Getty Images
امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق ایک 21 سالہ پاکستانی شہری نے دہشت گردی کی کوشش پر اعتراف جرم کیا ہے۔
امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اعتراف جرم کرنے والے پاکستانی شہری کا نام محمد شاہزیب خان ہے اور وہ ’شاہزیب جدون‘ کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔
ان پر الزام تھا کہ انھوں نے امریکہ میں داخل ہونے اور نیویارک کے علاقے بروکلین میں واقع ایک نمایاں یہودی مرکز میں خودکار ہتھیاروں کے ذریعے فائرنگ کرنے کی منصوبہ بندی کی۔
امریکی محکمۂ انصاف کی پریس ریلیز کے مطابق محمد شاہزیب خان نے آٹھ اپریل کو امریکی ڈسٹرکٹ جج پال جی گارڈیفی کے سامنے اعتراف جرم کیا اور انھیں 12 اگست 2026 کو سزا سنائی جائے گی۔
فرد جرم میں عائد الزامات اور دیگر عوامی عدالتی دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ محمد شاہزیب خان کی گرفتاری کیسے ممکن ہوئی۔
دستاویزات کے مطابق شاہزیب خان ایک پاکستانی شہری تھے اور کینیڈا میں مقیم تھے۔ امریکی محکمہ انصاف کا دعویٰ ہے کہ نومبر 2023 کے آس پاس انھوں نے سوشل میڈیا پر داعش کی حمایت میں پوسٹس کرنا اور دیگر افراد سے رابطہ کرنا شروع کیا۔ وہ داعش کی پروپیگنڈا ویڈیوز اور لٹریچر بھی پوسٹ کیا کرتے۔
’بعد ازاں داعش کی حمایت میں شاہزیب خان نے امریکہ میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی شروع کی۔ انھوں نے اپنے منصوبوں کا ذکر دو ایسے افراد سے کیا جو امریکی اداروں کے خفیہ اہلکار تھے۔ شاہزیب نے انھیں بتایا کہ وہ اور امریکہ میں موجود ان کے ایک ساتھی امریکہ کے ایک مخصوص شہر میں اے آر طرز کی رائفلوں سے اسرائیل سے تعلق رکھنے والے یہودیوں پر دہشت گرد حملے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔‘
امریکی محکمہ انصاف کا دعویٰ ہے کہ شاہزیب خان نے اپنا ساتھی سمجھتے ہوئے ان خفیہ اہلکاروں کو رائفلیں، گولہ بارود اور دیگر سامان حاصل کرنے کی ہدایت کی۔ ’انھوں نے ایک شہر کے ان مقامات کی نشان دہی بھی کی جہاں حملے کیے جانے تھے۔ شاہزیب خان نے خفیہ اہلکاروں کو بتایا کہ انھوں نے ایک انسانی سمگلر کی نشاندہی کر لی ہے جو حملے کے لیے انھیں کینیڈا سے امریکا کی سرحد عبور کرانے میں مدد دیں گے۔‘
’اگست 2024 کے آس پاس شاہزیب خان نے فیصلہ کیا کہ ان کی کارروائی کا ہدف نیو یارک ہو گا۔ خفیہ اہلکاروں کو انھوں نے بتایا کہ وہ نیو یارک کے علاقے بروکلین میں یہودی عبادت کے ایک نمایاں مرکز کو نشانہ بنائیں گے۔‘
امریکی محکمہ انصاف کا دعویٰ ہے کہ شاہزیب خان نے بتایا کہ وہ یہ حملہ سات اکتوبر 2024 کو کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ ایک سال پہلے اسی روز حماس نے بھی اسرائیل پر حملہ کیا تھا۔
دستاویزات کے مطابق شاہزیب خان نے خفیہ اہلکاروں کو بتایا کہ ’یہویوں کو نشانہ بنانے کے لیے نیو یاک موزوں ترین مقام ہے کیوں کہ امریکہ میں یہویوں کی سب سے زیادہ آبادی اسی شہر میں ہے۔‘
