’انھیں روکنا بہت ہی مشکل ہے‘: کلسٹر بموں والے ایرانی میزائلوں سے اسرائیلی پریشان

بی بی سی اردو  |  Mar 19, 2026

Getty Imagesجہاں اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام نے زیادہ تر ایرانی میزائلوں کو روکا ہے وہیں کلسٹر بموں کا معاملہ مختلف ہے

وہ رات کا وقت تھا جب ایک ایرانی کلسٹر بم وسطی اسرائیل میں چھت پھاڑتا ہوا ایک اپارٹمنٹ میں گر کر پھٹا اور نتیجتاً دو اسرائیلی ہلاک ہو گئے۔

اس بم کا راستہ اب بھی راکھ سے ڈھکے ملبے پر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ عمارت کی سب سے اوپر والی منزل پر واقع اپارٹمنٹ کی چھت میں ایک بڑا سوراخ اس بم کے داخلے کی نشانی ہے جب اس نے کنکریٹ کو توڑ کر لوہے کے سریے کو اندر کی طرف موڑ دیا تھا۔

عقبی دیواروں پر چھرّوں سے ہونے والے سوراخ اس دھماکے کی شدت کو ظاہر کر رہے تھے، جس نے اپارٹمنٹ کے سامنے والے حصے کو تباہ کر دیا۔

متاثرہ کمرے کے اندر، معمر افراد کو چلنے پھرنے میں مدد دینے والا ایک فریم راکھ سے ڈھکے فرنیچر اور ملبے کے نیچے الٹا پڑا تھا۔

’ہم نے تین بار شور سنا جو میزائل روکنے کا تھا لیکن چوتھی بار ہمیں معلوم ہو گیا کہ یہ ہمارا گھر ہے۔‘ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سیگل امیر نے بتایا جو متاثرہ اپارٹمنٹ کے پڑوس میں رہتی ہیں اور دھماکے کے وقت اپنے محفوظ کمرے میں پناہ لے رہی تھیں۔

’ایک زبردست دھماکہ ہوا اور اس کی وجہ سے میرے کان میں درد محسوس ہوا۔ پڑوسی ہم سے پانچ میٹر دور رہتے ہیں – ان کا دروازہ اڑ گیا تھا اور ان کا گھر باریک دھول سے بھرا ہوا تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جب بم گرا تو وہ جوڑا پناہ گاہ میں نہیں تھا کیونکہ ان میں سے ایک باآسانی حرکت نہیں کر سکتا تھا۔‘

Getty Imagesاسرائیل میں اب تک 14 افراد براہ راست ایرانی حملوں میں مارے جا چکے ہیں

اسرائیل پر ایران کے میزائل حملوں میں ہلاکتیں کم ہی ہوئی ہیں اور جہاں فضائی دفاعی نظام نے ان میں سے زیادہ تر کو روکا ہے وہیں کلسٹر بموں کا معاملہ مختلف ہے۔ انھیں ناکام بنانا بہت مشکل ہوتا ہے چاہے ان بموں کو لانے والا میزائل مار گرایا بھی جائے۔

جیسے جیسے جنگ آگے بڑھ رہی ہے، ایران نے ان کا استعمال بڑھا دیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل نداو شوشانی نے متاثرہ مقام کے دورے کے دوران کہا ’آپ اس راکٹ کے داخلے کا راستہ دیکھ سکتے ہیں جو ایران سے ایک بڑے میزائل کی صورت میں آیا اور درجنوں ٹکڑوں میں بٹ گیا۔وسطی اسرائیل میں ایسے درجنوں مقامات ہیں جو نشانہ بنے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اسرائیل نے کلسٹر بم لے جانے والے میزائلوں کو روکا لیکن ہر میزائل میں 20 سے 80 گولے تھے، جنھیں روکنا ’بہت مشکل‘ تھا۔

جب ہم وہاں تھے تبھی ایک اور الارم بجا جو کہ آنے والے میزائلوں کی تنبیہ تھی۔

سیگل نے ہمیں اپنے محفوظ کمرے میں بلا لیا۔

’یہ جنگ اب ہمارے خون میں ہے‘: جنگی طیاروں کے شور سے خوفناک خاموشی تک، ایران میں زندگی کی ایک جھلکعلی خامنہ ای ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے باز رکھ رہے تھے، انھیں قتل نہیں کیا جانا چاہیے تھا: جو کینٹایران جنگ کے تناظر میں اُبھرتے نئے عالمی نظام کی ایک جھلک، جہاں چند ممالک کو محض ’تفریح کے لیے‘ نشانہ بنایا جا سکتا ہےایرانی میزائل حملے سے تل ابیب میں نقصانات

