BBC
پاکستان میں صوبہ بلوچستان کی حکومت نے صوبے کے سرحدی اضلاع کے رہائشیوں کے لیے ’راہداری‘ پر ایران آمدورفت کی سہولت کا خاتمہ کرتے ہوئے اس پر مستقبل طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔
سرحدی اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے یکم مارچ کو جاری ہونے والے نوٹیفیکیشنز کے مطابق اب بلوچستان کے سرحدی اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد صرف پاسپورٹ اور ایرانی ویزے پر ہی سرحد عبور کر سکیں گے۔
یاد رہے کہ گذشتہ کئی سال سے جاری راہدری نظام کے تحت آمدورفت کی سہولت کے خاتمے سے متعلق نوٹیفیکیشنز کا اجرا ایسے موقع پر کیا گیا جب ایران کو امریکی و اسرائیلی حملوں کا سامنا ہے۔
تاہم سرکاری حکام نے وضاحت کی ہے کہ اس پابندی کا ایران کے جنگ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اپیکس کمیٹی کا فیصلہ تھا جس پر مرحلہ وار انداز میں عملدرآمد کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا و سیاسی امور شاہد رند کا کہنا ہے کہ راہداری پر پابندی کا ایران کی موجودہ صورتحال سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ فیصلے بہت پہلے اپیکس کمیٹی کی سطح پر کیے گئے تھے جن پر اب عملدرآمد ہو رہا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پہلے افغانستان کے سرحد پر اس کا اطلاق کیا گیا اور اب ایران کے ساتھ سرحد پر ان فیصلوں پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ امن وامان کے حوالے سے ہمارے مسائل جس طرح بڑھ رہے تھے اس لیے اپیکس کمیٹی کے فیصلوں کی روشنی میں یہ طے کیا گیا کہ سرحد پر آمدورفت کو ریگولیٹ کرنا ہو گا، اور پوری دنیا میں جس طرح پاسپورٹ اور ویزے پر آمدورفت کا جو طریقہ کار ہے اسے ہی اپنانا ہو گا۔
BBCگذشتہ 150 سال سے جاری راہدری پر آمدورفت کی سہولت کے خاتمے سے متعلق نوٹیفیکیشنز کا اجرا ایسے موقع پر کیا گیا جب ایران کو امریکی و اسرائیلی حملوں کا سامنا ہے
ضلع چاغی سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی علی رضا رند نے بتایا کہ سرحدی علاقوں کے رہنے والے راہداری کا اجازت نامہ باآسانی ڈپٹی کمشنرز کے آفس سے بنوا سکتے تھے اور اس کی کوئی فیس نہیں تھی۔
یہ راہداری 15 روز کے لیے جاری کی جاتی تھی۔
ایران سے متصل تین اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشنزمیں بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کے محکمہ داخلہ نے ایران کے لیے راہداری پر آمدورفت پر فوری طور پابندی عائد کی ہے ۔
نونٹیفیکشنز میں کہا گیا ہے یکم اپریل سے پاکستان اور ایران کے درمیان راہداری پر آمدورفت کا نظام ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا گیا ہے اور اب ایرانی سرحد پر آمد و رفت صرف اور صرف پاکستانی پاسپورٹ اور ایرانی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ویزے کی بنیاد پر ہی ہو گی۔
نوٹیفیکیشنز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آئندہ پاکستانی شہری راہداری کے حصول کے لیے ڈپٹی کمشنرز کے آفس آنے کی زحمت نہ کریں۔
یاد رہے کہ چاغی سے گوادر تک پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد کی لمبائی 900 کلومیٹر سے زائد ہے اوربلوچستان کے پانچ اضلاع کی سرحدیں ایران سے لگتی ہیں جن میں چاغی ، واشک ، پنجگور، کیچ اور گوادر شامل ہیں۔
ایران کے ساتھ سرحد کا تعین قیام پاکستان سے قبل انگریزوں کے دور میں کیا گیا تھا۔ اس سرحد کا تعین چونکہ ایک انگریز آفیسر گولڈ سمتھ کی سربراہی میں کیا گیا تھا، اسی لیے اسے گولڈ سمتھ لائن بھی کہا جاتا ہے۔
