امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کی دوسری مدت کے دوران تاجر اُن (ٹرمپ) کی جانب سے کسی بھی بڑے اعلان سے تھوڑی دیر قبل مارکیٹ میں کروڑوں ڈالر کا کاروبار کرتے ہوئے نظر آئے ہیں۔
بی بی سی نے متعدد مارکیٹوں کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا ہے اور اُن کا موازنہ صدر ٹرمپ کے چند ایسے اہم بیانات کے ساتھ کیا ہے، جنھوں نے منڈیوں پر نمایاں اثر ڈالا۔
ایران، امریکہ تنازع کی تازہ ترین صورتحال بی بی سی اُردو کے لائیو پیج پر
بی بی سی کے اِس جائزے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ صدر ٹرمپ کی کسی سوشل میڈیا پوسٹ یا انٹرویو کے منظرِ عام پر آنے سے چند گھنٹے، اور بعض اوقات محض چند منٹ پہلے ہی کاروباری سرگرمیوں میں مسلسل اور غیر معمولی اضافے کا پیٹرن دیکھنے میں آیا۔
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس میں غیر قانونی ’انسائیڈر ٹریڈنگ‘ کی واضح نشانیاں پائی جاتی ہیں۔ انسائیڈر ٹریڈنگ سے مراد کسی کمپنی کی سیکیورٹیز (جیسے حصص یا آپشنز) کی خرید و فروخت ایسی اہم معلومات کی بنیاد پر کرنا ہے جو عوام کو دستیاب نہ ہو اور جس سے تاجروں کو غیر منصفانہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
دیگر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ صورتحال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے اور یہ کہ کچھ تاجر کسی بھی معاملے میں صدر ٹرمپ کی جانب سے مداخلت کرنے جیسے عوامل کا اندازہ لگانے میں پہلے ہی ماہر ہو چکے ہیں۔
اس کی پانچ اہم مثالیں ذیل میں پیش کی جا رہی ہیں۔
9 مارچ 2026: ’جنگ تقریباً مکمل ہو چکی ہے‘
اس دوران تیل کی تجارت کے شعبے میں سب سے زیادہ اُتار چڑھاؤ نظر آیا۔
ایران جنگ کا آغاز ہوئے ابھی نو دن ہی گزرے تھے کہ صدر ٹرمپ نے ایک بذریعہ فون ’سی بی ایس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ تنازع (یعنی ایران جنگ) ’کافی حد تک مکمل، تقریباً ختم‘ ہو چکی ہے۔
BBCنو مارچ کو تیل کی قیمتوں میں اُتار چڑھاؤ پر مبنی گراف
اس بیان کا ردعمل فوری اور شدید تھا۔
گرینچ مین ٹائم (جی ایم ٹی) کے مطابق نو مارچ کو شام کو 6:29 بجے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔شام کو 7:16 بجے پر ٹرمپ نے سی بی ایس کو بتایا کہ جنگ تقریباً ختم ہو چکی ہے۔اور پھر ایک ہی منٹ میں یعنی 7:17 بجے تیل کی قیمتیں عالمی منڈی میں 25 فیصد گر گئیں۔
لوگوں کو صدر ٹرمپ کے سی بی ایس نیوز کو دیے گئے انٹرویو کے بارے میں پہلی بار 7:16 بجے ہی اُس وقت معلوم ہوا جب ایک صحافی نے ایکس پر اس سے متعلق ایک پوسٹ لگائی۔
ٹرمپ کے بیان کے بعد اور اس امید پر کہ تنازع اُن کی توقع سے کہیں زیاد جلدہ ختم ہو سکتا ہے، تاجروں نے تیل فروخت کرنا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں تقریباً 25 فیصد تک فوراً کمی واقع ہوئی۔
تاہم، مارکیٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیل کی قیمت میں کمی پر بہت بڑی تعداد میں شرطیں 6:29 بجے ہی لگائی جا چکی تھیں، یعنی صحافی کی جانب سے ’ایکس‘ پر اس کی اطلاع دینے سے پورے 47 منٹ پہلے۔
جن تاجروں نے یہ شرطیں لگائی تھیں، انھوں نے ٹرمپ کے بیان کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی اس تبدیلی سے لاکھوں ڈالر کمائے ہوں گے۔
23 مارچ 2026: ’مکمل طور پر حملوں کا خاتمہ‘
