ہابیل اور قابیل: زمین پر ہونے والے پہلے قتل اور کوئے کے زمین کھودنے کا قصہ اسلام اور دیگر مذاہب میں کیسے بیان کیا گیا؟

بی بی سی اردو  |  Feb 20, 2026

Getty Imagesملک شام میں ’جبلِ قاسیون‘ کے قریب وہ مقام جس کے بارے میں مقامی افراد کا عقیدہ ہے کہ یہاں زمین پر پہلی بار خون بہایا گیا اور یہیں قابیل نے ہابیل کو قتل کیا

دمشق کے مغربی پہاڑوں پر وادیِ بَرَدیٰ نامی علاقے میں عثمانی دور میں سنہ 1599 میں تعمیر کی گئی مسجدِ ’نبی ہابیل‘ کے پہلو میں ایک خاموش مزار میں سبز ریشمی غلاف میں لپٹی ایک سات میٹر لمبی قبر موجود ہے۔

مقامی روایات کے مطابق یہ قبر زمین پر ہونے والے اُس پہلے قتل کی علامت ہے جس کا تذکرہ، جزوی فرق کے ساتھ، اسلام، یہودیت اور مسیحیت کی مذہبی روایتوں میں موجود ہے۔

عہد نامہ عتیق

عہد نامہ عتیق کے مطابق ہابیل، حضرت آدم اور حضرت حوّا کے دوسرے بیٹے تھے جنھیں اُن کے بڑے بھائی قابیل نے قتل کیا تھا۔

بنی اسرائیل کے پیشوا حضرت موسیٰ پر نازل ہونے والی کتاب توریت اور حضرت عیسیٰ سے پہلے کے صحائف پر مبنی اس مجموعے (عہد نامہ عتیق) میں شامل ’کتابِ پیدایش‘ کے چوتھے باب سے پتا چلتا ہے کہ ہابیل ایک چرواہے تھے اور قابیل ایک کسان۔

کچھ عرصے بعد انسانی تاریخ میں پہلی قربانی کا موقع آیا۔

کتاب پیدایش میں درج ہے کہ ’قابیل اپنے کھیت کے پھل کا ہدیہ خداوند کے لیے لایا اور ہابیل نے خداوند کے حضور اپنے ریوڑ کی پہلی پیداوار (پہلے پیدا ہونے والے جانور) اور کچھ اُن کی چربی قربانی کے طور پر پیش کی۔ خداوند نے ہابیل کو اور اس کے ہدیے کو منظور کر لیا، پر قابیل کو اور اس کے ہدیے کو منظور نہ کیا۔‘

’اس پر قابیل نہایت غضبناک ہوا اور اس کا چہرہ مرجھا گیا۔‘

’تب خداوند نے قابیل سے کہا: تو کیوں غضبناک ہے اور تیرا چہرہ کیوں لٹک گیا ہے؟‘

’اگر تو نیکی کرے گا تو کیا قبول نہ کیا جائے گا؟ اور اگر تو نیکی نہ کرے تو گناہ دروازے پر گھات لگائے بیٹھا ہے، اس کی خواہش تجھ پر غالب آنا ہے، مگر تجھے اس پر قابو پانا ہو گا۔‘

لیکن اسی کتاب میں ہے کہ حسد اور شدید غصے میں قابیل نے ہابیل کو قتل کر دیا۔

’وہ خداوند کے حضور سے نکل گیا اور ایک مفرور (آوارہ) بن گیا، اور عدن کے مشرق کی طرف نُود کے علاقے میں جا بسا۔ اس کے بھائی کا بے گناہ خون اس پر لعنت بن گیا تھا۔‘

محقق ایمی ٹِکانن کے مطابق کتابِ پیدایش ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کرتی ہے جہاں اقدار باہم ٹکراتی ہیں، اور یہی تصادم اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ خدائی اختیار ضبطِ نفس اور اخوت کی تائید کرتا ہے، جبکہ حسد اور تشدد کو سزا کا مستحق ٹھہراتا ہے۔ 'قابیل گناہ کو قابو میں رکھنے میں ناکام رہا، اور الٹا گناہ ہی اس پر غالب آ گیا۔'

Getty Imagesشام میں واقع جبل قاسیون کو ایک مقدس مقام سمجھا جاتا ہے اور یہاں کئی مذہبی سیاحتی مقامات موجود ہیںعہد نامہ جدید

مسیحی مذہبی کتب کے مجموعے عہد نامہ جدید میں (جس میں اناجیلِ اربعہ، رسولوں کے اعمال، حواریوں کے خطوط اور مکاشفہ شامل ہیں) ہابیل کے خون کو بے گناہ معصومیت کے انتقام کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ (انجیل متی 23:35؛ انجیل لوقا 11:51)۔

