BBCانڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ کے کوچی شہر میں مٹان چیری کے مقام پر ایک جگہ جیُو ٹاؤن ہے جہاں کبھی یہودی آباد تھے
انڈیا کی جنوبی ریاست کیرالہ کے ساحلی شہر کوچی (کوچین) میں مٹان چیری کے مقام پر ایک بستی آباد ہے جو ’جیو ٹاؤن‘ یعنی یہودیوں کی بستی کہلاتی ہے۔
یہ وہ علاقہ ہے جہاں پورے 500 سال قبل معروف پرتگالی جہاز ران اور مہم جو واسکوڈے گاما کی آمد ہوئی اور کوچی وہ جگہ ہے جو ہندوستان میں پہلی یورپی کالونی بنی۔ اس کے ساتھ یہ سرزمین ان کا مدفن بھی بنی۔
تاریخی طور پر واسکوڈے گاما کی آمد کے بعد پرتگالیوں نے یہودیوں کو ظلم و ستم کو نشانہ بنایا تو کوچین کے راجہ نے انھیں اپنے محل سے ملحق زمین عطا کی اور کانسی کی پلیٹ پر ایک سند دی جس میں یہ درج تھا کہ ’جب تک سورج اور چاند آسمان پر چمکتے رہیں گے اس وقت تک یہ زمین یہودیوں کی رہے گی۔‘
یہودیوں کی یہی بستی بعد میں ’جیُو ٹاؤن‘ کہلائی۔
لیکن آج اس جگہ میں ان کی یادگاریں تو ہیں لیکن سوائے ایک یہودی کیتھ ہیلوگوا کے تمام یہودی اس جگہ کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہکہاں اور کیوں گئے؟
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اب اس علاقے میں زیادہ تر مسلمانوں کی دکانیں ہیں جن میں کشمیریوں کی دکانیں نمایاں نظر آتی ہیں۔
اس سے قبل کہ ہم جیُو ٹاؤن کی سیر کریں یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں کہ آخر ہندوستان میں پہلی بار یہودیوں کی آمد کب ہوئی؟
سلیمان علیہ السلام کے عہد میں کیرالہ کے ساحل پر پہلا قافلہ
اس خطے میں یہودیوں کا پہلا قافلہ تقریباً ایک ہزار سال قبل مسیح حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد میں سمندر کے راستے جنوبی ہند کے سواحل پر اترا تھا۔ اس وقت کوچی کے ساحل کے بجائے وہاں سے کوئی 40 کلومیٹر شمال میں موزرس (یونانی نام) یعنی کرینگنامور (آج کوڈنگلور) کی بندرگاہ تھی۔
یہ لوگ سامان تجارت کے ساتھ آئے اور اس خطے میں اس قدر رچ بس گئے کہ وہ یہیں کے ہو کر رہ گئے، بعد میں وہ مالاباری یہودی کہلائے۔
کوچین میں یہودی عبادت خانے (پردیسی سیناگاگ) کے ریکارڈ کے مطابق یہودیوں کی دوسری بڑی نقل مکانی اور ہندوستان آمد 1492 میں ہسپانوی ظلم و ستم سے فرار ہونے والے سیفاردی یہودیوں کی تھی۔
پرتگال، ترکی اور بغداد کے راستے سفر کرتے ہوئے وہ کیرالہ پہنچے اور کوچی میں آباد ہوئے اور پردیسی (غیر ملکی) یہودیوں کے نام سے مشہور ہوئے۔ یہ یہودی زیادہ تر سفید فام تھے۔
مالاباری اور پردیسی یہودی مل کر کوچینی یہودی کہلائے۔ وہ کوچی میں آباد ہوئے، جو پہلے عربوں پھر پرتگالی، برطانوی اور ڈچ باشندوں کے لیے تجارتی مرکز بنا۔
