Getty Images
انڈیا کی مرکزی شہری ہوابازی کی وزارت نے بدھ کے روز مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے سے متعلق اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بارامتی ایئرپورٹ پر حد نگاہ کم ہونے کے باعث رن وے نظر نہیں آ رہا تھا اور اس دوران لینڈنگ کی کوشش ناکام ہو گئی۔
یاد رہے کہ انڈین ریاست مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار سمیت پانچ افراد بدھ کو بارامتی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے دوران طیارہ حادثے میں ہلاک ہوئے۔
اس چارٹر طیارے میں اجیت پوار کے ساتھ پائلٹ سمیت کپور، شمبھاوی پاٹھک، ودیپ جادھو اور پنکی مالی بھی موجود تھے۔
یہ طیارہ پونے کے قریب بارامتی ہوائی اڈے پر اترنے کی کوشش کے دوران گر کر تباہ ہوا تھا۔
حادثے کے بعد مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب اجیت پوار کے چچا اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے رہنما شرد پوار نے کسی بھی سیاسی سازش کے امکان کو رد کر دیا ہے اور اس حادثے کو مکمل طور پر اتفاقی قرار دیا ہے۔
انڈیا کی ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو (AAIB) نے تحقیقات کا آغازکر دیا ہے جبکہ متعلقہ حکام جائے وقوع کا جائزہ لے رہے ہیں۔
پونے کے ایس پی سندیپ سنگھ نے بدھ کے روز بتایا تھا کہ ’طیارہ (بدھ) صبح 8 بج کر 40 منٹ پر لینڈنگ سے پہلے ہی تباہ ہو گیا۔ طیارے میں پانچ افراد سوار تھے۔‘
اس حادثے کی ابتدائی معلومات سامنے آ چکی ہیں تاہم کئی سوالات اب بھی جواب طلب ہیں۔ اس مضمون میں انھی جواب طلب باتوں کو سامنے لایا ہے۔
کم حد نگاہ کے باوجود لینڈنگ کی کوشش کیوں کی گئیANIحادثے کے بعد انتظامیہ کے ساتھ مقامی لوگ بھی امدادی کارروائیوں کے لیے پہنچ گئے تھے
انڈیا کی مرکزی وزارت برائے شہری ہوا بازی کے وزیر کے رام موہن نائیڈو کے مطابق حادثے کے وقت بارامتی ہوائی اڈے پر حد نگاہ کم تھی۔
ڈی جی سی اے کے بیان میں کہا گیا کہ جس وقت جہاز لینڈنگ کے لیے اپروچ کر رہا تھا اس دوران پائلٹ نے ابتدا میں رن وے نہ نظر آنے کے خطرے کا اعلان کیا تاہم دوسری کوشش میں انھوں نے اعلان کیا کہ اب رن وے نظر آ رہا ہے۔
لینڈنگ کلیئرنس ملنے کے بعد طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔ اب یہاں سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ کیا موسم لینڈنگ کے لیے موزوں تھا یا جہاز کو کسی اور سمت موڑنا چاہیے تھا؟
لینڈنگ کلیئرنس کے بعد اچانک کیا ہوا؟ANIبدھ کی صبح تقریباً 8:45 بجے لینڈنگ کے دوران طیارہ گر کر تباہ ہوا
ڈی جی سی اے کے مطابق صبح 8:43 بجے طیارے کو رن وے 11 پر لینڈ کرنے کی کلیئرنس دی گئی، لیکن عملے کی جانب سے کوئی "ریڈ بیک" نہیں آیا۔ ایک منٹ بعد، 8:44 بجے، اے ٹی سی نے رن وے کے قریب آگ کے شعلے دیکھے۔ ملبہ رن وے کے دہلیز کے قریب بائیں جانب ملا۔ سوال یہ ہے کہ کلیئرنس کے بعد کنٹرول کیوں ختم ہوا؟ کیا کوئی سسٹم فیل ہوا یا ہنگامی صورت حال پیش آئی؟
ایل جے 45 طیارہ کتنا محفوظ ہے؟Reuters
حادثے کا شکار ہونے والا لیئر جیٹ 45 VT-SSK چارٹر طیارہ ممبئی سے بارامتی جا رہا تھا۔ ایل جے 45 ایک درمیانے سائز کا بزنس جیٹ ہے جسے Bombardier Aerospace نے بنایا۔ انڈیا میں تیز رفتار چارٹر پروازوں کے لیے اسے ترجیح دی جاتی ہے۔
یہ طیارہ دہلی کی وی ایس آر وینچرز ایوی ایشن کمپنی کا تھا جس کا مینوفیکچرنگ سال 2010 ہے۔ کمپنی کے پاس 17 طیارے ہیں اور بیڑے کا آخری آڈٹ فروری 2025 میں ہوا تھا جس میں کوئی کمی رپورٹ نہیں ہوئی۔
