Getty Imagesسورو گنگولی کے مطابق عمران خان کے ایک سادہ سے مشورے نے ان کی سوچ بدل دی
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور سنہ 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے کپتان عمران خان اس وقت جیل میں ہیں، جہاں سے ان کی بینائی شدید متاثر ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
ان خبروں نے بہت سے لوگوں کو پریشان کیا ہے اور کرکٹ کی دنیا میں بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
عمران خان کے لیے جو آوازیں اٹھ رہی ہیں، ان میں کرکٹ ٹیموں کے وہ 14 سابق کپتان بھی شامل ہیں جن میں سے زیادہ تر نے عمران خان کے ساتھ بین الاقوامی کرکٹ کھیلی۔ ان میں آسٹریلیا کے سابق کپتان گریگ چیپل، انڈیا کے سنیل گواسکر اور کپل دیو بھی شامل ہیں۔
سنیل گواسکر اور کپل دیو، دونوں عمران خان کے ساتھ کھیل چکے ہیں اور دونوں کا ہی ان کے ساتھ گہرا تعلق رہا ہے۔ انڈیا کے ایک اور سابق کپتان سورو گنگولی بھی عمران خان کے قریب رہے ہیں۔
اگرچہ گنگولی کرکٹ کے میدان میں کبھی عمران خان کے سامنے نہیں آئے، لیکن ان کے دل میں ہمیشہ عمران خان کے لیے احترام رہا ہے۔ اسی وجہ سے انھوں نے بھی عمران خان کے لیے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
سوشل میڈیا پر سورو گنگولی کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے، جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ انھیں امید ہے جیل میں عمران خان کو بہتر علاج ملے گا۔
گنگولی کا کہنا تھا: ’عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم رہے ہیں اور بطور کپتان انھوں نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو دنیا میں اہم مقام دلوایا۔‘
عمران خان سے ملنے کی خواہشGetty Imagesاپنے کیریئر میں پاکستان کے خلاف سورو گنگولی کی کارکردگی شاندار رہی (فائل فوٹو)
سورو گنگولی اپنی کتاب ’آ سینچری از ناٹ انف‘ (ایک سینچری کافی نہیں) میں عمران خان سے ملاقات کا تفصیل سے ذکر کرتے ہیں اور عمران خان کے اس قیمتی مشورے کا بتاتے ہیں جس نے ان کے کیریئر کا رخ بدل دیا۔
گنگولی اس کتاب میں لکھتے ہیں: ’میں نے عمران خان کو ایڈن گارڈنز میں بولنگ کرتے دیکھا تھا۔ میں ٹی وی پر ان کے میچ بہت دھیان سے دیکھا کرتا تھا، اور نوجوانی میں مجھے ان کے بارے میں جو بھی پڑھنے کو ملتا وہ پڑھتا تھا۔ لیکن عمران خان سے پہلی ملاقات کا موقع مجھے سنہ 1997 میں انڈین ہائی کمشنر کی ایک دعوت کے دوران ملا۔ میں اس موقع پر بہت زیادہ پُر جوش تھا۔‘
یہ اس زمانے کی بات ہے جب سورو گنگولی کو ٹورنٹو سیریز سے باہر کر دیا گیا تھا۔ وہ اس پر بہت اداس تھے اور پھر گیانا ٹیسٹ میچ ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا۔
ویسٹ انڈیز کے دورے میں انھوں نے بارباڈوس کے علاوہ باقی تمام میچوں میں اچھا سکور کیا تھا، لیکن آخری ٹیسٹ میں ایک اضافی بولر شامل کرنے کے لیے انھیں ٹیم سے باہر کر دیا گیا۔ حالانکہ ان کا ماننا تھا کہ وہ بیٹنگ کے ساتھ ساتھ بولنگ میں بھی کارآمد ثابت ہو سکتے تھے۔