یہودیوں کو کوچی کے بادشاہ نے تحفظ فراہم کیا اور وہ اس وقت سے 20ویں صدی میں اپنی واپس نقل مکانی تک چین و سکون سے یہاں آباد رہے۔
BBCآج جیُو ٹاؤن سیاحوں کی کشش کا مرکز ہے جہاں وہ سوشل میڈیا سے متاثر ہو کر پہنچ رہے ہیںآج کا جیُو ٹاؤن
کوچی ہیریٹیج پروجیکٹ چلانے والے کوچی کے رہائشی یوحان بِنّی کروویلا اس سفر پر ہمارے ساتھ تھے۔
ہم نے اس امید پر وہاں کا سفر اپریل کے اوائل میں کیا کہ شاید وہاں موجود سیناگاگ میں کچھ یہودیوں سے ملاقات ہو جائے کیونکہ یہ وقت ان کی مذہبی تقریب ’پاس اوور‘ کا ہوتا ہے جو یہودیوں کی مقدس کتاب کے مطابق فرعون مصر سے نجات کی خوشی میں منایا جاتا ہے لیکن اس موقعے پر سیناگاگ اور میوزیم تعطیل کی وجہ سے بند تھے۔
بہرحال ہماری ملاقات وہاں کے وزیٹنگ ربی (یہودیوں کے عالم اور امام) جوناتھن شمڈت گولڈسمتھ سے ہوئی جو اس موقعے پر وہاں موجود تھے۔ انھوں نے نہ صرف ہماری میزبانی کی بلکہ جیُو ٹاؤن کے یہودیوں کے بارے میں اور ان کی نقل مکانی کی وجوہات بھی بتائیں لیکن پہلے بات جیُو ٹاؤن کی۔
راجہ کے محل کی دیوار اور سیناگاگ کے ساتھ ایک کلاک ٹاور ہے جس کی اپنی ہی کہانی ہے۔ راجہ کے محل کی جانب سے ہم جوں ہی آگے بڑھے جیُو ٹاؤن کے سائن بورڈ سے پہلے ہی نوادرات کی ایک دکان پر ایک حجاب پوش خاتون نظر آئيں۔
انھوں نے بتایا کہ وہ لوگ صدیوں قبل گجرات کے ریگستانی علاقے کچ سے آئے اور یہیں آباد ہو گئے۔ ان کی برادری کچی میمن برادری کہلاتی ہے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اگرچہ یہاں اب یہودی تو خال خال ہی نظر آتے ہیں لیکن اب 70 فیصد دکانیں مسلمانوں کی ہیں۔
BBCکشمیری تاجر ساجد حسین کھتائی کا کہنا ہے کہ ان کے چچا پہلے کشمیری تھے جنھوں نے جیوٹاؤن میں کاروبار شروع کیا
ابھی ان سے بات ہو رہی تھی کہ سامنے ملبوسات کی دکان کے باہر ایک شخص نظر آیا جو کشمیری تھا۔
ان سے ملاقات نے زبان کا مسئلہ حل کر دیا کیونکہ ابھی تک ہم کوچی ہیریٹیج پروجیکٹ کے بانی اور کوچی کے رہائشی یوحان بِنّی کروویلا سے جیُو ٹاؤن کی کہانی سن رہے تھے۔
انھوں نے بتایا کہ ان کے علاوہ اور بھی کشمیری ہیں جو کئی دہائیوں سے یہاں آباد ہیں اور ان کی اپنی ایک تجارتی انجمن بھی ہے۔
بعد میں ہماری ملاقات کشمیر تاجر انجمن کے سابق صدر ساجد حسین کھتائی سے ہوئی جنھوں نے بتایا کہ ’اگرچہ اب یہاں یہودی کم ہی نظر آتے ہیں لیکن یہاں جو عمارتیں ہیں سب کی سب تین سو چار سو سال پرانی ہیں اور حکومت نے ایک اچھا کام یہ کیا کہ کم از کم عمارتوں کے باہری طرز تعمیر کو جوں کا توں رہنے دیا۔‘
ہم نے دیکھا کہ وہاں کی عمارتوں پر جا بجا سٹار آف دیوڈ یعنی ستارۂ داؤدی نظر آتا ہے۔ یہ چھ زاویائی ستارہ یہودیوں کی مقدس علامت ہے جو کہ اسرائیلی پرچم پر بھی نظر آتی ہے۔
