کینو کی کوالٹی یا پاک افغان سرحد کی بندش: پاکستانی برآمدات میں کمی کے پیچھے اصل وجہ کیا ہے؟

بی بی سی اردو  |  Jan 18, 2026

پاکستان کے سٹرس فروٹ کینو اور اس کے آلو کی رواں برس وافر فصل ہونے کے باوجود ان کی برآمدات ان دنوں مشکلات کا شکار ہیں جس کی وجہ سے صوبہ پنجاب کے کاشتکاروں کی ایک بڑی تعداد بھاری مالی نقصان اٹھا رہی ہے۔

فروٹ اور سبزی کی برآمدات سے جڑے کاروباری افراد افغانستان کے بارڈ کے بند ہونے کو اس کی ایک بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان کا کینو اور آلو افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک کی منڈیوں تک پہنچتا ہے جو اس کے لیے بڑی منڈیوں میں سے ایک ہے۔

تاہم گذشتہ لگ بھگ چار ماہ سے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدہ ہونے کے باعث پاک افغان بارڈر بند ہے اور ہر قسم کی تجارت معطل ہے۔

حال ہی میں وفاقی حکومت نے پنجاب حکومت کی درخواست پر کاشکاروں کو متبادل راستوں سے کینو اور آلو برآمد کرنے کی اجازت دی ہے۔ کینو اور آلو برآمد کرنے والوں کے لیے یہ متبادل راستہ ایران کا ہے جہاں سے گزر کر وہ اپنا مال وسطی ایشیائی منڈیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

ایکسپورٹرز کہتے ہیں کہ اس متبادل راستے سے کینو اور آلو جا ضرور رہا ہے تاہم یہ راستہ افغانستان کی نسبت طویل ہے اور اس پر ترسیلات کا خرچ کہیں زیادہ ہے۔ اس کی وجہ سے کینو اور آلو کی برآمدات کا حجم بہت کم ہے۔

حماد رسول ضلع سرگودھا کے علاقے کوٹ مومن میں کاشتکار ہیں۔ وہ کینو اور آلو کے ایک بڑے ایکسپورٹر بھی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ خاص طور پر آلو کے کاشتکاروں کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

’منڈیوں میں قیمت نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے کاشتکار تو آلو کی فصل اٹھا ہی نہیں رہے بلکہ کھڑی فصل پر ہل چلا رہے ہیں کیونکہ آلو کی قیمت اس پر آنے والے خرچ سے کہیں زیادہ کم ہو چکی ہے۔‘

تاہم آلو کے برعکس کینو کے حوالے سے بہت سے ایکسپورٹر کا ماننا ہے کہ اس کی برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ پاک افغان سرحد کی بندش نہیں ہے۔ ان کے خیال میں پاکستانی کینو کی کوالٹی بہت بگڑ چکی ہے جس کی وجہ سے بہت سی عالمی منڈیوں میں اس کی مانگ نہیں رہی۔

تو سوال یہ ہے کہ کینو کی وافر فصل ہونے کے باجود اس کی برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ افغان بارڈر کی بندش ہے اور کیا ایران کا متبادل راستہ اختیار کرنے سے آلو کی برآمدات میں بہتری دیکھنے میں آئے گی؟

Getty Images’اس سال کینوکا سائز بھی اچھا تھا اور فصل بھی۔۔۔ لیکن بارڈر بند تھا‘

سرگودھا کے علاقے کوٹ مومن سے تعلق رکھنے والے پھلوں اور سبزیوں کے ایکسپورٹر حماد رسول نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ رواں برس کینو کی فصل بھی بہت وافر ہوئی ہے۔ ساتھ ہی اس کا معیار یا سائز بھی بہت اچھا تھا یعنی وہ ایکسپورٹ کے لیے موزوں تھا۔

’لیکن پاک افغان بارڈر عین اس وقت بند ہو گیا جب کینو کا سیزن شروع ہونے والا تھا اور کاشکاروں اور ایکسپورٹرز نے کسی متبادل راستے کا بندوبست بھی نہیں تھا۔‘

