BBC
انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش کے ایک چھوٹے سے قصبے میں دو الگ مذاہب سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کے قتل اور اس جرم میں مبینہ طور پر ملوث لڑکی کے بھائیوں کی گرفتاری نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اس گاؤں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں برسوں سے ہندو اور مسلم خاندان پرامن انداز میں ایک ساتھ رہتے چلے آئے ہیں اور اس سے قبل کبھی بھی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔
پولیس کے مطابق دونوں کی لاشیں 21 جنوری کو اُمری گاؤں کے نواح میں دریا کے کنارے سے ملیں جنھیں مبینہ طور پر قتل کر دیے جانے کے بعد دفنا دیا گیا تھا۔
پولیس نے دونوں کی شناخت ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ 19 سالہ کاجل ہندو جبکہ 27 سالہ محمد ارمان مسلمان تھے۔پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں کو دو روز قبل کُدال سے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ اس الزام میں کاجل کے تین بھائیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو اس وقت پولیس حراست میں ہیں۔
یہ واقعہ دہلی سے تقریباً 182 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اُمری گاؤں میں ایک غیر معمولی خوف اور خاموشی کا باعث بنا ہے۔ اس قصبے میں تقریباً 400 خاندان آباد ہیں جن میں ہندو اور مسلمان دونوں ہی شامل ہیں۔ مقامی افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ یہاں کبھی مذہبی تنازعہ نہیں ہوا اور دونوں برادریاں کے درمیان خوشگوار تعلقات ہیں۔
ریاستی پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل منی راج جی نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس اس واقعے کو ’غیرت کے نام پر قتل‘ سمجھ رہی ہے، یعنی ایسا قتل جو خاندان یا برادری کے افراد اس وقت کرتے ہیں جب خواتین اپنی ذات یا مذہب سے باہر محبت یا شادی کا انتخاب کریں۔
انڈیا کے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو نے سنہ 2014 میں 18 ایسے کیسز کے سامنے آنے کے بعد پہلی بار غیرت کے نام پر قتل کے واقعات درج کرنا شروع کیے تھے۔ تازہ ترین سالانہ رپورٹ کے مطابق سنہ 2023 میں ایسے 38 واقعات درج کیے گئے۔
تاہم کارکنان کا کہنا ہے کہ اصل تعداد کہیں زیادہ ہے، جو ہر سال سینکڑوں میں ہوتی ہے کیونکہ زیادہ تر کیسز کو عام قتل کے طور پر درج کر دیا جاتا ہے۔
اُمری گاؤں ضلع مرادآباد میں واقع ہے جو اپنی دھاتی اشیا کی صنعت کے لیے مشہور ہے۔ یہ علاقہ زیادہ تر دیہی ہے، جہاں سماجی رسم و رواج روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ کاجل کے بھائی مرادآباد شہر میں مزدور کے طور پر کام کرتے تھے۔
کاجل اور ارمان سے متعلق بات کرتے ہوئے مقامی رہائشی مہی پال سینی نے کہا کہ اس گاؤں میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان تعلق کا یہ پہلا معاملہ تھا کہ جو سامنے آیا۔ گاؤں کے کئی افراد نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دونوں پڑوسی تھے اور ان کے گھروں کے درمیان صرف 200 میٹر کا فاصلہ تھا۔
BBC
مقامی ذرائع کے مطابق 19 سالہ کاجل جو اُمری کے ایک نجی سکول میں پڑھاتی تھیں اور 27 سالہ محمد ارمان جو پانچ ماہ قبل سعودی عرب سے واپس آئے تھے، کافی عرصہ سے ایک دوسرے کو جانتے تھے اور کافی قریب تھے۔