23 مارچ کو ایران کے بجلی گھروں اور پُلوں کو ’صفحۂ ہستی سے مٹانے‘ کی دھمکی دینے کے صرف دو دن بعد ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ واشنگٹن نے تہران کے ساتھ معاملات کے ’مکمل اور حتمی حل‘ کے حوالے سے ’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت‘ کی ہے۔
یہ اعلان ناصرف سفارتی مبصرین بلکہ تاجروں کے لیے بھی حیران کُن تھا۔
BBC23 مارچ کو تیل کی قیمتوں میں اُتار چڑھاؤگرینچ مین ٹائم (جی ایم ٹی) کے مطابق صبح 10 بج کر 48 منٹ سے 10 بج کر 50 منٹ کے دوران تیل کی قیمتوں پر لگنے والی شرائط میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔11 بج کر چار منٹ پر ٹرمپ کی ’تہران کے ساتھ مثبت بات چیت‘ سے متعلق پوسٹ سامنے آئی۔اور پھر 11 بج کر پانچ منٹ (یعنی ٹرمپ کے بیان کے ایک ہی منٹ بعد) تیل کی قیمتیں 11 فیصد تک گِر گئیں۔
اس کے فوراً بعد تیل کے شعبے میں شیئرز کی قیمتیں بڑھ گئیں اور تیل کی قیمت، جو پہلے تیزی سے بڑھ رہی تھی، فوراً ہی گر گئی۔
جیسا کہ بی بی سی نے اُس وقت بھی رپورٹ کیا تھا، امریکی صدر کی پوسٹ سے 14 منٹ پہلے امریکی تیل کی قیمت سے متعلق پیش گوئیوں پر غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں شرطیں لگائی گئی تھیں۔
یہی رجحان برینٹ کروڈ خریدنے والے تاجروں میں بھی دیکھا گیا۔
تیل کی مارکیٹ پر نظر رکھنے والے ایک تجزیہ کار نے اُس وقت بی بی سی کو بتایا کہ اس شعبے میں اُتار چڑھاؤ ’یقیناً غیر معمولی‘ نظر آ رہا ہے۔
Getty Images9 اپریل 2025
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے ہٹ کر بھی تجارتی سرگرمیوں کی ایسی دیگر مثالیں موجود ہیں جنھوں نے لوگوں کو شکوک و شبہات میں مبتلا کیا۔
گذشتہ سال دو اپریل کو ٹرمپ نے ’لبریشن ڈے‘ (امریکہ کے یوم آزادی) کے موقع پر اعلان کیا کہ انھوں نے دنیا کے تقریباً ہر ملک سے آنے والی اشیا پر وسیع پیمانے پر ٹیرف (محصولات) عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس اعلان کے بعد دنیا بھر کی سٹاک مارکیٹوں میں مندی دیکھی گئی۔
لیکن ایک ہفتے بعد جب ٹرمپ نے چین کے علاوہ دوسرے تمام ممالک پر محصولات عائد کرنے میں 90 دن کے ’وقفے‘ کا اعلان کیا تو سٹاک مارکیٹیں تیزی سے اُوپر چلی گئیں۔
اس وقت ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 9.5 فیصد تک پہنچ گیا، جو دوسری عالمی جنگ کے بعد ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑے اضافہ تھا۔
برٹش سمر ٹائم کے مطابق شام چھ بجے تاجروں نے سٹاک مارکیٹ کے اوپر جانے سے متعلق بڑی بڑی شرائط لگانا شروع کیں۔چھ بج کر 18 منٹ پر ٹرمپ نے 90 دن کے لیے ٹیرف عائد کرنے میں وقفے کا اعلان کیااور پھر چھ بج کر 19 منٹ پر سٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی آنا شروع ہو گئی۔
ایک بار پھر، ٹرمپ کے اس اعلان سے پہلے غیر معمولی تجارتی سرگرمی دیکھنے میں آئی اور ایس اینڈ پی 500 انڈیکس کو ٹریک کرنے والے ایک فنڈ پر غیر معمولی طور پر بڑی تعداد میں شرائط لگائی گئیں۔
کچھ تاجروں نے اُس دن سٹاک مارکیٹ میں اضافے پر 20 لاکھ ڈالر سے زیادہ کی شرائط لگائیں، اس سے قطع نظر کہ مارکیٹ کو گذشتہ مسلسل سات دن کے انتہائی خسارے کا سامنا تھا۔
شرائط لگانے والے تاجروں کو سٹاک مارکیٹ میں اس غیر معمولی بڑے اضافے تقریباً دو کروڑ ڈالر تک منافع حاصل ہو سکتا تھا۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: کیا ماضی میں ایسے اقدامات کسی ملک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکے ہیں؟آبنائے ہرمز میں دو انڈین پرچم پردار بحری جہازوں پر ’فائرنگ‘ اور انڈیا کی تشویش: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟
اسی ہفتے امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے کئی سینیئر اراکین نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (ایس ای سی پی) کو خط لکھا، جس میں مالیاتی نگرانی کے اس ادارے پر زور دیا گیا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کرے کہ آیا صدر کے اعلانات نے ’ٹرمپ انتظامیہ کے اندرونی افراد اور دوستوں کو مالا مال کیا‘ یا نہیں۔
جب بی بی سی نے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن سے پوچھا کہ اُس نے ان الزامات کی تحقیقات کی ہیں، تو کمیشن کے ایک ترجمان نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
وائٹ ہاؤس نے بھی بی بی سی کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔
تین جنوری 2026: مادورو حراست میںReutersمادور کی گرفتاری پر بھی لاکھوں ڈالر کی شرط جیتی گئی، جو انتہائی غیرمعمولی تھادسمبر 2025 میں ’برڈنسم مکس‘ نامی اکاؤنٹ بنایا گیا۔جنوری 2026 میں اس کاؤنٹ نے مادورو کی گرفتاری کی پیش گوئی کرتے ہوئے 32 ہزار ڈالر کی شرط لگائی۔اس کے بعد مادورو کو حراست میں لیا گیا اور برڈنسم مکس نامی اکاؤنٹ نے 4 لاکھ 36 ہزار ڈالر جیت لیے
آن لائن پیشگوئی کی مارکیٹ میں حالیہ برسوں میں آنے والی شدت بھی مبصرین کی توجہ کا مرکز بنی ہے۔
بلاک چین پر مبنی پلیٹ فارمز جیسے پولی مارکیٹ اور کالشی صارفین کو موسم کے حالات سے لے کر بیس بال اور امریکی خارجہ پالیسی تک: ہر طرح کے معاملات پر قیاس آرائی کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر پولی مارکیٹ کے سرمایہ کاروں میں سے ایک ہیں اور اس کے ایڈوائزری بورڈ میں بھی شامل ہیں۔ وہ کالشی کے سٹریٹجک ایڈوائزر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے ہیں۔
بی بی سی نے تبصرے کے لیے اُن سے بھی رابطہ کیا ہے۔
دسمبر 2025 میں پولی مارکیٹ پر ایک صارف نے Burdensome-Mix کے نام سے اکاؤنٹ بنایا۔ 30 دسمبر کو اس نے اپنی پہلی شرط اس بات پر لگائی کہ وینزویلا کے صدر نیکولس مادورو جنوری 2026 کے اختتام تک عہدے پر نہیں رہیں گے۔
30 دسمبر سے 2 جنوری کے درمیان Burdensome-Mixنے اس پیش گوئی پر مجموعی طور پر 32,500 ڈالر کی رقم شرط کے طور پر لگائی۔
جب امریکی سپیشل فورسز نے مادورو کو حراست میں لیا اور ان کی حکومت ختم ہو گئی تو Burdensome-Mix نامی اکاؤنٹ نے چار 4 لاکھ 36 ہزار ڈالر جیتے۔
اس کے فوراً بعد اس اکاؤنٹ اپنا یوزر نیم تبدیل کر لیا اور اس کے بعد کوئی شرط نہیں لگائی۔
28 فروری 2026: ایران پر حملےفروری 2026: پولی مارکیٹ پر چھ مزید اکاؤنٹس بنائے گئے۔ان اکاؤنٹ نے مجموعی طور پر 12 لاکھ ڈالر جیتے۔
بلاک چین کا تجزیہ کرنے والی ویب سائٹ ببل میپس کے مطابق فروری میں پولی مارکیٹ پر چھ اکاؤنٹس بنائے گئے تھے۔
تمام اکاؤنٹس نے 28 فروری تک ایران پر امریکی حملے ہونے کی پیش گوئی کی اور شرطیں لگائیں۔ جب صدر ٹرمپ نے اسی دن حملوں کی تصدیق کی تو ان اکاؤنٹس نے مجموعی طور پر 12 لاکھ ڈالر کمائے۔
ان چھ میں سے پانچ صارفین نے اس کے بعد کوئی مزید شرط نہیں لگائی، تاہم ایک اکاؤنٹ کی حالیہ سرگرمی سے ظاہر ہوتا ہے ہے کہ اس نے سات اپریل تک امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہونے پر درست شرط لگا کر 1 لاکھ 63 ہزار ڈالر کمائے، جس کا اعلان اُسی روز واشنگٹن اور تہران نے کیا تھا۔