حماد رسول کہتے ہیں کہ ابتدا میں حکومت انھیں یقین دہانی کراتی رہی کہ سرحد کھل جائے گی تاہم ایسا نہیں ہو پایا۔ انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں کینو کی پیداوار سب سے زیادہ ضلع سرگودھا میں ہوتی ہے اور اس کی برآمدات کا بڑا حصہ بھی یہیں سے جاتا ہے۔

ان کے مطابق رواں سیزن میں اس علاقے سے کینو کی پیداوار کا اندازہ لگ بھگ 18 لاکھ ٹن کے قریب لگایا جا رہا تھا جس میں سے چار سے پانچ لاکھ ٹن کینو ایکسپورٹ کیا جانا تھا۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ افغان بارڈر بند ہونے کی وجہ ’اب ایک لاکھ ٹن بھی برآمد ہو جائے تو بڑی بات ہے۔‘

پاکستان میں کینو کے کاشتکاروں کو ’بدترین نقصان‘: ’کینو نہیں بکے گا تو ہم حکومت کو ٹیکس ادا نہیں کرسکتے بھلے وہ ہمیں جیلوں میں ڈال دیں‘سڑک کنارے سینکڑوں کنٹینروں کی قطاریں، ویران منڈیاں اور ’لاکھوں کا نقصان‘: بی بی سی نے طورخم سرحد کے نزدیک کیا دیکھا؟بارٹر ٹریڈ کیا ہوتی ہے اور کیا روس، ایران اور افغانستان کے ساتھ بارٹر ٹریڈ پاکستان کے لیے فائدہ مند ہو گی؟ ملا عبدالغنی برادر کی افغان تاجروں کو تنبیہ: پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کی بندش کس ملک کے لیے زیادہ نقصان دہ ہو گی؟

حماد رسول کہتے ہیں کہ پاکستان اور خاص طور پر سرگودھا کے کینو کے لیے سب سے بڑی منڈی وسطی ایشیائی ممالک ہیں جہاں سرگودھا سے کینو کی برآمدات کا حصہ 45 فیصد کے قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے متبادل راستے سے برآمدات کی اجازت دی ہے تاہم یہ اجازت ایک تو دیر سے آئی اور دوسرا متبادل راستے کینو کے لیے زیادہ موزوں نہیں کیونکہ راستے کی طوالت کی وجہ سے پھلوں کے خراب ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

’اس لیے متبادل راستے سے زیادہ بڑی تعداد میں کینو برآمد نہیں کیا جا سکے گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ عالمی منڈیوں میں وسطی ایشیائی ممالک کے علاوہ دیگر منڈیوں کی تلاش میں حکومت نے ان کی زیادہ مدد نہیں کی۔

’سینٹرل ایشیا کے علاوہ باقی منڈیوں میں مقابلہ بہت سخت ہے اور وہاں مارکیٹ میں لوگ پہلے سے موجود ہیں اس لیے ہمارے لیے وہاں قدم جمانا مشکل ہے۔‘

ایکسپورٹر حماد رسول کہتے ہیں کہ کینو ایک ایسی فصل ہے جس پر سرگودھا کے کاشتکاروں کی ایک بڑی تعداد اپنی سالانہ آمدن کے لیے انحصار کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں موجودہ حالات کی وجہ سے بہت سے کسان قرضوں کے بوجھ تلے دب جائیں گے۔

Getty Images’کینو کی ورائٹی اپنا ٹائم گزار چکی ہے‘

پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبلز ایکسپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن یعنی پی ایف وی اے کے پیٹرن ان چیف وحید احمد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کینو کی برآمدات میں کمی اور مشکلات کا تعلق سرحد کی بندش سے کم اور کینو کی ورائٹی سے زیادہ ہے۔

وحید احمد کہتے ہیں کہ ہر چیز کی ایک شیلف لائف ہوتی ہے اور پاکستانی کینو کی یہ شیلف اب بہت کم ہے۔

