Getty Images
حکومت پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے 12 شہروں میں ہونے والے حملوں میں اب تک کم از کم 37 شدت پسند اور 10 اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں تاہم سکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سنیچر کو جوابی کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کی تعداد 67 ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق گذشتہ روز پنجگور اور شابان میں مختلف کارروائیوں میں 41 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا، جس کے بعد دو روز میں ہلاک کیے جانے والے شدت پسندوں کی تعداد 108 ہو گئی۔
بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق سنیچر کو ہونے والے حملوں میں 17 عام شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم تاحال حکام نے سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں کی۔
مقامی پولیس اہلکار کے مطابق خاران میں ملازئی قومی اتحاد کے چیئرمین میر شاہد گل ملازئی کے گھر پر ہونے والے حملے میں شاہد گل سمیت سات افراد جان کی بازی ہار گئے۔ پولیس کے مطابق اُن کے گھر اور گاڑی کو بھی نذرِ آتش کر دیا گیا۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ گوادر میں ہونے والے حملے میں خضدار سے تعلق رکھنے والے خاندان کے 11 افراد کو ہلاک کیا گیا، ان میں تین خواتین اور تین بچے بھی شامل ہیں۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف شہروں میں دہشتگردوں کے حملوں کو ناکام بنا دیا گیا۔ کوئٹہ کے علاوہ مستونگ، پسنی، گوادر، خاران، نوشکی اور مچھ میں دہشت گردوں نے حملے کیے ہیں، جن کی سرکاری سطح پر تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔
بلوچستان میں 10 لاشوں کی برآمدگی کا معمہ: ’ہم پر غم کے پہاڑ گرا دیے گئے‘زبیر بلوچ: دالبندین میں ’سکیورٹی فورسز کے آپریشن‘ میں مارے جانے والے وکیل کون تھے؟حب میں جبری گمشدگیوں پر اہلِ خانہ کا احتجاج، ’ہانی بلوچ آٹھ ماہ سے حاملہ ہیں، انھیں اس وقت علاج کی ضرورت ہے‘بلوچستان میں لیویز کا پولیس میں انضمام: پولیسنگ کا 140 سال پرانا قبائلی نظام کیوں ختم کیا جا رہا ہے؟
بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق کوئٹہ میں سنیچر کی صبح چھ بجے کے بعد حملوں کا آغاز ہوا اور دہشت گردوں نے سریاب روڈ اور ہزار گنجی سے لے کر ریڈ زون کے قریب ایدھی چوک کے علاقوں میں حملے کیے۔
دوسری جانب مستونگ جیل پر ہونے والے حملے کے دوران 27 قیدی جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ نوشکی میں ڈپٹی کمشنر کے گھر پر ہونے والے حملے کے دوران اُنھیں یرغمال بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
بلوچستان کے ضلع پسنی میں ایک خاتون خود کش حملہ آور کی جانب سے میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے دفتر پر حملے کی بھی اطلاع موصول ہوئی تاہم حکام نے یہاں ہونے والے نقصانات کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
کالعدم علیحدگی پسند گروہ بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ایک بیان میں ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے ’آپریشن ہیروف‘ کا دوسرا مرحلہ قرار دیا ہے۔
اگست سنہ 2024 میں بھی اسی نوعیت کے منظم حملے دیکھنے میں آئے تھے۔ ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی یعنی بی ایل اے نے قبول کی تھی اور ایک بیان میں اس کارروائی کو ’آپریشن ہیروف‘ کا نام دیا تھا۔
’کوئٹہ کے اندر حملے پیغام ہے کہ ہم جہاں چاہیں آ سکتے ہیں‘
واضح رہے کہ بلوچستان کے مختلف شہروں میں ہونے والے حالیہ منظم حملے پہلا موقع نہیں جب صوبے کے مختلف شہروں میں بیک وقت مسلح افراد داخل ہوئے، پولیس کو نشانہ بنایا گیا، سرکاری اور سکیورٹی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہو اور خود کش حملے بھی کیے گئے ہوں۔
