امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں نیوز کانفرنس میں کہا کہ ایران کے اوپر مار گرائے گئے امریکی فضائیہ کے دو اہلکاروں کے ریسکیو آپریشنسے متعلق مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ اس کے لیے سب متفق نہیں تھے اور اس آپریشن کا فیصلہ انھوں نے کیا۔
انھوں نے کہا کہ ’اس طرح کے مشن عموماً انجام نہیں دیے جاتے، لیکن اس میں ’بہترین صلاحیتیں‘ شامل تھیں، اور ’کچھ خوش قسمتی بھی ہمارے ساتھ تھی۔‘
امریکی صدر نے نہ صرف اس آپریشن کو ’تاریخی‘ قرار دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ یہ ثابت کرتا ہے کہ امریکی فوج میں 'ہم کسی امریکی کو پیچھے نہیں چھوڑتے۔'
ڈونلڈ ٹرمپ نے ریسکیو مشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے امریکی مسلح افواج کو یہ حکم دیا تھا کہ پھنسے ہوئے فضائیہ کے اہلکار کو واپس لانے کے لیے جو بھی ضروری ہو، کیا جائے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ اس مشن میں ’غیر معمولی خطرات‘ مول لیے گئے، لیکن کسی بھی ریسکیو اہلکار کو چوٹ نہیں آئی۔
انھوں نے بتایا کہ امریکی فضائی اہلکار کو نکالنے کے لیے کیے گئے ریسکیو مشن میں 155 طیاروں نے حصہ لیا، جن میں چار بمبار، 64 فائٹر جیٹس، 48 ری فیولنگ ٹینکرز، 13 ریسکیو طیارے اور دیگر شامل تھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’بہادر‘ افسر تقریباً 48 گھنٹے تک ایران میں زمین پر گرفتاری سے بچتا رہا۔
انھوں نے بتایا کہ امریکی افواج کو ایران میں کچھ طیارے چھوڑنے پڑے، لیکن یہ طیارے اور ان کے آلات ایران حاصل نے کر پائے اس لیے امریکی فوج نے ان طیاروں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز ریسکیو مشن کرنے کے بارے میں فوج میں ہر کوئی متفق نہیں تھا۔ انھوں نے کہا، ’فوج میں ایسے لوگ بھی تھے جنہوں نے کہا کہ آپ یہ کام نہ کریں اور مزید کہا کہ اس کارروائی میں سینکڑوں لوگ مارے جا سکتے تھے۔‘
ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ میرا فیصلہ تھا۔۔۔ مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ ایک انتہائی خطرناک مشن ہے۔ مجھے بس یہ لگا کہ اس کے لیے خطرہ مول لیا جا سکتا ہے۔‘
کسی بھی فوجی کو میدان جنگ میں پیچھے نہ چھوڑنے کے اصول
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں تباہ ہونے والے لڑاکا طیارے کے عملے کے دوسرے رکن کی بحفاظت واپسی کے بعد فتح کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی زمین پر ڈرامائی اور کامیاب ریسکیو نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ’ہم نے واضح فضائی برتری حاصل کر لی ہے۔‘
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت کا ایران میں امریکہ کے لیے کیا مطلب ہے، اس کی تصویر پیچیدہ ہے۔
اگرچہ بازیابی کا یہ مشن کامیاب تھا، گزشتہ چند دنوں کے واقعات جن میں دو طیاروں کی تباہی اور کم از کم ایک ہیلی کاپٹر پر فائرنگ سے امریکی جہازوں اور فوجیوں کو درپیش خطرات واضح ہوتے ہیں جبکہ کئی ہفتوں سے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایرانی عسکری تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ٹرمپ یہ دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں کہ تہران کے پاس اینٹی ایئر کرافٹ یعنی فضا میں نشانہ بنانے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واشنگٹن کے متعدد ذرائع نے کہا کہ بازیابی کی پیچیدہ کارروائی اور اس کے دوران طیاروں کی تباہی ٹرمپ کو کسی قسم کی زمینی کارروائی سے روک سکتے ہیں جیسا کہ خارگ جزیرے پر قبضے یا ایرانی یورینیئم حاصل کرنے کی کوشش۔
ایسی کوئی بھی ممکنہ کارروائی، جنھیں عسکری منصوبہ سازوں کی جانب سے صدر کو بطور تجاویز پیش کیا گیا ہے، کافی پیچیدہ اور خطرات سے بھرپور ہیں۔
ان خطرات میں ایران کے وہ فضائی دفاعی نظام بھی شامل ہیں، جنھیں ’مین پیڈز‘ کہا جاتا ہے اور نچلی سطح پر اڑنے والے طیاروں کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ ان مین پیڈز کو تباہ کرنا مشکل ہے کیوں کہ یہ موبائل ہوتے ہیں اور انھیں آسانی سے کندھے پر لاد کر فائر کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکی فوجی جنگ زدہ ماحول میں اتر کر ایک ہنگامی فضائی پٹی قائم کرنے میں کامیاب ہوئے اور ایرانیوں کی موجودگی میں طیاروں میں ایندھن بھرنے میں بھی کامیاب رہے۔