اسرائیل میں ایرانی میزائلوں سے جانی نقصان نسبتاً کم ہوا ہے۔ اب تک 14 افراد براہ راست حملوں میں مارے جا چکے ہیں، جن میں سے نو جنگ کے ابتدائی دنوں میں بیت شمش میں ایک ہی حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

ایران کے خلاف مشترکہ امریکی-اسرائیلی مہم کے دوران، جو اب تیسرے ہفتے میں ہے، ملک بھر میں فوجی مقامات، تیل کی تنصیبات اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا جا چکا ہے، اور امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (ہرانا) نے منگل کو کہا ہے کہ ایران میں جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 1354 شہری اور 1138 فوجی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے 70 فیصد سے زیادہ بیلسٹک میزائل لانچرز تباہ کر دیے ہیں اور ایران کے اسرائیل پر حملے اب کم ہو رہے ہیں۔

اسرائیل میں ایران کے خلاف جنگ کی حمایت موجود ہے لیکن تنبیہی الارم، جو اسرائیلیوں کو دن رات پناہ گاہوں میں بھیجتے ہیں اور کلسٹر بموں کے بڑھتے ہوئے استعمال نے اس جنگ سے تھکی ہوئی آبادی میں سے کچھ لوگوں کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے کہ یہ کب اور کیسے ختم ہوگی۔

Getty Imagesاسرائیل میں ایرانی میزائلوں سے اب تک 14 افراد مارے جا چکے ہیں

سیگل کہتی ہیں کہ ’سچ کہوں تو، گزرتے دنوں کے ساتھ میری امید کچھ کم ہو رہی ہے۔‘

’مجھے لگتا ہے کہ اس کا کوئی اختتام نہیں، کوئی سمت نہیں، ہم سرنگ کے آخر میں روشنی نہیں دیکھ سکتے۔ ہمیں یہ سب برداشت کرنا ہوگا، لیکن مجھے یقین نہیں کہ کتنا وقت لگے گا، یا اب ہم کہاں جا رہے ہیں۔‘

اس جنگ کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے خطے میں اسرائیل کے دشمنوں کے خلاف طویل جنگ کے اختتام کے طور پر پیش کیا۔

انھوں نے اپنے ملک کی فوجی برتری پر فخر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تنازعے نے مشرق وسطیٰ کو پہلے ہی بدل دیا ہے اور اسرائیل اب نہ صرف ایک علاقائی طاقت بلکہ کچھ لحاظ سے عالمی طاقت بھی ہے۔

لیکن یہ ایک غیر متوازن جنگ ہے اور ایران تیل کی قیمتوں، جانی نقصان اور اپنے خلیجی اتحادیوں کی کمزوری کے حوالے سے امریکی حساسیت پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ اس کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کا خاتمہ ہو سکے۔

اس تنازعے کے لیے اسرائیل کی ممکنہ ٹائم لائن واشنگٹن سے زیادہ طویل سمجھی جاتی ہے۔ وہ ایک دوسرے محاذ پر بھی لڑ رہا ہے یعنی لبنانی گروہ حزب اللہ کے خلاف جو ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد جنگ میں شامل ہوا۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں میں 912 افراد ہلاک جبکہ لاکھوں لبنانی بےگھر ہو چکے ہیں۔

ادھر امریکہ پہلے ہی لبنانی حکومت کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ صورتحال کو بہتر کیا جا سکے۔

نیتن یاہو اس لمحے کو امریکہ کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے ایران کے علاقائی نیٹ ورک پر حقیقی وار کرنے کا سنہری موقع سمجھتے ہیں۔

انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ جنگ دیرپا تبدیلی لائے گی لیکن ان کے سپر پاور اتحادی پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور ہر مہلک میزائل حملہ خود ان کے اپنے گھر میں فتح کے اعلان کو مشکل بنا رہا ہے۔

ٹرمپ کی مشکل، تہران کی سٹریٹجی اور ’مشرق وسطیٰ کا غصہ‘: اسرائیل کو ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کی جلدی کیوں نہیں؟مسلسل میزائل و ڈرون حملے اور معاشی دباؤ: کیا ایران نے امریکہ و اسرائیل کو طویل جنگ میں پھنسا دیا ہے؟ایران کی جنگی حکمتِ عملی میں پانی کا کردار: کیا یہامریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں ’ایک ہتھیار‘ بن گیا ہے؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More