EPA
امریکہ آئندہ چند دنوں میں ایران پر حملہ کرنے کے قریب دکھائی دیتا ہے۔ ممکنہ اہداف تو بڑی حد تک قابلِ اندازہ ہیں لیکن نتائج نہیں۔
لہٰذا اگر تہران کے ساتھ آخری لمحے میں کوئی معاہدہ نہ ہو سکا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی افواج کو حملے کا حکم دے دیں تو اس کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟
1- جمہوریت کی طرف منتقلی
امریکی فضائی اور بحری افواج محدود اور درست حملے کرتے ہوئے اپنا ہدف ایران کی پاسداران انقلاب کے فوجی اڈے، اس کے ماتحت نیم فوجی دستہ بسیج، بیلسٹک میزائل لانچ اور ایران کے جوہری پروگرام کو رکھیں گی۔
ایک پہلے سے کمزور حکومت گرتی ہے تو یو پھر بالآخر ایک حقیقی جمہوریت کی طرف منتقلی ہو سکے گی، جہاں ایران دوبارہ دنیا کے ساتھ شامل ہو سکتا ہے۔
یہ ایک نہایت پرامید منظرنامہ ہے لیکن عراق اور لیبیا میں مغربی فوجی مداخلت جمہوریت کی ہموار منتقلی نہیں لا سکی۔ اگرچہ اس نے دونوں ممالک میں ظالمانہ آمریتوں کا خاتمہ کیا لیکن اس کے نتیجے میں کئی برسوں تک افراتفری اور خونریزی دیکھنے میں آئی۔
شام، جہاں عوام نے اپنی ہی بغاوت کے ذریعے 2024 میں صدر بشار الاسد کو مغربی فوجی مدد کے بغیر ہٹایا، اب تک نسبتاً وہاں بہتر حالات ہیں۔
2- حکومت بچ جاتی ہے مگر پالیسیوں میں نرمی لے آتی ہے
اسے ’وینیزویلا ماڈل‘ کہا جا سکتا ہے، جس کے تحت امریکہ کی تیز اور طاقتور کارروائی حکومت کو برقرار رکھتی ہے لیکن اس کی پالیسیوں میں نرمی آ جاتی ہے۔
ایران کے معاملے میں اس کا مطلب یہ ہو گا کہ حکومت قائم رہے گی، جو بڑی تعداد میں ایرانی عوام کو مطمئن نہیں کرے گی لیکن اسے مجبوراً مشرقِ وسطیٰ میں پرتشدد ملیشیاؤں کی حمایت کم کرنی پڑے گی، اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو روکنا یا محدود کرنا ہوگا اور مظاہروں کو کچلنے میں بھی نرمی لانا ہوگی۔
یہ منظرنامہ بھی زیادہ غیر ممکنہ سمجھا جاتا ہے۔ ایران کی قیادت گذشتہ 47 برس سے مزاحمت کرتی آئی ہے اور تبدیلی کے لیے تیار نہیں رہی۔ اب بھی اس کے راستہ بدلنے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔
Getty Images3- حکومت گر جاتی ہے اور اس کی جگہ فوجی حکومت قائم ہو جاتی ہے
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ سب سے زیادہ ممکنہ نتیجہ ہو سکتا ہے۔
اگرچہ حکومت عوام میں غیر مقبول ہے اور برسوں سے جاری ہر نئی احتجاجی لہر اسے مزید کمزور کرتی ہے لیکن ایک وسیع اور طاقتور سکیورٹی ڈھانچہ موجود ہے جو موجودہ نظام کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔
اب تک احتجاجی تحریکیں حکومت کو گرانے میں اس لیے ناکام رہی ہیں کہ ان کی طرف کوئی بڑی تعداد میں انحراف نہیں ہوا جبکہ اقتدار پر قابض عناصر طاقت اور تشدد کے بے پناہ استعمال کے لیے تیار ہیں تاکہ اقتدار میں رہ سکیں۔
امریکی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری میں یہ بھی ممکن ہے کہ ایران ایک مضبوط فوجی حکومت کے زیرِ انتظام آ جائے، جو زیادہ تر پاسدارانِ انقلاب کے افراد پر مشتمل ہو۔