انھوں نے کہا: ’اگر ہم نے کسی تقریب پر حملہ نہ بھی کیا تب بھی آسانی سے یہودیوں کی بڑی تعداد کو نشانہ بنا لیں گے۔‘
استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے پر حملہ کرنے والے کون تھے؟انتہائی مطلوب سیریل کلر اور بلا کا ذہین ریاضی دان جو 18 سال بعد اپنی ہی غلطی سے پکڑا گیابااثر نجومی کی درجنوں سیکس ویڈیوز وائرل، ریپ کے آٹھ مقدمات درج: ’خود کو بھگوان کا روپ کہتے، خواتین کو دھمکاتے کہ اگر سیکس نہیں کیا تو شادی ٹوٹ جائے گی‘محبت کی شادی کے لیے اپنے پولیس اہلکار باپ کو مبینہ طور پر قتل کرنے والی لیڈی کانسٹیبل شوہر سمیت گرفتار
امریکی محکمہ انصاف کا دعویٰ ہے کہ پھر انھوں نے خفیہ اہلکاروں کو اس مخصوص بند حصے کی ایک تصویر بھی بھیجی جہاں وہ حملہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ ’بعد کے دنوں میں وہ مطالبہ کرتے رہے کہ اے آر رائفلیں اور حملے کے لیے درکار دیگر سامان حاصل کیا جائے، اور شکاری چاقو بھی، تاکہ ’ان کے گلے کاٹے جا سکیں۔‘
عدالتی دستاویزات کے مطابق شاہزیب خان نے خفیہ اہلکاروں سے گفتگو میں بار بار اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ داعش کی حمایت میں یہ کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔ ایک گفتگو میں انھوں نے کہا: ’اگر ہم اپنے منصوبے میں کامیاب ہو گئے تو یہ نائن الیون کے بعد امریکی سر زمین پر سب سے بڑا حملہ ہو گا۔‘
چار ستمبر 2024 کے آس پاس شاہزیب خان نے ایک انسانی سمگلر کی مدد سے کینیڈا امریکہ سرحد تک پہنچنے کی کوشش کی۔ وہ کینیڈا میں ٹورنٹو کے قریب سے ہوتے ہوئے امریکہ کی طرف گئے۔ تاہم امریکہ کینیڈا سرحد سے تقریباً 12 میل دور، کینیڈا میں اورمزٹاؤن کے مقام پر انھیں روک لیا گیا۔
21 سالہ شاہزیب خان نے سرحد پار دہشت گردی کی کوشش کا الزام قبول کر لیا ہے۔ اس الزام کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔ تاہم سزا کا حتمی فیصلہ جج ہی کریں گے۔
نیویارک کے جنوبی ضلع کے امریکی اٹارنی جے کلیٹن نے کہا کہ ’ایف بی آئی اور نیو یارک جوائنٹ ٹیررازم ٹاسک فورس کی بر وقت کارروائی کے باعث اس منصوبے کو شاہزیب کے امریکہ پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا گیا۔‘
ایف بی آئی کے انسداد دہشت گردی ڈویژن کے قائم مقام اسسٹنٹ ڈائریکٹر کولٹ مارکوفسکی نے کہا کہ ’اعتراف جرم کے بعد اب محمد شاہزیب خان کو نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘
ٹرمپ کے قتل کا منصوبہ اور گرفتار پاکستانی شہری کی عدالت میں پیشی: ’میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا‘وہ قاتل جسے امید تھی کہ یوٹیوب لائیو کا بہانہ اسے سزا سے بچا لے گا’روسی ایجنٹ‘ کو حساس معلومات دینے پر وزارتِ دفاعی پیداوار کے چار سول ملازمین کو سزائیں: ’گرفتاری کے وقت چار ہزار ڈالر برآمد ہوئے‘کچے میں ’دہشت کی علامت‘ سمجھے جانے والے ڈاکو کا سرینڈر: ’یہ اندھڑ گینگ کا سب سے سفاک سربراہ تھا‘تفتیش کار ایک اینٹ کی مدد سے کئی سال تک جنسی استحصال کا نشانہ بننے والی لڑکی کو تلاش کرنے میں کیسے کامیاب ہوئے؟