دعوے، الزامات، طنز اور مستقبل کے لیے تنبیہ: پاکستان اور انڈیا کے عسکری حکام کی گھنٹوں طویل پریس کانفرنسوں کا احوال

بی بی سی اردو  |  May 07, 2026

پاکستان اور انڈیا کے درمیان مئی 2025 میں ہونے والی چار روزہ لڑائی کا ایک سال مکمل ہونے پر دونوں ممالک کی مسلح افواج کے نمائندوں نے جمعرات کے روز گھنٹوں پر محیط پریس کانفرنسز کا انعقاد کیا جس کے دوران گذشتہ تنازع میں حاصل ہونے والی بڑی عسکری کامیابیوں اور ’دشمن کو نقصانات‘ پہنچانے سے متعلق دعوؤں کو دہرایا گیا۔

دونوں ممالک کی افواج کے افسران نے گذشتہ ایک سال کے دوران حاصل ہونے والی کامیابیوں کا تذکرہ کیا اور ایک دوسرے کو مستقبل کے حوالے سے انتباہات بھی جاری کیے۔

پاکستان کی مسلح افواج کے نمائندوں کی لگ بھگ ڈھائی گھنٹوں پر محیط پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری، ائیر وائس مارشل طارق غازی اور ڈپٹی چیف آف نیول سٹاف ریئر ایڈمرل شفاعت علی شریک تھے جبکہ انڈیا میں اس حوالے سے ہوئی دو گھنٹوں پر محیط پریس کانفرنس میں لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی، ایئر مارشل اودھیش کمار بھارتی اور وائس ایڈمرل اے این پرامو اور ڈپٹی چیف آف انٹیگریٹڈ ڈیفنس سٹاف آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل زوبن اے منوال نے شرکت کی۔

دونوں ممالک میں ہی ان پریس کانفرنسز کو سرکاری اور نجی ٹی وی چینلز پر لائیو نشر کیا گیا۔

یاد رہے کہ جہاں انڈیا نے اس چار روزہ لڑائی کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا تھا وہیں پاکستان میں جوابی ردعمل پر مبنی کارروائیوں کے لیے ’معرکہ حق‘ اور ’آپریشن بنیان المرصوص‘ کی اصطلاحات استعمال کی گئی تھیں۔

انڈین عسکری حکام نے اپنی پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ ’آپریشن سندور کسی انجام کی نمائندگی نہیں کرتا بلکہ یہ ایک نئے سٹریٹجک عزم کے آغاز کی علامت ہے‘ جبکہ پاکستان حکام نے دعویٰ کیا کہ ’ہم نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو ملٹی ڈومین وار میں شسکت دی، ڈیٹرینس قائم کیا اور جنگ کا زاویہ بدل دیا۔‘

دونوں ممالک کی افواج کے نمائندوں نے اس موقع پر طنز کا سہارا بھی لیا۔ جہاں ایک جانب ڈی جی آئی ایس پی آر نےانڈین آرمی کو ’سیاست زدہ‘ اور انڈین میڈیا کی جانب سے ’اچھی خاصی تفریح‘ فراہم کرنے کی بات کی تو وہیں آرمی چیف عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دینے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی نے کہا کہ ’ہم اس پر کیا کہہ سکتے ہیں۔ ہم نے اس عمل کو ایک تفریح کے طور پر لیا۔‘

انڈین عسکری حکام نے اس موقع پر پاکستان کے چین اور ترکی کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی بات کی۔

طیاروں کو تباہ کرنے سے متعلق دعوے

دونوں ممالک کی فضائیہ کے نمائندوں نے اس موقع پر ایک بار پھر چار روزہ تنازع کے دوران ایک دوسرے کے طیارے تباہ کرنے کے دعوے کیے۔

پاکستانی فوج کے ڈپٹی چیف آف ایئر سٹاف ائیر وائس مارشل طارق غازی نے دعویٰ کیا ہے کہ ’معرکہ حق میں انڈیا کے چار رفال طیاروں سمیت آٹھ طیارے مار گرائے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا سکور 8-0 ہے۔‘

انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’معرکہ حق میں ایک ایس یو 30، ایک مگ 29، ایک معراج طیارہ اور ایک انتہائی مہنگا ملٹی رول ڈرون بھی مار گرایا گیا۔‘

