Getty Images
ایسے میں جب پوری دنیا کو ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہیں کئی کمپنیاں اس صورتحال سے بےتحاشہ منافع کما رہی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس تنازع اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کے نتیجے میں نہ صرف حکومتوں کو نقصانات کا سامنا ہے بلکہ عام افراد کی زندگیاں بھی مشکلات کا شکار ہو رہی ہیں۔
ایسے میں جب کچھ کمپنیاں دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں وہیں ایسی کمپنیاں جنھیں جنگی حالات یا ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے فائدہ ہوتا ہے وہ ریکارڈ منافع کما رہی ہیں۔
آئیے ایک نظر ڈالتے ہیں ایسی کمپنیوں پر جو مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے چلتے اربوں کما رہی ہیں۔
تیل اور گیس
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کا سب سے زیادہ اثر ایندھن کی قیمتوں پر پڑا۔
دنیا میں تیل اور گیس کی تقریباً 20 فیصد ترسیل آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے تاہم فروری کے اواخر سے یہ بالکل بند ہے۔
اس سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا اور اس سب کا بھرپور فائدہ تیل اور گیس کمپنیوں کو ہوا۔
سب سے زیادہ فائدے میں وہ یورپی آئل کمپنیاں رہیں جن کی اپنی ٹریڈنگ کمپنیاں ہیں اور انھوں نے قیمتوں میں تیزی سے ہونے والے اتار چڑھاؤ سے منافع کمایا۔
رواں سال کے پہلے تین ماہ میں برطانوی تیل کمپنی بی پی کا منافع دوگنا ہو کر تقریباً 3.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جسے وہ اپنی ٹریدنگ ڈویژن کی ’غیر معمولی‘ کارکردگی سے جوڑ رہے ہیں۔
AFP via Getty Images
اسی طرح پہلی سہ ماہی میں شیل کا منافع بڑھ کر 6 ارب 92 کروڑ ڈالر ہو گیا جو تجزیہ کاروں کی توقعات سے بھی کہیں زیادہ ہے۔
ایک اور بین الاقوامی تیل کمپنی ٹوٹل انرجیز کا 2026 کی پہلی سہ ماہی میں منافع تقریباً ایک تہائی اضافے کے بعد پانچ ارب 40 کروڑ ڈالر ہو گیا ہے۔ منافع کی شرح میں اضافے کی ایک بڑی وجہ تیل اور ایندھن کی منڈیوں میں عدم استحکام ہے۔
امریکی کمپنیوں ایکسون موبل اور شیورون کی آمدن گذشتہ برس اسی مدت کے مقابلے میں کم رہی۔ اس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ سے رسد میں خلل بتایا گیا تاہم دونوں کمپنیوں کے نتائج تجزیہ کاروں کے اندازوں سے اب بھی بہتر ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ سال کے دوران ان کے منافع میں مزید اضافہ ہو گا کیونکہ جنگ کے آغاز سے قبل کے مقابلے میں تیل کی قیمت اب بھی نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
’بگ سکس‘ بینکوں کو تین ماہ میں 47.7 ارب ڈالر کا منافع
ایران میں جنگ کے دوران دنیا کے بعض بڑے بینکوں کے منافع میں بھی اضافہ ہوا۔
جے پی مورگن کے ٹریڈنگ شعبے کو 2026 کے پہلے تین ماہ میں ریکارڈ 11 ارب 60 کروڑ ڈالر کی آمدن ہوئی جس کے باعث مجموعی طور پر یہ بینک کی تاریخ کا دوسرا بڑا سہ ماہی منافع بن گیا۔
بقیہ ’بگ سکس‘ بینک جس میں بینک آف امریکہ، مورگن سٹینلے، سٹی گروپ، گولڈمین سیکس اور ویلز فارگو کے ساتھ جے پی مورگن بھی شامل ہے، ان تمام بینکوں کے سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران منافع میں نمایاں اضافہ ہوا۔
مجموعی طور پر ان بینکوں کے مطابق انھیں 2026 کے پہلے تین ماہ میں 47 ارب 70 کروڑ ڈالر کا منافع ہوا۔
ویلتھ کلب نامی برطانوی انویسٹمنٹ فرم کی چیف انویسٹمنٹ سٹریٹجسٹ سوزینا سٹریٹر کہتی ہیں کہ ’زیادہ ٹریڈنگ سرگرمی سے سرمایہ کاری بینکوں کو فائدہ پہنچا، خاص طور پر مورگن سٹینلے اور گولڈمین سیکس کو۔‘
وال سٹریٹ کے بڑے قرض دہندگان کو ٹریڈنگ کی مانگ میں اضافے سے فائدہ ہوا کیونکہ سرمایہ کار نسبتاً خطرناک حصص اور بانڈز سے اپنی رقم نکال کر ایسے اثاثوں میں منتقل کر رہے ہیں جنھیں نسبتاً زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے مالی منڈیوں میں ہونے والے اتار چڑھاؤ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش سے بھی ٹریڈنگ کے حجم میں اضافہ ہوا۔
سٹریٹر کا مزید کہنا ہے کہ جنگ کے باعث پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث کچھ سرمایہ کاروں نے کشیدگی بڑھنے کے خدشے پر اپنے حصص فروخت کیے جبکہ دوسرے گراوٹ کو خریداری کا موقع سمجھتے ہوئے میدان میں آئے جس سے ٹریڈنگ میں تیزی آئی اور منڈی میں بہتری آئی۔
