Getty Images
بارش کی خاص قسم کی خوشبو سے لے کر اس کی بوندوں میں موجود ذرات ہمارے جسم کے لیے کچھ دلچسپ فوائد بھی رکھتے ہیں اور خاص طور پر جب یہ ہمارے مزاج سے مطابقت رکھتی ہو۔
امریکی ریاست نیو ملفورڈ میں شدید گرمی اور درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ سے اُوپر رہنے کا یہ مسلسل چھٹا دن تھا، جب آسمان سرخی مائل رنگت میں بدلنے لگا۔
میں اُس وقت ایک آؤٹ ڈور تھیٹر ورکشاپ کی رہنمائی کر رہا تھا۔ کچھ فاصلے پر کیمپرز حیرانگی سے آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے کہ ایک سیاہ بادل کا ٹکڑا آسمان پر آ رہا تھا۔
اسی اثنا میں بجلی کی زوردار کڑک نے زمین کو ہلا کر رکھ دیا اور آسمان پر بجلی کڑکنے لگی۔
پھر تیز بارش شروع ہو گئی اور ہم سب بارش کی بوندوں میں بھیگ گئے، بارش کی آواز اتنی زیادہ تھی کہ ہم ایک دوسرے کی آواز بھی نہیں سن پا رہے تھے۔
میں نے قریب ہی ایک چھت والے حصے کی طرف اشارہ کیا جہاں کپڑوں کے بیگ پڑے تھے۔ میں اور میرے طلبہ مکمل طور پر بھیگ چکے تھے، جب ہم وہاں تک پہنچے اور باہر طوفان کو دیکھتے رہے۔
تیس منٹ یا اس کے بعد آسمان صاف ہو گیا اور ہوا حیرت انگیز طور پر صاف اور سرد محسوس ہوئی اور اس دوران بارش کی ایک مخصوص خوشبو بھی محسوس کی جا سکتی تھی۔
جیسے ہی ہم ریہرسل کے لیے واپس چلے گئے، گھاس اور درخت کسی نہ کسی طرح سبز اور صحت مند دکھائی دے رہے تھے۔ ہم میں سے ہر کوئی بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا اور ہم سب کے مزاج میں مثبت تبدیلی اور خوشی محسوس ہو رہی تھی۔
کیا یہ گرمی کا زور ٹوٹنے کی وجہ سے تھا یا ہمارے اجتماعی مزاج میں بہتری کی وجہ یہ بارش تھی؟
بارش اور اس کے ہمارے مزاج پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے سائنسدانوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ صرف بارش ہی واحد فائدہ نہیں بلکہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بارش ہوا سے نقصان دہ مادوں کو بھی خارج کرتی ہے جبکہ اس کی خوشبو ہماری یادوں کو بھی تازہ کرتی ہے۔
Getty Imagesمزاج کو بہتر کرنے والے کیمیائی مادے سیرٹونن میں اضافہ
بارش کے دوران ہوا میں خاص قسم کے ذرات بنتے ہیں جنھیں نیگیٹو ایئر آئنز (Negative Air lons) کہا جاتا ہے۔ یہ اُس وقت بنتے ہیں جب بارش کے قطرے آپس میں یا زمین سے ٹکرا کر جذب ہوتے ہیں۔
نیگیٹو ایئر آئنز دماغ پر اچھا اثر ڈالتے ہیں اور خوشی کے ہارمون سیروٹونن کی سطح میں اضافہ کرتے ہیں، جو دماغ کو پرسکون کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دماغ بارش کے وقت سکون اور خوشی محسوس کرتا ہے۔
کچھ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ مثبت اثرات خون میں آکسیجن کی سطح کو بڑھانے والے نیگیٹو ایئر آئنز کی وجہ سے ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں موڈ مثبت ہوتا ہے اور یہ اس طرح کا احساس ہوتا ہے جب آپ ورزش کے بعد خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں۔
