پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی آنکھ کے علاج کے معاملے پر ناصرف حکومت اور پی ٹی آئی قیادت کے درمیان بیانات کی جنگ تیز ہو گئی ہے بلکہ اس سے پارٹی کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر سامنے آنے لگے ہیں۔
منگل کو وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کے بروقت طبی معائنے میں تاخیر کی وجہ ان کی بہن علیمہ خان بنیں جبکہ علیمہ خان نے حکومت کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کا کبھی بھی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔
وزیر داخلہ نے الزام عائد کیا کہ ’عمران خان کے بروقت علاج میں علیمہ خان رکاوٹ تھیں، پی ٹی آئی کے ڈاکٹروں نے کہا عمران خان کا بہترین علاج ہو رہا ہے، ہم بھی کرتے تو یہی علاج کرتے۔ پارٹی کے رہنماؤں نے کہا کہ ہم مطمئن ہیں لیکن علیمہ خان نے کہا کہ اگر ہم سب کچھ مان گئے تو یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔‘
محسن نقوی کے مطابق ان ہی (علیمہ خان) کی وجہ سے تین دن میڈیکل چیک اپ نہیں ہو سکا۔
ادھر خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈا پور کا ایک ویڈیو انٹرویو بھی وائرل ہوا ہے جس میں وہ شکوہ کرتے نظر آئے کہ ان کے رہنما عمران خان کو ان کے بارے میں گمراہ کیا گیا اور اگر ان کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ علیمہ خان کو عمران خان سے ملنے نہ دیتے۔
اس ساری صورتحال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان کی صحت کے حوالے سے پی ٹی آئی اور علیمہ خان ایک پیج پر نہیں ہیں؟
پی ٹی آئی پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار اس معاملے کو کس طرح دیکھتے ہیں، یہ جاننے سے قبل یہ دیکھنا ضروری ہے کہ محسن نقوی نے کیا دعوے کیے اور علیمہ خان نے اس کے ردِ عمل میں کیا کہا۔
’علیمہ خان نے کہا اگر ہم سب کچھ مان گئے تو یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا‘
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ آنکھوں والے مسئلے پر پراپیگنڈا کیا گیا اور 75 فیصد بینائی نہ ہونے جیسی باتیں بھی کی گئیں۔
انھوں نے بتایا کہ اپوزیشن رہنما محمور اچکزئی نے وزیراعظم کو خط لکھا مگر اس سے پہلے ہی ہم پی ٹی آئی کی لیڈر شپ سے رابطے میں تھے اور واضح کر دیا گیا تھا کہ آئین و قانون کے تحت ہر قیدی کو دستیاب طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
وزیر داخلہ نے بتایا کہ حکومت نے پی ٹی آئی سے ایک غیر سیاسی آئی سپیشلسٹ کا نام دینے کو کہا تاکہ ان سے بھی معائنہ کرایا جا سکے تاہم پارٹی کی جانب سے خاندان کے فرد کی موجودگی پر زور دیا گیا۔ بعد ازاں کزن قاسم کا نام دیا گیا جس پر حکومت نے آمادگی ظاہر کی۔
محسن نقوی کے مطابق جب یہ معاملہ طے ہو گیا تو مطالبہ کیا گیا کہ عمران خان کو ایک ہفتے کے لیے ہسپتال میں داخل کیا جائے، ہم اس کے علاوہ کچھ نہیں مانیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے واضح کیا کہ اگر ڈاکٹر تجویز کریں گے تو ایک کیا دو ہفتے کا داخلہ ممکن ہے لیکن محض مطالبے پر ایسا نہیں کیا جا سکتا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ تین دن تک طبی معائنہ نہیں ہونے دیا گیا، جس کے بعد سرکاری اور نجی شعبے کے بہترین ڈاکٹروں کا انتخاب کر کے اڈیالہ جیل میں معائنے کا وقت مقرر کیا گیا۔
’پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو مطلع کیا گیا کہ آپ پارٹی کے رہنما ہیں، اڈیالہ جیل پہنچ جائیں، جو بھی چیک اپ وغیرہ ہو گا آ کر دیکھ لیں۔ ان کو 2:30 کا ٹائم دیا گیا۔ ہم ایک گھنٹہ ان انتظار کرتے رہے پھر گوہر صاحب کا جواب آیا کہ ان کی پارٹی سے مشاورت ہوئی ہے اور وہ نہیں آ سکیں گے۔‘
وزیرِ داخلہ کے مطابق چیک اپ کے بعد پھر بیرسٹر گوہر سے رابطہ کیا گیا اور انھیں کہا گیا کہ اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی اور اپوزیشن لیڈر سینیٹ، آپ تینوں آ جائیں اور اپنے ڈاکٹروں کو بھی ساتھ لے آئیں۔
محسن نقوی کے مطابق انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر تو لاہور میں ہیں۔ اس پر اپوزیشن لیڈر سینیٹ اور بیرسٹر گوہر پمز آئے اور انھوں نے تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ ڈاکٹروں سے ملاقات کی۔ اس دوران تقریباً 45 منٹ وہ دونوں ڈاکٹر فون پر لاہور میں موجود ڈاکٹروں سے بریفنگ لیتے رہے۔
’تقریباً 45 منٹ سیاسی رہنماؤں نے بریفنگ لی۔ اس کے بعد ان کے ڈاکٹروں نے کہا ’ایکسیلینٹ‘ یہ بہترین علاج ہو رہا ہے۔ اگر ہم بھی کرتے تو یہی علاج کرتے۔ سیاسی رہنماؤں نے کہا کہ ہم مطمئن ہیں اور اب ہم جا کر اپنے لوگوں کو سب کچھ بتائیں گے۔‘
عمران خان کی بینائی متاثر: سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟’جیلر سے اڑی بازی کا نتیجہ‘علیمہ خان کون ہیں؟’نگرانی کے 10 کیمرے، 100 کتابیں اور دو سیب‘: عمران خان سے ملاقات کے بعد سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کیا بتایا گیا
محسن نقوی نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق ’علیمہ خان نے اپنی پارٹی کے لوگوں سے کہا کہ اگر ہم سب کچھ مان گئے تو یہ معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔‘
محسن نقوی کے مطابق انھی (علیمہ خان) کی وجہ سے تین دن میڈیکل چیک اپ نہیں ہو سکا۔ ’ایک طرف یہ کہتے ہیں کہ ہمیں بڑی ہمدردی ہے اور تعلق ہے اور دوسری طرف بھرپور قسم کی سیاست کھیلی گئی۔‘
وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ کی نیت ٹھیک ہوتی تو پہلے دن مان جاتے۔ میں کہوں گا کہ تقریباً تمام سیاسی رہنما آن بورڈ ہوتے تھے، لیکن علیمہ خان صاحبہ ویٹو کر دیتی تھیں اور وہ ہر چیز کو منع کر دیتی تھیں۔‘
’ہمارے شکوک مزید بڑھ گئے، آخر وہ کیا چھپا رہے ہیں‘
دوسری جانب عمران خان کی بہن علیمہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کا کبھی بھی عمران خان کو شفا انٹرنیشنل لے جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
بی بی سی اردو کے اعظم خان سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا مطالبہ بالکل واضح تھا کہ عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر اور خاندان کا ایک فرد موجود ہونا چاہیے لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔‘
’اس سے ہمارے شکوک مزید بڑھ گئے کہ آخر وہ کیا چھپا رہے ہیں جو خاندان کے فرد یا اُن کے ڈاکٹر کو موجود ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔‘
میرے ہاتھ میں ہوتا تو علیمہ خان کو عمران خان سے نہ ملنے دیتا: علی امین گنڈا پور
خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ اور پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈا پور نے ایک یوٹیوب انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ انھیں چار ماہ تک عمران خان سے ملنے نہیں دیا گیا جبکہ دیگر افراد کو رسائی حاصل تھی۔
