پہلی مسلم نرس کی کہانی جنھیں پیغمبر اسلام نے سپاہیوں کے برابر مال غنیمت دیا

بی بی سی اردو  |  Mar 13, 2026

ساتویں صدی عیسوی میں منظم طبّی نظام ابھی کہاں تھا۔

ایسے میں کچی اینٹ کی دیواروں اور کھجور کے تنوں اور پتوں کی چھت کی حامل مسجدِ نبوی کے صحن میں لگے ایک سادہ سے خیمے میں ایک خاتون مریضوں کا علاج کرتیں، زخمیوں کے زخم دھوتیں، ان کی مرہم پٹی کرتیں۔ وہ مریضوں سے ایسی شفقت سے پیش آتیں کہ ان کی خدمت صرف علاج تک محدود نہ رہتی بلکہ وہ حوصلہ اور امید بھی بانٹتیں۔

اسلامی روایت میں نرسنگ کی اولین معمار یہ خاتون تھیں، اسلام قبول کرنے والی اولین خواتین میں سے ایک: رُفیدہ الاَسلمیہ۔

مصطفیٰ ایم بودرک، مطلق بی المطیری، فاطمہ ایس السولامی اور ہشام ایم الفیاض کی تحقیق ہے کہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنی اسلم سے تعلق رکھنے والی رُفیدہ کی پیدائش تقریباً 597 عیسوی میں یثِرب کے شہر میں ہوئی۔ بعد میں یثِرب ہی مدینۃ النبی یا مدینہ کے نام سے معروف ہوا جب پیغمبراسلام نے وہاں مکہ سے ہجرت کی۔

’ایپریزنگ رُفیدہ الاَسلمیہ، فرسٹ مسلم نرس اینڈ پائنیرآف اسلامک لرننگ‘ کے عنوان تلے کی گئی اس تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ایک طبیب اور جراح سعد الاسلمی کی بیٹی رُفیدہ نے اپنے والد کی معاون کے طور پر طِب یعنی میڈیسن اور جراحی یعنی سرجری میں عملی مہارتیں حاصل کی تھیں۔

’ان کی نرسنگ کی خدمات کا آغاز عہدِ نبوی میں تقریباً 620 عیسوی میں اس وقت ہوا جب ان کی عمر تقریباً 23 سے 25 سال کے درمیان تھی۔‘

ہمدرد نرس، مؤثر منتظم

رُفیدہ نے مدینہ میں مسجدِ نبوی کے مقام پر ایک خیمہ ہسپتال قائم کیا تھا جہاں بیماروں کا علاج کیا جاتا تھا۔ بعد میں انھوں نے میدانِ جنگ میں زخمی سپاہیوں کے علاج کے لیے ایک خیمہ نما فیلڈ ہسپتال قائم کیا جسے ’خیمۂ رفیدہ‘ کہا جاتا تھا۔ یہ ہسپتال مدینہ میں اس مقام کے قریب قائم کیا گیا تھا جہاں آج صحابی سلمان فارسی کے نام سے منسوب مسجد واقع ہے۔

رُفیدہ الاسلمیہ کے اس خیمے کا ذکر ابن عبدالبر نے ’الاستیعاب‘ میں، ابن الاثیر نے ’اسد الغابہ‘ میں اور ابنِ حجر نے ’الاصابہ‘ میں کیا ہے۔ ابن ِسعد نے ’الطبقات‘ میں خیمے کا تذکرہ تو کیا ہے البتہ اس کا نام رُفیدہ کی بجائے کعبہ بنت سعد الاسلمیہ لکھا ہے۔

Getty Imagesیہ ہسپتال مدینہ میں اس مقام کے قریب قائم کیا گیا تھا جہاں آج صحابی سلمان فارسی کے نام سے منسوب مسجد واقع ہے

’تاریخ البیمارستان فی الإسلام‘ کے مطابق رُفیدہ کا یہ طبی خیمہ اسلام کا پہلا ’بیمارستان‘ یا ایسا موبائل کیئر یونٹ تھا، جسے ایک جگہ سے دوسری جگہ وقت ِضرورت منتقل کیا جا سکتا تھا۔