لیکن تاحال اس کی مزید وضاحت کے لیے کوئی حتمی شواہد نہیں۔
آندھیاں، فلیش فلڈ اور گیند جتنے بڑے اولے: کیا ایپسبہتر پیش گوئی کرکے ہمیں محکمہ موسمیات سے پہلے خبردار کر سکتی ہیں؟کالی بارش: آسمان سے برسنے والا سیاہ پانی جو برازیل سمیت کئی ملکوں میں گھبراہٹ کا باعث بناوہ پانچ غذائیں جو جسمانی تھکاوٹ اور سُستی کا خاتمہ کرتی ہیںمستقبل میں موسم انسانوں کی ’برداشت سے زیادہ گرم‘ ہو سکتے ہیں
امریکی ریاست پینسلووینیا میں مونیل کیمیکل سینس سینٹر کے سائنسدان پام ڈالٹن کہتی ہیں کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ نیگیٹو ایئر آئنز ہمارے مزاج اور دل پر کیوں اثر انداز ہوتے ہیں۔
نیگیٹو ایئر آئنز کے ہمارے مزاج پر اثرات کا مطالعہ 1950 کی دہائی میں شروع ہوا لیکن شروع میں نتائج واضح نہیں تھے۔
بعدازاں 90 کی دہائی میں جب سائنس نے مزید ترقی کی اور بہتر مشینیں بنیں جو زیادہ موثر طریقے سے نیگیٹو ایئر آئنز پیدا کرتی تھیں تو تب جا کر نتائج سامنے آئے۔
سنہ 1995 کی ایک اہم تحقیق میں سامنے آیا کہ جو لوگ موسم کے اثرات کی وجہ سے افسردہ تھے اور انھیں روزانہ ہائی وولٹیج آئنائزر کے سیشن دیَے گئے تو ان کی علامات میں نمایاں کمی آئی۔
اس مطالعے کے سربراہ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر مائیکل ٹیہن کے مطابق تیز بارش میں تقریباً اتنی ہی مقدار میں نیگیٹو آئنز بنتے ہیں جتنے ہائی وولٹیج مشینیں پیدا کرتی ہیں لیکن ساتھ ہی اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی تک ایسی کوئی تحقیق نہیں ہوئی جو براہ راست یہ ثابت کرے کہ بارش میں وقت گزارنے سے موڈ واقعی بدلتا ہے یا بہتر ہوتا ہے۔
Getty Imagesصاف ستھری ہوا
بارش کے نیگیٹو آئنز آلودگی اور الرجین جیسے ذرات کو صاف کرتے ہیں جس سے سانس لینے میں آسانی ہوتی ہے۔ اس کا اثر موڈ اور صحت پر بھی پڑ سکتا ہے۔
سنہ 2015 میں محققین نے بارش کے قطرے پیدا کرنے والے شیشے کے چیمبر میں مختلف قسم کے ذرات کو پمپ کر کے اس صلاحیت کو نقل کیا۔
جب بارش کے قطرے زمین پر گرتے ہیں، تو وہ بنیادی طور پر اپنے راستے میں ہوا سے چلنے والے چھوٹے ذرات کو ’جھاڑتے‘ ہیں۔
مطالعے کے شریک مصنف اور امریکہ میں انڈیانا کی پرڈیو یونیورسٹی میں زمین، ماحولیات اور سیاروں کے سائنس کے پروفیسر ڈین چیکزو کہتے ہیں کہ بارش کے قطرے کے اندر برقی چارج (آئنز) ان ذرات کے لیے مقناطیس کی طرح کام کرتا ہے۔
چیکزو کہتے ہیں کہ بارش کی شدت کا بھی اس میں کافی عمل دخل ہوتا ہے۔ بارش جتنی زیادہ ہو گی، اس کا ماحول پر اچھا اثر پڑے گا۔ یہ ہوا میں اُن آئنز کی مقدار کو کم کریں گی جو چڑچڑے پن اور بے چینی سے وابستہ ہیں۔
