EPA
دنیا بھر میں ماہِ رمضان کی آمد آمد ہے اور بدھ (18 فروری) یا پھر جمعرات (19 فروری) کو دنیا بھر کے مسلمان اپنا پہلا روزہ رکھیں گے۔ تاریخوں کا یہ فرق اس بات پر منحصر ہے کہ آپ دنیا کے کس حصے میں مقیم ہیں۔
اسلامی کیلینڈر میں رمضان نواں مہینہ ہے اور اس کی مسلمانوں کے لیے بہت اہمیت ہے۔ ہر سال کروڑوں مسلمان رمضان کے مہینے میں طلوعِ آفتاب سے غروبِ آفتاب تک روزہ رکھتے ہیں۔
مذہب اسلام میں روزے سنہ دو ہجری (یعنی پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے دوسرے سال) فرض قرار دیے گئے، جس کے بعد سے پوری دنیا میں مسلمان روزہ رکھتے آ رہے ہیں۔
رمضان کے آغاز کی تاریخ کا تعلق قمری کیلینڈر سے ہے اور ہمارے عام کیلینڈر پر یہ تاریخیں ہر سال بدلتی رہتی ہیں۔ عام طور پر، رمضان عام کیلنڈر میں ہر برس گذشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 11 دن پیچھے چلا جاتا ہے۔
جغرافیے اور موسم کا روزے کے دورانیے پر اثر
دن کی روشنی کے اوقات دنیا میں ایک جگہ سے دوسری جگہ کے مقابلے میں مختلف ہوتے ہیں اور اس کا تعلق اس مقام کے خط استوا سے دوری پر ہوتا ہے۔
اس وقت زمین کے جنوبی نصف کرہ میں موسمِ گرما ہے، اس لیے وہاں دن طویل اور راتیں چھوٹی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اس کرہ میں واقع ممالک میں روزے کا دورانیہ زیادہ ہو گا۔
اس کے برعکس، شمالی نصف کرہ میں موسمِ سرما ہے، اس لیے یہاں رمضان کے روزوں کا دورانیہ گرمی والے علاقوں کے مقابلے میں کم ہو گا۔
BBCدنیا کے مختلف شہروں میں روزے کے دورانیے کا چارٹ
مثال کے طور پر، چلی کے شہر پورٹو ولیمز میں، جسے اکثر دنیا کا سب سے جنوبی شہر سمجھا جاتا ہے، رواں برس رمضان کے آغاز پر روزے کا دورانیہ تقریبا ساڑھے 14 گھنٹے تک کا ہو گا۔
اس کے برعکس ناروے کے علاقے لانگ یئربین میں، جو عام طور پر دنیا کا سب سے شمالی شہر سمجھا جاتا ہے، رمضان کے آغاز میں روزے کا دورانیہ تقریباً ڈھائی گھنٹے سے کچھ زیادہ ہی ہو گا تاہم جیسے جیسے دن آگے بڑھیں گے یہ مدت بڑھ کر ساڑھے 12 گھنٹے تک پہنچ سکتی ہے۔
ایسے انتہائی دور دراز علاقوں میں مسلمان اکثر مکہ میں رائج روزے کے اوقات کو اپنا لیتے ہیں۔
Getty Imagesناروے کے علاقے لانگ یئربین میں، جو عام طور پر دنیا کا سب سے شمالی شہر سمجھا جاتا ہے، رمضان کے آغاز میں روزے کا دورانیہ تقریباً ڈھائی گھنٹے سے کچھ زیادہ ہی ہو گا
دنیا کے شمالی علاقوں میں، سب سے طویل روزے 21 جون کے آس پاس ہوتے ہیں اور سب سے مختصر تب ہوتے ہیں کہ جب رمضان دسمبر کے مہینے میں آئے۔
جنوب میں یہ اس کے برعکس ہے، رمضان کے آہستہ آہستہ دسمبر کی طرف بڑھنے کے ساتھ روزے لمبے ہو جاتے ہیں اور جون کی طرف مختصر ہوتے جاتے ہیں۔
مسلم اکثریتی آبادی والے ممالک میں روزہ کتنا طویل ہو گا؟
عرب دنیا کے بیشتر حصوں میں، روزے کے اوقات 12 سے 13 گھنٹے کے درمیان ہوں گے اور یوں 2026 میں رمضان حالیہ برسوں کے دوران روزے کے سب سے معتدل اوقات والا مہینہ ہو گا۔
مسلمانوں کے مقدس ترین شہر مکہ میں، رمضان کے آغاز پر روزہ مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح 06:50 پر شروع ہو کر شام 18:20 (11.5 گھنٹے) پر ختم ہو گا جبکہ مقدس مہینے کے ختم ہونے تک اس مدت میں نصف گھنٹے کا اضافہ ہو جائے گا۔
Saudi Press Agency via Reutersمسلمانوں کے مقدس ترین شہر مکہ میں، رمضان کے آغاز پر روزہ تقریباً ساڑھے 11 گھنٹے دورانیے کا ہو گا
