ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود چین کی معیشت توقع سے زیادہ ترقی کیوں کر رہی ہے؟

بی بی سی اردو  |  Apr 17, 2026

Getty Images

ایران جنگ اور دیگر عالمی تنازعات کے باوجود چین کی معیشت نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران توقع سے زیادہ ترقی کی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس کے مقابلے میں رواں برس کے پہلے تین ماہ کے دوران چین کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین اقتصادیات نے یہ شرح 4٫8 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی تھی۔

چینی معیشت میں تیزی مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باوجود ہوئی ہے۔ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ نے عالمی توانائی کی سپلائی کو بُری طرح متاثر کیا تھا اور اس سے ایشیائی ممالک بھی متاثر ہوئے تھے۔

بیجنگ نے گذشتہ ماہ اقتصادی ترقی کے ہدف کو 4.5 سے پانچ فیصد تک رکھا تھا۔ یہ سنہ 1991 کے بعد سب سے کم شرح تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ سہ ماہی میں 4٫5 فیصد کے مقابلے میں رواں برس آنے والی بہتری کی وجہ مینوفیکچرنگ کا شعبہ ہے۔ کیونکہ دُنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت، چین، جائیداد کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے دباؤ کا شکار تھی۔

بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے تجزیہ کار کائل چن کہتے ہیں کہ کاروں اور دیگر برآمدات کی وجہ سے چین کی معیشت میں تیزی کا رجحان رہا ہے۔

Getty Images

کائل چن کا کہنا تھا کہ ایران جنگ کے مکمل اثرات ابھی سامنے نہیں آئے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ تنازع کی وجہ سے تجارتی رکاوٹوں کے باعث آئندہ سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح کم ہو سکتی ہے۔

چین کے تازہ ترین جی ڈی پی ہدف اور اقتصادی مقاصد کا اعلان اس کے تازہ ترین پانچ سالہ منصوبے کے تحت مارچ 2026 میں کیا گیا تھا۔ بیجنگ نے جدت، ہائی ٹیک صنعتوں اور گھریلو اخراجات کو بڑھانے کی کوششوں میں بھاری سرمایہ کاری کرنے کا بھی عزم کیا تھا۔

حکمراں کمیونسٹ پارٹی ملک کی معیشت کو نئی شکل دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ جو کمزور کھپت، کم ہوتی آبادی اور طویل عرصے سے پراپرٹی سمیت دیگر متعدد مسائل سے نبرد آزما ہے۔

بیرون ملک سے، چین کو بھی ایران جنگ اور عالمی تجارتی تناؤ، بشمول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں کی وجہ سے توانائی کے بحران کا سامنا ہے۔

چین کو اس وقت اپنی زیادہ تر اشیا پر 10 فیصد اضافی امریکی ٹیرف کا سامنا ہے۔ تاہم، امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے منگل کو کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے بہت سے درآمدی ٹیکسوں کو ختم کرنے سے پہلے جولائی کے آغاز تک لیویز کو اپنی جگہ پر بحال کیا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی ملاقات مئی میں چین میں متوقع ہے۔

کیا چین کی ’سست‘ معیشت ’ایک ٹائم بم‘ کی طرح پھٹ سکتی ہے؟کیا انڈیا چین کو پیچھے چھوڑ کر عالمی سُپر پاور بن سکتا ہے؟سستے تیل اور گیس کا دور ختم: ’تاریخ کا سب سے بڑا توانائی بحران‘ ایران جنگ ختم ہونے کے بعد طویل عرصے تک جاری رہے گا امریکہ کی جانب سے ایران کی ناکہ بندی: آبنائے ہرمز پر کنٹرول کس کا ہے اور بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

منگل کو چین نے مارچ 2026 میں ہونے والی برآمدات کے اعداد و شمار شائع کیے ہیں، جس میں شرح نمو میں سست روی دیکھی گئی، کیونکہ ایران تنازع کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اور صارفین کی قوتِ خرید کم ہوئی ہے۔

کسٹمز کی جنرل ایڈمنسٹریشن کی طرف سے منگل کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، چینی برآمدات گذشتہ سال کے اِسی دورانیے کے مقابلے میں 2.5 فیصد کم ہوئی۔

یہ چھ ماہ کے دوران ہونے والی سب سے بڑی کمی ہے۔ اسی سال جنوری اور فروری میں برآمدات گذشتہ برس کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ تھیں۔

اس شرح میں اضافہ الیکٹرونکس اور تیار مال کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے ہوا تھا۔

چین ہر سال کے پہلے دو مہینوں کے تجارتی اعداد و شمار کو یکجا کرتا ہے تاکہ نئے قمری سال کی تعطیلات کے دوران اُتار چڑھاؤ پر نظر رکھی جائے۔ یہ تعطیلات ہر سال مختلف تاریخوں میں آتی ہیں۔

کسٹمز کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں چین کی درآمدات میں بھی تقریباً 28 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے درآمدات کے مقابلے میں برآمدات کا فرق 50 ارب ڈالر رہ گیا ہے جو ایک سال کے دوران سب سے کم ہے۔

آسٹریلوی نیشنل یونیورسٹی میں معاشیات کے لیکچرر ایشاؤ چاؤ کہتے ہیں کہ درآمدات کے اخراجات میں اضافے کی وجہ عالمی سطح پر لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

Getty Images

اُن کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے بحری جہازوں کو ایران کی جانب سے دی گئی دھمکیوں نے خام تیل کے ساتھ ساتھ پلاسٹک جیسے مواد کی قیمتیں بھی بڑھا دی ہیں۔

چین خلیج سے تیل پر دیگر بڑی ایشیائی معیشتوں، جیسا کہ جاپان اور جنوبی کوریا کے مقابلے میں کم انحصار کرتا ہے، جو بحران سے شدید متاثر ہوئی ہیں۔

لیکن ملک میں پیٹرول مزید مہنگا ہوتا جا رہا ہے، جبکہ کچھ چینی ایئر لائنز نے جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پروازوں میں کمی کر دی ہے۔

چاؤ نے مزید کہا کہ جنگ کی وجہ سے صارفین کی قوت خرید پر مزید اثر پڑا تو اس کا لامحالہ اثر چین کی برآمدات پر بھی پڑ سکتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ برآمدات میں اضافے کا تعلق چین کے تجارتی شراکت داروں کی معیشت سے جڑا ہے۔ مسلسل اتنی تیز رفتاری ترقی کا حصول بہت مشکل ہے۔

دنیا کے کسی بھی دوسرے خطے کے مقابلے میں خلیجِ فارس میں اتنا زیادہ تیل اور گیس کیوں موجود ہے؟ایران - امریکہ، اسرائیل جنگ میں آبنائے ہرمز اتنی اہم کیوں ثابت ہو رہی ہے؟دبئی میں سیاحت کی صنعت پر جنگ کے اثرات اور ملازمت پیشہ تارکینِ وطن کی مشکلات’اربوں کی سرمایہ کاری چند ہزار ڈالرز کے ڈرونز کی مار:‘ ایران جنگ کے معاشی اثرات جھیلتے خلیجی ممالک کے پاس آگے کیا راستہ ہے؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More