ایم نیوز پاکستان نامی یوٹیوب چینل کو انٹرویو میں علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کو حقائق کے برخلاف باتیں بتائی جاتی تھیں، جن کا مجھے نقصان ہوا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’جب ملاقات ہو رہی تھی تو خان صاحب کے احکامات آ رہے تھے۔ ان کا حال احوال معلوم ہو رہا تھا۔ اگر وہ ملاقات ہوتی رہتی تو کیا خان صاحب کی آنکھ کا مسئلہ یہاں تک جاتا؟‘
علی امین گنڈاپور نے علیمہ خان کے حوالے سے شکوہ کیا کہ علیمہ خان ہمیشہ ملتی تھیں اور سب کو معلوم ہے کہ باہر آ کر چیزوں کو کیسے میرے بارے میں بیان کرتی تھیں۔ ’مجھے اس بات کا دکھ ہے کہ میرے لیڈر کو گمراہ کیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو علیمہ خان کو عمران خان سے نہ ملنے دیتا۔‘
خیال رہے گذشتہ برس علی امین گنڈا پور کا ایک اور ویڈیو پیغام سامنے آیا تھا جس میں انھوں نے عمران خان کی بہن علیمہ خان پر پارٹی کو تقسیم کرنے اور اسٹیبلشمنٹ کی سہولت کاری کے الزامات لگائے تھے۔
حالیہ انٹرویو کے بعد پاکستان میں نجی میڈیا پر ایسی خبریں گردش کر رہی ہیں جن کے مطابق پی ٹی آئی نے علیمہ خان سے متعلق بیانات پر علی امین گنڈاپور کے خلاف ایکشن لینے کا فیصلہ کیا۔
تاہم اس حوالے سے پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے بی بی سی کو بتایا کہ علی امین گنڈاپور کو کسی قسم کا نوٹس بھیجنے کا تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انھوں نے میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر ایسا کوئی نوٹس جاری ہوتا تو وہ میں نے ہی جاری کرنا تھا۔‘
’ایک فریق چاہتا ہے کہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہوں اور دوسرا چاہتا ہے کہ جارحانہ انداز میں درست کیے جائیں‘
تجزیہ کار حبیب اکرم کا ماننا ہے کہ عمران خان کی صحت اور جیل کے معاملات کے حوالے سے پی ٹی آئی اور ان کی بہن علیمہ خان ایک ہی صفحے پر ہیں لیکن دونوں کی حکمتِ عملی میں فرق ہے (ٹیکٹیکل فرق) جو اختلاف کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ نا صرف علیمہ خان بلکہ پی ٹی آئی کے اندر بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ’اگر عمران خان کی بیماری کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے تو دراصل عمران خان کا اصل مقصد یعنی آئین کی بالادستی اور پاکستان میں طاقت کے توازن کی تشکیلِ نو، یہ دو بنیادی نکات پیچھے چلے جاتے ہیں اور پارٹی کی کمزوری کا تاثر ابھرتا ہے جس سے پارٹی کے مقصد کو نقصان پہنچتا ہے۔‘
’ان لوگوں کا ماننا ہے کہ عمران خان کی صحت کے بارے میں تشویش اپنی جگہ لیکن اسے ان کے مقصد پر غالب نہیں آنا چاہیے۔‘
حبیب اکرم کا کہنا ہے کہ تحریکِ انصاف میں بھی دیگر بڑی جماعتوں کی طرح اختلافات موجود ہیں اور یہ اختلافات دراصل عملی حکمتِ عملی کے ہیں۔ ’ایک فریق چاہتا ہے کہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل ہوں اور دوسرا چاہتا ہے کہ معاملات جارحانہ انداز میں درست کیے جائیں۔ یہی اصل فرق ہے۔‘
عمران خان کی صحتکے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ علیمہ خان، ان کی بہنوں اور کچھ دیگر لوگوں کی رائے یہ ہے کہ جب عمران خان کی صحت کا مسئلہ غیر معمولی طریقے سے اٹھایا جاتا ہے، تو یہ خطرناک بھی ہو سکتا ہے کیونکہ ’انھیں نظام پر اعتماد نہیں۔‘
