بمبئی کو آج اگرچہ اب ممبئی کہتے ہیں لیکن اس کی تاریخ کسی بھی شہر کے مقابلے بہت رنگین مانی جاتی ہے۔ یہاں ایک علاقہ ہے جس کا نام بھنڈی بازار ہے اور یہاں اردو کا راج ہے۔
یہاں اردو کے معروف ترین شاعر مرزا غالب کے نام پر ایک روڈ ہے اور یہ وہ مرکزی شاہراہ ہے جو ناگپاڑہ سے بائیکلہ کی سمت جاتی ہے۔ اسی سڑک پر کبھی اردو کے معروف فکشن نگار سعادت حسن منٹو رہا کرتے تھے، وہی منٹو جن کا نام اردو ادب میں محض بطور ایک ادیب نہیں، بلکہ ایک قیامت خیز صداقت کا استعارہ بن چکا ہے۔
منٹو محض اردو ادب میں ہلچل مچانے والے ادیب ہی نہیں تھے، بلکہ ان کے الفاظ نے زبان کی سرحدوں کو عبور کر کے انسان کی باطنی حقیقت کو بے نقاب کیا، ایک تلخ، کاٹ دار اور دل کو چھو لینے والا احساس کہ انسان کس حد تک پستی میں گر سکتا ہے۔
تقسیمِ ہند کا تجربہ سرحدی علاقوں میں بسنے والوں کی زندگیوں سے اس درجہ پیوست ہے کہ کئی نسلیں گزر جانے کے باوجود اس کے اثرات آج بھی قائم ہیں۔
تاہم جو لوگ سرحدی علاقوں سے دور رہے، ان کے لیے منٹو کے الفاظ نے اس اجتماعی سانحے کو ذہن و دل پر نقش کر دیا۔ ان کی تحریریں اس دور اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کی زبان بن گئیں، ایک ایسی ذمہ داری جو آج بھی ادا ہو رہی ہے۔
آخرکار منٹو پاکستان چلے گئے، جہاں انھوں نے آخری سانس لیں، مگر ان کا دل بمبئی میں ہی بسا رہا۔ انھوں نے ایک بار کہا تھا: ’میں چلتا پھرتا، بولتا چالتا بمبئی ہوں۔‘
سنہ 1948 میں اس شہر سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہونے سے قبل بمبئی سے ان کی وابستگی بہت گہری تھی۔
منٹو کا بمبئی: ایڈیلفی چیمبرز
’ایڈیلفی چیمبرز‘ ممبئی میں منٹو کا مسکن تھا۔ ناگپاڑہ میں واقع یہ عمارت بھنڈی بازار سے محض چند سو قدم کے فاصلے پر تھی۔
بھنڈی بازار پر تحقیق کرنے والے زبیر اعظمی بتاتے ہیں: ’ابتدا میں وہ کماٹھی پورہ کے قریب ایک عمارت میں مقیم تھے، اس کے بعد وہ بھنڈی بازار کے پاس اس مکان میں آ بسے۔ تقریباً آٹھ برس تک وہ یہیں رہے۔ عصمت چغتائی، اشوک کمار اور اس دور کی ادبی و فلمی دنیا کی بڑی شخصیات منٹو سے ملنے یہیں آیا کرتی تھیں۔‘
زبیر اعظمی ایک محقق اور دانشور ہیں جو بھنڈی بازار کی ثقافتی تاریخ کے مطالعے اور تحقیق میں مصروف رہے ہیں اور اسے تحریری صورت میں محفوظ کر رہے ہیں۔
جب آپ زبیر اعظمی کے ہمراہ بھنڈی بازار اور اس کے گرد و نواح یعنی ناگپاڑہ، پائیدھونی اور ڈونگری کی سیر کرتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر پُر پیچ گلی کے ساتھ تاریخ کے اوراق ایک ایک کر کے کھلتے چلے جا رہے ہوں۔ کسی صفحے پر منٹو نظر آتے ہیں، تو کسی پر ساحر، کہیں کیفی اعظمی ہیں، تو کہیں جان نثار اختر۔