انجیل متی کے ایک مقام پر حضرت عیسیٰ نے پیش گوئی کی ’پس زمین پر جتنا بھی راست بازوں کا خون بہایا گیا ہے، وہ سب تم پر آئے گا، راست باز ہابیل کے خون سے لے کر زکریا بن برخیا کے خون تک، جسے تم نے ہیکل اور قربان گاہ کے درمیان قتل کیا تھا۔‘

جب پہلی صدی عیسوی میں اناجیل لکھی گئیں تو یہ مانا گیا کہ بنی اسرائیل کے تمام انبیا مار دیے گئے تھے۔

عہد نامہ جدید کی کتاب ’رسالہ عبرانیوں‘ میں حضرت عیسیٰ کی قربانی کو ہابیل کی قربانی سے تشبیہ دی گئی ہے۔

متن کے مطابق ہابیل اور حضرت عیسیٰ دونوں میں خدا پر ایمان کا ایک ہی تصور پایا جاتا تھا، جبکہ قابیل اس ایمان سے محروم تھا (عبرانیوں 12:24)۔

رسالہ عبرانیوں میں لکھا ہے کہ ’ایمان کے سبب ہابیل نے قابیل کی قربانی سے زیادہ مقبول قربانی خدا کے حضور پیش کی۔ اسی کے ذریعے وہ راست باز ٹھہرایا گیا، کیونکہ خدا نے خود اس کے نذرانوں کی گواہی دی۔ اگرچہ وہ مر گیا، لیکن اپنے ایمان کے وسیلے سے وہ اب بھی بولتا ہے۔‘

اسی طرح پہلا خطِ یوحنا میں قابیل کو برائی کی مثال بنا کر پیش کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف پیٹرسبرگ کے شعبۂ مذہبیات کی ایمریٹس پروفیسر ریبیکا آئی ڈینووا لکھتی ہیں کہ قابیل کی تشدد پسندی اگلی نسل میں بھی منتقل ہو جاتی ہے۔

حضرت خضر: پراسراریت میں لپٹی شخصیت جن کا قرآن اور مذہبی روایات میں درج قصہ ظاہر اور حقیقت میں فرق بتاتا ہےیاجوج ماجوج اور انھیں ’روکنے والی‘ دیوار کا تصور کیا ہے؟عبدالمطلب کی دعا، ابابیل کا حملہ اور ’عذاب کا مقام‘: کعبہ پر ابرہہ کی لشکر کشی کا قصہاصحابِ کہف: سینکڑوں برسوں تک سونے والے نوجوانوں اور اُن کے کتے کا واقعہ مسیحی روایات اور قرآن میں کیسے بیان کیا گیا؟

انھوں نے لکھا ہے کہ کتابِ پیدایش باب 5 میں حضرت آدم کی نسل کی ایک اور فہرست دی گئی ہے، جو ان کے تیسرے بیٹے حضرت شیث کی پیدائش سے آگے چلتی ہے۔ یہ سلسلہ بالآخر حضرت نوح کے تعارف پر ختم ہوتا ہے، جنھیں خدا کی نظر میں راست باز قرار دیا گیا، اور وہ آدم کی اسی نیک نسل سے تھے۔

بعض بائبلی ناقدین کا خیال ہے کہ قابیل کا قبیلہ دراصل ’قینیّوں‘ پر مشتمل تھا، جو گھومنے پھرنے والے دھات کار تھے اور کم از کم تیرھویں صدی قبل مسیح سے نویں صدی قبل مسیح تک بحیرۂ جلیل کے قریب سفر کرتے رہے۔

Getty Imagesقرآنِ مجید

مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآنِ مجید میں کسی کا نام لیے بغیر ’آدم کے دو بیٹوں‘ کے واقعے کے ذریعے یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ناحق قتل ایک سنگین جرم ہے اور اِس کا انجام ہلاکت اور رسوائی ہے۔

سورہ المائدہ (آیات 27–31) میں ہے کہ ’(تمہاری مخالفت میں اب یہ آمادۂ فساد ہیں، اے پیغمبر)، انھیں آدم کے دو بیٹوں کا قصہ سناؤ، ٹھیک ٹھیک، جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کر لی گئی اور دوسرے کی قبول نہیں کی گئی۔

’(پھر جس کی قربانی قبول نہیں کی گئی) اس نے کہا: میں تجھے مار ڈالوں گا۔‘

’دوسرے نے جواب دیا: اللہ تو اپنے انھی بندوں کی قربانی قبول کرتا ہے جو اس سے ڈرنے والے ہوں۔‘

’تم مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ مجھ پر اٹھاؤ گے تو بھی میں تمہارے قتل کے لیے اپنا ہاتھ تم پر اٹھانے والا نہیں ہوں، میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔‘

’میں چاہتا ہوں کہ (تم نے میرے قتل کا ارادہ کر لیا ہے تو) اپنے اور میرے گناہ کا بار تم ہی لے جاؤ اور دوزخی بن کر رہو۔ اس طرح کے ظالموں کی یہی سزا ہے۔‘