Getty Imagesٹرمپ جونیئر
پولی مارکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ’مارکیٹ کے معیارِ شفافیت کی اعلیٰ ترین سطح قائم، برقرار اور اسے نافذ کرتا ہے‘۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ اس مقصد کے لیے ضابطہ کار نافذ کرنے والے اداروں اور قانون نافذ کرنے والے محکموں کے ساتھ کام کرتے ہیں۔
رواں برس مارچ میں پولی مارکیٹ اور کالشی، دونوں نے انسائیڈر ٹریڈنگ معلومات کی بنیاد پر تجارت کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے نئے قواعد کا اعلان کیا تھا۔
یہ مارکیٹس کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کی حدود میں آتی ہیں۔
سی ایف ٹی سی نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے بی بی سی کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا، تاہم اس کے چیئرمین نے حال ہی میں ایک کانگریس کی کمیٹی کو بتایا تھا کہ اُن کا ادارہ دھوکہ دہی اور انسائیڈر ٹریڈنگ کی بنیاد پر تجارت کے خلاف ’زیرو ٹالرنس‘ کی پالیسی رکھتا ہے۔
یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حال ہی میں وائٹ ہاؤس نے گذشتہ ماہ اپنے عملے کو ایک ای میل ارسال کی، جس میں انھیں خبردار کیا گیا کہ وہ شرطیں لگانے کے لیے اندرونی معلومات کا استعمال نہ کریں۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس اِنگل نے اُس وقت بی بی سی کو بتایا تھا کہ ’بغیر کسی ثبوت کے یہ تاثر دینا کہ انتظامیہ کے اہلکار اس قسم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں، بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ ہے۔‘
ثابت کرنا مشکل
سیکورٹیز ایکٹ 1933 کے منظور ہونے کے بعد سے زیادہ تر امریکیوں کے لیے اندرونی معلومات کی بنیاد پر تجارت (انسائیڈر ٹریڈنگ) غیر قانونی قرار دی گئی ہے۔
اس قانون کے اطلاق کا دائرہ کار سنہ 2012 میں امریکی سرکاری اہلکاروں تک بھی بڑھا دیا گیا تھا، تاہم اب تک اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کے خلاف مقدمہ نہیں چلایا گیا ہے۔
مالیاتی قوانین کے ماہر سمجھے جانے والے پروفیسر پال اوڈین کہتے ہیں کہ ان قوانین پر عمل درآمد کرنا مشکل ہے۔
پال اوڈین کہتے ہیں کہ ’حکام اس وقت تک مقدمہ نہیں چلائیں گے جب تک وہ یہ معلوم نہ کر لیں کہ معلومات کا اصل ذریعہ کون ہے۔‘
بی بی سی کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر امریکی حکام میں سے کسی نے بھی اندرونی معلومات کی بنیاد پر تجارت کے الزامات کو تسلیم نہیں کیا۔
پال اوڈین کہتے ہیں کہ پیمانے پر ہونے والا مالیاتی لین دین واضح طور پر یہ ظاہر کرتا ہے کہ کسی کو اس بات کی پیشگی اطلاع تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کیا اعلان کرنے والے تھے۔
تاہم ’واضح امکانات موجود ہیں کہ کسی کے خلاف کارروائی نہیں ہو گی۔‘
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی: کیا ماضی میں ایسے اقدامات کسی ملک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر سکے ہیں؟آبنائے ہرمز میں دو انڈین پرچم پردار بحری جہازوں پر ’فائرنگ‘ اور انڈیا کی تشویش: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟امریکہ ایران جنگ کے اثرات کے بارے میں مختلف ممالک کے بااثر افراد کیا سوچتے ہیں؟سعودی عرب کا پاکستان کو اضافی تین ارب ڈالر قرض دینے اور موجودہ پانچ ارب ڈالر کے ڈپازٹس میں توسیع کتنی اہم ہے؟