BBCجن 10 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں ان میں ایک سکول ٹیچر ایاز بلوچ کی لاش بھی تھی
بلوچستان میں 2026 کے پہلے ہفتے کے دوران تین مختلف علاقوں سے جن 10 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں ان میں ایک سکول ٹیچر ایاز بلوچ تھے۔ ان کے ایک قریبی دوست نے بی بی سی کو بتایا کہ ایاز نے مشکلات کے باوجود اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی لیکن وہ گذشتہ برس لاپتہ ہوگئے تھے۔
جن دیگر تین افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں وہ آپس میں کزنز تھے۔ ان کے ایک قریبی رشتہ دار نے بتایا کہ وہ سات ماہ سے زیادہ عرصے سے ’جبری طور پر لاپتہ‘ تھے۔
ادھر بلوچستان کے حکام نے سکیورٹی اداروں کی طرف سے لوگوں کو جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل کے الزامات کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے حکومتی رکن فرح عظیم شاہ نے ان الزامات کو ’بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔
تاہم بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کا کہنا ہے کہ ایاز بلوچ کو بھی پہلے ہی جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا جبکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ایک بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایاز بلوچ کو مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز نے لاپتہ کیا تھا۔
نصراللہ بلوچ کے مطابق ایاز بلوچ کے علاوہ مارے جانے والے ان افراد میں سے بعض دیگر بھی پہلے سے جبری طور پر لاپتہ تھے۔
دوسری طرف ضلع آواران میں پولیس کے حکام نے بتایا کہ ایاز بلوچ سمیت دو افراد کی لاشوں کی برآمدگی کے بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔
ایاز بلوچ سمیت دو افراد کی لاشیں چھ جنوری کو ضلع آواران میں جھاؤ کے علاقے موندرہ میں کورک ندی سے ملی تھیں۔ دوسرے شخص کی شناخت ظریف بلوچ کے نام سے ہوئی۔
آواران پولیس کے ایک اہلکار نے دونوں افراد کی لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کو ’نامعلوم افراد نے ہلاک کرنے‘ کے بعد ان کی لاشیں ’پھینک دی تھیں۔‘
بی بی سی اردو نے ایاز بلوچ کے قریبی رشتہ داروں سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے کوئی بات کرنے سے گریز کیا تاہم ان کے ایک دوست نے بتایا کہ ایاز کو 16 اکتوبر 2025 کو آواران ہی کے علاقے گیشگور سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایاز سے پہلے ان کے چچا ماسٹر خدا بخش کو بھی جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق لاپتہ ہونے کے ایک ماہ بعد ایاز کے چچا کی تشدد زدہ لاش خضدار کے علاقے سے برآمد ہوئی تھی۔
اگرچہ ایاز کے چچا کی جبری گمشدگی کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی تاہم سماجی رابطوں کے پلیٹ فارمز پر بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جو بیان جاری کیا گیا اس میں الزام عائد کیا گیا کہ 16اکتوبر 2025 کو ایاز بلوچ کو سکیورٹی فورسز نے گیشگور سے جبری طور پر لاپتہ کیا۔
اس سلسلے میں جب اس علاقے میں تعینات سکیورٹی فورسز سے متعلقہ ایک اہلکار سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا۔
آواران پولیس کے ایس پی خلیل بگٹی نے بتایا کہ تاحال یہ تعین نہیں ہوسکا کہ ایاز اور ظریف کو کن لوگوں نے مارا اور انھیں کیوں مارا گیا؟
ان کا کہنا تھا کہ دونوں افراد کے مارے جانے کے واقعے کے بارے میں تحقیقات ہو رہی ہیں۔
ایاز بلوچ کون تھے؟
ایاز بلوچ کا تعلق ضلع آواران میں گیشگور کے علاقے سنڈوم سے تھا۔ انھوں نے مڈل تک تعلیم اپنے علاقے کے سکول سے جبکہ میٹرک کا امتحان گیشگور ہائی سکول سے پاس کیا۔
ان کے ایک دوست نے بتایا کہ آواران شہر میں ڈگری کالج سے ایف ایس سی کے بعد تنگ دستی کی وجہ سے کچھ عرصے کے لیے ان کو تعلیم ترک کرکے محنت مزدوری کرنا پڑی۔