مورخین کے مطابق خیمے میں پٹیاں، دوائیں، جڑی بوٹیاں اور روئی موجود ہوتی تھی تاکہ بیماروں اور زخمیوں کا علاج کیا جا سکے۔ رُفیدہ خود ان مریضوں کی خدمت کی ذمہ داری اٹھاتیں جو محتاج اور ضرورت مند ہوتے تھے۔

رُفیدہ کی طبی خدمات میں ابتدائی طبی امداد، ہنگامی علاج، شدید زخمیوں کی دیکھ بھال، میدانِ جنگ میں زخمیوں کو الگ خیموں میں قرنطینہ کرنا، بحالی اور طویل مدتی نگہداشت شامل تھی۔

صفائی اور حفظانِ صحت کا خیال رکھتے ہوئے مریضوں کے لیے ایسے ہوادار خیمے قائم کیے جاتے تھے جہاں انھیں سخت صحرائی موسم سے سایہ میسر آتا تھا اور صاف پینے کا پانی ملتا تھا۔

یوں رُفیدہ ایک مہربان اور ہمدرد نرس تھیں اور جنگ کے زمانے میں نہایت مؤثر منتظم کے طور پر سامنے آئیں۔

پہلا نرسنگ سکول اور کوڈ

رُفیدہ الاسلمیہ ایک بااختیار اور دوراندیش خاتون کے طور پر ممتاز ہوئیں۔ انھوں نے دیگر خواتین کو بھی بااختیار بنایا اور انھیں رضاکار نرسوں کے طور پر تربیت دی۔

’ایپریزنگ رُفیدہ الاَسلمیہ‘ کے عنوان سے ہوئی تحقیق کے مطابق رُفیدہ الاسلمیہ نے اپنے والد کے ساتھ کام کرتے ہوئے جو تجربہ حاصل کیا، اس کی بنیاد پر انھوں نے رضاکار خواتین کے لیے ایک عملی طبی تربیتی پروگرام شروع کیا، جس میں مریضوں کی دیکھ بھال کے طریقے سکھائے جاتے تھے۔

لالٹین کی کہانی: جو فاطمی دور سے رمضان کی پہچان بنیقارون کی دولت اور سزا کا واقعہ ابراہیمی مذاہب میں: وہ شخص جس کے خزانوں کی چابیاں 300 خچروں پر لادی جاتی تھیںہاروت اور ماروت: بابل میں اُتارے گئے فرشتوں کا قصہ قرآن، بائبل اور یہودی روایات میں روزے کی حالت میں بھوک اور پیاس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟

’وہ رضاکار نرسوں میں اعتماد پیدا کرتیں اور انھیں نرسنگ کی ضروری مہارتیں سکھاتیں۔ انھوں نے نرسوں کے لیے درکار مادی وسائل منظم طریقے سے مہیا کیے تاکہ مریضوں کی دیکھ بھال مؤثر انداز میں کی جا سکے۔ یہی تربیتی عمل بعد میں ارتقا پاتے ہوئے پہلے باقاعدہ نرسنگ مدرسے کی صورت اختیار کر گیا۔‘

’رُفیدہ الاسلمیہ نے 622 عیسوی میں پہلا باقاعدہ نرسنگ مدرسہ قائم کیا۔ اس ادارے میں پیغمبرِ اسلام کی بعض ازواج اور آپ کی صحابیات کو نرسنگ کی تربیت دی جاتی تھی تاکہ اسلامی جنگوں (623–630 عیسوی) کے دوران وہ آپ اور مسلم فوج کی مدد کر سکیں۔‘

’رُفیدہ الاسلمیہ اپنی مؤثر گفتگو اور ابلاغ کی صلاحیت کے لیے بھی مشہور تھیں۔ یہ مہارت انھوں نے اس وقت حاصل کی جب وہ اپنے والد کے ساتھ بطور طبی معاون مریضوں کے علاج میں شریک ہوتی تھیں۔ اس تجربے نے انھیں مریض اور نظام دونوں پر مرکوز ایک متوازن اندازِ عمل اختیار کرنے میں مدد دی۔‘