اس لیے اگلی بار جب شدید بارش ہو تو اس کے رکنے کے فوراً بعد اپنی کھڑکیاں کھولنے پر غور کریں۔ آپ محسوس کریں گے کہ ہوا صاف ہے اور اس سے آپ کے گھر کے اندر کی فضا بھی بہتر ہو گی، جو لامحالہ آپ کے مزاج پر بھی اثرانداز ہو گی۔
Getty Imagesپرانی یادیں تازہ
بارش کی ایک خاص قسم کی خوشبو بھی ہوتی ہے جو انسانی دماغ پر اثر ڈال سکتی ہے۔ یہ خوشبو بارش کے قطرے زمین پر جذب ہونے سے اُٹھتی ہے اور انسانی مزاج کو بہت بھاتی ہے اور پرانی یادیں تازہ کرتی ہے۔
یونیورسٹی آف گرین ویچ کے پروفیسر فل سٹیونسن کہتے ہیں کہ جب بارش ہوتی ہے تو زمین سے چھوٹے ذرات ہوا میں بلند ہوتے ہیں جو منفرد خوشبو پیدا کرتے ہیں۔
سیوینسن کہتے ہیں کہ بارش زمین سے خاص ذرات اور ایک خوشبو دار مادے جیوسمن کو الگ کرتی ہے جس سے وہ جانی پہچانی خوشبو پیدا ہوتی ہے جو گرم موسم میں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان اس خوشبو کی طرف مائل ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح شارک مچھلی خون کے لیے حساس ہوتی ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ خوشبو دماغ کی سرگرمی میں تبدیلی لاتی ہے جس کی وجہ سے انسان زیادہ پرسکون اور مطمئن محسوس کرتا ہے۔
پرسکون آواز
بارش میں صرف خوشبو اور سانس لیتے وقت خوشگوار احساس ہی نہیں بلکہ اس کی آواز بھی ہمیں متاثر کرتی ہے۔
مسلسل بارش کورٹیسول کی سطح کو کم کر سکتی ہے، سکون کا احساس دلانے کے ساتھ ساتھ خلل ڈالنے والے شور کو بھی ختم کر سکتی ہے۔
مشیگن میں طبی آڈیولوجسٹ ایمی سارو کہتی ہیں کہ جب ہم تیز بارش کی آواز سنتے ہیں تو یہ دل کی دھڑکن متوازن رہتی ہے جبکہ ہم پرسکون محسوس کرتے ہیں۔
ایک حالیہ تحقیق میں پتا چلا ہے کہ بارش کی آواز 40 سے 50 ڈیسیبل رینج (ایک نرم، ہلکی بارش کے مساوی) کے اندر سب سے زیادہ موثر تھی، جس سے تناؤ کی سطح کو 65 فیصد تک کم کیا جاتا ہے۔
سارو کا کہنا ہے کہ موسلا دھار بارش نیند میں خلل ڈالنے والی آوازوں کو بھی ختم کر دیتی ہے۔
اگرچہ بارش نے مجھے مکمل طور پر بہت پرسکون حالت میں نہیں پہنچایا لیکن اس نے مجھے بہتر محسوس کرایا اور خود کو اس لمحے کے ساتھ جڑا ہوا محسوس کیا۔
اب جب بھی تیز بارش ہوتی ہے تو میں کوشش کرتا ہوں کہ اس میں تھوڑا زیادہ وقت گزاروں۔
اگلی بار جب آپ موسم کی پیشگوئی میں بارش دیکھیں، تو آپ بھی اسے محسوس کرنے کی کوشش کریں، ہو سکتا ہے آپ کو یہ تجربہ خوشگوار لگے۔
ہم اپنے دماغ کو صحت مند اور تیز کیسے بنا سکتے ہیں؟ تھکاوٹ کا ہماری نیند سے کتنا تعلق ہے اور کیا انسان بغیر نیند کے بھی تر و تازہ رہ سکتا ہے؟نعمتوں کا شکر اور موبائل سے دوری سمیت وہ چھ کام جو آپ کا موڈ بہتر اور مزاج خوشگوار بنا سکتے ہیںبرن آؤٹ: شدید تھکاوٹ کی یہ حالت کیسے ہوتی ہے اور اس سے کیسے بچا جائےکالی بارش: آسمان سے برسنے والا سیاہ پانی جو برازیل سمیت کئی ملکوں میں گھبراہٹ کا باعث بناکم برف باری اور زیادہ بارش ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے کو کیسے خطرناک بنا رہی ہے؟