بلوچستان کے سابق چیف سیکریٹری احمد بخش لہڑی سرحدی ضلع چاغی میں طویل عرصے تک ڈپٹی کمشنر تعینات رہے ہیں۔
گزشتہ سال بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا تھا کہ کہ تفتان سے گوادر تک جن علاقوں سے سرحد اب گزرتی ہے قیام پاکستان سے پہلے یہ وہاں نہیں تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان سے قبل جب خان آف قلات کی عملداری تھی تو سرحدی پٹی کئی کلومیٹر ایران کے اندر موجود تھی۔
انھوں نے بتایا کہ سابق فوجی صدر ایوب خان کے دور میں ایران کے ساتھ سرحد کا جب نئے سرے سے تعین کیا گیا تو ماضی میں پاکستان میں شامل تصور کیا جانے والا کئی کلومیٹر علاقہ ایران کے حوالے کر دیا گیا۔
جس طرح افغانستان کے ساتھ ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف پشتون قبائل کے لوگ آباد ہیں اسی طرح ایران کے ساتھ سرحد کی دونوں جانب بلوچ قبائل کے لوگ آباد ہیں اور ان کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں۔
اور ان قبائل کے لوگوں کو ڈپٹی کمشنروں کی جانب سے جاری کی جانے والی راہداری پرمٹس پر ایران آمدورفت کی اجازت ہوتی تھی۔
ایران اور امریکہ اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے مال بردار جہاز کراچی کا رخ کیوں کر رہے ہیں؟کیا حالیہ دنوں میں پاکستان نے افغانستان کے کچھ علاقے پر قبضہ کر لیا ہے؟’یہ خاموش اکثریت تک رسائی کی کوشش ہے‘: بلوچستان میں عید کے اجتماعات سے مسلح افراد کے خطاب کی ’وائرل ویڈیوز‘ کیا ظاہر کرتی ہیں؟پاکستان افغانستان کشیدگی اور ڈیورنڈ لائن کی دوسری جانب پھنسے شہری: ’حکومت چاہے تو یہ چند گھنٹوں میں واپس آ سکتے ہیں‘BBCایران کے ساتھ سرحد کی دونوں جانب بلوچ قبائل کے لوگ آباد ہیں اور ان کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں
احمد بخش لہڑی کے مطابق قیام پاکستان سے قبل ایران کے ساتھ سرحد کی دونوں اطراف آباد قبائل کے لوگوں کو نہ صرف 60 کلومیٹر کی حدود میں اپنے مویشیوں کو چرانے کی اجازت تھی بلکہ وہ اپنی پیداوار کو بھی اس حدود میں ایک دوسرے کے علاقوں میں فروخت کر سکتے تھے۔
انھوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد بھی دونوں اطراف کے لوگوں کے لیے راہداری پر آمد ورفت کی سہولت کے علاوہ دیگر سہولیات کو برقرار رکھا گیا۔
بلوچستان کے سرحدی علاقوں کے لوگوں کے معاش اور روزگار کا انحصار نہ صرف پہلے ایرانی سرحد پر تھا بلکہ موسمیاتی تبدیلوں کے نتیجے میں خشک سالی کے باعث زراعت اور مال مویشی کے متاثر ہونے کی وجہ سے سرحدی علاقوں کے لوگوں کا ایرانی تیل اور خوراکی اشیا پر انحصار پہلے کے مقابلے میں زیادہ بڑھ گیا۔
’اب ہم اپنے رشتہ داروں سے شاید باآسانی نہ مل سکیں‘
ایران کی سرحد کے قریب واقع شہر کپکپار سے تعلق رکھنے والے عبدالمجید کپکپاری ان ہزاروں افراد میں شامل ہیں جو ایران کے سرحدی علاقوں میں مقیم اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے ماضی میں راہداری کی سہولت سے مستفید ہوتے رہے ہیں۔
انھوں نے راہداری پر پابندی کے فیصلے کو مقامی افراد کے لیے ’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’پہلے سرحدی علاقوں کے لوگ راہداری پر ایک دوسرے کی خوشی اور غمی کے موقع پر آسانی کے ساتھ مل سکتے تھے مگر شاید اب یہ اتنا آسان نہ رہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’حکومت کی جانب سے پہلے ہی عائد کردہ پابندیوں کی وجہ سے کپکپار اور دیگر سرحدی علاقوں کے لوگ اپنے معاش اور روزگار سے محروم ہو رہے تھے مگر اب راہداری پر پابندی کی وجہ سے وہ آسانی کے ساتھ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ بھی نہیں مل سکیں گے۔‘