’(اس پر بھی وہ باز نہیں آیا اور) اس کے نفس نے بالآخر اپنے بھائی کے قتل پر اسے آمادہ کر لیا اور اسے مار کر وہ ان لوگوں میں شامل ہو گیا جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔‘

’پھر اللہ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اسے بتائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کس طرح چھپائے۔ (یہ دیکھ کر) وہ بولا: ہائے میری کم بختی، میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے بھائی کی لاش ہی چھپا لیتا۔ سو (اس پر) وہ پچھتاتا رہ گیا۔‘

’ایک بے گناہ کا قتل، تمام انسانوں کا قتل‘

ہابیل و قابیل کی اس سرگذشت کے بعد آیات 32–32 میں بیان ہے کہ: ’(انسان کی) یہی (سرکشی) ہے جس کی وجہ سے ہم نے (موسیٰ کو شریعت دی تو اس میں) بنی اسرائیل پر بھی اپنا یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جس نے کسی ایک انسان کو قتل کیا، اس کے بغیر کہ اس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں کوئی فساد برپا کیا ہو، تو اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا، اور جس نے کسی ایک انسان کو زندگی بخشی، اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔‘

امریکہ میں غامدی سینٹر آف اسلامک لرننگ ڈیلَس سے منسلک محقق نعیم احمد بلوچ کے مطابق قابیل کا ہابیل کی جان لینا انسانی تاریخ کا محض پہلا قتل نہیں بلکہ انسانی نفس، اخلاقی بحران اور تشدد کے باطنی محرکات کی پہلی اور بنیادی علامت ہے۔

’قرآنِ مجید میں قبولیت یا رد کی بنیاد تقویٰ قرار دی گئی، نہ کہ محض عمل کی صورت۔ ردِّ قبولیت نے قابیل کے اندر حسد اور غصے کو جنم دیا، جو بالآخر قتل پر منتج ہوا۔ کتابِ پیدایش قابیل اور ہابیل کے قصے کو نسبتاً نفسیاتی اور اخلاقی انداز میں بیان کرتی ہے۔ یہاں بھی دونوں قربانی دیتے ہیں؛ ایک قبول ہوتی ہے اور دوسری رد۔‘

بلوچ کہتے ہیں کہ اگرچہ بائبل میں نہ کوّے کا ذکر ہے اور نہ تدفین کا، مگر قابیل کو جلاوطنی اور باطنی بے قراری کی سزا دے کر یہ واضح کیا گیا ہے کہ جرم کا اصل عذاب انسان کے اندر جنم لیتا ہے۔ اصل متن میں قتل کی وجہ شادی یا بہن کے تنازع کا کوئی حوالہ نہیں؛ یہ عناصر بعد کی یہودی تفسیری روایت (مدراش) اور غالباً اسی کے اثر سے بعض مسلم شرحوں میں شامل ہوئے، نہ کہ وحی کے متن میں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عہد نامہ عتیق قتل کی جڑ کو جنسی یا معاشی رقابت کے بجائے حسد اور اخلاقی ناکامی میں دیکھتا ہے۔

’جدید جرم شناسی جرم کے اسباب کو عموماً بیرونی عوامل — جیسے محرومی، طاقت کی خواہش اور وسائل کے حصول — میں تلاش کرتی ہے، مگر مذہبی بیانیہ اس فہرست میں ایک بنیادی عنصر کا اضافہ کرتا ہے: حسد اور زخمی انا۔ قابیل نہ محروم تھا، نہ مظلوم، پھر بھی اس نے قتل کیا۔ یہی حقیقت مذہب کو اس نتیجے تک پہنچاتی ہے کہ جرم کی جڑ صرف حالات میں نہیں، انسان کے باطن میں بھی ہوتی ہے۔‘

بلوچ کا تجزیہ ہے کہ اس واقعے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پہلی انسانی بستی ایک ترقی یافتہ بستی تھی۔

’یہاں مذہب تھا، گلہ بانی تھی، زراعت تھی۔ یعنی انسان جانوروں کی طرح کی زندگی بسر نہیں کرتے تھے۔ البتہ یہ پہلا انسانی قتل تھا اور لاش دفنانے کا کام پہلی دفعہ ہوا تھا۔ اور یہ دور کم و بیش دس ہزار برس سے زیادہ پرانا نہیں۔‘

یاجوج ماجوج اور انھیں ’روکنے والی‘ دیوار کا تصور کیا ہے؟’خیزران‘: ایک غلام سے تین خلفا کے تخت کی طاقت بن جانے والی خاتون’صاحب الحوت‘: حضرت یونس کے مچھلی میں پیٹ میں جانے، معافی ملنے اور زندہ لوٹ آنے کا واقعہ مختلف مذاہب میںعبدالمطلب کی دعا، ابابیل کا حملہ اور ’عذاب کا مقام‘: کعبہ پر ابرہہ کی لشکر کشی کا قصہآسٹریا کے وہ یہودی جو مسلمان ہوئے اور پہلا پاکستانی پاسپورٹ پایا
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More