AFP via Getty Images
درد سے تڑپتا کوئی مریض جب ہسپتال میں داخل ہوتا ہے تو جس چہرے پر سب سے پہلے نظر پڑتی ہے وہ کسی نرس کا ہی ہوتا ہے۔
کسی ڈاکٹر کے آنے سے پہلے عموماً نرس ہی مرض کی تفصیلات پوچھتی ہیں، نام اور تفصیلات کا اندراج کرتی ہیں، بلڈ پریشر اور بخار چیک کرتی ہیں اور پھر ان تمام معلومات کے ساتھ مریض کو متعلقہ ڈاکٹر کے پاس لے جاتی ہیں۔
یعنی علاج کا پہلا مرحلہ نرس سے ہی شروع ہوتا ہے۔
حالاںکہ طب کی دنیا میں ڈاکٹر کو ہی ہمیشہ مرکزی کردار کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن در حقیقت نظام صحت میں نرس کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ ڈاکٹر کا۔
نرسنگ وہ شعبہ ہے جس کی مانگ پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ پاکستان کے نوجوان اسے اختیار کر کے دنیا کی مانگ بھی پوری کر سکتے ہیں اور اپنے لیے ایک اچھے روزگار کا بندوبست بھی کر سکتے ہیں۔
پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے ایک تحقیق کی گئی جس کا عنوان تھا ’پاکستان کی نرسنگ فورس، برآمدی صلاحیت اور چیلنجز۔‘
اس میں درج ہے کہ ’پاکستان میں 10 ہزار افراد کے لیے صرف پانچ نرسز دستیاب ہیں۔ ملک میں ہر سال محض پانچ ہزار 600 نرسنگ گریجوایٹ تیار ہوتے ہیں۔ یہ تعداد نہ صرف اندرون ملک بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نا کافی ہے بلکہ عالمی سطح پر جو مواقع دستیاب ہیں، ان سے فائدہ اٹھانے کی پاکستان کی صلاحیت کو بھی محدود کرتی ہے۔‘
ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ نرس بننے کے لیے کیا پڑھنا پڑتا ہے، اس تعلیم میں کتنے سال لگتے ہیں، داخلے کی شرائط کیا ہیں، اوسط اخراجات کتنے ہوتے ہیں، اور اس پیشے میں آگے بڑھنے کے مواقع کس حد تک موجود ہیں۔
لیکن پہلے اس سوال کا جواب کہ جب علاج ڈاکٹر کرتے ہیں تو نرس کا آخر کام کیا ہے؟
’نرس ڈاکٹر کا دایاں ہاتھ ہوتی ہیں‘
اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں کام کرنے والی ڈاکٹر افرح ملک کا کہنا ہے کہ صحت کے نظام میں نرس کا کردار کلیدی ہے اور ’انھیں ڈاکٹروں کا دایاں ہاتھ کہا جا سکتا ہے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر افرح نے وضاحت کی کہ نرس کسی مریض کے لیے ڈاکٹر کی جانب سے دی گئی تمام ہدایات اور علاج کے منصوبے پر سختی سے عمل کرتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر کی معاونت بھی کرتے ہیں۔
ڈاکٹر افرح کا کہنا تھا: ’نرس اپنی شفٹ میں کم از کم ایک بار یا ضرورت کے مطابق مریض کی ضروری علامات چیک کرتے ہیں، جیسے کہ بلڈ پریشر، دھڑکن کی رفتار، درجہ حرارت، آکسیجن کی مقدار وغیرہ۔ اگر کوئی بھی علامت خلاف معمول ہو تو وہ ڈاکٹر کو اطلاع کرتے ہیں تاکہ وہ مناسب اقدامات تجویز کر سکے۔‘