اس کے علاوہ وہاں کی بعض عمارتوں پر سواستکا بھی نظر آتے ہیں جو کہ نازی جرمنی کی علامت ہے لیکن اس کا تعلق آریائی نسل سے بھی ہے۔ شاید یہودیوں نے نسلی امتیاز کے لیے اپنے درو دیوار پر اس کا نقش بنایا تھا لیکن انڈیا میں یہ نشان اعلی ذات ہندو بھی استعمال کرتے ہیں اور وہ بھی خود کو آریائی نسل سے بتاتے ہیں۔
مصالحوں کا مرکز
ساجد حسین کھتائی نے بتایا کہ پہلے یہاں مصالحوں کی تجارت ہوتی تھی اور جیُو ٹاؤن کے ایک طرف آپ کو ہر عمارت کے ساتھ تنگ گلیاں نظر آتی ہیں جو دوسری طرف سمندر کی جانب کھلتی ہیں جہاں لوگ کشتیوں سے اس علاقے میں مصالحہ جات لایا کرتے تھے۔
مصالحوں کے لیے سلطنت روم، یونانیوں، عربوں اور بعد میں پرتگالیوں، ڈچ اور برطانیہ کے لوگوں نے بھی انڈیا کا رخ کیا۔
یوحان کے مطابق کوچین کے راجہ نے یہودیوں کو خاص مراعات اس لیے دیں کہ اس زمانے میں دوسرے بادشاہ جنھیں زمورین کہا جاتا تھا وہ بطور خاص عربوں اور مسلمانوں کے حامی تھے۔
یوحان نے یہ بھی بتایا کہ جیُو ٹاؤن کے یہودیوں کے جہاز چلتے تھے اور مصالحوں کی تجارت پر یہاں ایک طرح سے ان کی اجارہ داری تھی۔ اس کے ساتھ وہ کوچین کے راجہ کے نمائندے کے طور پر دوسرے درباروں کے دورے بھی کیا کرتے تھے جن میں مغل دربار بھی شامل تھے۔
BBCیہ ایکسچینج مصالحوں اور بطور خاص کالی مرچوں کی قیمتوں کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرتا ہےکالی مرچ کا ایکسچینج
کوچی ہینڈی کرافٹ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنید سلیمان نے بتایا کہ جیُو ٹاؤن میں ایک پیپر ایکسچینج ہے جہاں وال سٹریٹ کی طرح مصالحوں کی قیمت طے کی جاتی ہے اور اسے انڈین پیپر اینڈ سپائس ٹریڈ ایسوسی ایشن (اپسٹا) کے تحت چلایا جاتا ہے۔
وہ اب بھی مصالحوں کی تجارت سے وابستہ ہیں اس کے علاوہ یہودیوں کے سیناگاگ کے ساتھ موکا کیفے ان کی ملکیت ہے۔
خیال رہے کہ پرنس چارلس (اب شاہ چارلس سوئم) نے ڈچز آف کارنوال کیمیلا کے ساتھ سنہ 2013 میں جب جیُو ٹاؤن کا دورہ کیا تھا تو انھوں نے سیناگاگ کے ساتھ ان کے کیفے کا بھی دورہ کیا تھا۔
جنید سلیمان نے بتایا کہ قرب و جوار سے مصالحوں، بطور خاص کالی مرچ اگانے والے ایکسچینج میں اپنے مال ایک طے قیمت پر چھوڑ جاتے اور انھیں ان کے مصالحوں کی 80 فیصد قیمت ہاتھ کے ہاتھ دے دی جاتی اور کسی بھی حصص بازار کی طرح جب مصالحوں کا مالک چاہتا ان کے مصالحوں کو فروخت کر دیا جاتا ہے۔