تاہم حالیہ حملوں میں پہلی مرتبہ یہ دیکھنے میں آیا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے اندر بھی ہوئی ہیں۔ کوئٹہ کے اندر ایک علاقے میں علی الصبح ایک زوردار دھماکہ سنائی دیا جس کے بعد شہر کے ریڈ زون کو سیل اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
کوئٹہ کو نسبتاً محفوظ تصور کیا جاتا ہے اور شہر کو محفوظ بنانے کے لیے اس کے اردگرد سکیورٹی چیک پوسٹس وغیرہ کی مدد سے حصار قائم کیا گیا ہے۔ شہر کے اندر بھی مختلف مقامات پر چیک پوسٹس موجود ہیں۔
کوئٹہ کے اندر حالیہ حملے کیا یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ کوئی سکیورٹی یا انٹیلیجنس کا نقص ہو سکتا ہے۔
BBC
محمد شعیب اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے شعبے سے منسلک ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے شہر اس قدر زیادہ پھیل چکے ہیں کہ اس نوعیت کا ’فیلیئر‘ کہیں بھی حتیٰ کہ اسلام آباد میں بھی ہو سکتا ہے۔
ان کے خیال میں اس کے برعکس جتنی جلدی حملہ آور مارے گئے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکورٹی ادارے زیادہ بہتر طور پر تیار تھے۔
’جتنی جلدی ویڈیوز اور تصاویر سامنے آئیں اس سے لگتا ہے کہ سکیورٹی فورسز اس کے فال آوٹ کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے پہلے والے حملوں سے کچھ سبق سیکھا اور وہ شاید اس طرح کے حملوں کے لیے تیار تھے۔‘
تاہم محمد شعیب کہتے ہیں کہ ایسا واقعتاً پہلی مرتبہ دیکھنے میں آیا کہ یہ حملے صوبائی دارالحکومت کے اندر تک ہوئے جو ایک بڑی پیشرفت ہے۔
’کوئٹہ میں ان کا آنا بڑی سٹیٹمنٹ ہے۔ یہ ان کی طرف سے ایک پیغام ہے کہ ہم جہاں چاہیں آ سکتے ہیں۔ کوئٹہ کے باہر سے لوگ اس کی توقع نہیں کر رہے ہوتے۔ کوئٹہ کی سکیورٹی کو نسبتاً مضبوط تصور کیا جاتا ہے۔‘
محمد شعیب کہتے ہیں کہ حالیہ حملوں میں مختلف شہروں میں جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا، ان کا مشاہدہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر ضلع میں زیادہ تر بڑے حکومتی اور سکیورٹی اداروں کے دفاتر اور عمارتوں کو ٹارگٹ کیا گیا۔
تاہم محمد شعیب کے خیال میں کوئٹہ تک ان حملوں کا پہنچنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسے حملے کرنے والوں کی حمایت عام آدمی تک سرایت کر چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’اس موومنٹ کا اتنے لمبے عرصے تک چل جانا ہی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ معاملہ زیادہ پیچیدہ ہے۔‘
ان کے خیال میں بلوچستان میں سکیورٹی کا سب سے بڑا چیلنج سیاسی ہے۔ ’آپ کو دل اور دماغ جیتنے ہیں۔ صرف لڑائی نہیں کرنی۔ لڑائی تو آخری چارہ ہونا چاہیے۔‘
’کوئٹہ تک اتنے منظم حملے مقامی حمایت کے بغیر کرنا ناممکن ہیں‘Getty Images
دوست محمد بریچ بلوچستان میں مقیم تجزیہ کار ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگست 2024 میں ہونے والے گزشتہ حملوں کی طرح حالیہ حملے بھی منظم اور بڑے پیمانے پر تھے اور یہ پہلی مرتبہ کوئٹہ تک پہنچتے بھی دکھائی دیے۔
وہ بھی اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں کہ ’کوئٹہ تک اتنے منظم حملے مقامی حمایت کے بغیر کرنا ناممکن ہیں۔ مقامی لوگوں کی ہمدردیاں ملے بغیر اتنے بڑی پیمانے پر حملے کرنا ممکن نہیں۔‘
دوست محمد بریچ بھی اس خیال سے بھی متفق ہیں کہ ریاست کے لیے بڑا چیلنج مقامی لوگوں کے دل و دماغ جیتنا ہے۔
’اگر بڑے پیمانے پر آپریشن ہوں گے تو لوگوں کی شکایات بڑھیں گی۔ ایک گوریلا وار کے اندر لوگ یا عام آدمی کی حمایت ہی اصل انعام یا جیت ہے۔‘