تحقیق بتاتی ہے کہ وہ علاج کے بعد مریضوں کی حالت کے جائزے اور مسلسل نگرانی پر بھی زور دیتی تھیں تاکہ علاج درست طریقے سے جاری رہے اور مریض جلد صحت یاب ہو سکیں۔

’ان کی مؤثر ابلاغی صلاحیت احترام، دیانت، سچائی اور خلوص جیسے اوصاف سے نمایاں تھی۔ اسی بنیاد پر رُفیدہ الاسلمیہ نے نرسنگ اخلاقیات کا ابتدائی ضابطہ بھی وضع کیا، جس کے ذریعے انھوں نے رضاکار نرسوں کے لیے پیشہ ورانہ طرزِ عمل کے اصول متعین کیے۔‘

’پیغمبرِ اسلام کی اجازت سے یہ خواتین جنگوں میں لشکر کے پچھلے حصے میں زخمی سپاہیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔‘

روایت کے مطابق پیغمبرِ اسلام رُفیدہ کی مؤثر طبی خدمات سے اتنے متاثر ہوئے کہ بعض زخمی صحابہ کو براہِ راست ان کے پاس بھیجنے کی ہدایت کرتے تھے، خصوصاً بدر، احد، خندق اور خیبر کی جنگوں کے مواقع پر۔

Getty Imagesرُفیدہ الاَسلمیہ کی پیدائش یثرب میں ہوئی تھی، جس کا نام بعد میں مدینہ رکھا گیا

محدث محمد اسماعیل بخاری ، جو امام بخاری کہلاتے ہیں، نے اپنی کتاب ’الادب المفرد‘ میں اور ابن سعد نے ’الطبقات‘ میں محمود بن لبیدکی روایت نقل کی ہے کہ جب سعد بن معاذ کی بازو کی رگ غزوۂ خندق کے دن زخمی ہوئی اور زخم شدید ہو گیا تو انھیں ایک خاتون کے پاس منتقل کیا گیا جنھیں رُفیدہ کہا جاتا تھا اور وہ زخمیوں کا علاج کرتی تھیں۔

’رسول اللہ ان کی عیادت کے لیے تشریف لاتے، ان کا حال پوچھتے اور سعد انھیں اپنی حالت بتاتے تھے۔‘

روایت ہے کہ پیغمبرِ اسلام رُفیدہ اور انصار کی نرسوں کی فراہم کردہ طبی خدمات سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انھوں نے انھیں مالِ غنیمت میں وہی حصہ عطا کیا جو اگلی صفوں میں لڑنے والے سپاہیوں کو دیا جاتا تھا۔ اس کا ذکر واقدی اور ابن عبدالبر نے کیا ہے۔

تحقیق سے علم ہوتا ہے کہ اسی طرح امن کے زمانے میں رُفیدہ الاسلمیہ نے کم عمر لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی اور بیماریوں سے متعلق سماجی مسائل کے حل میں بھی نہایت مفید ثابت ہوئیں۔

’وہ خاص طور پر ضرورت مند بچوں، یتیموں، معذور افراد اور غریب لوگوں کی کمیونٹی سطح پر دیکھ بھال کرتی تھیں۔ یہ عمل نبی کی اس ہدایت کے مطابق تھا، جس میں خواتین کی مسلسل تعلیم کو فروغ دینے کی تاکید کی گئی تھی۔ بعد ازاں وہ ان ہی تربیت یافتہ خواتین کو نرسوں کے طور پر شامل کرتی تھیں۔‘

کمیونٹی نگہداشت

رُفیدہ الاسلمیہ امن کے زمانے میں بھی مختلف مقامات پر مریضوں کو دیکھ بھال فراہم کرتی تھیں اور کمیونٹی تک مسلسل رسائی کے ذریعے مریضوں کی صحت یابی اور مکمل بحالی کو فروغ دیتی تھیں۔

تاریخی حوالوں کے مطابق وہ پہلی شخصیت تھیں جنہوں نے مدینہ کی کمیونٹی میں موبائل طبی یونٹس کے ذریعے کمیونٹی کیئر فراہم کی۔ یہ موبائل یونٹس مقامی لوگوں کی صحت کی ضروریات کے مطابق خدمات مہیا کرتے تھے۔ وہ ریگستان میں شدید گرمی سے بیہوش ہوجانے والوں کی دیکھ بھال بھی کرتی تھیں۔

