Getty Images
ٹی 20 ورلڈ کپ کے سپر ایٹ مرحلے کے اہم میچ میں انگلینڈ نے ٹی 20 ورلڈ کپ میں سپر ایٹ مرحلے کے دوسرے میچ میں پاکستان کو شکست دے دی ہے۔ انگلینڈ نے 165 رنز کا ہدف آخری اوور میں حاصل کر لیا۔
انگلینڈ کی اننگز کی خاص بات ہیری بروک کی 51 گیندوں پر سینچری تھی۔ ان کی اس اننگز پر انھیں خوب داد مل رہی ہے۔ انگلینڈ کے سابق کپتان سے لے کر پاکستانی کرکٹرز بھی انھیں سوشل میڈیا پر شاباشی دیتے نظر آئے۔ جب 100 رنز پر شاہین آفریدی نے ہیری بروک کو بولڈ کیا تو پھر انھوں نے جشن نہیں منایا بلکہ سیدھا ان کے پاس گئے اور ان سے ہاتھ ملایا اور انھیں اس اننگز پر داد دی۔
اس میچ میں پاکستان کی طرف سے شاہین آفریدی نے انگلینڈ کے چار کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ عثمان طارق اور محمد نواز نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ رنز صاحبزادہ فرحان نے بنائے جو 45 گیندوں پر 63 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
سری لنکا کے پالیکلے سٹیڈیم میں منگل کو پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جو کہ اننگز کے آغاز میں اچھا فیصلہ نہیں محسوس ہوا۔
Getty Images
صائم ایوب ایک بار پھر کوئی بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے اور اننگز کے تیسرے ہی اوور میں سات رنز بنا کر جوفرا آرچر کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو کر پویلین واپس لوٹ گئے۔ ان کے بعد کپتان سلمان علی آغا کریز پر آئے لیکن وہ بھی مجموعی سکور میں کچھ زیادہ بڑا اضافہ نہیں کر سکے۔
سلمان علی آغا صرف پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور اس طرح 27 رنز کے مجموعی سکور پر پاکستان کی دوسری وکٹ گِر گئی۔
اس کے بعد اوپنر صاحبزادہ فرحان اور بابر اعظم نے ٹیم کو سہارا دینے کی کوشش کی، لیکن اپنے پرستاروں میں ’کنگ‘ کے نام سے مشہور بابر اعظم بھی زیادہ دیر وکٹ پر رُک نہیں سکے اور 24 گیندوں پر 25 رنز بنا کر پویلین واپس لوٹ گئے۔ ان کے علاوہفخر زمان نے 16 گیندوں پر 25، شاداب خان نے 11 گیندوں پر 23، عثمان خان نے پانچ گیندوں پر آٹھ اور شاہین شاہ آفریدی اور سلمان مرزا نے دو، دو رنز بنائے۔
Getty Imagesٹاپ آرڈر پر تنقید
ٹی20 ورلڈ کپ میں پے در پے ناکامیوں کے بعد صائم ایوب، سلمان علی آغا اور بابر اعظم شدید تنقید کی زد میں نظر آ رہے ہیں۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد یوسف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صائم ایوب کی بیٹنگ میں تکنیکی خرابیوں کو اُجا گر کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ غلطیاں اتنے اونچے لیول پر بہت مہنگی ثابت ہوتی ہیں۔‘
Getty Imagesبابر اعظم 24 گیندوں پر 25 رنز بنا کر آوٹ ہوئے
پاکستانی کپتان کے بارے میں انھوں نے لکھا کہ ’سلمان علی آغا کو بیٹنگ آرڈر میں نیچے بیٹنگ کرنی چاہیے جہاں ان کو اپنا نیچرل گیم کھیلنے کا زیادہ وقت ملے گا۔‘
ایک صارف نے طنز و مزاح کا سہارا لیتے ہوئے لکھا کہ ’جن کے گھر صائم ایوب کے ہوتے ہیں انھیں دوسروں کے ابھیشیک شرما پر بات نہیں کرنی چاہیے۔‘
