تجربے سے متاثر ہو کر ایک کتاب بھی لکھی جس کا نام ہے واٹ شی ڈِڈ نیکسٹ ہے، جس میں انھوں نے ایسے کئی مردوں اور خواتین سے بات کی ہے جنھیں اسی طرح کا تجربہ ہوا تھا۔
سیمنز کہتی ہیں ’جن تمام کیسز کے بارے میں میں نے جانا، بغیر کسی شک کے، جن لوگوں کو اچانک چھوڑ دیا گیا، انھوں نے بعد میں اسے اپنی زندگی کی بہترین چیز قرار دیا۔۔۔ آخرکار انھیں وہ سب کچھ ملا جو وہ چاہتے تھے۔‘
وہ آخر میں کہتی ہیں ’رشتے ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتے۔۔۔ اور یہ کوئی بڑی بات نہیں۔‘
’امیر طلاق یافتہ مسلمان مردوں‘ کو نشانہ بنانے والی خاتون کے آٹھوں شوہر عدالت پہنچ گئے’پتا نہیں تھا کہ زبانی طلاق کافی نہیں، اس لیے پہلے ایک عدت پوری کی اور عدالتی کارروائی کے دوران دوسری‘’بہن کی طلاق کا بدلہ‘: بیرون ملک سے سابق بہنوئی کو مارنے کی مبینہ منصوبہ سازی کرنے والا ملزم ’پولیس مقابلے میں ہلاک‘جب بچے کے نام پر شروع ہونے والی لڑائی طلاق اور عدالت تک پہنچ گئی’سلیپ ڈائیورس‘ یا سوتے وقت کی طلاق: جوڑوں میں یہ نیا رجحان کیا ہے اور اس میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے؟خواتین کو ’طلاق یافتہ‘ پکارنے پر پابندی: ’عورت کی پہچان طلاق یا شادی نہیں‘’دوسری شادی سے قبل شوہر سے پوچھا کیا آپ میری بیٹی کو بھی قبول کریں گے؟‘