محمد نہال کی تحقیق ہے کہ رُفیدہ الاسلمیہ نے دنیا کے پہلے پالی ایٹو کیئر نظام کو بھی منظم کیا۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پالی ایٹو کیئر سے مراد ایسا طریقہ ہے جو جان لیوا بیماریوں سے متاثر مریضوں اور ان کے خاندانوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بناتا ہے۔

غوث سیوانی نے لکھا ہے کہ رُفَیْدَه الاسلمیہ تاریخ اسلام میں پہلی خاتون ڈاکٹر، نرس اور سرجن کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

انھوں نے اپنی جائیداد کو طبی فلاح کے لیے استعمال کرتے ہوئے تاریخ میں پہلا ’چیریٹی ہسپتال‘ قائم کیا۔ غزوہ بدر کے بعد بہت سے لوگ جن کے پاس نہ گھر تھا اور نہ پیسہ اور وہ زخمی تھے، انھوں نے مسجد نبوی کے ایک کونے میں نصب رُفیدہ کے خیمے میں اپنا مفت علاج کرایا اور صحت حاصل کی۔

’رُفیدہ اپنے معاونین کے ساتھ مل کر نہ صرف مریضوں کا علاج کرتی تھیں بلکہ ان کے لیے کھانا بھی تیار کرتی تھیں۔ بعد کی جنگوں میں بھی انھوں نے میدان جنگ کے قریب اپنا خیمہ نصب کیا اور زخمیوں کا علاج کیا۔ اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر بغیر کسی رکاوٹ کے وہ دن رات طبی کاموں میں مصروف رہیں۔‘

Getty Images

سنہ 1981 میں پہلی عرب پی ایچ ڈی نرس ڈاکٹر سعاد حسین نے رُفیدہ الاسلمیہ پر اپنی علمی تحقیق شائع کی، جسےجدید دور میں رُفیدہ الاسلمیہ کی خدمات کے دوبارہ تعارف اور قدر شناسی کا نقطۂ آغاز سمجھا جاتا ہے۔

سعاد حسین نے لکھا ہے کہ رُفیدہ نے اپنی زندگی نرسنگ کی ترقی اور بہتری کے لیے وقف کر دی۔ وہ بہتر نرسنگ کی بنیاد کے طور پر نئے اصول اور روایات قائم کرنے میں کامیاب ہوئیں۔

پاکستان اور انڈیا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں نرسنگ اور عمومی تعلیم کے کئی ادارےرُفیدہ الاسلمیہ کے نام پر ہیں۔

اسی طرح یونیورسٹی آف بحرین میں رائل کالج آف سرجنز اِن آئرلینڈ کی جانب سے ہر سال رُفیدہ الاسلمیہ انعام ایسے طلبا کو دیا جاتا ہے جو مریضوں کی دیکھ بھال میں مسلسل اعلیٰ معیار کی نرسنگ خدمات فراہم کرنے میں نمایاں کارکردگی دکھائیں۔

ہابیل اور قابیل: زمین پر ہونے والے پہلے قتل اور کوّے کے زمین کھودنے کا قصہ اسلام اور دیگر مذاہب میں کیسے بیان کیا گیا؟کجھور سے روزہ افطار کرنا ہماری صحت کے لیے مفید کیوں ہے؟حسن بن صباح، قلعہ الموت اور جنت نما باغات میں رہنے والے فدائین: رازوں میں لپٹے نزاری فرقے کے عروج و زوال کی داستان 175 سالہ بہائی مذہب: امامِ غائب کے تصور سے جنم لینے والا ’خاموش عقیدہ‘ جو وحدت مذاہب کا پرچار کرتا ہےمصری ’سال میں دو بار‘ امام حسین کی ولادت کا جشن کیوں مناتے ہیں؟’غلاموں کی بائبل‘: ممکنہ بغاوت کو روکنے کے لیے تیار کردہ وہ متنازع مقدس نسخہ جس کی دنیا میں صرف چار کاپیاں موجود ہیں
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More