امریکہ سے تعلقات بگڑنے کا خوف اور مسلم دُنیا میں ساکھ کا مسئلہ: ایران کے معاملے پر اسلامی ممالک تقسیم کیوں ہیں؟انقلاب ایران اور دو ہنگامہ خیز ہفتوں کی کہانی: آیت اللہ خمینی کے امریکہ سے خفیہ روابط اور ’وعدوں‘ کی روداد’مظاہرین کے پاس ایم فور رائفل، واکی ٹاکیز بھی تھیں‘: پاکستان آنے والے افراد نے ایران میں کیا دیکھا؟ پرتشدد مظاہرے اور امریکی دھمکیاں: ’ایران میں حکومت پر شدید دباؤ مگر فوری تبدیلی خارج از امکان‘4- ایران جوابی کارروائی میں امریکی افواج اور پڑوسی ممالک پر حملہ کر دے
ایران نے کسی بھی امریکی حملے کے جواب میں جوابی کارروائی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس کی انگلی ٹریگر پر ہے۔‘
اگرچہ ایران امریکی بحریہ اور فضائیہ کی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن وہ اب بھی اپنے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذخیرے کے ذریعے حملہ کر سکتا ہے، جن میں سے کئی غاروں، زیرِ زمین یا دور دراز پہاڑی علاقوں میں چھپائے گئے ہیں۔
خلیج کے عرب حصے میں امریکی فوجی اڈے اور تنصیبات موجود ہیں، خاص طور پر بحرین اور قطر میں تاہم ایران اگر چاہے تو ان ممالک کے اہم ڈھانچے کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے جنھیں وہ امریکی حملے میں شریک سمجھتا ہے، جیسے اردن یا اسرائیل۔
سنہ 2019 میں سعودی آرامکو کی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر تباہ کن میزائل اور ڈرون حملہ، جسے عراق میں ایران نواز ملیشیا سے منسوب کیا گیا، نے سعودی عرب کو یہ دکھا دیا کہ وہ ایرانی میزائلوں کے سامنے کس قدر کمزور ہیں۔
ایران کے خلیجی عرب پڑوسی، جو سب امریکی اتحادی ہیں، بجا طور پر اس وقت شدید پریشانی میں ہیں کہ کسی بھی امریکی فوجی کارروائی کا نتیجہ بالآخر ان پر ہی الٹ سکتا ہے۔
5- ایران جوابی کارروائی میں خلیج میں بارودی سرنگیں بچھا دے
یہ خطرہ طویل عرصے سے عالمی بحری تجارت اور تیل کی فراہمی کے لیے موجود رہا ہے۔
عراق جنگ (1980-88) کے دوران جب ایران نے واقعی بحری راستوں میں بارودی سرنگیں بچھا دی تھیں اور برطانوی بحریہ کے مائن سوئیپرز نے انھیں صاف کرنے میں مدد دی تھی۔
ایران اور عمان کے درمیان واقع آبنائے ہرمز نہایت اہم گزرگاہ ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدات اور 20 سے 25 فیصد تیل اور اس کی مصنوعات ہر سال اسی راستے سے گزرتی ہیں۔
ایران نے تیزی سے سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی مشقیں کی ہیں۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو اس کا عالمی تجارت اور تیل کی قیمتوں پر ناگزیر اثر پڑے گا۔
6- ایران جوابی کارروائی میں امریکی جنگی جہاز کو تباہ کر دے
خلیج میں تعینات ایک امریکی بحری جہاز کے کپتان نے ایک بار مجھے بتایا کہ ایران کی طرف سے جس خطرے کی انھیں سب سے زیادہ فکر ہے وہ ’جھُنڈ کی شکل میں حملہ‘ ہے۔
اس سے مراد یہ ہے کہ ایران ایک یا کئی اہداف پر اتنے زیادہ بارودی ڈرونز اور تیز رفتار جنگی کشتیوں سے حملہ کرے کہ امریکی بحریہ کا طاقتور دفاعی نظام بھی بروقت سب کو ختم کرنے میں ناکام ہو جائے۔
پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے خلیج میں عرصہ پہلے روایتی ایرانی بحریہ کی جگہ لے لی تھی، جن کے بعض کمانڈروں کو شاہ کے دور میں ڈارٹ ماؤتھ میں تربیت بھی دی گئی تھی۔
ایرانی بحری عملہ اپنی زیادہ تر تربیت غیر روایتی یا ’غیر متوازن‘ جنگی حکمتِ عملی پر مرکوز رکھتا ہے تاکہ وہ امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کی تکنیکی برتری کو شکست دے سکے یا اس سے بچ نکلے۔
کسی امریکی جنگی جہاز کو تباہ اور اس کے عملے کے زندہ بچ جانے والے افراد کا ممکنہ طور پر گرفتار ہونا امریکہ کے لیے بڑی ذلت ہو گی۔
اگرچہ اس منظرنامے کو غیر ممکنہ سمجھا جاتا ہے لیکن اربوں ڈالر مالیت کے تباہ کن جہاز یو ایس ایس کول کو سنہ 2000 میں عدن کی بندرگاہ پر القاعدہ کے خودکش حملے نے شدید نقصان پہنچایا تھا، جس میں 17 امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔
اس سے پہلے سنہ 1987 میں ایک عراقی پائلٹ نے غلطی سے دو ایکزو سیٹ میزائل ایک امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس سٹارک پر داغ دیے تھے، جس میں 37 امریکی فوجی مارے گئے تھے۔
Anadolu via Getty Images7- حکومت گر جائے اور افراتفری پھیل جائے
یہ نہایت حقیقی خطرہ ہے اور قطر و سعودی عرب جیسے پڑوسی ممالک کی بڑی تشویش کا باعث ہے۔
خانہ جنگی کے امکان کے ساتھ ساتھ، جیسا کہ شام، یمن اور لیبیا میں دیکھا گیا، یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ افراتفری اور انتشار کے دوران نسلی کشیدگی مسلح تصادم میں بدل جائے جبکہ کرد، بلوچ اور دیگر اقلیتیں ملک گیر طاقت کے خلا میں اپنے لوگوں کے تحفظ کی کوشش کریں۔
مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر ممالک یقیناً اسلامی جمہوریہ کے خاتمے پر خوش ہوں گے، خاص طور پر اسرائیل، جو پہلے ہی ایران کے اتحادی گروہوں کو خطے میں سخت نقصان پہنچا چکا ہے اور ایران کے مشتبہ جوہری پروگرام سے خطرہ محسوس کرتا ہے۔
لیکن کوئی بھی نہیں چاہتا کہ مشرقِ وسطیٰ کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک تقریباً 93 ملین افراد، افراتفری کا شکار ہو جائیں اور ایک انسانی المیے اور پناہ گزینوں کا بحران جنم لے لے۔
سب سے بڑا خطرہ اب یہ ہے کہ صدر ٹرمپ، جو ایران کی سرحدوں کے قریب ایک طاقتور فوجی قوت جمع کر چکے ہیں، یہ فیصلہ کریں کہ انھیں کارروائی کرنی ہی ہو گی ورنہ اپنی ساکھ کھو دیں گے۔
اور یوں ایک ایسی جنگ شروع ہو جائے جس کا کوئی واضح انجام نہ ہو اور جس کے نتائج غیر متوقع اور ممکنہ طور پر نقصان دہ ہوں۔
ایران پر ممکنہ حملہ ماضی سے کیسے مختلف ہو گا اور امریکہ کن اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے؟خون آلود چہرے اور ناقابل شناخت لاشیں: ایران میں ہلاک ہونے والے سینکڑوں مظاہرین کی تصاویر میں بی بی سی نے کیا دیکھا؟صدر ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے معاملے پر پیچھے کیوں ہٹے؟ایران کے ’روپوش‘ رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کا مستقبل کیا ہو گا؟’بیانیے کی جنگ‘: ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ’250‘ مساجد کیوں نذرِ آتش کی گئیں؟کیا انڈیا امریکی دباؤ میں چابہار بندرگاہ کے منصوبے سے پیچھے ہٹ رہا ہے؟