’ان کی بہنیں سمجھتی ہیں کہ اگر عمران خان کی صحت کا مسئلہ غیر معمولی انداز میں اٹھایا جائے کہ عمران خان کی صحت خراب ہے وغیرہ وغیرہ، تو خدا نہ کرے، کہیں ایسا نہ ہو کہ خود انھیں نقصان پہنچانے کی سازش کی تیاری جا رہی ہو۔ یعنی پہلے یہ تاثر قائم کیا جائے کہ وہ بیمار ہیں، بیمار ہیں اور پھر اگر کچھ ہو جائے تو اس کے لیے گراؤنڈ نہ بنایا جا رہا ہو۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ کیا اس سے حکومت کو کوئی فائدہ یا نقصان پہنچ رہا ہے، حبیب اکرم کا کہنا تھا کہ ’موجودہ حکومت مسلسل دفاعی پوزیشن میں ہے، وہ تحریکِ انصاف یا عمران خان کو بدنام کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی اور تو سیاسی طور پر پاکستان کا سیاسی بیانیہ عمران خان کے گرد ہی گھوم رہا ہے۔‘
’یہ پی ٹی آئی کو ملنے والا اب تک کا سب سے بڑا جذباتی ہتھیار ہے‘
تجزیہ کار ضیغم خان کا ماننا ہے کہ علیمہ خان کی سوچ وہی ہے جو عمران خان کی اپنی ہے اور پی ٹی آئی ان کی کہی بات سے انحراف نہیں کر سکتی، کم از کم اس وقت تک جب تک عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی جیل میں قید ہیں کیونکہ ان کے بعد علیمہ خان عمران خان کے سب سے قریب اور ان کی نمائندہ ہیں۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ علیمہ خان، عمران خان کی حکمتِ عملی کی نمائندگی کر رہی ہیں اور پارٹی کو اس حکمتِ عملی سے اختلاف ہو سکتا ہے مگر وہ یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں عمران خان کی بات سے اختلاف ہے، لہذا وہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں علیمہ خان کی بات سے اختلاف ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ حکمتِ عملی یہی ہے کہ صلح نہیں کرنی، پریشر ڈالنا ہے اور اپنی ٹرمز پر کوئی راستہ نکالنا ہے۔
ضیغم خان سمجھتے ہیں کہ ’اس وقت علیمہ خان یہ سمجھ رہی ہیں یہ (عمران خان کی صحت) پی ٹی آئی کے لیے بہت جذباتی معاملہ ہے اور یہ کسی ایسی چیز کا نقطہِ آغاز بن سکتا ہے جسے بہت عرصے سے کرنے کی کوششیں کی جا رہے تھے۔‘
ان کا ماننا ہے کہ 9 مئی کا احتجاج ہو یا 26 نومبر۔۔۔ یہ محض ایک دن کے احتجاج نہیں تھے بلکہ ان کا مقصد ملک گیر احتجاج تھا جس سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر پریشر پڑے اور پی ٹی آئی اپنی شرائط پر مذاکرات کر سکے۔
وہ کہتے ہیں کہ علیمہ خان کے الزامات سے شاید حکومت بوکھلا کر زیادہ اچھا علاج کروائے۔
ضیغم خان، عمران خان کی سیاست کے طرزِ عمل اور علیمہ خان کے حالیہ بیانات دیکھتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ ’یہ پی ٹی آئی کو ملنے والا اب تک کا سب سے بڑا جذباتی ہتھیار ہے اور علیمہ خان اس کا استعمال کرنا چاہتی ہیں کیونکہ پی ٹی آئی کے حمایتی و ووٹرز سب کے سب جذباتی طور پر صرف اور صرف عمران خان سے جڑِے ہیں اور انھیں اپنا مرشد اور ریڈ لائن مانتے ہیں۔‘
’علیمہ خان سمجھتی ہیں کہ جو پریشر اب تک نہیں بن سکا، اس جذباتی ہتھیار کو استعمال کر کے وہ پریشر بنے اور پی ٹی آئی کی شرائط پر مذاکرات و عمران خان کی رہائی کا راستہ نکلے۔‘
’جیلر سے اڑی بازی کا نتیجہ‘عمران خان کی بینائی متاثر: سینٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی مرض کیا ہے؟سہیل آفریدی کی حکام سے ملاقاتیں اور عمران خان کے علاج کی یقین دہانیاں: کیا پی ٹی آئی، فوج اور حکومت کے درمیان برف پگھل رہی ہے؟’سٹریٹ موومنٹ‘ کے ساتھ ساتھ بات چیت پر ’آمادگی‘: وزیرِاعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش حکومت اور پی ٹی آئی کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟’نگرانی کے 10 کیمرے، 100 کتابیں اور دو سیب‘: عمران خان سے ملاقات کے بعد سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں کیا بتایا گیاعمران خان جیلر ہے یا قیدی؟