تاہم ستمبر 2023 میں اسی کمپنی کا ایک ایکس آر 45 ممبئی میں حادثے کا شکار ہوا تھا۔ اس پس منظر میں سوال اٹھتا ہے کہ یہ طیارے کتنے محفوظ ہیں؟
لینڈنگ کا طریقہ کتنا محفوظ تھاAFP via Getty Imagesیہ آٹھ مسافروں کی گنجائش والا مسافر طیارہ تھا
ایک عینی شاہد نے انڈیا کی نیوز ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ طیارہ نیچے آتے وقت کریش ہوتا محسوس ہو رہا تھا اور پھر گر کر تباہ ہو گیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ طیارہ رن وے پر اترنے سے پہلے تباہ ہو گیا۔
کمپنی کے مالک وجے کمار سنگھ نے کہا کہ پائلٹ رن وے کو دیکھنے میں مشکل کا شکار تھے، لیکن وہ انتہائی تجربہ کار تھے۔
پائلٹ سمیت کپور کے پاس 16,000 گھنٹے کا تجربہ تھا جبکہ کو پائلٹ شمبھاوی پاٹھک کے پاس 1500 گھنٹے کا تجربہ موجود تھا۔
سوشل میڈیا پر کچھ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی ہیں جن میں طیارہ ہوا میں پلٹتا دکھائی دیتا ہے۔
بی بی سی ان فوٹیجز کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکتا لیکن کئئ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا طیارے کا اپروچ مستحکم تھا یا لینڈنگ کے دوران غلط پوزیشن میں تھا؟
’مے ڈے‘ کال کیوں نہیں دی گئی؟
’مے ڈے‘ ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ریڈیو سگنل ہے جو خطرے کی صورت میں مدد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
تاہم اجیت پوار کے طیارے کے پائلٹ نے حادثے سے قبل کوئی ’مے ڈے‘ کال نہیں دی گئی۔
سیفٹی میٹرز فاؤنڈیشن کے بانی کیپٹن امیت سنگھ نے خبر رساں ادارے ’انڈیا ٹوڈے‘ کو بتایا کہ ’مے ڈے‘ کال نہ دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پائلٹ آخری لمحے تک طیارے کے کنٹرول میں تھے۔
ان کے مطابق اگر انجن یا کسی اور نظام میں خرابی ہوتی تو پائلٹ لازمی طور پر ’مے ڈے‘ کہتے۔
ایوی ایشن حکام نے ابتدائی تحقیقات کے بارے میں کیا کہا تھا ؟
انڈیا کے پریس انفارمیشن بیورو کے مطابق وزارتِ شہری ہوابازی نے بدھ کے روز بیان میں کہا تھا کہ بارامتی ایک غیر کنٹرول شدہ ایئرفیلڈ ہے جہاں ٹریفک کی معلومات فلائنگ ٹریننگ آرگنائزیشن کے انسٹرکٹرز یا پائلٹس فراہم کرتے ہیں۔
ڈی جی سی اے نے بھی ایک تفصیلی بیان ’ایکس‘ پر جاری کیا۔ اس میں درج ہے کہ 28 جنوری 2026 کو صبح آٹھ بج کر 18 منٹ پر پرواز نے پہلی بار بارامتی ایئر ٹریفک کنٹرول سے رابطہ کیا۔
اس کے بعد طیارے نے 30 ناٹیکل میل پر پونے اپروچ سے کلیئرنس لی۔ پائلٹ کو مشورہ دیا گیا کہ وہ ویژول میٹیورولوجیکل کنڈیشنز میں اپنی صوابدید پر لینڈنگ کرے۔ عملے نے ہوا کی رفتار اور حدِ نظر کے بارے میں پوچھا تو انھیں بتایا گیا کہ ہوا پُرسکون ہے اور حدِ نظر تقریباً 3000 میٹر ہے۔
پی کے 8303 کی تباہی: ’کپتان چیخا مے ڈے، مے ڈے، طیارہ مڑا مگر پائلٹس کو اندازہ ہو چکا تھا کہ رن وے تک پہنچنا ممکن نہیں‘ایئر انڈیا کے طیارے کی ٹیک آف کے 30 سیکنڈز میں گِر کر تباہ ہونے کی ممکنہ وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟ایئر بلیو طیارہ حادثے کے آٹھ متاثرین جنھوں نے بہتر معاوضے کے لیے طویل قانونی جنگ لڑی: ’معاملہ پیسوں کا نہیں انصاف کا تھا‘جہاز سے ہزاروں فُٹ کی بلندی سے چھلانگ لگانے اور زندہ بچ جان والے ایئر فورس اہلکار کی کہانی
طیارے نے رن وے 11 کے لیے فائنل اپروچ رپورٹ کی لیکن عملہ رن وے دیکھ نہیں سکا اور پہلا اپروچ گو راؤنڈ میں تبدیل کر دیا۔
بعد ازاں پائلٹ نے دوبارہ بتایا کہ وہ رن وے 11 پر فائنل اپروچ پر ہیں۔ عملے کو کہا گیا کہ رن وے نظر آ جائے تو اطلاع دیں۔ چند لمحوں بعد پائلٹ نے کہا ’رن وے اس وقت نظر نہیں آ رہا، نظر آئے گا تو کال کروں گا۔‘