دوسری جانب انڈین ایئر مارشل اودھیش کمار بھارتی نے دعویٰ کیا کہ ’آپریشن سندور کے دوران پاکستان کے 11ایئر فیلڈز کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ 13 طیارے مار گرائے گئے۔ یہ سب کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ انڈیا کے کسی شہری یا فوجی انفراسٹرکچر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔‘

ان پریس کانفرنسز کے دوران ایک دوسرے کے خلاف شدت پسندی اور دہشت گردی سے متعلق وہ دعوے دہرائے گئے جن کے دونوں ممالک ماضی میں متعدد مواقع پر تردید کر چکے ہیں۔

’جو کچھ انڈیا نے دیکھا وہ ہماری طاقت کا 10 سے 15 فیصد تھا‘

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان نے اپنی پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ ’معرکہ حق میں جو کچھ انڈیا نے دیکھا وہ ہمارا مجموعی طاقت کا 10 سے 15 فیصد تھا۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ’پاکستان نے اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو شکست دی۔ ہم تب بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں، کسی کو شک ہے تو جان لیں کہ اپنی طاقت کی ایک قسط ہم نے دکھائی ہے۔ اس بار 14اگست پر عظیم الشان پریڈ ہو گی، اپنی پاور پوٹینشل کی چھوٹی سی جھلک عوام کو دکھائیں گے۔‘

پاکستانی فوج کے ترجمان کے مطابق ’انڈیا کے لیے واضح اور دو ٹوک پیغام ہے کہ جو کرنا ہے کریں، چاہے وہ روایتی ہو یا غیر روایتی، ہم یہیں کھڑے ہیں، پوری بھرپور طاقت سے جواب دیں گے۔‘

ان کے مطابق ’یہ جنگ زمین، فضا، سمندر، سائبر اور ذہنوں میں ہے، ہم پہلے بھی تیار تھے اور اب بھی تیار ہیں، کوئی پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، پاکستان کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔‘

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’انڈیا اپنے لوگوں پر دہشت گردی کرواتا ہے اور اس کا الزام دوسروں پر عائد کرتا ہے۔انڈیا بتائے کہ اس نے کس دہشت گردی کے کیمپ کو نشانہ بنایا۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ’پہلگام واقعے کو ایک سال مکمل ہو گیا لیکن پاکستان نے جو سوالات اٹھائے تھے وہ اب بھی جوں کے توں موجود ہیں، جواب دیں کہ کون لوگ تھے جنھوں نے یہ کروایا اور انڈیا بتائے اس نے کس دہشتگرد کیمپ کو نشانہ بنایا۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’انڈیا کی آرمی پروفیشنل تھی جو آج سیاست زدہ ہو گئی۔‘

انھوں نے انڈیا کے میڈیا کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا کا نیوز میڈیا اچھی خاصی تفریح فراہم کر دیتا ہے اور یہی کام معرکہ حق کے دوران انھوں نے کیا۔ انڈیا کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ سچ بولنا سیکھے۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’انڈیا نے پہلے بھی پراکسیز لانچ کیں اور اب بھی وہ یہی کام کر رہا ہے۔‘

ان کے مطابق ’دشمن کو پاکستانی افواج نے ملٹی ڈومین وار میں شکست دی، یہ بات انڈیا کا بچہ بچہ جانتا ہے لیکن یہ الگ بات ہے کہ وہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔‘

اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے سعودی عرب سے پاکستان کے تعلقات اور افغانستان سے متعلق معاملات پر بھی بات چیت کی۔

’صرف ہنگامہ کھڑا کرنا میرا مقصد نہیں‘

انڈین بری فوج کے لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’انڈیا دہشت گردی کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھے گا اور اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔‘

انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’بھاری نقصان اٹھانے کے بعد مخالف فریق کو ہوش آیا اور اس نے جنگ بندی کی درخواست کی۔ جب یہ درخواست آئی تو ہم نے کارروائیاں روک دیں۔ ہم پیچھے ہٹے لیکن ہم نے کمزوری کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ہم اپنا پیغام دے چکے تھے اور وہ پیغام واضح تھا کہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور دہشت گردی کی ایک قیمت ادا کرنی ہو گی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا، یہ تو بس آغاز ہے۔‘

شاعر دشینت کمار کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے یہ نثر پڑھی ’میرا مقصد صرف ہنگامہ کھڑا کرنا نہیں، میری کوشش ہے کہ صورت بدلنی چاہیے۔‘