ان سے ہم نے اچھی کالی مرچ کی پہچان کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے کہا کہ جو بہت زیادہ چمکدار کالی ہو تو یہ سمجھ لیجیے کہ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوئی۔ یا تو اس پر تیل کا پالش کیا گیا یا پھر اس کا وزن بڑھانے کے لیے اسے پانی میں ڈالا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ جو کالی مرچ بہت زیادہ خوبصورت نظر نہ آئے وہ اصل کالی مرچ ہو سکتی ہے۔
BBCکلاک ٹاور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ابتدا میں اس کی چاروں سمتوں پر الگ الگ زبانوں میں ہندسے لکھے تھے جن میں عربی ہندسے بھی شامل تھےانڈیا کا سب سے قدیم کلاک ٹاور
جیُو ٹاؤن کے کاسموپولیٹن کردار کی نشاندہی کرتے ہوئے یوحان نے وہاں موجود ایک کلاک ٹاور کا ذکر کیا جو ان کے مطابق ہندوستان کا قدیم ترین کلاک ٹاور ہے جو سنہ 1760-70 میں تعمیر کیا گیا اور اس حساب سے یہ انگلینڈ کے کلاک ٹاور بگ بن (1859) سے بھی پرانا ہے۔
اس کی سب سے خاص بات مختلف سمتوں میں نصب گھڑیاں ہیں جو ایک عرصے تک ناکارہ رہنے کے بعد از سر نو بحال کی گئی ہیں۔
ہر سمت میں لگی گھڑیوں میں مختلف زبانوں کے ہندسے ہیں۔ سیناگاگ کے رخ پر لگی گھڑی میں رومن اعداد ہیں جبکہ راجہ کے محل کے رخ والے حصے پر ملیالم ہندسے میں لکھا ہوا ہے اور جیُو ٹاؤن کی سمت پر عبرانی زبان میں اعداد لکھے ہیں۔
کہتے ہیں کہ جب یہ کلاک ٹاور بنا تھا تو سمندر کی سمت والی دیوار پر عربی ہندسے میں نمبر لکھے ہوئے تھے جو جہاز رانوں کو دور سے نظر آتے تھے لیکن اب وہ دیوار خالی ہے۔
BBCجیُو ٹاؤن کی زیادہ تر عمارتیں دو تین سو سال پرانی ہیںجیُو ٹاؤن کا سامان تجارت بدل گيا
جیُو ٹاؤن کے بارے میں ساجد حسین کھتائی کہتے ہیں کہ اب یہ بازار اپ گریڈ ہو گیا ہے۔ مصالحوں کی دکانوں کی جگہ نوادرات کی دکانوں نے لے لی ہیں۔ ان کے مطابق مصالحوں کا بازار اب بھی موجود ہے لیکن وہ فورٹ کوچی کی جانب سپائس روڈ پر زیادہ نظر آتا ہے لیکن دنیا بھر سے لوگ اس علاقے کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں۔
سیناگاگ کی جانب جاتے ہوئے ہمیں چند نوجوان نظر آئے جو تصاویر لے رہے تھے۔ ان میں سے چند ایک سے ہم نے بات کی۔ رفعہ نے بتایا کہ وہ سوشل میڈیا پر اس کی شہرت سن کر یہاں آئی ہیں جبکہ ثنا کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہاں جو سامان ملتے ہیں وہ نسبتا مہنگے ہیں لیکن انھوں نے یہاں سے اس لیے خریداری کی کہ یہ ان کے لیے کسی سووینیر (یادگار) سے کم نہیں۔
جیُو ٹاؤن انگریزی کے حرف ’یو‘ کی شکل میں کوئی ڈھائی سٹریٹ پر مشتمل ہے۔ کونے پر کاشی ہیلوگوا کی عمارت ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کی تعمیر 1761 میں ہوئی تھی اور اب اسے آرٹ گیلری میں تبدیل کر دیا گیا۔
