خیبرپختونخوا میں لڑکیوں کے کالجز میں تقریبات کے دوران موسیقی، رقص اور موبائل فون پر پابندی کیوں عائد کی گئی؟

بی بی سی اردو  |  Feb 04, 2026

خیبر پختونخوا کے محکمہ اعلی تعلیم نے لڑکیوں کے کالجز کے بارے میں ایک نوٹیفیکیشن میں ویلکم پارٹیز اور اس طرح کی دیگر سرگرمیوں کے دوران موسیقی، رقص اور فیشن شوز پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی تقریبات میں موبائل فون کی اجازت نہیں ہو گی۔

یہ نوٹیفیکیشن ڈائریکیٹوریٹ آف ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے جاری کیا گیا اور اس میں کہا گیا ہے کہ کالجز کے لیے جاری ایس او پیز (سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز ) پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیوں میں طالبات اپنے یونیفارم میں شریک ہوں گی۔

عام طور پر کالجز اور یونیورسٹیز میں تعلیمی سرگرمیوں کے علاوہ ایک یا دو ایسی سرگرمیاں منعقد ہوتی ہیں جن میں نئے آنے والے طلبا اور طالبات کو خوش آمدید کہا جاتا ہے اور تعلیم مکمل کر کے جانے والے طلبہ کے لیے فیئر ویل پارٹی کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ سپورٹس گالا کی تقریب بھی منعقد ہوتی ہے اور ان میں طالبات اور طلبا یونیفارم کے علاوہ دیگر لباس پہننے کو ترجیج دیتے ہیں تاہم اب اس پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یہ نوٹیفیکیشن سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اس بارے میں ملا جلا ردِعمل سامنے آیا اور مختلف سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔

جیسے کہ اس نوٹیفیکیشن کی ضرورت کیوں پیش آئی، اس کے علاوہ یہ بھی پوچھا جا رہا ہے کہ یہ پابندی صرف خواتین کالجز پر کیوں عائد کی گئی اور لڑکوں کے کالجز پر پابندی کیوں نہیں؟

اس بحث میں جانے سے قبل دیکھتے ہیں کہ نوٹیفیکیشن میں کیا کہا گیا۔

نوٹیفیکیشن میں کیا کہا گیا؟

یہ نوٹیفیکیشن اگرچہ گذشتہ ماہ جاری کیا گیا تھا تاہم سوشل میڈیا پر یہ اب وائرل ہوا۔

اس نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ خواتین کالجز میں ویلکم پارٹی،، فیئر ویل پارٹی، سپورٹس گالا، کلچرل فنکشنز اور اس طرح کی دیگر سرگرمیوں کے لیے پہلے سے موجود ایس او پیز پر عمل درآمد ضروری ہے۔

یہ نوٹیفیکیشن صوبے کے تمام ریجنل ڈائریکٹوریٹس اور دیگر متعلقہ دفاتر کو بھیجا گیا ہے۔

اس نوٹیفیکیشن میں کہا گیا کہ:

ایسی تمام سرگرمیاں جن میں موسیقی، رقص، ماڈلنگ یا اسی نوعیت کی دیگر پرفارمنسز شامل ہوں، سختی سے ممنوع ہیں۔کالج اوقات کار اور تقریبات کے دوران طالبات کے لیے موبائل فون کا استعمال مکمل طور پر ممنوع ہو گا۔تمام طالبات کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ ایسی تقریبات میں شرکت کے دوران کالج یونیفارم پہنیں۔طالبات کی حفاظت اور پردے کو یقینی بنانے کے لیے سخت سکیورٹی اور نگرانی کے انتظامات کیے جائیں گے۔کسی بھی تقریب کی ویڈیوز یا تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر نہیں کی جائیں گی۔تمام تقریبات کو مقامی ثقافتی اور سماجی اقدار کے مطابق منعقد کیا جائے۔یہ ہدایات کیوں جاری کی گئی ہیں؟

اس بارے میں ڈائریکٹر ہائر ایجوکیشن خیبر پختونخوا ڈاکٹر فرید اللہ شاہ کا کہنا تھا کہ ’بنیادی طور پر یہ ایس او پیز تو پہلے سے موجود ہیں لیکن اب یہ یاد دہانی کے طور پر جاری گئی ہیں کیونکہ کالجز میں نئی تعیناتیاں ہوئی ہیں اور ان کالجز میں ان ایس او پیز کا خیال نہیں رکھا جاتا اس لیے یہ نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ صرف خواتین کے کالجز کے لیے ہی یہ نوٹیفیکیشن کیوں جاری کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ ایس او پیز بوائز کالجز پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لڑکوں کے کالج کے لیے بھی نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے گا۔