پیشے کے اعتبار سے زبیر اعظمی وکیل ہیں مگر اردو زبان سے ان کی محبت، قانون کی باریکیوں سے کہیں زیادہ گہری رہی۔ یہی سبب ہے کہ بھنڈی بازار کے ثقافتی اور ادبی ورثے کو محفوظ کرنے کے لیے انھوں نے ’اردو مرکز‘ کی بنیاد رکھی اور اسے پروان چڑھایا۔
بھنڈی بازار: تہذیبوں کا سنگم
"بھنڈی بازار حقیقی معنوں میں مختلف تہذیوں کی آمیزش کا ایک گہوارہ ہے۔ یہاں ہر برادری کے لوگ ایک زمانے سے ساتھ ساتھ رہتے آئے ہیں۔ سب سے پہلے سورتی اور داؤدی بوہرہ یہاں آئے، جنھوں نے اس علاقے کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا۔ بعد ازاں خوجہ اور میمن برادریاں آئیں۔ کونکنی لوگ تو اس سر زمین کے اصل باشندے تھے
مالابار کے لوگ ناگپاڑہ میں آن بسے، جبکہ اتر پردیش سے آنے والوں نے مدن پورہ کو اپنا مسکن بنایا۔ انصاری برادری بھی یہاں آ بسی۔ یوں مختلف پس منظر رکھنے والے لوگوں نے مل کر بھنڈی بازار کو مختلف تہذیبوں کا ایک جیتا جاگتا گلدستہ بنا دیا۔
کیرالہ سٹوری 2 کی نمائش کے دوران سنیما ہال میں حلف لینے کا تنازع: ’سبزی لیں یا بال کٹوائیں، سب ہندوؤں سے کروائیں‘ممبئی کا بھنڈی بازار کیسے بدل رہا ہے؟ بھنڈی بازار: ممبئی کے اردو زبان سے رشتے کا عکاس محلہغیات الدین بلبن: اس غلام کی کہانی جو دلی کا سلطان بنا
زبیر اعظمی بتاتے ہیں کہ ’اگرچہ ان کی مادری زبانیں جدا تھیں، مگر ان سب کی مشترکہ یا رابطے کی زبان اردو تھی جو ان کو ایک لڑی میں جوڑے ہوئے تھی۔‘
اسی باعث بھنڈی بازار ایک مرکز کے طور پر ابھرا۔ ابتدا میں خالص اردو کے لیے، اور بعد میں اردو آمیز ہندی کے لیے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید ہندی-اردو ادب اور ہندوستانی سنیما کو تشکیل دینے والے بےشمار ادیب، شاعر اور فلم ساز کبھی اسی علاقے میں مقیم رہے۔
آج بھی جب آپ ان گلیوں سے گزرتے ہیں یا کسی بزرگ مکین سے بات کرتے ہیں، تو آپ کو اس مخصوص آہنگ اور لفظیات کی بازگشت سنائی دیتی ہے اور وہی لب و لہجہ جو کلاسیکی ہندی فلموں کے مکالموں کی شناخت تھا آپ کو ان سے سننے کو ملتی ہے۔ فضا میں کہیں کہیں گجراتی یا کاٹھیاواڑی بولی کے اجزا بھی تیرتے محسوس ہوتے ہیں۔
بھنڈی بازار: کئی بازاروں کا مجموعہ
سب سے پہلا سوال جو ذہن میں ابھرتا ہے وہ یہ ہے کہ اس علاقے کو ’بھنڈی بازار‘ کیوں کہا جاتا ہے؟ کیا واقعی اس کا تعلق بھنڈی کی سبزی سے ہے؟ یا اس نام کے پس منظر میں کوئی روایت یا حکایت پوشیدہ ہے؟