گنگولی کہتے ہیں کہ ٹیم سے باہر کیے جانے کے اس فیصلے کو ہضم کرنا ان کے لیے مشکل تھا، شاید اس لیے کہ وہ ابھی نئے اور کم تجربہ کار تھے۔ لیکن پھر عمران خان سے ہونے والی ملاقات اور گفتگو نے ان کی سوچ بدل دی۔
گنگولی لکھتے ہیں: ’عمران خان کا انداز بہت دوستانہ تھا۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ ’میں نے آپ کی بیٹنگ دیکھی ہے، آپ اچھا کھیلتے ہیں۔‘ میں نے ان کی بات غور سے سنی، جو انھوں نے کہا وہ میں کبھی نہیں بھول سکتا۔‘
’ہم خاموش نہیں رہ سکتے، آواز اٹھاتے رہیں گے‘: سابق کرکٹ کپتانوں کے خط پر پاکستانی حکومت نے کیا کہا؟پاکستان کی تاریخکا ’سب سے عظیم‘ کرکٹر کون ہے؟عمران خان کو ’چھکا مارنے کا چیلنج‘ دینے والے عبدالقادر جو کئی لیگ سپنرز کے استاد بنے’الٹی پھینک کھڑی ہو جائے گی‘: سچن سمیت بہترین بلے بازوں کو چکرانے والی گیند کے موجد کی کہانی
گنگولی کے مطابق عمران خان کے الفاظ تھے: ’آپ کو صرف اونچا اڑنا چاہیے۔ جب آپ آسمان میں اونچا اڑیں اور کالے بادل دکھائی دیں تو ان سے نمٹنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ آپ اور بھی اونچا اڑیں۔‘
عمران خان نے گنگولی کو بتایا: ’مجھے بھی ٹیم سے باہر رہنا پڑا ہے اس لیے میں جانتا ہوں کہ یہ کیسا محسوس ہوتا ہے۔ آپ کو بس اتنی اونچی اُڑان بھرنی ہے کہ آپ کا مقابل پیچھے رہ جائے۔ یہی آپ کے مسئلے کا حل ہے۔‘
سورو گنگولی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے الفاظ اور ان کا مفہوم سادہ سا تھا، لیکن انھوں نے یہ باتیں اس قدر یقین کے ساتھ کہیں کہ اس سے وہ بہت متاثر ہوئے اور اِن الفاظ نے اُن میں نئی جان ڈال دی۔
چند ماہ بعد کھیلی گئی سیریز میں انھوں نے 222 رنز بنانے کے ساتھ ساتھ 15 وکٹیں بھی حاصل کیں اور اپنے ملک کے لوگوں کے ہیرو بن گئے۔
یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ چار ایک کے تناسب سے جیتی گئی یہ سیریز کسی اور کے نہیں بلکہ عمران خان کے ہی ملک پاکستان کے خلاف تھی۔
اسی سیریز کے دوران لگاتار چار ایک روزہ میچوں میں سورو گنگولی ’پلیئر آف دی میچ‘ قرار پائے۔ سورو گنگولی کے علاوہ آج تک کوئی بھی کھلاڑی مسلسل ایک روزہ میچوں میں چار بار ’پلیئر آف دی میچ‘ نہیں بنا ہے۔
اس سیریز کے تیسرے ایک روزہ میچ میں سورو گنگولی نے گیند کے ساتھ کمال دکھاتے ہوئے 10 اوورز میں 16 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ یہ ایک روزہ میچ میں پاکستان کے خلاف کسی بھی انڈین بولر کی بہترین کارکردگی ہے۔
گنگولی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’عمران خان کے یہ الفاظ دراصل ایک جادو تھے۔‘ غیر یقینی اور مشکل کا سامنا کرنے والے ایک نوجوان کرکٹر کو کھیل اور زندگی کا نیا نظریہ مل گیا تھا۔