کیا عالمی سطح پر آنے والا ممکنہ مالی بحران گذشتہ بحرانوں سے زیادہ سنگین ہو سکتا ہے؟ ایران جنگ، کنڈوم کی طلب میں اضافہ اور ایک بین الاقوامی کمپنی کی پریشانی اندر کی خبر اور لاکھوں ڈالر کی شرطیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت پر منڈلاتے ’انسائیڈر ٹریڈنگ‘ کے شبہات گہرے کیوں ہو رہے ہیں؟امریکہ ایران جنگ کے اثرات کے بارے میں مختلف ممالک کے بااثر افراد کیا سوچتے ہیں؟دفاعی صنعت
برطانوی آڈٹ فرم آر ایس ایم یو کی سینیئر تجزیہ کار ایمیلی ساوِچز کے مطابق کسی بھی تنازع کا سب سے پہلے فائدہ اٹھانے والوں میں دفاعی شعبہ سرِفہرست ہوتا ہے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس تنازع نے فضائی دفاعی صلاحیت میں موجود خلا کو مزید واضح کر دیا، جس کے نتیجے میں یورپ اور امریکہ میں میزائل دفاع، ڈرون روکنے کے نظام اور عسکری ساز و سامان میں سرمایہ کاری میں تیزی آئی۔‘
جنگ نے نہ صرف دفاعی کمپنیوں کی اہمیت کو اجاگر کیا بلکہ اس کے نتیجے میں حکومتوں کو اسلحے کے ذخائر دوبارہ بھرنے کی ضرورت بھی پیش آئی۔ ان عوامل کے باعث طلب میں اضافہ ہوا۔
دفاعی کمپنی بی اے ای سسٹمز جو ایف 35 فائٹر جیٹ کے پرزہ جات سمیت مختلف مصنوعات تیار کرتی ہے، نے جمعرات کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ اسے رواں برس اپنی سیلز اور منافع میں خاطر خوا اضافے کی توقع ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ’سکیورٹی خدشات‘ میں اضافے کے باعث حکومتیں دفاعی اخراجات میں اضافہ کر رہی ہیں، جس نے اس کے لیے ’سازگار ماحول‘ پیدا کر دیا۔
Anadolu via Getty Imagesایف 35 فائٹر جیٹ کے پرزہ جات سمیت مختلف مصنوعات تیار کرنے والی دفاعی کمپنی بی اے ای سسٹمز کو رواں سال اپنے منافع میں خاطر خوا اضافے کی توقع ہے
2026 کی پہلی سہ ماہی کے اختتام پر دنیا کے تین بڑے دفاعی ٹھیکیداروں لاک ہیڈ مارٹن، بوئنگ اور نارتھروپ گرومین کے پاس آرڈرز کا ریکارڈ بیک لاگ موجود ہے۔
تاہم دفاعی کمپنیوں کے حصص، جن کی قیمتوں میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا تھا، مارچ کے وسط کے بعد سے دباؤ کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ وہ خدشات ہیں کہ اس شعبے کی قدر حد سے زیادہ لگائی جا چکی ہے۔
قابلِ تجدید ذرائعGetty Images
سٹریٹر کے مطابق اس تنازع نے توانائی کے روایتی ذرائع پر انحصار کم کرنے اور متبادل ذرائع کو اپنانے کی ضرورت کو بھی نمایاں کیا۔
انھوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ’غیر معمولی‘ سطح پر دلچسپی دیکھنے میں آرہی ہے۔ حتیٰ کہ امریکہ میں بھی، جہاں ٹرمپ انتظامیہ فوسل فیول کے زیادہ استعمال کو فروغ دیتی رہی ہے۔
سٹریٹر کا کہنا ہے کہ جنگ کے باعث قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کو استحکام اور روایتی ذرائع کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم سمجھا جا رہا ہے۔
فلوریڈا میں قائم نیکسٹ ایرا انرجی بھی ایسی ہی کمپنیوں میں سے ایک ہے جنھیں اس رجحان سے فائدہ ہوا۔ اس کمپنی کے حصص میں رواں برس اب تک 17 فیصد اضافہ ہو چکا کیونکہ سرمایہ کار اس کے مشن پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔
ڈنمارک کی ہوائی توانائی کی بڑی کمپنیوں ویسٹاس اور اورسٹڈ کے منافع میں نمایاں اضافہ ہو۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی جنگ کے اثرات قابلِ تجدید توانائی کی کمپنیوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو رہے ہیں۔
برطانیہ میں آکٹوپس انرجی نے حال ہی میں بی بی سی کو بتایا کہ جنگ کے باعث سولر پینلز اور ہیٹ پمپس کی فروخت میں خاطر خوا اضافہ ہوا اور فروری کے آخر سے اب تک سولر پینلز کی فروخت میں 50 فیصد بڑھی۔
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں بھی اضافہ ہوا، جس سے خاص طور پر چینی گاڑی ساز کمپنیوں کو فائدہ ہوا۔
ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود چین کی معیشت توقع سے زیادہ ترقی کیوں کر رہی ہے؟دبئی میں سیاحت کی صنعت پر جنگ کے اثرات اور ملازمت پیشہ تارکینِ وطن کی مشکلات1970 کی دہائی کا تیل بحران کیا تھا، اور کیا دنیا اس سے بھی بڑے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے؟چینی کمپنی کے سستے مسافر طیارے جو بوئنگ اور ایئر بس کی اجارہ داری ختم کر سکتے ہیںامریکہ کی جانب سے ایرانی تیل پر عائد پابندیاں عارضی طور پر ہٹانے کے فیصلے سے انڈیا کو کتنا فائدہ ہو گا؟1970 کی دہائی کا تیل بحران کیا تھا، اور کیا دنیا اس سے بھی بڑے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے؟متحدہ عرب امارات کا 60 سال بعد اوپیک چھوڑنے کا فیصلہ اہم کیوں ہے؟