زبیر اعظمی اس بارے میں بتاتے ہیں: ’سچ تو یہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن کی جانب سے متعین کردہ کوئی باضابطہ حد بندی موجود نہیں جس کے بارے میں کہا جا سکے کہ بھنڈی بازار یہاں سے شروع ہو کر یہاں ختم ہوتا ہے۔ بھنڈی بازار دراصل ایک خیال ہے، ایک ثقافتی ساخت جو گذشتہ ایک دو صدیوں میں تشکیل پائی ہے۔ تاہم، اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ کن علاقوں کو ملا کر بھنڈی بازار کہا جا سکتا ہے، تو میں کرافورڈ مارکیٹ، ابراہیم رحمت اللہ روڈ، بھنڈی بازار جنکشن، جے جے جنکشن، ناگپاڑہ، مدن پورہ، ڈونگری اور مومن پورہ کی طرف اشارہ کروں گا۔ یہ پورا خطہ بنیادی طور پر اردو بولنے والی مسلم آبادی کا مسکن ہے۔‘
نام کی وجہ بیان کرتے ہوئے وہ مزید کہتے ہیں: ’کئی دہائیاں قبل یہاں بھنڈی کے کھیت ہوا کرتے تھے۔ برطانوی دور کے ’بمبئی گزیٹیر‘ میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ غالباً اسی وجہ سے اس علاقے کو بھنڈی بازار کہا جانے لگا۔‘
ایک متبادل نظریے پر گفتگو کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: ’کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہاں ایک بازار لگتا تھا اور اس کے پیچھے بستیاں آباد ہو گئیں یعنی ’بازار کے پیچھے‘ جو بگڑتے بگڑتے ’بھنڈی بازار‘ بن گیا۔ مگر مجھے یہ توجیح زیادہ معتبر محسوس نہیں ہوتی۔ ہاں، ایک اور امکان یہ ہے کہ یہاں کبھی کمہارواڑہ تھا، جہاں مٹی کے برتن بھانڈی بنائے جاتے تھے۔ ممکن ہے ’بھانڈی بازار‘ رفتہ رفتہ ’بھنڈی بازار‘ میں بدل گیا ہو۔‘
بازار، شور اور تاریخ
بھنڈی بازار ممبئی کے سب سے گنجان مسلم اکثریتی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں ہر گلی اپنے آپ میں ایک بازار ہے۔ شالیمار ہوٹل کے سامنے چوڑیوں کا بازار ہے، آگے بڑھیں تو کھجور اور خشک میوہ جات، پھر برتنوں کی دکانیں، اور کہیں ایک پوری گلی صرف عطر فروشوں کے نام ہے۔
اسی علاقے میں واقع مشہور جونا بازار جسے اکثر لوگ چور بازار بھی کہتے ہیں، دراصل شور بازار تھا، کیونکہ ہر جمعہ یہاں لگنے والا بازار غیر معمولی شور سے بھرا ہوتا تھا۔ وقت کے ساتھ لفظ بگڑ گیا اور چور بازار مشہور ہو گیا۔
مٹن روڈ پر پھیلا یہ بازار کسی عجائب گھر سے کم نہیں۔ یہاں آپ کو قدیم فون، ریڈیو، گراموفون، ونائل ریکارڈ، برتن، زیورات اور نہ جانے کیا کیا دیکھنے کو مل جائیں گے۔ دنیا بھر سے آنے والے سیاح، خواہ وہ بمبئی کے بارے میں کچھ نہ جانتے ہوں، اس بازار سے ضرور کچھ نہ کچھ واقفیت رکھتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔
تاریخ کے اوراق میں لپٹا ہوا خطہ
شدید ہجوم اور شور کے باوجود بھنڈی بازار کی ہر گلی میں تاریخ کی کوئی نہ کوئی پرت چھپی ہے۔ کہیں یوں لگتا ہے جیسے وقت ٹھہر گیا ہو اور آپ سو برس پیچھے جا پہنچے ہوں۔ عظیم الشان قدیم عمارتیں، جن کا طرزِ تعمیر آج ناقابلِ تقلید ہے، ماضی کی جھلک دکھاتی ہیں۔
