امریکا نے ایران پر دوبارہ بمباری کیوں کی اور کیا امن معاہدہ خطرے میں ہے؟

بی بی سی اردو  |  May 08, 2026

Reuters

امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں فوجی اڈوں پر بمباری کی ہے اور کہا ہے کہ یہ قدم آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے جواب میں اٹھایا ہے۔

امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران میں دو اہداف کو ’دفاعی کارروائی‘ کے دوران نشانہ بنایا ہے، جس پر ایرانی قیادت کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے اور ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملے کے جواب میں ایران نے بھی میزائل داغے۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے میزائل فائر کیے کیونکہ اس سے قبل ایک ایرانی آئل ٹینکر پر حملہ کیا گیا تھا۔

اس سے قبل امریکہ کی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’جب امریکی بحریہ کے میزائل تباہ کرنے والے جہازوں نے ایرانی حملوں کو روکا اور اپنے دفاع میں جوابی کارروائی کی۔‘

بیان میں کہا گیا کہ جب امریکی بحری جہاز اس علاقے سے گزر رہے تھے تو ایرانی فوجی دستوں نے ان پر کئی میزائلوں، ڈرونز اور چھوٹی کشتیوں سے حملہ کیا۔

دوسری جانب ایران کی اعلیٰ فوجی کمان نے امریکہ پر ’جنگ بندی کی خلاف ورزی‘ کا الزام عائد کیا ہے۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے IRIB نے ٹیلی گرام پر ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے آبنائے ہرمز کی طرف بڑھنے والے ایرانی آئل ٹینکر پر حملہ کیا۔

ایرانی بحریہ نے کہا کہ اس نے ’زیادہ دھماکہ خیز وار ہیڈز‘ کے ساتھ جواب دیا اور اس کی انٹیلیجنس رپورٹوں سے امریکہ کو ’بھاری نقصان‘ کا اشارہ ملتا ہے، جب کہ ’دشمن کے دراندازی کرنے والے جہاز آبنائے ہرمز سے تیزی سے بھاگ گئے۔‘

Reutersٹرمپ نے کیا کہا؟

دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی شام صحافیوں کو بتایا تھا کہ امریکہ ’ایرانیوں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان فائرنگ کے باوجود جنگ بندی بدستور برقرار ہے۔

صدر نے کہا ’آپ نے سنا ہوگا کہ ہم نے دشمن کو شدید نقصان پہنچایا۔‘

انھوں نے زور دے کر کہا کہ امریکہ کسی بھی صورت میں ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دے گا۔

امن معاہدے کے بارے میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب دیکھتے ہیں کہ وہ اس پر دستخط کرنے کو تیار ہیں یا نہیں۔‘

ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ’مذاکرات بہت اچھے طریقے سے چل رہے ہیں لیکن انھیں سمجھنا ہوگا کہ اگر معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے تو انھیں بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔‘

ایران کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ انھیں اس معاہدے کی مجھ سے زیادہ ضرورت ہے۔‘

’آپریشن فریڈم‘ روکنے پر پاکستانی وزیرِ اعظم صدر ٹرمپ کے شکرگزار: محض دو روز جاری رہنے والی کارروائی میں کیا کچھ ہوا؟کیا متحدہ عرب امارات پر حملوں نے اسلام آباد کی مشکلات بڑھا دیں؟پاکستان، انڈیا جنگ سے ایران، امریکہ مذاکرات تک: فیلڈ مارشل عاصم منیر عالمی سیاست کا اہم کردار کیسے بنے؟’نیا ایران‘: کیا اسرائیل اور ترکی کے بیچ مسلح محاذ آرائی ہو سکتی ہے؟کیا امن معاہدہ خطرے میں ہے؟

امریکہ نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں کرنا چاہتا لیکن وہ پوری طرح تیار ہے۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کے ایک طرف ایران ہے اور دوسری طرف عمان اور متحدہ عرب امارات (UAE) ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے گذشتہ ماہ آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کی تھی جب ایرانی فورسز نے اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے ساحل پر جانے اور جانے والے بحری جہازوں کو روکیں گے یا واپس کردیں گے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والے منافع کو محدود کرنا چاہتا ہے۔

امریکہ کا دعویٰ ہے کہ فروری کے آخر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس نے درجنوں ایرانی بحری جہازوں کو حراست میں لیا ہے۔

7 اپریل کو جنگ بندی کی کال کے بعد یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔

پیر کے روز، یو ایس سینٹرل کمانڈ نے اطلاع دی تھی کہ کئی امریکی جہاز آبنائے ہرمز سے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کے تحت گزرے، جس کا مقصد سمندری تجارتی راستوں کو کھلا رکھنا تھا۔

اس نے یہ بھی کہا کہ اس کی بحریہ کے دو جہاز مربوط حملوں کا سامنا کرنے کے باوجود خلیج فارس میں داخل ہوئے جن میں چھوٹی ایرانی کشتیاں، میزائل اور ڈرون شامل تھے۔

تاہم، اگلے ہی دن ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو ’تھوڑی دیر‘ کے لیے روک دیا جائے گا کیونکہ ایران کے ساتھ معاہدے کی جانب ’اہم پیش رفت ہوئی ہے۔‘ امریکی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قیادت کے کہنے پر پروجیکٹ فریڈم روکا گیا۔

ایرانی فورسز اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے بی سی نیوز سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم نہیں ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جنگ بندی برقرار اور نافذ ہے۔‘

امریکی حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’یہ بس پیار بھرا ایک دھکا ہے۔‘

وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس اور روئٹرز نے رپورٹ کیا تھا کہ واشنگٹن اور تہران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک صفحے کی، 14 نکات پر مشتمل یاد داشت کے قریب پہنچ رہے ہیں۔

لیکن حالیہ جھڑپوں کے بعد امن معاہدے پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کے دفتر خارجہ نے جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں کہا تھا کہ معاہدہ کے لیے پرامید ہیں کہ یہ جلد ہو گا۔

گزشتہ روز ہی پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیرخارجہ کے درمیان فون پر رابطہ بھی ہوا تھا جس میں حالیہ علاقائی صورت حال اور امن اور استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ نے اسحاق ڈار کو چین کے دورہ کے بارے میں بتایا اور باہمی مفاد سے متعلقہ روابط کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

ادھر ایرانی پارلیمان کے رکن اور قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے تازہ امریکی حملوں کے بعد انسٹاگرام پر لکھا کہ ’ایک ہی غلطی کو دہرانے سے مختلف ردِعمل نہیں ملے گا، جواب صرف سخت ہوگا۔ ایران کے نئے سمندری قوانین کا احترام کیا جائے۔‘

’آپریشن فریڈم‘ روکنے پر پاکستانی وزیرِ اعظم صدر ٹرمپ کے شکرگزار: محض دو روز جاری رہنے والی کارروائی میں کیا کچھ ہوا؟ایرانی میڈیا کا امریکی اور اسرائیلی ہتھیاروں کی ’ریورس انجینیئرنگ‘ کا دعویٰ: ’میدان جنگ دفاعی صنعت کے لیے ریسرچ لیبارٹری ہے‘آبنائے ہرمز میں موجود بارودی سرنگیں کتنی خطرناک ہیں اور انھیں ہٹانا اتنا مشکل کیوں؟ایران جنگ نے مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی جانب سے ’بادل چوری‘ کے جھوٹے دعوؤں کو کیسے ہوا دیپاکستان، انڈیا جنگ سے ایران، امریکہ مذاکرات تک: فیلڈ مارشل عاصم منیر عالمی سیاست کا اہم کردار کیسے بنے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More