وہ سمجھتے ہیں کہ ریاست عام آدمی کا دل و دماغ جیتنے کی کوشش کر بھی رہی ہے تاہم یہ وقت طلب کام ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے نچلی سطح تک پہنچایا جائے۔
انھوں نے بتایا کہ مثال کے طور پر صوبائی حکومت نے جو اقدامات کیے ہیں ان میں بلوچستان سپیشل ڈویلپمنٹ، بلوچستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ، بلوچستان یوتھ پالیسی 2024، بینظیر سکالرشپ اور بلوچستان کے لیے ٹیکنیکل اور فنی تعلیم کے ادارے کے قیام جیسی چیزیں شامل ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں ایک ہی میٹروپولیٹن شہر یعنی کوئٹہ ہے۔
’اگر مزید اربن سینٹر بنیں گے تو توجہ کا مرکز صرف کوئٹہ نہیں ہو گا اور لوگوں کے مسائل کے حل کے لیے کیے جانے والی کوششیں کوئٹہ سے باہر بھی پہنچ پائیں گی اور نظر بھی آئیں گی۔‘
تجزیہ نگار دوست محمد بریچ سمجھتے ہیں کہ حالیہ حملے ایک اور زاویے کو بھی ظاہر کرتے ہیں جو قیمتی پتھروں کی موجودگی ہے۔ ان کے خیال میں دنیا کی دونوں بڑی طاقتوں امریکہ اور چین کی نظریں ان قیتمی پھتروں اور معدنیات پر مرکوز ہیں۔
اور سامنے آنے والی چند حالیہ ویڈیوز یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کالعدم بی ایل اے اس طرح کی کارروائیوں سے یہ پیغام ان طاقتوں کو بھی دینا چاہتی ہے کہ بلوچستان کے قیمتی پتھروں اور معدنیات تک رسائی ان کی مرضی کے بغیر نہیں ہو گی۔
’پڑھے لکھے لوگ پرانے جنگجووں کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں‘
قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ انٹرنیشنل ریلیشنز کے معلم محمد شعیب کہتے ہیں کہ ریاست کے لیے ایک چیلنج یہ بھی ہے کہ علیحدگی پسند تحریکیں بھی ان دنوں سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہیں جہاں وہ قوم پرستی وغیرہ کا پرچار کرتی نظر آتی ہیں۔
اس سے متاثر ہو کر متوسط طبقے کے پڑھے لکھے لوگ ان کے ساتھ چلے جاتے ہیں۔ محمد شعیب کے خیال میں یہ پڑھے لکھے لوگ پرانے جنگجووں کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں کیونکہ یہ نظریاتی طور ہر متحرک ہوتے ہیں۔
’پرانے جنگجنووں کے مقابلے جو بس بندوق اٹھا کر آ جاتے تھے لڑنے کے لیے، یہ پڑھے لکھے جنگجو ہتھیاروں اور مواد کے استعمال میں بھی زیادہ ہوشیار ہیں۔‘
محمد شعیب کہتے ہیں کہ ریاست بظاہر بلوچوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہے تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ان کے مسائل کی نوعیت کو سمجھا جائے۔ یہ دیکھنے کی بھی ضرورت ہے کس قسم کے لوگ تحریک میں جا رہے ہیں۔
’مقامی مسائل کے حل بھی مقامی ہونے چاہیے۔ مرکز کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ دور سے بیٹھ کر بلوچستان کے مسائل کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا ہے جو بہت مشکل ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اظہار رائے کی آزادی کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کو معلوم ہوتا رہتا ہے کہ لوگوں کو کیا شکایات ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ریاست کو بلوچستان میں اس اظہار کے لیے مزید پلیٹ فارمز دینے کی بھی ضرورت ہے جو بنیادی طور پر مقامی نوعیت کے ہوں۔
’ایک بچے کے جانے سے ساری زندگی بدل گئی‘: پاکستان میں 2025 ایک دہائی کا سب سے خونی سالنوکُنڈی میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی: ’یہ ایک خوفناک رات تھی‘جعفر ایکسپریس پر حملہ کیسے ہوا؟ شدت پسندوں سے لڑنے والے پولیس اہلکار کے مغوی بننے سے فرار تک کی کہانی’ایسی مٹھائی کھلاؤں گا کہ زندگی بھر یاد رکھو گے‘: وہ وکیل جو دوستوں کے ساتھ خوشی منانے کے بعد اسلام آباد میں خودکش حملے کا نشانہ بن گئے