کوہستان کرپشن سکینڈل: نیب کے ساتھ چار ارب روپے کی پلی بارگین کے بعد ڈمپر ڈرائیور کی رہائی

بی بی سی اردو  |  Jan 30, 2026

Getty Images

صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے اپر کوہستان میں سرکاری محکمے سول اینڈ ورکس سے جڑے 40 ارب روپے سے زیادہ مالیت کے ایک سکینڈل میں چار ارب روپے کی پلی بارگین منظور ہونے پر احتساب عدالت نے ایک ملزم کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس کیس میں پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات حتمی مراحل میں ہیں۔ مقدمے میں گرفتار کیے گئے 30 ملزمان میں سے صرف ایک کو رہا گیا ہے جن کی رہائی پلی بارگین کے ذریعے ممکن ہوئی۔

نیب حکام کے مطابق سول اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ میں سابق ڈپمر ڈرائیور ممتاز نے چار ارب روپے کی پلی بارگین کی درخواست چیئرمین نیب کو دی تھی جو منظور کر لی گئی۔

پھر احتساب عدالت نے پلی بارگین کی توثیق کرتے ہوئے ممتاز کو رہا کرنے کا حکم دیا۔

خیال رہے کہ چیئرمین نیب نے چند روز پہلے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور انھیں بتایا کہ نیب نے سنہ 2025 میں چھ کھرب سے زیادہ کی ریکوری کی جو ریکارڈ ہے۔

’دو کروڑ روپے کی رقم پینٹ کے ڈبوں میں چھپائی گئی تھی‘

اس مقدمے کے مرکزی ملزم قیصر اقبال سول اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ میں بطور کلرک کام کرتے تھے۔ نیب حکام کے بقول ممتاز ان کے ’فرنٹ مین‘ تھے اور مرکزی ملزم نے ان کے نام پر ’بہت ساری جائیدادیں خرید رکھی تھیں۔‘

اس مقدمے میں سی اینڈ ڈبلیو محکمے کے علاوہ نینشل بینک، اکاؤٹیٹنٹ جنرل اور دیگر محکموں کے حاضر سروس ملازمین اور سویلین بھی شامل ہیں۔

قومی احتساب بیورو نے اس مقدمے میں 109 کے قریب اثاثوں کو بھی ضبط کیا جو اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان کی ملکیت ہیں۔

جو غیر منقولہ اثاثے منجمد کیے گئے ہیں نیب کے بقول ان کی مارکیٹ ویلیو ’17 ارب روپے سے زیادہ ہے۔‘

نیب کے مطابق ڈیڑھ ارب روپے سے زیادہ کی رقم اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان کی نشاندہی پر برآمد کی گئی تھی۔

جو اثاثے ضبط کیے گئے ان میں کمرشل پلازے، فلیٹس، گھر اور دکانیں شامل ہیں اور یہ جائیدادیں اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، ایبٹ آباد اور مانسہرہ میں ہیں۔

تخت پڑی، ملک ریاض اور ڈی ایچ اے: راولپنڈی کے جنگل پر ’قبضے‘ کی کہانینئے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ کون ہیں اور انھیں کن چیلنجز کا سامنا ہو گا؟رشوت، بدعنوانی اور بھتہ وصولی کے الزامات: سائبر کرائم سے نمٹنے کا پاکستانی ادارہ کن مشکلات کا شکار ہے؟20 لاکھ روپے کے لیے ’20 لیٹر پیٹرول کا کوڈ ورڈ‘: گوجرانوالہ کے ایک گھر پر چھاپہ جس کے بعد این سی سی آئی اے کے چار اہلکار گرفتار ہوئے

اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم قیصر اقبال نے چیئرمین نیب کو 14 ارب روپے کی پلی بارگین کی درخواست بھی بھجوائی ہوئی ہے جس پر ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

اہلکار کے مطابق نیب نے مرکزی ملزم قیصر اقبال کی اہلیہ کو بھی گرفتار کیا ہوا ہے اور اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے ملزمہ کی نشاندہی پر ’دو کروڑ روپے کی رقم بھی برآمد کی جو پینٹ کے ڈبوں میں چھپائی گئی تھی۔‘

پشاور ہائی کورٹ نے ملزمان کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں نیب کو اس مقدمے میں ان کے خلاف کارروائی روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔

نیب کی ٹیم کو اس مقدمے میں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر اعظم سواتی بھی تحقیقات کے لیے مطلوب ہیں لیکن وہ ابھی تک تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے جبکہ نیب کی ٹیم کی جانب سے انھیں سوالنامہ بھی بھجوایا گیا تھا۔

اعظم سواتی نے اس مقدمے میں گرفتاری سے بچنے کے لیے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست بھی دی تھی جوعدم پیروی کی وجہ سے مسترد کر دی گئی۔

وزارت داخلہ نے نیب کی درخواست پر اعظم سواتی کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ بیرون ملک سفر نہیں کرسکتے۔

نیب حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے اعظم سواتی کے وارنٹ گرفتاری جاری نہیں کیے بلکہ انھیں اس مقدمے کی تحقیقات کے لیے تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا کہا جا رہا ہے لیکن ابھی تک وہ پیش نہیں ہوئے۔

یہ معاملہ کب منظر عام پر آیا؟

اپر کوہستان میں کرپشن کا معاملہ صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آیا اور اس اجلاس میں اس علاقے میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں جو فنڈز جاری ہوئے تھے، اس کے تین آڈٹ پیرا کو زیر بحث لایا گیا۔

جب اس معاملے کی تحقیقات کے لیے آڈیٹر جنرل اور دیگر محکموں کے نمائندوں پر مشتمل افراد نے چھان بین کی تو معلوم ہوا کہ جن ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز جاری کیے گئے تھے وہ گراؤنڈ پر موجود ہی نہیں۔

اس معاملے میں پیشرفت سامنے آنے کے بعد نیب نے بھی تحقیقات شروع کر دیں۔

پارلیمنٹ سے قومی احتساب بیورو ایکٹ میں ترمیم کے بعد نیب کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاملے کی تحققیات کرنے کا مجاذ ہے جس میں 50 کروڑ سے زیادہ کی کرپشن کی گئی ہو۔

’جعلی ناموں سے تعمیراتی کمپنیاں‘

نیب کے ایک اہلکار کے مطابق اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے ملزمان نے جعلی ناموں سے کنسٹرکشن کمپنیاں بنائی ہوئی تھیں اور مختلف منصوبوں کی تعمیر کے لیے خود سے اور دیگر ملزمان کی مدد سے ٹینڈر حاصل کر لیے جاتے۔ پھر دستاویزات میں ان منصوبوں کی تکمیل ظاہر کرنے کے بعد جعلی بل بنا کر اربوں روپے کی رقم ڈسٹرکٹ اکاؤنٹ آفس سے حاصل کی گئی۔

نیب اہلکار کے مطابق ملزمان یہ کارروائیاں گذشتہ سات سال سے زیادہ عرصے سے کر رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ جن محکموں میں ترقیاتی کاموں کی مد میں اربوں روپے نکالے گئے ان میں محکمہ آباشی، پبلک ہیلتھ اور لوکل گورنمنٹ کے محکمے شامل ہیں۔

جبکہ حقیقت میں جن ترقیاتی منصوبوں کی مد میں یہ رقم حاصل کی گئی ان کا گراؤنڈ پر کوئی وجود ہی نہیں۔

بحریہ ٹاؤن: اربوں روپے کی چھ جائیدادوں کی نیلامی میں کیا ہوا؟نیب کے آٹھ کھرب کی ریکوری کے دعوے مگر ریکارڈ صرف 15 ارب کا، حقائق کیا ہیں؟رشوت، بدعنوانی اور بھتہ وصولی کے الزامات: سائبر کرائم سے نمٹنے کا پاکستانی ادارہ کن مشکلات کا شکار ہے؟نئے چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد بٹ کون ہیں اور انھیں کن چیلنجز کا سامنا ہو گا؟تخت پڑی، ملک ریاض اور ڈی ایچ اے: راولپنڈی کے جنگل پر ’قبضے‘ کی کہانی20 لاکھ روپے کے لیے ’20 لیٹر پیٹرول کا کوڈ ورڈ‘: گوجرانوالہ کے ایک گھر پر چھاپہ جس کے بعد این سی سی آئی اے کے چار اہلکار گرفتار ہوئے
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More