پاکستان کی بات کی جائے تو یہاں روزے کا دورانیہ آغاز میں 12 گھنٹے سے کچھ زیادہ ہو گا تاہم مہینے کے اختتام تک اس میں تقریباً 40 منٹ کا اضافہ ہو جائے گا۔
اس کے برعکس جنوبی نصف کرہ میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے یہ دورانیہ کہیں زیادہ ہو گا۔
مثال کے طور پر، ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونیس آئرس میں رمضان کے آغاز پر یہ مدت 13 گھنٹے 15 منٹ تک ہو گی۔ آکلینڈ، نیوزی لینڈ میں بھی دورانیہ اتنا ہی ہو گا۔
رمضان میں خود کو مذہبی، جسمانی اور مالی طور پر کیسے منظم کیا جائے؟رمضان میں کیا کھائیں اور کن چیزوں سے پرہیز کرنا چاہیے؟کیا روزہ آپ کے کام کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہےرمضان اور لینٹ: مسیحی برادری اور مسلمانوں کے روزوں میں کیا فرق ہے؟
تاہم ان دونوں شہروں میں، مقدس مہینے کے اختتام تک روزے کے اوقات تقریبا ایک گھنٹہ کم ہو جائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنوبی نصف کرہ اب موسمِ سرما کی طرف بڑھے گا یعنی دن کی روشنی کا دورانیہ کم سے کم ہوتا جائے گا۔
تاہم، شمالی کرہ میں روزے کے اوقات مہینے کے دوران تیزی سے بدلتے رہیں گے۔ مثال کے طور پر، گرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں رمضان تقریباً نو گھنٹے کے روزے سے شروع ہو گا اور مہینے کے اختتام تک یہ مدت 12 گھنٹے سے زیادہ ہو جائے گی۔
Getty Imagesگرین لینڈ کے دارالحکومت نوک میں رمضان کے دوران روزے کے دورانیے میں تقریباً تین گھنٹے کا اضافہ ہو گا
اس سال روزے کے اوقات جون یا جولائی کے رمضان کے مقابلے میں کہیں بہتر ہیں کیونکہ ان مہینوں میں بلند عرض بلد والے علاقوں میں دن کے اوقات کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔
ناروے، روس اور گرین لینڈ کے کچھ حصوں میں، رمضان کے گرمیوں کے طویل دنوں میں آنے پر مسلمانوں کو 20 گھنٹے تک کے روزے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شمالی نصف کرہ میں، روزے کا وقت گذشتہ سال کے مقابلے میں تھوڑا کم ہو گا اور سنہ 2031 تک ہر سال مجموعی طور پر کم ہوتا رہے گا۔ یہی وہ وقت ہے جب سال کا سب سے مختصر دن یعنی 21 دسمبر رمضان میں آئے گا اور ظاہر ہے، جنوبی نصف کرہ میں سنہ 2031 تک ہر برس روزے کا دورانیہ بڑھتا جائے گا۔
Getty Imagesدہلی کی جامع مسجد کے سنہری گنبد کے اوپر چاند طوع ہونے کا منظرمسلمان روزہ کیوں رکھتے ہیں؟
رمضان کے دوران روزہ رکھنا اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے، جو مسلمانوں کے لیے زندگی گزارنے کی بنیاد ہیں۔
مسلمان روزے کے لیے طلوعِ آفتاب سے قبل کھانا کھاتے ہیں، جسے سحری کہا جاتا ہے۔ دن کے اوقات میں انھیں سورج غروب ہونے کے بعد تک کچھ کھانے یا پینے کی اجازت نہیں ہوتی اور پھر غروِب آفتاب کے بعد وہ افطار کرتے ہیں۔
مذہب اسلام کے مطابق مسلمانوں کو مخصوص حالات میں روزہ رکھنے سے استثنیٰ حاصل ہے۔ ان میں نابالغ افراد، حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین، ماہواری والی خواتین، مسافر اور بیمار یا ایسے افراد شامل ہیں جن کی صحت روزہ رکھنے سے متاثر ہو سکتی ہے۔
’انسولین رزیسٹینس‘ کیا ہے اور کیا روزہ رکھ کر اس طبی پیچیدگی پر قابو پایا جا سکتا ہے؟رمضان میں اپنی جِلد کی حفاظت کیسے کی جائے؟کیا روزے کا تصور اسلام سے قبل بھی موجود تھا اور اسلام میں اس کا آغاز کب ہوا؟