محبت میں ناکامی یا دھوکہ ایسی چیز ہے جس کے لوگوں پر مختلف اثرات ہوتے ہیں تاہم کچھ لوگ دل ٹوٹنے کے بعد حسد کا شکار بھی ہو جاتے ہیں اور کبھی کبھار کچھ ایسا کر بیٹھتے ہیں جس سے صرف ان کی اپنی زندگی ہی نہیں بلکہ دوسروں کی زندگیاں بھی متاثر ہوتی ہیں۔
اور ایسا ہی کچھ انڈین ریاست آندھرا پردیش میں ہوا جہاں ایک خاتون نے محبت میں ناکامی کے بعد بدلہ لینے کی ٹھانی۔
یہ خاتون جس شخص سے پیار کرتی تھیں، اس نے کسی اور سے شادی کر لی۔ اس کے بعد خاتون نے اپنے محبوب سے بدلہ لینے کے لیے اسے تو کچھ نہیں کہا تاہم اس شخص کی بیوی کو ایچ آئی وی سے متاثرہ خون کا ٹیکہ لگا دیا۔
متاثرہ خاتون کے شوہر کی شکایت کی بنیاد پر پولیس نے اس واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ یہ واقعہ 9 جنوری کو پیش آیا۔
ضلع کرنول کے سرکاری ہسپتال میں کام کرنے والی یہ خاتون ڈاکٹر کام کے بعد اپنے سکوٹر پر گھر واپس آ رہی تھیں۔ پولیس نے بتایا کہ راستے میں ان پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا۔ جس کے بعد دو افراد نے متاثرہ خاتون کی مدد کرنے کے بہانے انھیں ایچ آئی وی سے متاثرہ خون کا انجیکشن لگا دیا۔
ملزمان پولیس حراست میں
کرنول کے ڈی ایس پی بابو پرساد نے بی بی سی کو اس کیس کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ ڈی ایس پی بابو پرساد نے بتایا کہ ’ایک خاتون ڈاکٹر کینال روڈ پر سکوٹی پر سوار تھیں جب انھیں ایک موٹر سائیکل نے ٹکر ماری اور وہ نیچے گر گئیں۔‘
’انھیں معمولی چوٹیں آئیں لیکن وہاں موجود دو خواتین نے انھیں یہ کہتے ہوئے ایک رکشے میں ڈال لیا کہ وہ انھیں ہسپتال لے کر جا رہی ہیں۔ متاثرہ خاتون کے شوہر کی جانب سے درج شکایت کے مطابق اسی وقت ان کی اہلیہ کو محسوس ہوا کہ انھیں انجیکشن لگایا جا رہا ہے۔‘
ڈی ایس پی بابو پرساد کہتے ہیں کہ ’ملزمان میں سے ایک نرس ہے، جس کو اس بات پر غصہ تھا کہ جس شخص سے وہ محبت کرتی تھیں اس نے کسی اور سے شادی کر لی۔ اسی نرس نے یہ انجیکشن لگانے کا منصوبہ بنایا۔‘
پولیس نے بتایا کہ ’مرکزی ملزمہ نے ایک اور نرس کی مدد سے ایک سرکاری ہسپتال میں زیر علاج ایچ آئی وی مریضوں میں سے ایچ آئی وی وائرس سے آلودہ خون جمع کیا۔‘
’وہ اپنی دوست اور اس کے دو بچوں کی مدد سے انجیکشن لگانے کے بعد فرار ہو گئیں تاہم پولیس نے تفتیش کے بعد ان چاروں کو گرفتار کر لیا۔‘
’ہم مزید تفتیش کریں گے کہ ان کا اصل مقصد کیا تھا اور انجیکشن میں کس قسم کا وائرس تھا۔ ہم تحقیقات کریں گے کہ آیا اس میں کوئی اور بھی ملوث ہے اور ان کے خلاف بھی چارج شیٹ دائر کی جائے گی۔‘
رشتہ ٹوٹنے کے بعد انجیکشن کا منصوبہ
پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون نے یہ حرکت اپنے سابق بوائے فرینڈ پر غصے میں کی۔
’پڑھائی کے دوران مرکزی ملزمہ کی اپنے کلاس فیلو کے ساتھ دوستی تھی اور دونوں میں محبت ہو گئی۔ بعد میں ان کا رشتہ ٹوٹ گیا اور اس شخص نے شادی کر لی جبکہ خاتون جو ایک نرس تھیں، غیر شادی شدہ ہی رہیں۔‘
’ملزمہ کو اپنے محبوب کی بیوی سے حسد تھا۔ اس نے ہسپتال میں اپنے رابطوں کے ذریعے ایچ آئی وی وائرس جمع کیا اور انجیکشن لگایا۔‘
پولیس کے مطابق ملزمہ نے ضروری مدد فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے اس منصوبے میں اپنی دوست اور اس کے بچوں کی مدد لی۔