ارمان نے سعودی عرب میں چار سال تک ایک فوڈ آؤٹ لیٹ پر کام کیا لیکن خاطر خواہ آمدنی نہ ہونے پر وطن واپس آ کر مزدوری شروع کی تھی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کا یہ واقعہ 18 اور 19 جنوری کی درمیانی شب کاجل کے گھر تب پیش آیا جب ان کے بھائیوں نے ارمان کو وہاں دیکھ لیا۔ تینوں بھائی راجا رام، ستیش اور رنکو سینی کو پولیس نے گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے، تاہم انھوں نے اب تک اپنے دفاع میں کوئی بیان نہیں دیا۔
کاجل کے والد گنپت سینی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اور ان کی اہلیہ واقعے کے وقت گھر پر موجود نہیں تھے بلکہ گاؤں کے مضافات میں ایک جھونپڑی میں مویشیوں کی حفاظت کے لیے رات گزار رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ وہ اپنی بیٹی کے قتل پر افسردہ ہیں۔
انڈیا میں ہندو مسلم شادی: ’ہمیں محبت کی سزا دی جا رہی ہے‘’گھر والوں کو منانے کی کوشش کی لیکن وہ ہندو مرد سے شادی کے خلاف تھے‘انڈیا میں ’محبت کے اصول‘ توڑنے والوں کے لیے نیا قانون باعثِ خطرہ’وہ کہتے ہیں محبت اندھی ہوتی ہے، لیکن نفرت بھی اندھی ہوتی ہے‘
ارمان کے بڑے بھائی فرمان علی کے مطابق ارمان 18 جنوری کی رات کھانے کے بعد گھر سے نکلے اور کہا کہ وہ والدین کے لیے ادویات لینے جا رہے ہیں۔ اگلی صبح جب وہ واپس نہ آئے اور فون بھی بند تھا تو اہل خانہ پریشان ہو گئے اور پولیس کو اطلاع دی جس کے بعد گاؤں میں سرچ آپریشن شروع ہوا۔
پولیس کا الزام ہے کہ کاجل کے بھائیوں نے تفتیش کو آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی اور 20 جنوری کو کاجل کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی جس میں ارمان پر اغوا کا الزام لگایا گیا۔
تاہم دونوں خاندانوں سے پوچھ گچھ کے دوران بھائیوں کے بیانات میں تضادات سامنے آئے جس کے بعد مزید تحقیقات کی گئیں اور وہ مقام ڈھونڈ نکالا جہاں دونوں کی لاشیں دفن کی گئی تھیں۔
گنپت سینی نے بتایا کہ جب وہ اور ان کی اہلیہ 19 جنوری کی صبح گھر واپس آئے تو کاجل موجود نہیں تھی۔ انھیں قتل کے بارے میں بعد میں پتہ چلا جب لاشیں برآمد ہوئیں۔ تاہم انھوں نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ آیا وہ یا ان کے اہل خانہ کاجل اور ارمان کے تعلق سے آگاہ تھے یا نہیں۔
ارمان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ اس رشتے سے لاعلم تھے۔ فرمان علی نے کہا کہ ’انھوں نے ہمیں کبھی کچھ نہیں بتایا۔ جب وہ ایک دن تک واپس نہ آیا تو اس کے کچھ دوستوں نے بتایا کہ وہ تقریباً دو ماہ سے کاجل سے مل رہا تھا۔‘
گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ تنازعات عام طور پر منتخب پنچایت رہنماؤں کی مدد سے حل کیے جاتے ہیں۔ ایک مقامی شخص مہی پال سینی نے کہا کہ ’اگر کاجل کے خاندان والے یہ معاملہ پنچایت میں لے جاتے تو وہ اس معاملے کو حل کرنے میں مدد کر سکتے تھے۔‘
BBC
پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے میں مذہبی تشدد کو روکنے کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ گاؤں والوں کے مطابق ان کی زندگی آہستہ آہستہ معمول پر واپس آ رہی ہے۔