’کینو کی ورائٹی اپنا ٹائم گزار چکی ہے۔ گذشتہ 60 برسوں سے چلتی آنے والی اس ورائٹی کے علاوہ کوئی دوسری ورائٹی نہیں لائی گئی۔ یہ خراب ہونے والی چیز ہے اس لیے بہت سی عالمی منڈیوں میں اس کی مانگ کم ہو گئی۔ کوئی اسے خریدنا نہیں چاہتا۔‘

پی ایف وی اے کے پیٹرن ان چیف وحید احمد کے مطابق پاکستانی کینو کی برآمدات گذشتہ پانچ برسوں میں 250 ملین ڈالر سے کم ہو کر صرف 100 ملین ڈالر تک آ گئی ہیں۔ پانچ برس قبل کینو کی برآمدات چھ سے سات لاکھ ٹن کے قریب تھی جبکہ گذشتہ برس یہ صرف ڈھائی لاکھ ٹن تھیں۔

وہ کہتے ہیں کہ یوں دنیا کی سٹرس کی 16 ارب ڈالر کی مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ محض 100 ملیں ڈالر تک رہ گیا ہے۔

’ہمیں جو ورائٹی آج سے 60 سال قبل امریکہ نے دی تھی ہم اب تک اسی پر انحصار کر رہے ہیں۔ ہم نے خود سے نئی ورائٹیز پر کوئی کام نہیں کیا جبکہ ہمارے مقابلے کے ممالک ہر وقت پانچ سے دس ورائٹیوں پر کام کر رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق پاکستان میں برآمدات کے لیے زیادہ تر انحصار صرف کینو پر ہوتا ہے۔ اور ان کے خیال میں یہی پاکستان سے کینو کی برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ ہے۔

Getty Images’دنیا اب سیڈ لیس ورائٹیوں تک پہنچ گئی ہے‘

وحید احمد کے مطابق کینو آسانی سے چھیلے جانے والے سٹرس میں آتا ہے تاہم پاکستانی کینو کی شیلف لائف کم ہے، یہ جلدی خراب ہو جاتا ہے اس لیے عالمی منڈی میں لوگ اسے نہیں لیتے اور امپورٹرز کو اس میں دلچسپی نہیں رہی۔

’ہمارے کینو کا سیزن دسمبر کے آخر سے شروع ہو کر فروری یا مارچ تک جاتا ہے جبکہ ہمارے مقابلے کے ملکوں کی ورائٹیوں کا سیزن مئی تک جاتا ہے۔ پاکستان میں کینو کی 50 فیصد فیکٹریاں بند ہو گئی ہیں جبکہ دوسری طرف دنیا اب سیڈ لیس ورائٹیوں تک پہنچ گئی ہے۔‘

وحید احمد کہتے ہیں کہ پاک افغان سرحد کی بندش کی وجہ سے فرق ضرور پڑا ہے لیکن یہ صرف 15 فیصد کا فرق ہو گا کیونکہ ایران کے متبادل راستے سے کینو جا رہا ہے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ کینو کا اصل مسئلہ اس کی پرانی ورائٹی اور کم شیلف لائف ہے۔

ان کے خیال میں پاکستان کو اس کی ورائٹیوں کا بڑھانے اور تحقیق پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے لیے ادارے قائم ہیں تاہم اگر وہ اس پر کام کر بھی رہے ہیں تو وہ پیداوار میں نظر نہیں آ رہا۔

Getty Imagesکیا آلو کے لیے متبادل راستے سے برآمدات سود مند ثابت ہوں گی؟

سرگودھا سے تعلق رکھنے والے کینو اور آلو کے ایکسپورٹر حماد رسول کہتے ہیں کہ پاک افغان سرحد کی بند کی وجہ سے آلو کی فصل کی برآمدات پر شدید اثر پڑا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک 65 کلو کی بوری پر کسان کا خرچ 2300 روپے کے قریب آتا ہے جبکہ اس کی قیمت اس وقت 1100 روپے کے قریب ہے۔