کچھ سیکنڈ بعد پائلٹ نے بتایا کہ ’رن وے نظر آ رہا ہے۔‘
آٹھ بج کر 43 منٹس پر طیارے کو لینڈنگ کی اجازت دی گئی مگر عملے کی جانب سے اجازت کا ریڈ بیک نہیں ملا۔ اس کے بعد اے ٹی سی نے رن وے 11 کے قریب آگ کے شعلے دیکھے اور ایمرجنسی سروسز فوراً وہاں پہنچ گئیں۔ طیارے کا ملبہ رن وے کے بائیں جانب پایا گیا۔
وزارت نے کہا کہ ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو نے تحقیقات اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں۔ ’ڈائریکٹر جنرل جائے وقوعہ کا جائزہ لینے پہنچ رہے ہیں۔ مزید معلومات مناسب وقت پر فراہم کی جائیں گی۔‘
طیارے کے بارے میں کیا معلومات سامنے آئیں؟
وزارت کے مطابق تباہ ہونے والا چارٹر طیارہ وی ٹی ایس ایس کے تھا اور پرواز ایل جے 45 تھی جو ممبئی سے بارامتی جا رہی تھی۔
لیئر جیٹ 45 نامی یہ درمیانے سائز کا بزنس جیٹ بومبارڈیئر نامی کمپنی تیار کرتی ہے۔ اس میں آٹھ مسافروں کی گنجائش ہوتی ہے۔ یہ طیارہ دو ٹربوفین انجنوں سے چلتا ہے۔ یہ انڈیا میں تیز رفتار چارٹر پروازوں کے لیے بہت مقبول ہے۔
2010 میں تیار کردہ یہ طیارہ دلی کی کمپنی وی ایس آر کی ملکیت تھا۔ کمپنی کے پاس مجموعی طور پر 17 طیارے ہیں
فروری 2025 میں ڈی جی سی اے نے ان کے بیڑے کا آخری آڈٹ کیا تھا جس میں کوئی خرابی رپورٹ نہیں ہوئی۔
بی بی سی مراٹھی کے مطابق اسی کمپنی کا ایک طیارہ 2023 میں ممبئی میں لینڈنگ کے دوران تباہ ہوا تھا مگر اس میں تمام افراد زندہ بچ گئے تھے۔ اس حادثے کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔
عینی شاہدین نے کیا دیکھا؟
عینی شاہدین کے مطابق ’لینڈنگ کے دوران کچھ مسئلہ نظر آ رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ طیارہ گر سکتا ہے۔‘
وزیرِ اعظم، مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ، نائب وزیرِ اعلیٰ، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی سمیت کئی سیاسی رہنماؤں نے اجیت پوار کی وفات پر اظہارِ افسوس کیا ہے۔
جبکہ مہاراشٹر حکومت نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
ایک عینی شاہد نے اے این آئی کو بتایا کہ 'میں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ جب طیارہ نیچے آ رہا تھا تو ایسا لگ رہا تھا کہ یہ اتر نہیں پائے گا، اور ایسا ہی ہوا۔ پھر دھماکہ ہوا۔ دھماکہ بہت زوردار تھا۔
’آگ اتنی شدید تھی کہ لوگ مدد نہیں کر سکے۔ اجیت پوار بھی طیارے میں تھے۔۔۔ (میرے پاس) الفاظ نہیں ہیں۔‘
ایک اور مقامی شخص نے بتایا کہ ’طیارہ آیا مگر اترا نہیں۔ وہ آگے گیا، پھر کچھ دیر بعد واپس آیا اور لینڈ کرنے لگا۔ مگر رن وے سے پہلے ہی کریش ہوگیا۔‘
انھوں نے کہا کہ آگ پر تقریباً 15 منٹ بعد قابو پایا گیا۔ ’لاش مکمل طور پر جلی ہوئی تھی۔ شناخت ممکن نہیں تھی۔
’بعد میں ہاتھ میں موجود ایک چیز سے پتا چلا کہ یہ دادا یعنی اجیت پوار کی لاش ہے۔‘
جہاز سے ہزاروں فُٹ کی بلندی سے چھلانگ لگانے اور زندہ بچ جان والے ایئر فورس اہلکار کی کہانیایئر بلیو طیارہ حادثے کے آٹھ متاثرین جنھوں نے بہتر معاوضے کے لیے طویل قانونی جنگ لڑی: ’معاملہ پیسوں کا نہیں انصاف کا تھا‘پی کے 268: پی آئی اے کا طیارہ جو رن وے پر اُترنے کے بجائے ہمالیہ کی پہاڑی سے جا ٹکرایاایئر انڈیا کے طیارے کی ٹیک آف کے 30 سیکنڈز میں گِر کر تباہ ہونے کی ممکنہ وجوہات کیا ہو سکتی ہیں؟پی کے 8303 کی تباہی: ’کپتان چیخا مے ڈے، مے ڈے، طیارہ مڑا مگر پائلٹس کو اندازہ ہو چکا تھا کہ رن وے تک پہنچنا ممکن نہیں‘