اسی علاقے میں واقع مغل مسجد جسے مسجد ایرانیان بھی کہا جاتا ہے، اسے ایرانی تاجروں نے انیسویں صدی کے اوائل میں تعمیر کروایا تھا۔ اس کا طرزِ تعمیر ہندوستان سے زیادہ مشرقِ وسطیٰ کی یاد دلاتا ہے اور اس کے اندر موجود وسیع حوض باہر کے شور سے بالکل متضاد ایک پرسکون ماحول پیش کرتا ہے۔
جے جے فلائی اوور کے نیچے، بھنڈی بازار جنکشن کے قریب 104 برس پرانی کتابوں کی دکان مکتبہ جامعہ واقع ہے۔ 1922 میں قائم ہونے والی یہ دکان اردو ادب کی دنیا میں ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہاں علی سردار جعفری، مجروح سلطانپوری، کیفی اعظمی جیسے ترقی پسند ادیب و شاعر باقاعدگی سے آیا کرتے تھے۔ یہ دکان ترقی پسند مصنفین کی تحریک کا ایک اہم مرکز بن گئی تھی، جہاں مباحثے ہوتے اور نئے خیالات جنم لیتے تھے۔
بدلتا ہوا بھنڈی بازار
اگرچہ بھنڈی بازار تاریخ، ادب اور تہذیب سے گہرا رشتہ رکھتا ہے، مگر وقت کے ساتھ اس کی صورت بدل رہی ہے۔ کبھی خستہ حال عمارتوں اور بے ہنگم ہجوم کے لیے مشہور یہ علاقہ اب جدید تعمیر و ترقی کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔
سنہ 2008 میں مہاراشٹر حکومت کی کلسٹر دیولپمنٹ پالیسی کے بعد صفی برہانی اپ لفٹمنٹ ٹرسٹ (ایس بی یو ٹی) نے 16.5 ایکڑ پر مشتمل علاقے میں بڑے پیمانے پر بازآبادکاری کا آغاز کیا۔
سنہ 2019 میں پہلے مرحلے میں السعدہ نام سے ایک پروجیکٹ کی تکمیل ہوئی اور 2025 میں 53 منزلہ ’العزز ٹاور‘ میں 1200 سے زائد خاندانوں کو نئے مکانات ملے۔ یہ اسی جگہ پر تعمیر ہوئی، جہاں پہلے کم از کم 23 انتہائی بوسیدہ مکانات تھے۔
اگرچہ یہ تبدیلیاں کئی لحاظ سے مثبت ہیں، مگر ناقدین کے مطابق اس کے نتیجے میں بھنڈی بازار کا وہ پھیلا ہوا افقی وسیع پس منظر، تہذیبی شناخت جس میں اردو بازار، گلیوں کی زندگی اور ثقافتی ہم آہنگی شامل تھی کہیں کھو سی گئی ہے۔
صحافی سعید حامد کہتے ہیں: ’اب ایک ’عمودی‘ بھنڈی بازار ابھر آیا ہے۔ پہلے یہ ایک پھیلا ہوا ثقافتی منظرنامہ تھا، مگر اب اس کی روح بلند و بالا عمارتوں کے سائے میں دبتی جا رہی ہے۔‘
قارون کی دولت اور سزا کا واقعہ ابراہیمی مذاہب میں: وہ شخص جس کے خزانوں کی چابیاں 300 خچروں پر لادی جاتی تھیںلکھنؤ ’ذائقوں کی جنت‘: ٹُنڈے کے گلاوٹی کباب، ادریس کی بریانی اور نیتر رام کی پُوری میں خاص کیا ہےجب افغانستان سے پاکستان پر سکڈ میزائلوں کی بارش ہوئیاکبر کے ’نو رتنوں‘ میں شامل راجہ بیربل جن کی موت کا بدلہ لینے کے لیے ہندوستان کے بادشاہ نے سوات اور باجوڑ فتح کیا’صحرا کا بحری جہاز‘: سعودی عرب نے لاکھوں اونٹوں کو پاسپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