انھوں نے بتایا چونکہ ایاز کو تعلیم کا بہت زیادہ شوق تھا اس لیے انھوں نے سنہ 2016 میں کوئٹہ میں ایک مرتبہ پھر انگلش لینگویج سینٹر میں داخلہ لیا۔ تربت یونیورسٹی میں بی ایس انگلش لٹریچر میں داخلہ ہونے کے باعث وہ بعد میں تربت منتقل ہوئے۔
تربت ہی میں گذشتہ عام انتخابات کے موقع پر بی بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں ایاز بلوچ نے بلوچستان میں تعلیم کے معیار پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا جبکہ اس رائے کا بھی اظہار کیا تھا کہ بلوچستان میں انتخابات میں نمائندوں کو لوگ منتخب نہیں کرتے بلکہ ان کو ’لایا جاتا ہے۔‘
ایاز بلوچ کے دوست نے مزید بتایا کہ محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی آسامیوں کے لیے سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کے زیر اہتمام ٹیسٹ اور انٹرویوز ہوئے تو ایاز نے ان میں کامیابی حاصل کی جس کے باعث 2024 میں آواران میں رضائی بازار کے سکول میں ان کی بطور استاد تقرری ہوئی۔
انھوں نے بتایا کہ زمانہ طالب علمی میں اگرچہ ان کا تعلق بی ایس او ظریف گروپ سے رہا لیکن وہ سیاسی حوالے سے بہت زیادہ متحرک نہیں تھے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کو گیشگور سے مبینہ طور پر جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔
BBCمارے جانے والے کزنز کے اہل خانہ: ’ہم پر غم کے پہاڑ گرا دیے گئے‘
مارے جانے والے دس افراد میں سے چار کی لاشیں چار جنوری کو بلوچستان کے دو اضلاع ژوب اور موسیٰ خیل کی سرحدی علاقے سے ملی تھیں۔
اسسٹنٹ کمشنر موسٰی خیل نجیب اللہ کاکڑ نے ان افراد کی لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چاروں افراد کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ تاحال ان افراد کی ہلاکت کے محرکات معلوم نہیں ہوسکے ہیں۔ انتظامیہ کو ان افراد کی لاشوں کی ایک ویران علاقے میں پڑے رہنے کی اطلاع ملی تھی۔
ان افراد کی شناخت محمد انور، شیرمحمد، جعفر اور ثنا اللہ کے ناموں سے ہوئی جن کا تعلق ضلع دُکی سے تھا۔ ان تمام افراد کا تعلق بلوچوں کے سمالانی قبیلے سے تھا۔
یہ رشتہ دار دُکی شہر سے اندازاً آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ’کلی سفر علی بلوچ‘ کے رہائشی تھے جبکہ مارے جانے والے چوتھے شخص کا تعلق اس کے قریب والے گاؤں سے تھا۔
دُکی میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ چاروں افراد پہلے سے لاپتہ تھے۔
دُکی سے تعلق رکھنے چار افراد محمد انور، شیر محمد اور جعفر آپس میں کزنز تھے۔
ان کے ایک قریبی رشتہ دار نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد انور کی عمر اندازاً 33 سال تھی جبکہ باقی دو نوجوان تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تینوں محنت مزدوری کرتے تھے۔ ان میں سے دو کاشتکاری کرتے تھے جبکہ ایک کوئلے کی کان میں مزدور تھا۔
انھوں نے بتایا کہ ان میں سے ایک کو کوئلے کی لیز سے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جبکہ باقی دو کو دوسرے مقامات سے اٹھایا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے خاندان پر غم نہیں بلکہ غم کے پہاڑ گرا دیے گئے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’جب ہمارے لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تو ہم نے مقامی حکام کو اس سے آگاہ کیا لیکن ان کی بازیابی ممکن نہیں ہوئی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ہمارے ساتھ ظلم کا پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ گذشتہ برس بھی ہمارے تین لوگوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد مار دیا گیا تھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’ہمارے آٹھ مزید لوگ بھی جبری طور پر لاپتہ ہیں۔ بس ہم دعا کرسکتے ہیں کہ خدا ہمارے دیگر آٹھ افراد کو محفوظ رکھے اور ان کی بحفاظت بازیابی ہو۔‘