سورو گنگولی کی عمران خان سے دوسری ملاقات سنہ 2004 میں اس وقت ہوئی جب انڈین ٹیم پاکستان کے دورے پر تھی۔ عمران خان نے انھیں بنی گالہ میں اپنے گھر پر رات کے کھانے پر بلایا تھا اور گنگولی ان کی مہمان نوازی سے بہت متاثر ہوئے تھے۔
تاہم، سنہ 2005 میں سورو گنگولی کو اپنے کیریئر کے بد ترین دور سے گزرنا پڑا۔ انھیں خراب کارکردگی کی وجہ سے کپتانی سے ہٹا دیا گیا، ٹیم میں جگہ بھی چلی گئی۔ اس کے بعد پاکستانی کرکٹر ظہیر عباس نے ان کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا۔
ظہیر عباس نے تکنیک درست کرائیGetty Imagesسورو گنگولی کے مطابق ظہیر عباس کے مشورے نے تیز بولرز کا سامنا کرنے میں ان کی خاصی مدد کی
سنہ 2006 میں سورو گنگولی نارتھمپٹن شائر کی طرف سے کاؤنٹی کرکٹ کھیل رہے تھے اور ان دنوں انھیں اپنے سٹانس اور گرپ میں مسائل کا سامنا تھا۔ اس کی وجہ سے انھیں تیز بولنگ کو کھیلنے میں دقت پیش آ رہی تھی۔
اس موقع پر ان کی ملاقات ظہیر عباس سے ہوئی، جنھیں گنگولی احتراماً ’زیڈ بھائی‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔
گنگولی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: ’زیڈ بھائی نے اپنے وسیع تجربے سے میری مشکل حل کر دی۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ میں تیز بولرز کو کھیلتے وقت زیادہ سیدھا کھڑا رہوں۔ سائیڈ آن رہنے کے بجائے سینہ سامنے رکھتے ہوئے زیادہ سیدھا رہوں۔ میری گرپ خود بخود بدل گئی۔‘
انھوں نے لکھا ہے کہ ’اگرچہ سٹانس بدلنے میں مجھے کچھ دشواری ہوئی لیکن بعد میں عادی ہو گیا اور مجھے تیز بولرز کو کھیلنے کے لیے کافی وقت مل گیا۔ زیڈ بھائی کا شکریہ کہ ان کی وجہ سے میرے کیریئر کے بعد کے دن بہترین ثابت ہوئے۔‘
سلیم ملک کی دھمکیGetty Imagesسورو گنگولی نے اپنی بولنگ سے سلیم ملک کو مشکل میں ڈال دیا تھا (فائل فوٹو)
سورو گنگولی کو وہ واقعہ اچھی طرح یاد ہے جب ٹورنٹو میں ہونے والی ایک روزہ میچز کی سیریز کے دوران معین خان وکٹ کے پیچھے سے مسلسل ان پر فقرے کس رہے تھے، لیکن سلیم ملک تو ان سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئے۔
گنگولی نے دوسرے میچ میں سلیم ملک کو آؤٹ کیا تھا۔ تیسرے میچ میں جب گنگولی بیٹنگ کے لیے جا رہے تھے تو سلیم ملک ان کے پاس آئے اور دھمکی بھرے لہجے میں کہنے لگے: ’آج میں آپ کو اتنا ماروں گا کہ آپ دیکھتے رہ جائیں گے۔‘
اس میچ میں گنگولی نے سلیم ملک کو ایک بار پھر آؤٹ کر دیا۔
گنگولی کہتے ہیں کہ ’اس وقت میں نوجوان کرکٹر تھا اور سلیم ملک پاکستان کے سٹار بلے باز تھے، اس لیے مجھے ان کی بات کا جواب دینے کی ہمت نہ ہوئی۔‘
اس سیریز میں گنگولی نے کپتان رمیز راجہ کو بھی آؤٹ کیا تھا، جو آج بھی مذاق میں ان سے کہتے ہیں کہ ’آپ مجھے پاکستان ٹیم سے باہر کرنے کے ذمہ دار ہیں۔‘
پرویز مشرف کی کالGetty Imagesایک بار پاکستان کے دورے پر گئے سورو گنگولی کو اُس وقت کے صدر پرویز مشرف نے فون کرکے نصیحت کی تھی۔ (فائل فوٹو)