فرید اللہ شاہ سے جب پوچھا کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی تو انھوں نے کہا کہ ’حال ہی میں کچھ ایسی ویڈیوز سامنے آئی ہیں جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور ان پر والدین اور دیگر افراد کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہو سکتا ہے کہ پانچ فیصد لوگوں کو ان کی ویڈیوز منظر عام پر آنے پر کوئی اعتراض نہ ہو لیکن پچانوے فیصد لوگوں نے اس پر اعتراض کیا۔‘

باجوڑ ایجنسی میں خواتین کی سیاحت پر جے یو آئی (ف) کی طرف سے پابندی’نظر انداز کیے جانے کا احساس انتقام کو جنم دے سکتا ہے‘: کیا موبائل فون کا استعمال آپ کے رشتے خراب کر رہا ہے؟’یہاں خاتون امیدوار جلسہ نہیں کر سکتی‘خواتین کو دھمکاتی کابل کی دیواریں: ’خوشبو لگا کر مردوں کے پاس سے گزرنے والی عورت زانی ہے‘

فرید اللہ شاہ نے کہا کہ جب ایک ویڈیو وائرل ہوتی ہے تو والدین پھر ان سے جواب طلب کرتے ہیں اور انھیں اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

فرید اللہ شاہ کا کہنا تھا کہ ’ایسا ہرگز نہیں کہ اخلاق کے دائرے میں منعقد ہونے والی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے صرف ایسی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہے جو یہاں کے کلچر اور روایات کے خلاف ہوں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ایک گرلز کالج میں چند دن پہلے ایک مشاعرہ منعقد ہوا تھا اور اس میں کوئی ایسی بات نہیں تھی۔‘

فرید اللہ شاہ نے کہا کہ ان ایس او پیز میں موبائل فون پر بھی پابندی عائد کی گئی ’کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہر کوئی موبائل فون سے ریکارڈنگ کر رہا ہوتا ہے اور پھر ویڈیوز سوشل میڈیا پر آجاتی ہیں جس سے ان بچیوںاور ان کے خاندان کے لیے مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ یہ سرگرمیاں ایک کنٹرول ماحول میں ہوں جہاں کوئی ایسی بات نہ ہو جس سے مشکل پیدا ہو جائے۔‘

وائرل ویڈیوز

گذشتہ چند ماہ کے دوران تعلیمی اداروں میں ہونے والی سرگرمیوں کے دوران موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھیں جن پر کافی تنقید بھی کی گئی تھی۔

ایسی ہی ایک ویڈیو گذشتہ ماہ یونیورسٹی آف پشاور کے انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کی ایک تقریب کی تھی۔

پشاور یونیورسٹی کے ترجمان محمد نعمان خان نے بتایا کہ ’یہ انسٹیٹیوٹ کے سٹوڈنٹس کی ایک تقریب تھی اور چونکہ اس میں بڑی تعداد میں سٹوڈنٹ موجود تھے اور اس کی ویڈیو بنائی گئی تھی جو وائرل ہو گئی تھی۔‘

اس بارے میں یونیورسٹی کی جانب سے کمیٹی قائم کی گئی اور اس کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے جے آئی ٹی قائم کی گئی لیکن اب تک ان کی رپورٹس سامنے نہیں آئی ہیں۔

اسی طرح دسمبر 2024 میں گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان میں سٹوڈنٹس کی ایک تقریب میں دو لڑکوں نے سٹیج پر رقص کیا تھا جس میں ایک لڑکے نے لڑکی کا حلیہ اختیار کیا تھا۔ ان کی یہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے اس پر کارروائی کرتے ہوئے منتظمین میں شامل دو اساتذہ کو معطل کر دیا تھا۔

https://twitter.com/farzanaalispark/status/2018217083897520308?s=20

سوشل میڈیا اور تعلیمی حلقوں کا ردِعمل

اس نوٹیفیکیشن کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا۔ بیشتر خواتین نے اس پابندی پر سخت ردِعمل کا اظہار کیا جبکہ کچھ طالبات نے اس بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔

لائبہ خان اس بی ایس کی طالبہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’یہ پابندی صرف لڑکیوں پر ہی کیوں عائد کی گئی، اس نوٹیفیکیشن میں لڑکوں کے کالجز کا ذکر بھی ہونا چاہیے تھا۔‘

ہیلتھ انسٹیوٹ میں زیر تعلیم طالبہ رمشہ خان کا کہنا تھا کہ ’اگر اتنا ہی ضروری ہے تو موبائل فون پر پابندی عائد کر دی جاتی مگر اب تو ان سرگرمیوں پر ہی پابندی عائد کر دی گئی۔ اگر ایک لڑکی کی ویڈیو وائرل ہونے پر یہ پابندی عائد کر دی گئی ہے تو اس کی سزا سب لڑکیوں کو کیوں دی جاتی ہے؟‘

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار فرزانہ علی نے اپنے ایکس اکاونٹ پر نوٹیفکیشن پوسٹ کیا تو اس پر لوگوں نے اپنے اپنے طور پر ردعمل کا اظہار کیا۔

فرزانہ علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی اس پوسٹ پر خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے ’بیشتر لوگوں نے اس نوٹیفیکیشن کو مثبت عمل قرار دیا اور کہا کہ چونکہ موبائل فون اب ہر کسی کے پاس ہوتا ہے اور ذرا سی بات سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتی ہے اس لیے ایسے فنکشنز میں موبائل فون پر پابندی بہتر ہے۔‘

فرزانہ علی کی ٹویٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک خاتون حمیرہ نے لکھا کہ ’خواتین کے سانس لینے پر بھی پابندی لگا دیں، خواتین صرف آپس میں بھی کوئی موسیقی وغیرہ نہ سن سکیں۔ حد ہو گئی ہے۔ یہ پابندیاں مردوں پر بھی لگائیں۔‘

نیشنل ڈیموکرٹیک پارٹی کی رہنما بشری گوہر نے لکھا کہ ’حکومت کو یہ پابندی عائد کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی اور کیا یہ پابندی صرف خواتین کے لیے ہے اور کیا حکومت نے طالبان سوچ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔‘

ایک صارف شاہد عباسی نے اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’حالیہ عرصہ میں جس طرح کے مناظر میڈیا سکرینز پر آتے رہے ہیں ان کے تناظر میں سٹوڈنٹس کے تحفظ کے لیے یہ مناسب اقدام لگتا ہے۔‘

کچھ لوگوں نے اس نوٹیفیکیشن کو بہتر فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ اس سے تعلیمی اداروں میں ڈسپلن آئے گا۔

سعدیہ ایک سکول ٹیچر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تعلیمی اداروں میں جس طرح کے حالات پیدا ہو گئے ہیں اور ہر کسی کے پاس موبائل فون آ گئے ہیں تو ایسے میں ان پر پابندی ہونی چاہیے۔‘

خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی منزہ حمید کالجز میں خواتین کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پابندی سے مسائل کا حل نہیں نکالا جا سکتا اس کے لیے تعلیمی اداروں کو خود اقدامات کرنا ہوں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اس پابندی سے طالبات کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔‘

اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے پروفیسر شاہ نواز نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’نصابی سرگرمیوں کے علاوہ غیر نصابی سرگرمیوں سے طالبات کی شخصیت میں نکھار آتا ہے اور تعلیمی اداروں میں صرف کتاب پڑھنا ہی نہیں ہوتا بلکہ تعلیمی اداروں میں شخصیت سازی ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس پابندی کے اثرات کوئی بہتر نہیں ہوں گے کیونکہ اس طرحکی سرگرمیوں سے ان کے کردار میں خوبصورتی آتی ہے۔‘

باجوڑ ایجنسی میں خواتین کی سیاحت پر جے یو آئی (ف) کی طرف سے پابندی’یہاں خاتون امیدوار جلسہ نہیں کر سکتی‘مہمند: ’یہ قتل نہیں، سیلف ڈیفینس کا واقعہ ہے‘خواتین کو دھمکاتی کابل کی دیواریں: ’خوشبو لگا کر مردوں کے پاس سے گزرنے والی عورت زانی ہے‘’نظر انداز کیے جانے کا احساس انتقام کو جنم دے سکتا ہے‘: کیا موبائل فون کا استعمال آپ کے رشتے خراب کر رہا ہے؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More