EPA
وفاقی حکومت نے گذشتہ رات پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر جبکہ پٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
تاہم حکومتی نوٹیفکیشن میں صرف قیمتوں میں اضافے کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ سرکاری دستاویزات کے مطابق اس اضافے کی اصل وجہ پٹرول اور ڈیزل پر عائد پٹرولیم لیوی کی شرح میں اضافہ ہے۔ لیوی میں اضافے کے نتیجے میں دونوں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں قیمت کے لحاظ سے پاکستان میں ڈیزل اور پٹرول کی قیمت کتنی بنی؟Reuters
پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے منسلک ہے، کیونکہ ملک اپنی مجموعی ضرورت کا تقریباً 80 فیصد تیل درآمد کرتا ہے۔
حکومتی قیمتوں کے تعین سے متعلق دستاویزات کے مطابق، بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرول کی قیمت کے حساب سے پاکستان میں گذشتہ رات تک اس کی قیمت 268 روپے فی لیٹر بنتی تھی، جو ایک ہفتہ قبل کے مقابلے میں بغیر کسی تبدیلی کے برقرار رہی۔ اس کے باوجود حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔
اسی طرح دستاویز کے مطابق عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے باعث پاکستان میں گذشتہ رات تک ڈیزل کی قیمت 342 روپے فی لیٹر بنتی تھی، جو گذشتہ ہفتے کے مقابلے میں 7 روپے 51 پیسے فی لیٹر زیادہ ہے۔ تاہم حکومت نے صارفین کے لیے ڈیزل کی قیمت میں 15 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔
پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کی کیا وجہ بنی؟EPA
حکومتی قیمتوں کے تعین کے فارمولے سے متعلق دستاویزات کے مطابق عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، اس کے باوجود حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔ دستاویز کے مطابق اس اضافے کی بنیادی وجہ پٹرول پر عائد پٹرولیم لیوی میں تقریباً 14 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہے۔
گذشتہ ہفتے پٹرول پر پٹرولیم لیوی 103 روپے 50 پیسے فی لیٹر تھی، جسے حکومت نے گذشتہ رات بڑھا کر 117 روپے 41 پیسے فی لیٹر کر دیا۔ لیوی میں اس اضافے کے باعث پٹرول کی قیمت میں تقریباً 15 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت کے حساب سے اس کی قیمت میں تقریباً 7 روپے 50 پیسے فی لیٹر اضافہ بنتا تھا، تاہم حکومت نے صارفین کے لیے ڈیزل کی قیمت میں دوگنا اضافہ کرتے ہوئے اسے 15 روپے فی لیٹر بڑھا دیا۔ اس اضافے کی وجہ ڈیزل پر عائد پٹرولیم لیوی میں نمایاں اضافہ ہے، جو 28 روپے 69 پیسے فی لیٹر سے بڑھا کر 42 روپے 60 پیسے فی لیٹر کر دی گئی۔
پٹرول اور ڈیزل پر لیوی بڑھانے کی کیا وجہ ہے اور اس کا کیا اثر ہو گا؟EPA
حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی میں اضافے کے نتیجے میں صارفین کے لیے پٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہو گئی ہیں۔ اس حوالے سے توانائی کے شعبے کی ماہر ڈاکٹر عافیہ ملک نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی میں اضافہ کر رہی ہے، جس کی وجہ سے دونوں مصنوعات کی قیمتیں بڑھی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئی ایم ایف کو سبسڈی کے خاتمے کی یقین دہانی کرا رکھی ہے، اسی لیے ریونیو شارٹ فال کو کم کرنے کے لیے لیوی بڑھائی جا رہی ہے۔ تاہم ڈاکٹر عافیہ ملک کے مطابق حکومت نے آمدن میں کمی پوری کرنے کے لیے پٹرولیم لیوی کو ایک آسان راستے کے طور پر اختیار کر رکھا ہے، جبکہ دیگر شعبوں سے ٹیکس وصولی جیسے مشکل مگر ضروری فیصلوں پر مؤثر عمل درآمد نہیں ہو پا رہا۔
ان کے مطابق آئی ایم ایف مسلسل مالی نظم و ضبط پر زور دے رہا ہے، جس کے لیے ملکی آمدن میں اضافہ ناگزیر ہے، لیکن ریٹیل اور زرعی شعبوں سے ٹیکس وصولی نہ ہونے کی وجہ سے حکومت بار بار پٹرولیم لیوی بڑھانے کا سہارا لے رہی ہے۔
ڈاکٹر عافیہ ملک نے خبردار کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے نہ صرف عوام پر اضافی معاشی بوجھ پڑتا ہے بلکہ یہ مجموعی طور پر معیشت کے لیے بھی انتہائی منفی ثابت ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھے گی اور عوام کی قوتِ خرید متاثر ہوگی۔ جب لوگ کم خریداری کریں گے تو پیداوار میں کمی آئے گی، جس کے نتیجے میں ملکی معاشی ترقی کی رفتار بھی سست پڑ جائے گی۔