انڈیا کی ٹیم نے سنہ 2004 میں جب پاکستان کا دورہ کیا تو ان کی حفاظت کے لیے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ گنگولی کے مطابق لاہور کا ہوٹل کسی قلعے جیسا لگ رہا تھا۔
کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ انڈین ٹیم کا کپتان آدھی رات کو اس قلعے سے نکل کر اپنے دوستوں کے ہمراہ ایڈونچر کرنے چلا جائے؟
سورو کنگولی نے ایسا کیا۔ حالانکہ انھیں اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ سکیورٹی کوڈ کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، لیکن وہ کچھ دیر کے لیے اس ماحول سے دور رہنا چاہتے تھے۔
سورو گنگولی نے اپنی کتاب میں اس واقعے کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔
وہ لکھتے ہیں: ’ایک روزہ میچز کی سیریز میں تاریخی جیت کے بعد میں بہت خوش تھا، حالانکہ کیچ لینے کی کوشش کے دوران میں زخمی بھی ہو گیا تھا اور ڈاکٹر نے مجھے تین ہفتے آرام کرنے کو کہا تھا۔ لیکن میرا موڈ اچھا تھا اور کلکتہ سے آئے دوستوں کو دیکھ کر میں مزید خوش ہو گیا۔‘
’ایک رات میں نے ان دوستوں کے ساتھ باہر نکلنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے سکیورٹی افسر کو نہیں بتایا کہ باہر جا رہا ہوں، ورنہ وہ مجھے کبھی باہر نہ جانے دیتے۔ میں نے صرف ٹیم مینیجر کو بتایا کہ میں باہر جا رہا ہوں۔ میں پچھلے دروازے سے چپ چاپ باہر نکل گیا اور ٹوپی سے اپنا چہرہ چھپا لیا تاکہ کوئی مجھے پہچان نہ سکے۔‘
’ہماری منزل گوالمنڈی کی مشہور فوڈ سٹریٹ تھی جہاں کباب اور تندوری کھانے ہمارا انتظار کر رہے تھے، لیکن چونکہ وہ کھلی جگہ تھی اس لیے پہچانے جانے کا ڈر بھی تھا۔ اسی دوران ایک شخص میرے پاس آیا اور جوش سے کہنے لگا: 'ارے، آپ سورو گنگولی ہیں؟‘ ہم سب اپنی ہنسی بمشکل روک پائے۔ اسی دوران ایک اور شخص کہیں سے آ گیا اور کہنے لگا: ’سر، آپ یہاں؟ کیا زبردست کھیلا آپ کی ٹیم نے۔‘ میں نے پھر اسے نظر انداز کیا اور وہ بھی سر جھٹکتا ہوا چلا گیا۔‘
گنگولی کے مطابق ’ہم ابھی اپنا کھانا ختم کرنے ہی والے تھے کہ انڈین صحافی راجدیپ سردیسائی نے مجھے دیکھ لیا۔ وہ انڈین وزیر اطلاعات روی شنکر پرساد کے ساتھ وہاں آئے ہوئے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی راجدیپ چلّانے لگے ’سورو، سورو‘۔ میں سمجھ گیا کہ اب مشکل میں ہوں۔ سب کو پتا چل گیا کہ انڈین کپتان فوڈ سٹریٹ میں موجود ہے۔‘
’لوگ ہر طرف سے میرے پاس جمع ہونے لگے۔ میں مزیدار کباب کا آخری نوالہ کھا رہا تھا اور مجھے اندازہ نہیں تھا کہ صورتحال اتنی تیزی سے قابو سے باہر ہو جائے گی۔ میں نے بل ادا کر کے وہاں سے نکلنے کی کوشش کی، لیکن دکاندار نے پیسے لینے سے انکار کر دیا۔‘
گنگولی مزید بتاتے ہیں: ’اسی دوران کچھ پولیس اہلکار ہمیں گاڑی تک لے گئے، لیکن جب ہم ہوٹل واپس جا رہے تھے تو ایک تیز رفتار موٹر سائیکل ہمارا پیچھا کرنے لگی۔ موٹرسائیکل سوار نے مجھ سے شیشہ نیچے کرنے کو کہا۔ میرے ساتھی نے منع کیا، لیکن میں نے شیشہ نیچے کر لیا۔ اس نے ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا: 'میں فوڈ اسٹریٹ کا دکاندار ہوں، میں آپ کا بہت بڑا فین ہوں۔‘