لاہور میں پیڈیاٹرک کنسلٹنٹ ڈاکٹر اظہر فاروق بھی نرسز کی اہمیت پر دیگر افراد سے متفق نظر آتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ نرس کے بغیر کوئی بھی ہسپتال مکمل نہیں ہو سکتا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’نرس کا کام محض انجیکشن یا ڈرپ لگانا نہیں بلکہ وہ مریض کے محافظ ہوتے ہیں، مریض کی مسلسل نگہداشت کرتے ہیں، خطرے کی علامات کو پہچانتے ہیں اور مریض اور ڈاکٹر کے درمیان رابطہ رکھتے ہیں۔‘
’کئی دفعہ صرف نرس کے بروقت نوٹس کرنے کی وجہ سے مریض کی جان بچ جاتی ہے۔‘
ڈاکٹر اظہر کا کہنا تھا کہ ’نرسنگ صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ خدمت، قربانی اور انسانیت کا نام ہے۔‘
اب سوال یہ ہے کہ نرس اگر ڈاکٹر کا دایاں ہاتھ ہوتی ہیں تو انھیں طب کے شعبے میں کون کون سے کام آنے چاہییں؟
’ڈاکٹر نہیں لیکن ڈاکٹر سے کم اہم بھی نہیں‘
ڈاکٹر افرح ملک کہتی ہیں کہ ہسپتال کے ہر شعبے میں کام کرنے والے نرس کو اپنے متعلقہ شعبے پر مہارت ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ یا انتہائی نگہداشت یونٹس (آئی سی یو) حساس شعبے ہیں، یہاں کام کرنے والے نرسز میں تیزی سے رد عمل دینے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ ان میں یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ مریض کی حالت بگڑے تو فوراً پچان سکیں اور ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کو اطلاع دیں۔ اگر مریض کے دل کی دھڑکن رک جائے تو پاس موجود نرسنگ سٹاف کو صورتحال پہچان کر سی پی آر (کارڈیوپلمنری ریسسٹیٹیشن / دل کی دھڑکن اور سانس بحال کرنے کا طریقہ) شروع کرنے کا علم ہونا چاہیے۔
اسی طرح آپریشن تھیٹر میں کام کرنے والے نرس سرجن ڈاکٹروں کی معاونت کرتے ہیں۔ ڈاکٹر افرح کے مطابق ’وہ درکار آلات کی ٹرالی تیار کرتے ہیں اور آپریشن میں استعمال ہونے والے گاز پیڈز کی درست تعداد بھی نوٹ کرتے رہتے ہیں تاکہ سرجری کے بعد زخم سینے سے پہلے سرجن تصدیق کر سکے کہ کوئی گاز یا جراحی کا آلہ اندر تو نہیں رہ گیا۔ زخموں کی مرہم پٹی کرنا بھی نرسز کی ذمہ داری ہوتی ہے۔‘
ڈاکٹر افرح بتاتی ہیں کہ مریض کو دی جانے والی ادویات کا دستاویزی ریکارڈ رکھنا بھی نرس کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے۔ نرس کو کسی بھی دوا کے مضر اثرات کا علم ہونا چاہیے۔ انھیں بنیادی طبی طریقۂ کار جیسے کہ کینولا لگانا، پیشاب کی نالی لگانا اور اس نوعیت کے سبھی کام آنے چاہییں۔
ڈاکٹر افرح ملک کا ماننا ہے کہ نرس اگرچہ ڈاکٹر نہیں، لیکن ان کی اہمیت ڈاکٹر سے کم بھی نہیں۔
لیکن اگر کوئی نرس بن جائے تو نوکری ملنے کے کتنے امکانات ہیں؟
Getty Imagesڈاکٹر افرح ملک کا ماننا ہے کہ نرس اگرچہ ڈاکٹر نہیں، لیکن ان کی اہمیت ڈاکٹر سے کم بھی نہیںعالمی سطح پر نرسز کی کتنی مانگ ہے؟