دوسری جانب مالیاتی امور کے ماہر فرحان محمود نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ حکومت پٹرولیم لیوی میں اضافہ کر کے اس ریونیو خسارے کو پورا کر رہی ہے جو ایران اور امریکہ کی جنگ کے بعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں سبسڈی کی صورت میں برداشت کیا گیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ حکومت نے ایک موقع پر قیمتیں بڑھانے کے بعد انہیں کم کیا تھا، جس کے لیے 100 سے 125 ارب روپے تک کی سبسڈی دی گئی۔ اگرچہ اس وقت دعویٰ کیا گیا تھا کہ سبسڈی ترقیاتی بجٹ میں کٹ لگا کر دی جائے گی، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہو سکا۔ فرحان محمود کے مطابق اب حکومت پٹرولیم لیوی میں اضافہ کر کے اسی ریونیو شارٹ فال کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ: حکومتِ پاکستان کسی بحران سے بچنے کے لیے خود تیل کا ذخیرہ کیوں نہیں کر سکتی؟ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی قیمتیں: پاکستان میں ای بائیکس کی فروخت میں ’غیر معمولی‘ اضافہآبنائے ہرمز کی بندش: پاکستان میں تیل اور گیس کی قیمتیں کیسے متاثر ہو سکتی ہیں؟تیل کا بطور ہتھیار استعمال، تاریخ کا سبق اور ایران جنگ: کیا یہ ٹرمپ کا سویز بحران ہے؟سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل
حکومت کی جانب سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے تنقید سامنے آ رہی ہے۔
سینیٹر ڈاکٹر زرقا تیمور نے ایکس پر ایک پیغام میں لکھا ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اب صرف اعداد و شمار نہیں رہا، یہ غریب، متوسط اور نچلے متوسط طبقے کی زندگی کا سب سے بڑا عذاب بن چکا ہے۔
ان کی رائے میں 'غریب عوام دو وقت کی روٹی، بچوں کی فیس اور علاج کے لیے پریشان ہیں۔ متوسط طبقہ اپنی جمع پونجی کھا رہا ہے، جبکہ تنخواہ دار طبقہ ہر ماہ مزید قرض میں ڈوب رہا ہے۔'
وہ یہ سوال پوچھتی ہیں کہ 'آخر اس ملک کا عام آدمی جائے تو کہاں جائے؟'
سینیٹر زرقا کے مطابق 'ہر چیز داؤ پر لگ چکی ہے۔ روزگار، سکون، عزتِ نفس، حتیٰ کہ جینے کی امید بھی۔'
وہ کہتی ہیں کہ 'اگر یہی حالات رہے تو عوام زندہ نہیں، صرف زندہ رہنے کی کوشش کرتے رہ جائیں گے۔'
میاں داؤد نامی صارف نے ایکس پر طنزیہ انداز میں لکھا کہ ’انتہائی خوشی کے ساتھ اعلان کیا جاتا ہے کہ پیٹرول 15 روپے، ڈیزل 15 روپے مہنگا۔۔۔‘
خالد حسین ملک نامی صارف نے اس اضافے پر لکھا کہ ’جب قیمت کم کرنی ہوتی ھے تو جناب شہباز شریف خود تشریف لاتے ہیں اور عوام کےہمدرد بنکر اعلان فرماتے ہینمگر اس قسم کی ۔۔۔ (تبدیلی میں) میںصرف ایک نوٹیفکیشن۔‘
ان کی رائے میں ’ہمارا خزانہ کنٹرول کرنے والےاعلیٰ قسم کے تیل نکالنے والے ہیں انھیں سمندر سے تیل نکالنے پر لگایا جائے۔ہم تو صبر کر رہے ہیں۔‘
ضیغم نقوی نے اضافے پر لکھا کہ ’حکومت کو شاید بہترین بہانہ مل گیا ہے کہ ’جنگ ہے۔۔۔ جنگ ہے۔۔ ایف بی آر کی نااہلی چھپانے کے لیے پہلے سے پسی عوام کو مزید مہنگائی کی چکی میں پیس کر رکھ دیا ہے۔
صحافی انصار عباسی نے لکھا کہ ’مہنگے پٹرول پر ٹیکس پر چھوٹ لینے کی بجائے اس ٹیکس میں مزید اضافہ کرنا عوام پر ظلم ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کے اُس بیان کی نفی بھی جس میں اُنھوں نے کہا تھا کہ مزید بوجھ عوام پر نہیں منتقل کیا جائے گا۔ انھوں نے تجویز دی کہ ’آئی ایم ایف سے بات کر کے لیوی کو کم سے کم ترین سطح پرلایا جائے۔‘
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں اضافہ: حکومتِ پاکستان کسی بحران سے بچنے کے لیے خود تیل کا ذخیرہ کیوں نہیں کر سکتی؟ایران جنگ اور تیل کی بڑھتی قیمتیں: پاکستان میں ای بائیکس کی فروخت میں ’غیر معمولی‘ اضافہآبنائے ہرمز کی بندش: پاکستان میں تیل اور گیس کی قیمتیں کیسے متاثر ہو سکتی ہیں؟پاکستانی آئل ٹینکر ’کراچی‘ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے لمبا راستہ کیوں چنا؟سستے تیل اور گیس کا دور ختم: ’تاریخ کا سب سے بڑا توانائی بحران‘ ایران جنگ ختم ہونے کے بعد طویل عرصے تک جاری رہے گا پاکستان میں پیٹرول کی مد میں سبسڈی کب، کیسے اور کس کو ملے گی؟