مٹان چیری کے قدیم ترین تاجر خاندان سے آنے والے جنید سلیمان نے بتایا کہ پہلے یہ جگہ کسی یورپی سٹریٹ کی طرح نظر آتی تھی جہاں سارے مکان دو منزلہ تھے۔ اوپر کے حصے میں یہودی خاندان آباد تھے جبکہ نیچے کے حصے میں ان کی دکانیں ہوا کرتی تھیں اور بعض کے نوکر یا ملازم نچلے حصے میں رہا کرتے تھے۔
شام کو وہ سب گلی کے باہر بیٹھ کر چائے پیتے، تاش کے پتے کھیلتے اور ہنسی خوشی زندگی بسر کرتے تھے لیکن اب سب کچھ بدل گیا۔
BBCربی جوناتھن شمٹ نے یہودیوں کی نقل مکانی کے بارے میں بی بی سی سے بات کی’پرومسڈ لینڈ‘
ایسے میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہاں سے یہودیوں نے نقل مکانی کیوں کی جبکہ وہ جیُو ٹاؤن میں چین و سکون سے زندگی بسر کر رہے تھے اور انھیں کوئی خطرہ بھی لاحق نہیں تھا۔
اس کا جواب ہمیں سیناگاگ کے وزٹنگ ربی جوناتھن شمٹ نے دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’صرف یہاں کے نہیں بلکہ دنیا بھر کے یہودی ہر سال یہ اعادہ کرتے ہیں کہ وہ ایک دن یروشلم واپس ہوں گے اور یہ ہمارے صحیفے میں درج ہے کہ خدا ہمیں ایک دن پرومسڈ لینڈ میں یکجا کرے گا۔‘
’اس لیے جب اسرائیل کا قیام عمل میں آیا تو دنیا بھر سے یہودیوں نے اس پیش گوئی کے تحت اسرائیل کا رخ کیا اور یہی قدم یہاں کے یہودیوں نے بھی اٹھایا۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہاں یا انڈیا کے دوسرے حصوں میں یہودیوں کو کوئی معاشی یا جانی خطرہ نہیں تھا تاہم انھوں نے پیش گوئی کی خاطر اسرائیل کا رخ کیا۔
لیکن جنید کے مطابق یہاں کے سارے یہودی اسرائیل نہیں گئے بلکہ وہ بہتر مستقبل کے لیے امریکہ، آسٹریلیا اور دوسرے ممالک چلے گئے اور ان میں سے بعض آج بھی یہاں آتے ہیں۔
ان کے مطابق یہاں آباد بہت ہی کم یہودیوں کو عبرانی زبان آتی تھی کیونکہ ان کی مادری زبان ملیالم تھی جبکہ تعلیمی زبان انگریزی تھی۔
غروب آفتاب کے وقت ہم تیسری گلی میں پہنچے جہاں یہودیوں کا قبرستان واقع ہے اور اس کو دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ انسان کی آخری منزل تو یہی ہے اور جو یہودی یہاں مدفون ہیں ان کے لیے راجہ کی دی ہوئی سند کتنی معنی خیز ہے کہ ’جب تک سورج چاند نکلتے رہیں گے یہ زمین یہودیوں کی رہے گی۔‘
’یہودیوں کے گمشدہ قبیلے کی اولاد‘: اسرائیل انڈیا کی بنی مناشے برادری کو ملک میں کیوں آباد کرنا چاہتا ہے؟وہ مزیدار کھانے جو انڈیا کی یہودی برادریوں کو متحد رکھے ہوئے ہیںجرمن یہودی ’میم صاحب‘ جو برٹش انڈیا میں مسلمانوں کی ’آپا جان‘ بنیںجب واسکو دے گاما نے کیرالہ میں مکّہ جانے والے خواتین اور بچوں سے بھرے بحری جہاز کو نذر آتش کیاانڈیا میں ’مذہبی ایجنڈے‘ کے تحت غیر مسلموں کے ختنے کروانے کا الزام: ’کوئی صرف ختنہ کروانے سے مسلمان نہیں ہو جاتا‘کوچی کا ’جیُو ٹاؤن‘ آج بھی آباد مگر یہودی غائب