Getty Images
پاکستان کی حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 137 روپے 23 پیسے اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 184 روپے 49 پیسے کے اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔
جمعرات کو وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے اور ’ٹارگٹڈ سبسڈی‘ کا اعلان کیا۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈیوں میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
حکومت نے ایک مہینے کے عرصے میں دوسری مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ اس سے قبل چار مارچ کو پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55، 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔
خیال رہے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور گیس کی فراہمی میں رکاوٹ آئی ہے اور عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔
اس جنگ کی ابتدا کے بعد اب تک پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں 77 فیصد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 87 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
علی پرویز ملک کا اس تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ حکومت کے پاس ’وسائل محدود ہیں اور جنگ کے اختتام کی کوئی صورتحال نظر نہیں آ رہی۔‘
Getty Images
وزیر پیٹرولیم کا مزید کہنا تھا کہ تیل کی ترسیل بنیادی طور پر آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے اور جن ممالک کے پاس اس کے سٹر یٹیجک ذخائر موجود ہیں وہاں بھی توانائی ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔
سبسڈی کا اعلان
پریس کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’ہمارے پاس محدود وسائل ہیں اور ہم (رعایت دینے کے لیے) ایک حد تک ہی جا سکتے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ تمام فیصلے ملک کی قیادت کی رضامندی سے کیے جا رہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کے خدشات: خوراک اور ادویات کے ساتھ ہر وہ چیز مہنگی ہو جائے گی جس میں بیٹری استعمال ہوتی ہےعالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمت، پاکستان حکومت کی مشکل اور اربوں کی سبسڈی: کیا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید اضافہ ناگزیر ہے؟1970 کی دہائی کا تیل بحران کیا تھا، اور کیا دنیا اس سے بھی بڑے بحران کی طرف بڑھ رہی ہے؟آبنائے باب المندب: 36 کلومیٹر چوڑے مگر مصروف ترین تجارتی راستے کی ممکنہ بندش دنیا کو کیسے متاثر کرے گی؟
اس موقع پر انھوں نے ’کمزور طبقوں‘ کے لیے سبسڈی کا اعلان بھی کیا:
اگلے تین ماہ تک ہر مہینے 20 لیٹر پیٹرول پر موٹرسائیکل کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گیانٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر بھی فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دی جائےمسافر بسوں کو ایک لاکھ روپے مہینہ سبسڈی دی جائے گیٹرک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو فیول پر 70 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دی جائے گیریلوے کے لیے حکومت سبسڈی دے گی تاکہ کرایوں پر قابو پایا جا سکے
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ان معاملات کا ہر ہفتے جائزہ لیا جائے گا اور تمام فیصلوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا۔
گذشتہ ہفتوں میں حکومت کی طرف سے دیا گیا ریلیف
آبنائے ہرمز وہ آبی گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا میں ترسیل ہونے والے خام تیل کا 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسی صورتحال کے باعث دنیا کے کئی ممالک کو تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے اور پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے۔
پاکستان میں حکومت نے گذشتہ دو ہفتوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں پہلے ہفتے تقریباً 69 ارب اور دوسرے ہفتے تقریباً 56 ارب روپے کا ریلیف دیا تھا۔
آئی ایم ایف کے پروگرام میں رہتے ہوئے پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنا اخراجات کو کم رکھے، سبسڈی نہ دے تاکہ مالیاتی خسارے میں اضافہ نہ ہو۔
Getty Images
گذشتہ ہفتے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے مشیر خزانہ خرم شہزاد نے کہا تھا کہ ’حکومت نے مختلف اقدامات بشمول کفایت شعاری، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کمی اور پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں کمی کے لیے ریموٹ یا گھروں سے کام کرنے جیسے فیصلوں کا اعلان کیا اور اس بچت سے عوام کو ریلیف دیا۔‘
عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہے جبکہ پاکستان نے رواں مالی سال کے بجٹ اہداف میں خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل کے مطابق رکھی تھی۔
کیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں صرف پاکستان میں بڑھ رہی ہیں؟
آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے سبب صرف پاکستان ہی متاثر نہیں ہو رہا، بلکہ دنیا کے متعدد ممالک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے، بلکہ وہاں پیٹرولیم مصنوعات کی بچت کے لیے متعدد اقدامات بھی لیے گئے ہیں۔
چین: سرکاری خبر ساں ادارے چائنا ڈیلی کے مطابق ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے تقریباً دو ہفتوں بعد بیجنگ نے پیٹرول کی فی ٹن قیمت میں 695 یوان اور ڈیزل کی فی ٹن قیمت میں 670 یوان کا اضافہ کیا تھا۔
آسٹریلیا: مشرق وسطی میں تنازع کے سبب آسٹریلیا میں بھی پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا تھا۔ ملک میں 22 مارچ کو فی لیٹر پیٹرول کی قیمت بڑھ کر دو اعشاریہ 38 آسٹریلین ڈالر ہو گئی تھی، جو اس سے قبل دو اعشاریہ 09 آسٹریلین ڈالر تھی۔
مصر: دیگر ممالک کی طرح مصر بھی مشرق وسطی میں جاری جنگ سے متاثر ہوا ہے۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور عوامی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ملک کے وزیر اعظم کے مطابق جنوری کے مقابلے میں ان کا پیٹرول بل مارچ میں دو گنا سے بھی زیادہ بڑھ کر ڈھائی ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔
فلپائن: جنوبی مشرقی ایشیا کا ملک اپنی ضرورت کا 98 فیصد تیل خلیجی خطے سے منگواتا ہے اور اس تنازع کے سبب ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں دو گنا سے بھی زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔
سری لنکا: دنیا بھر میں پیٹرول کی قیمتوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ 'گلوبل پیٹرول پرائسز' کے مطابق 30 مارچ تک ملک میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 455 سری لنکن روپے تک پہنچ گئی تھی، جو ایک مہینے پہلے 340 سری لنکن روپے تھی۔
چھاتہ بردار فوج یا ’ہائی رسک لینڈنگ‘: ایرانی جزیرے خارگ پر قبضے کے لیے امریکہ کیا کر سکتا ہے؟تیل کا بطور ہتھیار استعمال، تاریخ کا سبق اور ایران جنگ: کیا یہ ٹرمپ کا سویز بحران ہے؟خارگ: چھوٹا سا جزیرہ ایران کے لیے انتہائی اہم کیوں؟خارگ: ایرانی جزیرہ جس پر ’امریکی قبضے‘ کی خواہش کا اظہار ٹرمپ نے 40 سال قبل کیا تھاایران اور امریکہ اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے مال بردار جہاز کراچی کا رخ کیوں کر رہے ہیں؟ٹرمپ کے اعلان سے چند منٹ پہلے تیل کے تاجروں کی شرطیں، کروڑوں کا منافع اور سوالات