پاکستان کے وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک میں ساڑھے نو لاکھ نرسز کی کمی ہے جبکہ دنیا میں 25 لاکھ نرسز کی مانگ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایسے پاکستانی نرسز کی تعداد صرف چھ ہزار ہے جو ملک سے باہر کام کر رہے ہیں جبکہ انڈیا کے ساڑھے چھ لاکھ نرسز دوسرے ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اس کا یہ مطلب ہے کہ اگر کوئی پاکستانی شہری نرسنگ کی تعلیم حاصل کرتا ہے تو اس کے لیے ملک سے باہر جا کر کام کرنے کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔
پاکستان بزنس کونسل کی تحقیق کے مطابق خلیجی ممالک میں غیر ملکی نرسز کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ قطر میں 99.2 فیصد نرس دوسرے ممالک سے ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں یہ تعداد 98.8 فیصد، لگژمبرگ (یورپ کا ایک ملک) میں 76.9 فیصد، سوئٹزرلینڈ میں 27 فیصد، جرمنی میں 16.9 فیصد، آسٹریلیا میں 41.9 فیصد اور امریکہ میں 16.7 فیصد ہے۔
یوں، نرسز کے لیے بیرون ملک نوکری کے ساتھ ساتھ مستقل رہائش کے امکانات بھی موجود ہیں۔ اور ابھی تو دنیا میں نرسز کی مانگ مزید بڑھنے جا رہی ہے۔
پاکستان بزنس کونسل کی تحقیق میں درج ہے: ’ایک تخمینے کے مطابق سنہ 2023 میں پوری دنیا میں نرسز کی تعداد دو کروڑ 98 لاکھ تھی اور امکان ہے کہ سنہ 2030 تک 41 لاکھ نرسز کی کمی کا سامنا کرنا ہو گا۔‘
کیا پاکستان اس بڑھتی طلب کو پورا کر سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ اس وقت ملک میں معیاری کام کرنے والے نرسز کی زیادہ تعداد موجود نہیں ہے اسی وجہ سے پاکستان اس طلب کو پورا کرنے کے قابل نہیں۔ ان کا کہنا تھا ’معیاری کام کرنے والے نرسز اس وجہ سے نہیں ہیں کہ ملک میں معیاری تعلیم دینے والے ادارے نہیں۔‘
وزیر صحت نے کہا کہ وہ ایسا نظام بنا رہے ہیں جس سے ملک میں معیاری کام کرنے والے نرسز بنیں گے اور ہم دنیا کی طلب پوری کر سکیں گے۔
بڑھتی مانگ کو پورا کرنے کے لیے کوئی شخص نرس بننا چاہے تو اسے کیا کرنا ہو گا؟
نرس کیسے بنا جا سکتا ہے؟
مقدس تسنیم ایک نرس ہیں اور لاہور کے پوسٹ گریجوایٹ کالج آف نرسنگ میں نرسنگ انسٹرکٹر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ نرس بننے کے لیے بی ایس نرسنگ کورس کرنا پڑتا ہے جس کا دورانیہ چار سال ہے۔ اس کے بعد ایک سال کی انٹرن شپ کرنا ہوتی ہے۔ جو مزید پڑھنا چاہے وہ اسی شعبے میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی بھی کر سکتا ہے۔ لیکن بی ایس نرسنگ کے لیے اہل وہی ہے جس نے انٹرمیڈیٹ پری میڈیکل کے مضامین (بائیولوجی، فزکس، کیمسٹری) کے ساتھ کیا ہو۔
مقدس تسنیم کے مطابق ’نرس بننے کے خواہش مند انٹرمیڈیٹ کے بعد متعلقہ تعلیمی اداروں میں چار سالہ کورس کے لیے درخواست دیتے ہیں اور داخلہ نمبروں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یعنی دستیاب نشستیں سب سے زیادہ نمبر لینے والے امیدوار کو ملتی ہیں۔‘
نرسنگ تعلیم کے اخراجات کتنے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں مقدس تسنیم نے بتایا کہ چار سالہ بی ایس کورس کے لیے ہر یونیورسٹی کی فیس مختلف ہے ’تاہم اوسطاً پانچ سے چھ لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔‘
نرسنگ تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری ملنے کے امکانات پر بات کرتے ہوئے مقدس تسنیم نے کہا کہ ’پنجاب حکومت بی ایس نرسنگ کرنے والے کسی بھی امیدوار کو گریڈ 16 میں نوکری دیتی ہے، یوں نوکری ملنے پر کسی نرس کی ابتدائی تنخواہ لگ بھگ 50 ہزار روپے ہوتی ہے۔ جب کہ غیر سرکاری ہسپتالوں میں تنخواہیں مختلف ہوتی ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ بعد کے گریڈز میں ترقی اسی وقت ملتی ہے اگر ان گریڈز کی نشستیں ہوں، ’جیسے پنجاب میں نرسز کے لیے 20 ویں سکیل کی صرف آٹھ نشستیں ہیں۔‘
مقدس تسنیم کا کہنا تھا کہ پاکستان میں نرسز کے لیے ترقی کے مواقع تو ہیں لیکن کم ہیں، تاہم ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ دنیا میں اس شعبے کی مانگ بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔
اسلام آباد میں ایک نجی ہسپتال سے منسلک عاقب لیاقت بھی کہتے ہیں کہ پاکستان میں نرسنگ کے شعبے میں روزگار کی کوئی کمی نہیں ہے۔
عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ نرسنگ عملے میں صرف خواتین شامل ہوتی ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ مرد بھی نرسنگ عملے میں شامل ہو سکتے ہیں۔
عاقب نے بی بی سی اردو کے عبید ملک کو بتایا کہ ’نرسنگ ایک ایسا شعبہ ہے کہ اگر آپ اس سے مخلص ہیں اور جدید صلاحیتیں سیکھ رہے ہیں تو یہ شعبہ آپ کو بیروزگار نہیں بیٹھنے دیتا۔‘
Getty Images
عاقب نے مزید بتایا کہ ’جن جن لوگوں نے نرسنگ کا انتخاب کیا وہ اپنے گھر والوں کی مالی مدد کر رہے ہیں۔‘
عاقب کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے اور وہ روزگار کے لیے اسلام آباد میں مقیم ہیں۔
وہ نرسنگ کو ایک ’زبردست شعبہ‘ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس میں ترقی کے بھی بہت مواقع ہیں لیکن ’اس کا انحصار آپ پر ہے۔ پہلے صرف ڈپلومہ ہوا کرتا تھا، لیکن اب نئے کورسز بھی آ گئے ہیں۔ ماسٹرز اِن نرسنگ کیا جا سکتا ہے اور اس کے بعد سپیشل کورسز کیے جا سکتے ہیں۔ ‘
’اگر آپ یہ سب کرتے ہیں تو آپ کو تجربے کے لحاظ سے ترقی ملتی ہے۔‘
ان کے مطابق سرکاری اور نجی شعبوں دونوں میں ہی نرسز کو اچھے پیکجز ملتے ہیں۔
’اگر آپ پاکستان میں بھی ہیں تو اچھا روزگار کما سکتے ہیں۔‘
پاکستان میں خواتین ڈاکٹرز اور نرسز کو درپیش ہراسانی اور مشکلات: ’سب سے زیادہ خطرہ آپریشن تھیٹر میں ہوتا ہے‘سپر نرس: دس ہزار صحت مند زچگیاں کروانے والی خدیجہ بی بی جنھیں نوزائیدہ بچوں کے رونے کے آواز پسند ہےپنجاب کے ہسپتالوں میں نرسوں اور وارڈ بوائز کو باڈی کیم لگانے پر اعتراض: ’کون ضمانت دے گا کہ یہ ڈیٹا لیک نہیں ہوگا؟‘’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا مجھے میری زندگی واپس ملے گی‘’ایوارڈ وصول کرنے کے لیے خصوصی طور پر پاکستانی لباس سلوایا‘