نو سال جھوٹی محبت کا شکار رہنے والی خاتون: ’میں اتنی احمق کیسے ہو سکتی تھی؟‘گوہر جان: کروڑ پتی طوائف جنھیں خود سے آدھی عمر کے نوجوان سے محبت میں دھوکہ ملا اور دولت بھی گئیمبالغہ آمیز تعریفیں اور تحائف: ’محبت کی بمباری‘ کی نشانیاں جو خطرے کی علامت ہیں ’پیار میں دھوکہ ہو سکتا ہے مگر میں نے اپنے آپ کو محبت کی کہانی میں بہک جانے دیا‘ملزمہ کیسے پکڑی گئی؟
کرنول کے ڈی ایس پی بابو پرساد کا کہنا ہے کہ ’ہم نے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی اور اس معاملے میں تکنیکی شواہد نے اہم کردار ادا کیا۔‘
کرنول کے پولیس افسر سیشایا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ملزمہ نے یہ منصوبہ اپنی دوست اور ان کے بچوں کے ذریعے بنایا جو ادونی شہر میں رہتے تھے۔‘
پولیس افسر سیشایا نے بتایا کہ ’جب متاثرہ خاتون کو شبہ ہوا کہ ان کو انجیکشن لگایا گیا ہے تو انھوں نے اپنے سیل فون سے ملزمان کی تصاویر لیں۔ ہم نے ان تصاویر، انھوں نے جو کپڑے پہنے ہوئے تھے اور سی سی ٹی وی کیمرے کی فوٹیج کی بنیاد پر تفتیش کی۔ ہم نے موٹر سائیکل کا نمبر معلوم کیا اور یہ بھی معلوم کیا کہ یہ کس کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔ یہ ملزمہ کے نام پر ہے لیکن کافی پوچھ گچھ کے باوجود انھوں نے اعتراف جرم نہیں کیا۔‘
’پھر ہم نے ملزمہ کے سیل فون پر کال ریکارڈ چیک کیا۔ اس نے جن 17 لوگوں سے بات کی، ان میں سے 15 سے ہم نے رابطہ کیا۔ ان میں سے ایک شخص نے ہم سے جھوٹ بولا جبکہ دو نے ہم سے رابطہ ہی نہیں کیا۔ ہم نے ان سے پوچھ گچھ کی اور ان کو پکڑ لیا۔‘
’جب باقی ملزمان کو پکڑ کر مرکزی ملزمہ کے سامنے لایا گیا تو اس نے اعتراف جرم کر لیا۔‘
ایچ آئی وی کا نمونہ کیسے حاصل کیا؟
کرنول کے سرکاری ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ وینکٹیش ورلو نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزمہ نے ہسپتال میں کام کرنے والی ایک اور نرس کی مدد سے ایچ آئی وی کے نمونے جمع کیے تھے۔
’دونوں کی ماضی میں ٹریننگ کے دوران ملاقات ہوئی تھی۔ نرس نے رات کی ڈیوٹی کے دوران ملزمہ کو ایچ آئی وی کا نمونہ دیا تھا۔ ہم نے اسے نوٹس بھیجا ہے۔ متاثرہ خاتون بھی ہمارے ہسپتال میں کام کرتی ہیں۔‘
پولیس آفیسر سشیا نے کہا کہ کس بنیاد پر ایک اور نرس نے ملزمہ کو ایچ آئی وی کا نمونہ فراہم کیا، اس کا تعین تحقیقات کے بعد کیا جائے گا اور اسی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ تحقیقات سے پتہ چلے گا کہ ایک سرکاری ہسپتال میں کام کرنے والی نرس نے ایچ آئی وی کے خون کے نمونے کیوں دیے۔
بی بی سی نے متعدد بار متاثرہ خاتون کے شوہر سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے ہماری کالز کا جواب نہیں دیا۔ مرکزی ملزمہ کے لواحقین سے بات کرنے کی کوششیں بھی ناکام رہی ہیں۔
مبالغہ آمیز تعریفیں اور تحائف: ’محبت کی بمباری‘ کی نشانیاں جو خطرے کی علامت ہیں ’پیار میں دھوکہ ہو سکتا ہے مگر میں نے اپنے آپ کو محبت کی کہانی میں بہک جانے دیا‘نو سال جھوٹی محبت کا شکار رہنے والی خاتون: ’میں اتنی احمق کیسے ہو سکتی تھی؟‘گوہر جان: کروڑ پتی طوائف جنھیں خود سے آدھی عمر کے نوجوان سے محبت میں دھوکہ ملا اور دولت بھی گئیپولیس محبت کے نام پر دھوکہ دینے کے لیے بنائے گئے سینٹر سے سینکڑوں افراد کو بازیاب کروانے میں کیسے کامیاب ہوئی؟’شوہر کی موت کا بدلہ لینے کے لیے مبینہ قاتل سے شادی‘