کاجل اور ارمان کے قتل کے بعد گاؤں کے لوگ گہری سوچ میں مبتلا ہیں۔ اُمری کے ایک رہائشی عارف علی نے کہا کہ ’ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ہمارے گاؤں میں کوئی ایسا واقعہ پیش بھی آ سکتا ہے۔ یہاں اب کوئی بھی خطرے والی بات تو نہیں ہے مگر ہر جانب خاموشی طاری ہے۔‘
اُمری میں پیش آنے والا یہ واقعہ انڈیا میں دہائیوں سے رپورٹ ہونے والے مبینہ ’غیرت کے نام پر قتل‘ کے واقعات کی طویل فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ انڈیا میں 93 فیصد سے زیادہ شادیاں خاندانوں کے ذریعے اپنی ذات اور مذہب کے اندر طے کی جاتی ہیں اور جوڑے اگر اس روایت سے ہٹ کر فیصلہ کریں تو اکثر پولیس یا عدالت سے تحفظ حاصل کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
انڈیا میں قانون ’غیرت‘ کے نام پر قتل کو قتل ہی قرار دیتا ہے اور عدالتیں بارہا واضح کر چکی ہیں کہ بالغ افراد کا اپنی مرضی سے شریکِ حیات کا انتخاب یا شادی کا فیصلہ آئینی طور پر محفوظ اور اُن کا حق قرار دیا گیا ہے۔ سنہ 2018 میں سپریم کورٹ نے ریاستی حکومتوں کو ہر ضلع میں ایسے ’سیف ہاؤسز‘ قائم کرنے کا کہا تھا کہ جہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے جوڑے اپنے آپ کو محفوظ تصور کر سکیں۔ تاہم اس کے باوجود مختلف ریاستوں سے ایسے پرتشدد واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔
تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر انڈین عوام مختلف مذاہب میں شادیوں کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ کئی ریاستوں میں مذہب کی تبدیلی کے خلاف متنازع قوانین بھی ایسے جوڑوں کو مستقل دباؤ میں رکھتے ہیں۔
فلم ساز نکُل سنگھ ساونی جنھوں نے سنہ 2012 میں اس موضوع پر دستاویزی فلم بنائی تھی کہتے ہیں کہ غیرت کے نام پر قتل کے سرکاری اعداد و شمار ناکافی ہیں۔ ان کے مطابق ’زیادہ تر کیسز سرکاری ریکارڈ میں شامل ہی نہیں ہوتے جب تک کہ پولیس رپورٹ کے ابتدائی مرحلے میں مقصد واضح نہ ہو اور کئی بار غیرت کے نام پر قتل کا پہلو بعد میں تحقیقات کے دوران سامنے آتا ہے۔‘
انسانی حقوق کی کارکن کویتا سریواستو کا کہنا ہے کہ ’ان جرائم کے پیمانے کو تسلیم نہ کرنے کی وجہ سے سرکاری بے حسی بڑھتی ہے۔‘ ان کے مطابق ’جب مسئلہ نظر ہی نہیں آتا تو اس پر عمل بھی نہیں ہوتا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جیسے خواتین اپنے شریکِ حیات کے انتخاب کے حق پر زور دے رہی ہیں انھیں ایک انتہائی سخت سماجی طرزِ عمل یا برتاؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
کویتا سریواستو کے مطابق صرف عدالتی احکامات غیرت کے نام پر قتل کو نہیں روک سکتے جب تک کہ وسیع تر سماجی رویوں میں تبدیلی کی کوشش نہ کی جائے۔
’تین کروڑ روپے کی انشورنس‘: سکول میں لیبارٹری اسسٹنٹ کی سانپ کے کاٹنے سے موت مگر بیٹے گرفتار’وہ کہتے ہیں محبت اندھی ہوتی ہے، لیکن نفرت بھی اندھی ہوتی ہے‘نو سال سے فرار بیوی کا قاتل جسے پولیس نے ایک بسکٹ کے پیکٹ کی مدد سے پکڑاانڈیا میں ’محبت کے اصول‘ توڑنے والوں کے لیے نیا قانون باعثِ خطرہ’گھر والوں کو منانے کی کوشش کی لیکن وہ ہندو مرد سے شادی کے خلاف تھے‘انڈیا میں ہندو مسلم شادی: ’ہمیں محبت کی سزا دی جا رہی ہے‘