باقی چار افراد لاشیں کہاں سے برآمد ہوئیں؟
باقی چار کی لاشیں دو جنوری کو ضلع ہرنائی میں زندہ پیر کے علاقے سے برآمد ہوئیں۔
ہرنائی میں پولیس کے ایک اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چاروں کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کیا تھا۔
ان افراد میں سے تین افراد کی شناخت ہوئی جن کا تعلق ہرنائی کے مختلف علاقوں سے تھا۔
نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ ہرنائی سے جن افراد کی لاشیں ملی تھیں ان میں سے ایک جمعہ خان مری تھے جنھیں پہلے ہی جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا اور ان کا نام ہماری تنظیم کے لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’جمعہ خان مری کے رشتہ داروں نے بتایا کہ ان کو گذشتہ سال مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ایک آپریشن کے دوران گھر سے اٹھایا تھا۔‘
نصراللہ بلوچ کے مطابق ’ہرنائی سے ان چار افراد میں سے ایک اور شخص کے رشتہ داروں نے تنظیم سے رابطہ کیا تھا اور یہ بتایا تھا کہ ان کو بھی پہلے ہی لاپتہ کیا گیا تھا لیکن ان کا نام ہماری تنظیم کے پاس رجسٹرڈ نہیں تھا۔‘
نصراللہ بلوچ نے بتایا کہ ’نہ صرف رواں برس تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی کا سلسلہ جاری ہے بلکہ گذشتہ سال بھی ان کی تنظیم کے ریکارڈ کے مطابق 85 ایسے افراد کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں جن کو پہلے ہی جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔‘
BBCبلوچستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاج’مقصد لوگوں کو خوفزدہ کرنا ہے‘
پاکستان میں سکیورٹی امور کے ماہر اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے سربراہ محمد عامر رانا کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کا علم نہیں کہ تشدد زدہ لاشیں پھینکنے کا کام کون کرر ہا ہے لیکن بعض حلقوں اور لواحقین کی جانب سے ریاستی اداروں پر الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی یہ الزام درست ہے تو اس کا مقصد خوف پیدا کرنا ہوسکتا ہے اور ایسا کرنے والے شاید یہ چاہتے ہیں کہ لوگ شورش اور عسکریت پسندی سے دور رہیں اور اس کا حصہ نہ بنیں۔
اس سوال پر کیا اس طرح سے شورش کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’بظاہر تو اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد خوف و ہراس پیدا کرنا ہوتا ہے لیکن ان کی رائے کے مطابق یہ طویل مدت تک فائدہ مند نہیں ہوسکتا ہے۔‘
بلوچستان میں حالات کی بہتری سے متعلق سوال پر محمد عامر رانا کا کہنا تھا کہ بہتری کی صورت تو مذاکرات ہی ہیں لیکن فی الحال یہ ہوتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔
حب میں جبری گمشدگیوں پر اہلِ خانہ کا احتجاج، ’ہانی بلوچ آٹھ ماہ سے حاملہ ہیں، انھیں اس وقت علاج کی ضرورت ہے‘ماما قدیر بلوچ: بلوچستان کے لاپتہ افراد کی آواز، جن کی جنیوا تک لانگ مارچ کی خواہش پوری نہ ہو سکیزبیر بلوچ: دالبندین میں ’سکیورٹی فورسز کے آپریشن‘ میں مارے جانے والے وکیل کون تھے؟’خفیہ عدالتوں میں انصاف کیسے ہوگا‘: بلوچستان میں انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترامیم کی مخالفت کیوں؟
بلوچستان حکومت کے ایک سینیئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ان دس افراد کی لاشوں کی برآمدگی حوالے سے واٹس ایپ پر پیغام کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے جج کی سربراہی میں ایک آزاد کمیشن قائم کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کسی معلومات کے حصول کے لیے اس کمیشن سے رجوع کیا جائے۔ سی ٹی ڈی یعنی کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ کے ایک سینیئر آفیسر نے ان دس افراد کی لاشوں کی برآمدگی کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔
تاہم اس سے قبل وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں لاشوں کی برآمدگی کے معاملے پر بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ دہشت گرد جن کا نام لاپتہ افراد کی فہرست میں ہوتا ہے وہ کارروائیوں میں یا خودکش حملوں میں مارے جاتے ہیں تو پھر پتہ چلتا ہے کہ یہ نام لاپتہ افراد میں بھی شامل ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اکثر خاندانوں کو بھی پتہ نہیں ہوتا ہے کہ ان کا بچہ دہشت گرد گروہ میں شامل ہو چکا ہے۔‘
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’میری ان خاندانوں سے درخواست ہے کہ جن کے بچے عسکریت پسند گروہ میں شامل ہو چکے ہیں یا گھر سے دور ہیں، جن کے پاس ان کے بارے معلومات نہیں تو وہ حکومت اور علاقے کے عمائدین کے ساتھ اس کو شیئر کریں تاکہ کل وہ کسی دہشت گردی کی سرگرمی میں مارا جائے تو خاندان کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘
BBC
بلوچستان اسمبلی میں حکومتی رکن اور حکومت بلوچستان کے سابق ترجمان فرح عظیم شاہ نے کہا کہ اس وقت ہمسایہ ممالک کی جانب سے ملک اور اس کے اداروں کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں جن کو لوگوں کو سمجھنا چاییے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک دشمن قوتیں یہاں استحکام نہیں دیکھنا چاہتی اس لیے وہ ان اداروں کو بدنام کرنے کی سازش کرتی ہیں جو عدم استحکام پیدا کرنے کے منصوبوں کو ناکام بنا رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہمارے سکیورٹی سے متعلق ادارے آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرتے ہیں اور ان پرماورائے آئین و قانون الزامات بے بنیاد ہیں۔‘
اس سے قبل جبری گمشدگیوں اور تشدد زدہ لاشوں کی برآمدگی کے حوالے سے بی بی سی نے جب سکیورٹی فورسز کے ایک سینیئر اہلکار سے رابطہ کیا تھا تو ان کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کا معاملہ بنیادی طور پرایک سوچی سمجھی سازش ہے، جس کے تحت دشمن پاکستان کو بدنام کرنے اور عوام کو حکومتی اداروں کے خلاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ ’تحقیقات کے مطابق زیادہ تر افراد کودہشت گرد تنظیمیں اغوا کر کے قتل کر دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگ دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہو جاتے ہیں اور ان کے گھر والوں کو خبر بھی نہیں ہوتی۔‘
’یہ سب کچھ پاکستان دشمن عناصر کی پشت پناہی میں کیا جاتا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’پاکستان دشمن عناصر کالعدم تنظیموں کو استعمال کر کے لوگوں کو اغوا اور قتل کرواتے ہیں اور جب پاکستانی ایجنسیاں ایسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ایکشن لیتی ہیں تو ایک سوچی سمجھی چال کے مطابق الزام پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر لگایا جاتا ہے لیکن پاکستان جلد اپنے بہادر اور باشعور عوام کے ساتھ ایسی سازشوں کو ناکام بنائے گا۔‘
حب میں جبری گمشدگیوں پر اہلِ خانہ کا احتجاج، ’ہانی بلوچ آٹھ ماہ سے حاملہ ہیں، انھیں اس وقت علاج کی ضرورت ہے‘’ایک بچے کے جانے سے ساری زندگی بدل گئی‘: پاکستان میں 2025 ایک دہائی کا سب سے خونی سالماما قدیر بلوچ: بلوچستان کے لاپتہ افراد کی آواز، جن کی جنیوا تک لانگ مارچ کی خواہش پوری نہ ہو سکیانڈیا کے گجراتی بلوچ اور ’دھورندھر‘ فلم کا ایک متنازع ڈائیلاگ: ’وفادار اور جنگجو برادری کو ایسے الفاظ سے مخاطب کرنا مناسب نہیں‘نوکُنڈی میں ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی: ’یہ ایک خوفناک رات تھی‘بلوچستان میں لیویز کا پولیس میں انضمام: پولیسنگ کا 140 سال پرانا قبائلی نظام کیوں ختم کیا جا رہا ہے؟