گنگولی نے اگلی صبح ٹیم مینیجر کو رات والا واقعہ بتایا، لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ حیران کن تھا۔
گنگولی کے مطابق: ’جب میں اپنے کمرے میں واپس آیا تو فون کی گھنٹی بجی۔ یہ کال صدر پرویز مشرف کے دفتر سے تھی۔ مجھے بتایا گیا کہ صدر مشرف آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ میں حیران رہ گیا اور سوچنے لگا کہ آخر ایسا کیا ہوا ہے جو پاکستان کے صدر انڈین کپتان سے بات کرنا چاہتے ہیں؟‘
’صدر مشرف کا لہجہ شائستہ لیکن واضح تھا۔ وہ بولے: ’اگلی بار آپ باہر جانا چاہیں تو سکیورٹی کو ضرور بتائیے۔ ہم متعلقہ لوگوں کو آپ کے ساتھ کر دیں گے، لیکن براہ کرم ایڈونچرز میں شامل نہ ہوں۔‘ میرے لیے وسیم اکرم کی خطرناک اِن کٹر گیندوں کا سامنا کرنا مشرف کی اس کال سے کم ڈراؤنا تھا۔‘
15 سال بعد سورو گنگولی کی کپتانی میں پاکستان جانے والی انڈین ٹیم نے ایک روزہ اور ٹیسٹ میچز، دونوں میں شاندار کارکردگی دکھائی۔ انڈین ٹیم نے ایک روزہ میچز کی سیریز تین دو اور ٹیسٹ سیریز دو ایک کے تناسب سے جیتی۔
سورو گنگولی نے چند سال پہلے ٹیلی وژن شو میں سنہ 2004 کے دورے کی اچھی یادوں اور پاکستانی کپتان انضمام الحق سے دوستی کے بارے میں بتایا تھا۔
سورو گنگولی نے کہا تھا: ’بطور کرکٹر تو میں انضمام الحق کا مداح ہوں ہی، لیکن اس سے زیادہ مجھے ان کی شخصیت پسند ہے۔‘
اس کے جواب میں انضمام الحق نے سورو گنگولی کے ساتھ دوستی کے بارے میں بتایا تھا: ’سنہ 2005 میں انڈیا کے دورے سے پہلے میں ایک اشتہار کے سلسلے میں کلکتہ آیا تھا۔ جتنے دن بھی میں کلکتہ میں رہا، میرا قیام تو ہوٹل میں تھا لیکن میرے لیے کھانا سورو کے گھر سے آتا تھا۔ سورو گنگولی کی وہ مہمان نوازی میں کبھی نہیں بھول پایا۔‘
میدان کے اندر بھی پاکستان کی ٹیم سورو گنگولی کے لیے ہمیشہ اچھی یادیں لے کر آئی۔
سنہ 2007 میں جب سورو گنگولی اپنے کیریئر کے آخری مرحلے میں تھے تو پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ان کے بلے نے کمال دکھایا۔
سورو گنگولی نے تین ٹیسٹ میچوں میں 89 کی اوسط سے 534 رنز بنائے اور اس سیریز میں سب سے زیادہ انفرادی سکور (239 رنز) بنانے کا اعزاز بھی انھی کے نام رہا۔
یہ سورو گنگولی کی واحد ڈبل سنچری اور ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا بہترین اسکور رہا۔
’ایسا لگتا ہے ان پر ربڑ کی تہہ چڑھی ہو‘: انڈین کرکٹرز کے بیٹ پر سری لنکن کھلاڑی کا بیان اور پھر وضاحتدبئی میں پیاز کاٹنے سے پاکستان کے ورلڈ کپ سکواڈ تک کا سفر، ’ایکس فیکٹر‘ سپنر عثمان طارق کی کہانیرانا فواد اور لاہور قلندرز کی ملکیت پر بھائیوں کے درمیان تنازع: ’وہ ہمارے بڑے بھائی ہیں‘وہ ’خفیہ ہتھیار‘ جس کی مدد سے مچل سٹارک نے وسیم اکرم کو پیچھے چھوڑ دیاجب وسیم اکرم نے بابر اعظم سے سوال کرتے ہوئے پی ایس ایل میں ’روٹی‘ کا قصہ سنایا