سردار جلیل محمدانی کا تعلق ضلع چاغی کے سرحدی شہر تفتان سے ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اُن کے قبیلے کے آدھے لوگ زاہدان اور ایران کے دیگر علاقوں میں مقیم ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’راہداری کے خاتمے سے سرحدی علاقوں کے لوگ ایک مشکل سے دوچار ہوں گے، اس لیے ہماری خواہش اور اپیل یہی ہے کہ حکومت اس کو ختم نہ کرے۔‘
تفتان سے تعلق رکھنے والے رفیق ساسولی بھی مقامی تجارت اور کاروبار کی غرض راہداری پر ایران کا سفر کرتے رہے ہیں۔
BBCسرحدی علاقوں کے لوگوں کا ایرانی تیل اور خوراکی اشیا پر انحصار پہلے کے مقابلے میں زیادہ بڑھ چکا ہے
انھوں نے بتایا کہ اب راہداری کی سہولت کے خاتمے سے نہ صرف ان کو کاروبار کے حوالے سے مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ ملنا بھی آسان نہیں رہے گا۔
حکومت بلوچستان کے ایک سابق سینیئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ قیام پاکستان کے بعد سے 1965 میں سرحدی لوگوں کے حوالے سے جو معاہدہ ہوا تھا اس میں ضلعی حکام کی جانب سے راہداری کا اجراء بھی شامل تھا۔
انھوں نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت راہداری پر پاکستان کے سرحدی علاقوں کے شہری 60 کلومیٹر تک ایران کے اندر تک جا سکتے تھے جبکہ ایران کے لوگ سرحد سے 60 کلومیٹر تک پاکستان میں آسکتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں زیادہ لوگوں کو راہداری دی جاتی تھی لیکن گزشتہ چند سال سے وفاقی حکام نے اسے صرف سرحد کے قریب لوگوں تک محدود کیا تھا جس کی وجہ سے ان کی تعداد کم ہوگئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ راہداری پر جس شخص نے جانا ہوتا تھا وہ ڈپٹی کمشنر کے پاس دو ضامنوں کے ساتھ آتا تھا جس پر ڈپٹی کمشنر ان کو 15 دن کے لیے راہداری دیتا تھا۔
سینیئر سرکاری اہلکار نے بتایا کہ ایک فرد کو عام طور پر 6 ماہ کے لیے ایک راہداری دی جاتی تھی تاہم ایمرجنسی کی صورت میں تین ماہ کے لیے بھی ایک راہداری دی جاتی تھی۔
انھوں نے کہا کہ اب پاسپورٹ اور ویزاکے حوالے سے بھی لوگوں کو زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ان کے اجرا کے لیے سرحد پر 6 پوائنٹ قائم کیے جارہے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا جو اضلاع سرحد پر ہیں ان کے ہیڈکوارٹرز سرحد سے بہت زیادہ دور ہیں جس کے باعث پہلے لوگوں کو راہداری کے لیے ضلعی ہیڈ کوارٹر آنا پڑتا تھا اور پھر وہاں سے ایران جانا پڑتا تھا ۔
انھوں نے بتایا کہ اب تو سرحد پر ہی پاسپورٹ اور ویزا کی سہولت ہوگی اور پاسپورٹ اور ویزا کے حوالےسے بھی زیادہ سے زیادہ سہولیات زیر غور ہیں۔
بلوچستان میں بدامنی اور شورش جس کی پیش گوئی نواب اکبر بگٹی نے اپنی ہلاکت سے قبل کر دی تھیبلوچستان میں لیویز کا پولیس میں انضمام: پولیسنگ کا 140 سال پرانا قبائلی نظام کیوں ختم کیا جا رہا ہے؟کالعدم تنظیم بی ایل اے کے سربراہ بشیر زیب کون ہیں؟39 نام، 136 کروڑ روپے سے زیادہ کی انعامی رقم اور بیرون ملک موجود شخصیات: حکومتِ بلوچستان کو مطلوب افراد کی فہرست جس میں ایک اہم نام شامل نہیںآبنائے باب المندب: 36 کلومیٹر چوڑے مگر مصروف ترین تجارتی راستے کی ممکنہ بندش دنیا کو کیسے متاثر کرے گی؟کیا حالیہ دنوں میں پاکستان نے افغانستان کے کچھ علاقے پر قبضہ کر لیا ہے؟