’اسرائیل تہران کا پہلا ہدف نہیں‘: کیا ایران جنگ کی سب سے بڑی قیمت متحدہ عرب امارات چُکا رہا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Mar 27, 2026

ایران جنگ چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے اور واضح ہوتا جا رہا ہے کہ متحدہ عرب امارات تہران کا واضح ہدف ہے۔

ایران نے ہزاروں ڈرونز اور میزائل خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے رُکن ممالک پر داغے ہیں۔

ایران نے ماضی میں دھمکی دی تھی کہ وہ خطے میں امریکہ اڈوں کو ہدف بنائے گا اور اب ایسا لگتا ہے کہ اس کی خاص توجہ متحدہ عرب امارات ہر ہے، جس کے امریکہ اور اسرائیل سے تعلقات مضبوط ہیں۔

ایران اس تنازع کا دائرہ وسیع کر کے فریقین کے لیے اس جنگ کی قیمت کو بڑھانا چاہتا ہے اور اس کی خواہش ہے کہ خلیجی ممالک اپنے اتحادی امریکی پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالیں۔

اس کے جواب میں ابوظہبی نے تہران کے خلاف غیر معمولی سخت لہجہ اختیار کر لیا ہے اور آبنائے ہرمز کے تحفظ کے لیے امریکی قیادت میں کی جانے والی کوششوں میں شامل ہونے کی دھمکی دی ہے، جو اس کے روایتی مصالحت پر مبنی رویے سے ہٹ کر ہے جو مکالمے اور پڑوسیوں سے اچھے تعلقات کو ترجیح دیتا ہے۔

خلیجی ممالک پر ایرانی حملے

خطے کی میڈیا رپورٹس سے اشارہ ملتا ہے کہ جنگ کے پہلے دو ہفتوں میں ایران اسرائیل کے مقابلے میں خلیجی ممالک کو اپنا ہدف بناتا ہوا نظر آیا ہے۔

قطر کے الجزیرہ کے مطابق جنگ کے شروع کے 11 دنوں کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ’اسرائیل تہران کا پہلا ہدف نہیں‘ ہے اور ایران نے ان دنوں میں اسرائیل پر 433 جبکہ عرب ممالک پر 3100 حملے کیے۔

Getty Imagesجبل علے بندرگاہ پر ایرانی حملے کے بعد لی گئی تصویر

علاقائی میڈیا اداروں کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے پہلے تین ہفتوں کے دوران ایرانی حملوں میں سب سے زیادہ نشانہ بنایا جانے والا ملک متحدہ عرب امارات رہا ہے۔

دبئی پبلک پالیسی ریسرچ سینٹر کے سربراہ محمد بہارون نے ابوظہبی میں واقع سکائی نیوز عربیہ ٹی وی کو بتایا کہ ایک قابلِ فہم وضاحت یہ ہے کہ تہران کا ماننا ہے کہ متحدہ عرب امارات ’سب سے آسان شکار‘ ہے۔

بہارون کہتے ہیں کہ ’ایرانی قیادت کا خیال ہے کہ اگر یہ اینٹ (متحدہ عرب امارات) گر جائے تو باقی اینٹیں بھی اس کے پیچھے گرنے لگیں گی۔‘

متحدہ عرب امارات میں کن اہداف کو نشانہ بنایا جا رہا ہے؟

جنگ کے آغاز سے اب تک ایران نے متحدہ عرب امارات میں کئی اہم مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جن میں حبشان گیس فیلڈ، باب فیلڈ، الظفرہ ایئر بیس، فجیرہ بندرگاہ اور تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ شامل ہیں۔

عراق کے شمالی کردستان ریجن کے علاقے اربیل میں موجود اماراتی قونصل خانے کے دفتر پر بھی دو ڈرون حملے کیے گئے تھے۔

ایران کے خاتم الانبیا مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے متحدہ عرب امارات کے گنجان آباد علاقوں کے رہائشیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے ’بندرگاہوں، ڈاکس، اور اماراتی شہروں میں موجود امریکی ٹھکانوں‘ سے دور رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کو یہ ’جائز حق‘ حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے امارات میں موجود امریکی میزائل لانچ سائٹس کو نشانہ بنائے۔

پاکستان کی ثالثی میں امریکہ کی ایران سے بالواسطہ بات چیت: کیا اسلام آباد امن معاہدہ کروا سکے گا؟امریکہ اور ایران ایک دوسرے سے کیا چاہتے ہیں اور کون سے مطالبے تسلیم کیے جا سکتے ہیں؟امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے امکان نے نیتن یاہو کو مشکل میں ڈال دیاجنگ کے دوران ایران کی حمایت میں عربی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کیوں بڑھتے جا رہے ہیں؟

ایران کا الزام ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ایرانی اہداف پر حملوں کے لیے اپنی سزمین کے استعمال کی اجازت دی، جن میں خَرگ جزیرے اور ابوموسیٰ پر راس الخیمہ سے کیے گئے حملے بھی شامل ہیں۔

تاہم متحدہ عرب امارات نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

حملوں کے متحدہ عرب امارات کی معیشت پر اثرات

متحدہ عرب امارات نے طویل عرصے سے خود کو اس خطے میں معاشی سرگرمیوں کا مرکز بنا کر پیش کیا ہے، لیکن اس جنگ کے سبب اس پر منفی اثرات پڑے ہیں۔

ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے لاحق فوری سکیورٹی خطرات کے علاوہ متحدہ عرب امارات کا مرکزی سٹاک انڈیکس اے ڈی ایکس جنرل خلیجی منڈیوں میں سب سے زیادہ نقصان ریکارڈ کر رہا ہے، جو گزشتہ ماہ کے دوران 11.42 فیصد گر چکا ہے جیسا کہ 23 مارچ کے ٹریڈنگ اکنامکس کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے۔

سیاحت اور ہوا بازی کے شعبوں کو بھی فضائی حدود کی بندش اور پروازوں کی بڑے پیمانے پر منسوخی کے باعث شدید نقصان پہنچا ہے۔

آٹھ مارچ کو عراق کے ’الغد پریس‘ نے بتایا کہ جنگ کے پہلے ہفتے میں خلیجی ممالک کے چھ ہوائی اڈوں کو 399 ملین ڈالر کا نقصان ہوا، جن میں امارات کا حصہ تقریباً 95 ملین ڈالر تھا۔

Getty Imagesمتحدہ عرب امارات نے طویل عرصے سے خود کو اس خطے میں معاشی سرگرمیوں کا مرکز بنا کر پیش کیا ہے

اس جنگ سے توانائی کا شعبہ بھی متاثر ہوا ہے۔ روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث متحدہ عرب امارات کی یومیہ تیل کی پیداوار نصف سے بھی زیادہ کم ہو گئی ہے۔

مشرقی یمن پر زیادہ توجہ دینے والے متحدہ عرب امارات مخالف ادارے المہریہ ٹی وی نے 11 مارچ کی ایک رپورٹ میں کہا کہ ابوظہبی اس تنازع میں ’سب سے بڑا نقصان اٹھانے والا‘ ہے اور اس کی بین الاقوامی برادری میں ساکھ ’متاثر ہو چکی‘ ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ رویس ریفائنری اور فجیرہ آئل حب پر حملوں کے بعد اس کی تیل پیداوار میں کمی آئی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے اقدامات

اماراتی حکام اور میڈیا نے خطے میں متحدہ عرب امارات کی حیثیت کو بطور ’محفوظ پناہ گاہ‘ برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے عوام کے نام پہلے پیغام میں صدر محمد بن زاید نے شہریوں اور رہائشیوں کو یقین دلایا کہ ’سب ٹھیک ہے‘ اور کہا کہ ملک ابھرتے ہوئے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ’پوری طرح تیار‘ ہے۔

اسی دوران اٹارنی جنرل حماد سیف الشامسی نے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ امارات کے اندر ایرانی حملوں کی تصاویر اور ویڈیوز کو بنانے، شائع کرنے یا پھیلانے سے گریز کریں۔

اس ہدایات کے بعد کئی غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا، جنھوں نے ایرانی حملوں اور اس کے بعد کی صورتحال کی حقیقی یا مسخ شدہ فوٹیج شیئر کی تھی۔ ان پر ایسے الزامات عائد ہیں جن کی سزا کم از کم ایک سال قید اور ایک لاکھ درہم جرمانہ ہے۔

متحدہ عرب امارات اور ایران کے تعلقات پر جنگ کے اثرات

ابوظہبی اور تہران کے درمیان سنہ 2021 میں تعلقات کی بحالی کے آثار دکھائی دینا شروع ہوئے تھے اور یہ عمل مارچ 2023 میں چین کی ثالثی سے ہونے والے اُس معاہدے کے بعد مزید تیز ہو گیا، جس کے تحت ایران اور سعودی عرب کے درمیان معمول کے سفارتی تعلقات بحال ہوئے۔

Getty Imagesدبئی میں ایرانی قونصل خانے کی عمارت کی ایک تصویر

اس برف کا پگھلنا بڑی حد تک متحدہ عرب امارات کے اقتصادی مفادات اور ریاض کے ساتھ خاموش رقابت کے دوران خود کو ایک علاقائی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی خواہش کے سبب تھا۔

تاہم موجودہ جنگ نے متحدہ عرب امارات اور ایران کے تعلقات پر گہرا اثر ڈالا ہے، جس کے نتیجے میں باہمی الزامات اور دھمکیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں متحدہ عرب امارات نے اپنی سرزمین پر ایرانی حملوں کے بعد تہران میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا اور اپنے سفیر اور سفارتی عملے کو واپس بلا لیا۔ ابوظہبی میں ایران کے سفیر رضا امیری کو بھی طلب کیا گیا تاکہ انھیں 'سخت الفاظ میں تحریر کردہ احتجاجی نوٹ' دیا جا سکے۔

خلیجی تعاون کونسل کے بات چیت سے متعلق پیغام کے باوجود کچھ میڈیا رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے ’قریب پہنچ رہے ہیں‘، یہ صورتحال ابوظہبی اور تہران کے درمیان مفاہمت کی امیدوں کو ختم کر سکتی ہے۔

وہ چیز جو خلیجی ممالک کو ایران کے خلاف جوابی کارروائیوں سے روک رہی ہےکیا ایرانی میزائل واقعی لندن، پیرس اور برلن تک پہنچ سکتے ہیں؟ٹرمپ سے ’خائف‘ خلیجی بادشاہتیں: کیا دبئی اور قطر جیسی امیر ریاستوں میں سکیورٹی کا تصور محض سراب تھا؟ایران جنگ پر شرطیں: جب علی خامنہ ای کی ہلاکت کی پیش گوئی سے کچھ افراد نے ہزاروں ڈالر کمائے’تہران وہی کر رہا ہے جس کا اس نے وعدہ کیا‘: ایران مشرق وسطیٰ کے ممالک پر میزائل حملوں سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More