انڈین عسکری حکام کی جانب سے مزید کہا گیا کہ ’اگر آپریشن سندور ایک متوازن اور نپے تلے عزم کا ثبوت تھا، تو ہمارا اگلا ردِعمل مسلسل برتری کے بارے میں ہو گا۔ اگر ہمیں دوبارہ چیلنج کیا گیا تو ہم محض جواب نہیں دیں گے بلکہ بیرونی حدود سے ہی میدانِ جنگ کی صورتِحال کو تشکیل دیں گے۔‘

’پاکستان کے پاس 80 فیصد فوجی ساز و سامان چینی ساختہ ہے‘Getty Images

لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی نے دعویٰ کیا کہ ’یہ حقیقت ہے کہ پاکستان اور چین کے تعلقات، اُن کے اپنے الفاظ میں، سمندروں سے گہرے اور پہاڑوں سے بلند ہیں۔ اسی طرح یہ بات بھی واضح ہے کہ پاکستان کے 80 فیصد فوجی سازوسامان چینی ساختہ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’چاہے ہمیں ایک ہی سرحد پر ترکی، چین یا پاکستان جیسے تین مخالفین کا سامنا کیوں نہ ہو، حقیقت یہ ہے کہ مقابلہ اسی ٹیم سے کرنا ہوتا ہے جو میدان میں موجود ہو۔ لہٰذا یہ کوئی ایسی بات نہیں جس پر ہمیں بے حد تشویش ہونی چاہیے، اور نہ ہی یہ ہمارے کنٹرول میں ہے۔‘

انھوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ’انڈیا اور اس کی مسلح افواج ان تمام چیلنجز سے نمٹنے کی راہ پر گامزن ہیں۔ اسی تناظر میں، ایک سال بعد ہم آپ کے سامنے موجود ہیں تاکہ آپ کو یہ یقین دہانی کرا سکیں کہ گذشتہ سال حاصل کیے گئے اسباق کو بخوبی اپنایا جا چکا ہے اور ہم مسلسل آگے بڑھنے کے راستے پر ہیں۔‘

سعودی عرب کے لیے تھریٹ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج کے ترجمان نے پریس کانفرنس کے دوران سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ’جس طرح سعودی عرب کے لیے تھریٹ ہمارے لیے خطرہ ہے ایسے ہی سعودی عرب کو بھی پاکستان کی سلامتی عزیز ہے۔‘

یہ بات ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک صحافی کے اس سوال کے جواب میں کہی جس میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا انڈیا اور پاکستان کی مستقبل میں کسی جارحیت کی صورت میں سعودی عرب کیا پاکستان کی مدد کر سکے گا؟

اس پر پاکستانی فوج کے ترجمان کا دعویٰ تھا کہ ’سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی کئی جہتیں ہیں جو دہائیوں سے قائم ہیں۔‘

ان کے مطابق ’حرمین شریفین کے محافظ ہونے کا اعزاز پاکستان کے ہر شخص کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے کہ حرمین شریفین کی حفاظت کے لیے پاکستان اور اس کی فوج کو چنا گیا اور سعودی عرب کی قومی سلامتی بھی حرمین شریفین سے جڑی ہے۔‘

ان کے مطابق ’جس طرح ہمیں سعودی عرب کی سکیورٹی اور سلامتی عزیز ہے بالکل ایسے ہی پاکستان کی سلامتی اور سکیورٹی سعودی عرب کو بھی عزیز ہے۔‘

پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اللہ کے حکم کے مطابق اپنا عہد پورا کرنے والے لوگ ہیں اور جو وعدہ ہم نے کیا اس کو پورا کرنے والے لوگ ہیں۔‘

مریدکے، بہاولپور اور مظفرآباد میں انڈین میزائل حملوں کا نشانہ بننے والے مقامات پر بی بی سی نے کیا دیکھا؟امداد میں تاخیر سے بنکرز نہ بننے کی شکایت تک: انڈیا پاکستان جنگ کا ایک برس اور ایل او سی کے آر پار رہنے والوں کا دُکھدو جوہری طاقتوں کے بیچ پہلی ڈرون جنگ: کیا پاکستان اور انڈیا کے درمیان روایتی لڑائی میں نئے اور خطرناک باب کا آغاز ہو چکا ہے؟انڈیا پاکستان کشیدگی کے دوران ’انفارمیشن وار‘ اور وہ فوجی اہلکار جو اس ’جنگ‘ کا چہرہ بن گئےرفال بمقابلہ جے 10 سی: پاکستانی اور انڈین جنگی طیاروں کی وہ ’ڈاگ فائٹ‘ جس پر دنیا بھر کی نظریں ہیں
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More