اگر امریکی دعووں کو درست مانا جائے تو کئی گھنٹوں تک امریکی فوجی ایرانی زمین پر رہے جس کے دوران دو پھنس جانے والے طیاروں کو خود ہی تباہ کر دیا گیا اور ان کے متبادل بھیجے گئے۔ اس کی وجہ سے ٹرمپ کا حوصلہ بڑھ سکتا ہے اور امریکی انتظامیہ کو یہ مشن اس بات پر قائل کر سکتا ہے کہ ایران میں اہداف کے خلاف زمینی یا سمندری کارروائی کامیاب ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ خود بھی مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں ملے جلے پیغامات دے رہے ہیں۔ اتوار کے دن صحافیوں سے فون پر بات چیت میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا ماننا ہے کہ ایران سے معاہدہ جلد ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے بعد میں سوشل میڈیا پر کہا کہ اگر ایسا نہیں ہوا تو منگل کو ایران میں پاور پلانٹس اور پل نشانہ بنائے جائیں گے۔ دوسری جانب فاکس نیوز سے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایرانی تیل پر قبضہ کر سکتے ہیں تاہم انھوں نے اس بارے میں مذید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
امریکہ اپنے فوجی افسر کو ایران سے نکالنے میں کیسے کامیاب ہوا؟ایران کی فوجی حکمت عملی میں مرکزی کردار نبھاتے شاہد ڈرونز: کیا انڈیا کو بھی ایسے ہی کسی ہتھیار کی ضرورت ہے؟’پاکستان پر بھروسہ نہیں کر سکتے‘: جنگ بندی کے لیے اسلام آباد کی کوششوں پر اسرائیل سے اُٹھتی آوازیںپاکستان کی متحدہ عرب امارات کو ڈپازٹس واپس کرنے کی تصدیق: ’یہ ایک معمول کا لین دین ہے‘
ایران میں انفراسٹرکچر اور توانائی کی تنصیبات کے خلاف وسیع مہم تنازع کو بڑھائے گی جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس کا عام شہریوں پر بہت زیادہ منفی اثر ہو گا اور یہ ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے ضمرے میں آئیں گے۔
ٹرمپ کے ناقدین اسے مایوسی کے طور پر دیکھیں گے کہ امریکہ اب تک آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں ناکام رہا ہے۔ اب تک ٹرمپ کے حامی ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور خود صدر امریکی فوجی کی بازیابی کو عوام اور فوج دونوں کی نظروں میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اس مشن سے انتظامیہ کی جانب سے اس کوشش کا ادراک ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی فوجی کو میدان جنگ میں پیچھے نہ چھوڑنے کے اصول کو کسی بھی صورت میں نہیں ترک کرے گی۔ لیکن چند حامی ایک ایسی جنگ سے پریشان ہیں جس میں امریکی نقصانات بڑھ سکتے ہیں اور جس کا نتیجہ واضح نہیں۔
اسی تناظر میں حالیہ امریکی مشن کی وجہ سے ایران کو ایک بڑی پروپیگینڈا فتح سے ہاتھ دھونا پڑا کیوں کہ اگر ایران کی قید میں امریکی فوجی ہوتے تو یہ سب سے بڑی خبر بن جاتی اور امریکی فتح کے بیانیے کو چوٹ پہنچتی۔
ٹرمپ نے یکم اپریل کو کہا تھا کہ امریکہ وہ حالات پیدا کر چکا ہے جس میں دیگر ممالک آبنائے ہرمز کو استعمال کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس کی حفاظت کریں، اس کو استعمال کریں۔‘
انھوں نے حال ہی میں اس بات کا عندیہ بھی دیا تھا کہ وہ کسی معاہدے کے بغیر بھی ایران کو چھوڑنے کو تیار ہیں۔
تاہم اب ایسا لگتا ہے انھوں نے ایک بار پھر راستہ بدل لیا ہے اور انھیں امید ہے کہ ایران کے اہم انفراسٹرکچر پر تباہ کن حملے ایرانی قیادت کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
امریکہ اپنے فوجی افسر کو ایران سے نکالنے میں کیسے کامیاب ہوا؟ایران میں جہازوں پر میزائل حملے: جب ایک پاکستانی ملاح بستر میں ہلاک جبکہ دوسرا 24 گھنٹے سمندر میں رہنے کے باوجود بچ گیاایران کی فوجی حکمت عملی میں مرکزی کردار نبھاتے شاہد ڈرونز: کیا انڈیا کو بھی ایسے ہی کسی ہتھیار کی ضرورت ہے؟’پاکستان پر بھروسہ نہیں کر سکتے‘: جنگ بندی کے لیے اسلام آباد کی کوششوں پر اسرائیل سے اُٹھتی آوازیںپاکستان کی متحدہ عرب امارات کو ڈپازٹس واپس کرنے کی تصدیق: ’یہ ایک معمول کا لین دین ہے‘