خیال رہے انڈیا کے جارح مزاج اوپنر ابھیشیک شرما بھی ورلڈ کپ میں کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکے ہیں اور انھیں شائقین کی طرف سے تنقید کا سامنا ہے۔
کرکٹ پر گہری نظر رکھنے والے صحافی مظہر ارشد سمجھتے ہیں کہ عادل رشید نے بابر اعظم پر اتنا دباؤ ڈالا کہ وہ اوورٹن کی گیند پر رسک لینے کے چکر میں آؤٹ ہو گئے۔
دوسری جانب سابق پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر فخر زمان کو پانچویں نمبر پر بیٹنگ پر بھیجنے پر ٹیم مینجمنٹ سے نالاں نظر آئے۔
پاور پلے میں کم اوسط سے رنز بنانے پر بھی پاکستانی بیٹرز کو تنقید کا سامنا ہے۔
ہارون رشید نے لکھا کہ ’پاکستان کے ٹاپ آرڈر بیٹرز کو پولیس میں ڈٹیکٹو ہونا چاہیے تھا۔ گیارہ میں سے صرف دو فیلڈر پیچھے فیلڈنگ کر رہے ہیں اور تب بھی بیٹرز انھیں ڈھونڈنے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔‘
تاہم کچھ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ یہ پاکستان کی سب سے اچھی ٹیم ہے۔ انڈین کمنٹیٹر ہرشا بھوگلے لکھتے ہیں کہ ٹورنامنٹ شروع ہونے کے بعد سے سب کچھ پاکستان کے حق میں جا رہا ہے ’شاید انھوں نے اپنی بہترین ٹیم کا انتخاب کر لیا ہے۔‘
Getty Images’پاکستان کے لیے اگر مگر کا کھیل شروع ہو چکا ہے‘
صحافی فیضان لاکھانی نے تبصرہ کیا کہ 'پاکستان کے لیے اگر مگر کا کھیل شروع ہو چکا ہے۔'
سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف نے لکھا کہ ہیری بروک نے کمال کر دکھایا اور انگلینڈ کو سیمی فائنل میں پہنچا دیا ہے۔ کیا شاندار مقابلہ تھا۔ انھوں نے کہا کہ ’پاکستان کا دشوار سفر ابھی جاری ہے۔‘
انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے تبصرہ کیا کہ ہیر بروک کو تیسرے نمبر پر کھیلتے ہوئے دیکھ کر مجھے لگنے لگا ہے کہ یہ ممکن ہے۔ یہ وہ اننگز ہے جو ثابت کرتی ہے کہ انگلینڈ ٹیم میں ہمارے پاس ایک بہترین کھلاڑی موجود ہے۔
کرکٹ مبصر ہرشا بھوگلے نے ہیری بروک کے کھیل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’بلا شبہ یہ ٹی 20ورلڈ کپ کی تاریخ کی عظیم ترین سنچریوں میں سے ایک ہے۔ یہ ہیری بروک کے کریئر میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگی۔‘
پاکستان کے سابق کرکٹر محمد حفیظ نے لکھا کہ تکنیکی غلطیوں نے نہ صرف اس میچ میں بلکہ پورے ٹورنامنٹ میں ہی تعاقب جاری رکھا۔
امرکرک نامی صارف نے لکھا کہ آغا کی ناقص کپتانی اور کھلاڑیوں کے انتخاب میں عجیب فیصلے شاید پاکستان کو سیمی فائنل تک پہنچنے سے محروم کر گئے ہیں۔
شمرون ہیٹمائر کی دھواں دار بیٹنگ، ’ویسٹ انڈیز کا پیغام‘ اور انڈیا کے لیے ’گیم اوور‘ ہونے کا خطرہعمران خان کا سورو گنگولی کو مشورہ، سلیم ملک کی دھمکی اور مشرف کی فون کال’ہمارا انتخاب کون کرتا ہے، کون نہیں یہ ہمارے ہاتھ میں نہیں‘: صاحبزادہ فرحان ’دی ہنڈرڈ‘ کھیلنے کے لیے پُرامید’ہم خاموش نہیں رہ سکتے، آواز اٹھاتے رہیں گے‘: سابق کرکٹ کپتانوں کے خط پر پاکستانی حکومت نے کیا کہا؟انڈیا کو جنوبی افریقہ کے ہاتھوں سپر 8 مرحلے میں 76 رنز سے شکست، کپتان کے فیصلوں پر سوال اور سیمی فائنل تک رسائی کی مشکلٹی 20 ورلڈ کپ: کیا پاکستان اور انڈیا سیمی فائنل اور فائنل میں مدِمقابل آ سکتے ہیں؟