’آلو تو مکمل طور پر بیٹھ گیا ہے۔ اس کی قیمت تو خرچ کے آدھے سے بھی نیچے چلی گئی ہے۔ بہت سے کسان تو کھڑی آلو کی فصل پر ہل چلا رہے ہیں تاکہ فصل اٹھا کر سنبھالنے اور منڈی لے کر جانے کے خرچ سے تو بچا جا سکے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’پاکستانی آلو افغانستان بھی جاتا تھا اور افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک جیسا کہ ازبکستان، تاجکستان اور کرغستان وغیرہ اس کی بہت بڑی مارکیٹ تھی جو پاک افغان سرحد بند ہونے کی وجہ سے بند ہو گئی ہے۔ اور مقامی مارکیٹ میں مانگ کم ہے۔‘

Getty Images

پی ایف وی اے کے پیٹرن ان چیف وحید احمد کہتے ہیں کہ حکومت کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد آلو بھی متبادل راستے سے جا رہا ہے تاہم اس کی ٹرانزٹ کی مدت بھی بڑھ گئی ہے اور اس کی ترسیل پر آنے والا خرچ بھی بڑھ گیا ہے۔

’پہلے آلو کی برآمد کا ٹرانزٹ ٹائم پانچ سے سات دن تھا، اب اس کا ٹرانزٹ ٹائم 15 سے 17 ہو گیا ہے۔ اور ساتھ ہی فریٹ یعنی ترسیلات کا خرچ بھی بڑھ گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد کی بندش سے متبادل راستے سے برآمدات کرنے سے بھی آلو کی برآمدات کا حجم اتنا نہیں ہے جتنا ہونا چاہیے تھا۔ وحید احمد کہتے ہیں کہ پاکستان کا آلو زیادہ تر وسطی ایشیائی ممالک جاتا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستانی آلو مشرق وسطی اور فار ایسٹ کے ممالک میں بھی جاتا ہے۔ پی ایف وی اے کے پیٹرن این چیف وحید احمد کا کہنا تھا کہ روس نے گذشتہ برس پاکستانی آلو پر پابندی عائد کر دی تھی۔

وہ کہتے ہی کہ انھوں نے یہ پابندی ختم کروانے کے لیے پاکستانی حکومت کو خط بھی لکھا تھا تاہم حکومت نے اس جانب زیادہ توجہ نہیں دی اور یہ پابندی اب بھی قائم ہے۔ روس بھی پاکستانی آلو کی ایک بڑی منڈی تھی۔

تاہم وحید احمد کو امید ہے کہ آلو کی فصل ابھی مزید پختہ ہو گی اور آنے والے دنوں میں اس کی برآمدات میں بہتری آئے گی۔

پاکستان میں کینو کے کاشتکاروں کو ’بدترین نقصان‘: ’کینو نہیں بکے گا تو ہم حکومت کو ٹیکس ادا نہیں کرسکتے بھلے وہ ہمیں جیلوں میں ڈال دیں‘سڑک کنارے سینکڑوں کنٹینروں کی قطاریں، ویران منڈیاں اور ’لاکھوں کا نقصان‘: بی بی سی نے طورخم سرحد کے نزدیک کیا دیکھا؟بارٹر ٹریڈ کیا ہوتی ہے اور کیا روس، ایران اور افغانستان کے ساتھ بارٹر ٹریڈ پاکستان کے لیے فائدہ مند ہو گی؟ ملا عبدالغنی برادر کی افغان تاجروں کو تنبیہ: پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کی بندش کس ملک کے لیے زیادہ نقصان دہ ہو گی؟پاکستان میں آلو کی ’شاندار فصل‘ نے پالیسی سازوں اور کسانوں کی نیندیں کیوں حرام کر رکھی ہیں؟پاکستان میں گندم، چاول، کپاس سمیت بڑی فصلوں کی پیداوار میں ریکارڈ کمی کی وجوہات کیا ہیں اور ہم اس سے کیسے متاثر ہو سکتے ہیں؟
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More