ایران کے جوابی حملے، سعودی دفاعی معاہدہ اور اسلام آباد کی خارجہ پالیسی: ’صرف پاکستان کی معیشت ہی اسے ایک طرف جھکنے پر مجبور کر سکتی ہے‘

بی بی سی اردو  |  Mar 06, 2026

Getty Imagesپاکستان اور سعودی عرب نے گذشتہ برس دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق ’باہمی دفاع کے سٹریٹجک معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والے حملوں کا دائرہ کار پھیل کر علاقائی جنگ کی صورت اختیار کر چکا ہے جس میں پاکستان کی خارجہ پالیسی سمیت سعودی عرب سے ملک کے دفاعی معاہدے پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

سنیچر کی صبح ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تہران نے سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں موجود اہداف پر جواباً میزائل حملے کیے۔

ایران کے ان جوابی حملوں کا بنیادی ہدف سعودی عرب سمیت تمام خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈے ہیں اور جنگ شروع ہونے سے اب تک ایران اپنے عرب پڑوسیوں پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون داغ چکا ہے، یہاں تک کے قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے منگل کو ایک پریس بریفنگ میں کہا ’تمام ریڈ لائنز (سُرخ لکیریں) پہلے ہی عبور کی جا چکی ہیں۔‘

موجودہ حالات میں پاکستان کے لیے چیلینجز زیادہ ہیں۔ ایک جانب ہمسایہ مسلم ملک ایران ہے تو دوسری جانب سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ اور قطر سمیت خلیجی ممالک سے دوستانہ روابط۔ یہ وہ تمام ممالک ہیں جنھوں نے لڑکھڑاتی معاشی صورتحال میں پاکستان کو سہارا دیا ہے۔

جہاں پاکستان نے ایران پر اسرائیل کے حملے کی پرزور مذمت کی وہیں تہران کی جانب سے سعودی عرب میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے بعد وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سعودی عرب کو بھی یقین دلایا ہے کہ پاکستان ہر وقت اور ہر مشکل گھڑی میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

پاکستان کے ان متوازن پالیسی بیانات پر جہاں اس کو دو کشتیوں میں سوار ہونے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے، وہیں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ پاکستان کا سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ ہونے کے باعث اگر اسے ایران کے خلاف ہتھیار اٹھانے پڑے تو کیا مسائل سامنے آ سکتے ہیں؟

بی بی سی نے یہی سوالات تجزیہ کاروں اور سابق سفارتکاروں کے سامنے رکھے اور ان سے جاننا چاہا کہ اس مشکل صورتحال میں پاکستان کے سامنے کیا ممکنہ راستے باقی ہیں۔

تاہم اس سے پہلے جانتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے اس معاملہ پر کیا کہا گیا۔

اسحاق ڈار کا پالیسی بیان

ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ اور مختلف ممالک پر جوابی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر پالیسی بیان دیتے ہوئے پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ’ایران ایٹمی ہتھیار نہ بنانے پر متفق ہو گیا تھا، جوہری مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے باوجود ایران پر حملہ کیا گیا، ایران پر حملہ ہوا تو پاکستان نے کھل کر اس کی مذمت کی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کو سعودی عرب کی سرزمین حملوں کےلیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی پاکستان نے لے کر دی، ایران کے معاملے پر پاکستان کی پُرخلوص سفارتی کوششوں کو ملک کے اندر غلط رنگ دینا مناسب نہیں۔‘

اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں کہا کہ ’آپ نے دیکھا کہ سعودی عرب اور عمان کے خلاف کافی کم ردعمل ہوا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کی طرف سے مذاکرات کی کوشش میں کوئی کمی نہیں، ہم پوری طرح آن بورڈ ہیں، میں اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی براہ راست رابطے میں ہیں، ہمیں رابطے کے لیے دفتر خارجہ کی ضرورت نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سلامتی کونسل میں اس قرارداد کے ساتھ کھڑے ہوئے جس میں ایران سے پابندی ہٹانے کا کہا گیا تھا، ایران کی پارلیمنٹ میں پاکستان کا شکریہ ادا کیا گیا، ہم نے 28 فروری کو سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس کروایا، سکیورٹی کونسل میں ہم نے ایران پر حملے کی مذمت کی، عرب ممالک کے ساتھ مل کر ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کی۔‘

BBCایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تہران نے سعودی عرب، کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات میں موجود اہداف پر جواباً میزائل حملے کیے

ایک اور بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ’ایران کے خلیجی ممالک پر حملوں کے بارے میں کہا گیا یہ امریکی اڈوں پر ہیں مگر تفصیلات کے مطابق ائیرپورٹس و انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں پاکستانی بھی شہید ہوا، ایران ایسا نہ کرتا تو ہم اِن ممالک کو ساتھ ملا کر مؤثر آواز بن سکتے تھے۔‘

یاد رہے کہ ایران کے جوابی حملوں میں امریکہ کے فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کے بعد وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفون پر گفتگو میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سنگین علاقائی کشیدگی اور بعد ازاں بعض خلیجی ممالک پر ہونے والے افسوسناک حملوں کی شدید مذمت کی تھی۔

سعودی عرب، قطر، بحرین اور ابوظہبی میں امریکی اڈوں پر ایرانی میزائل حملے: امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں کہاں اور کیوں موجود ہے؟ایران کے اتحادی روس اور چین اس کی مدد کیوں نہیں کر پا رہے؟مہینوں کی منصوبہ بندی اور عین وقت پر ملنے والی خفیہ اطلاع: خامنہ ای کو قتل کرنے کا امریکی، اسرائیلی مشن کیسے مکمل ہوا؟سعودیہ، قطر کو حملوں کا سامنا اور آبنائے ہرمز کی بندش: پاکستان میں تیل اور گیس کی فراہمی اور قیمتیں کیسے متاثر ہو سکتی ہیں؟’پاکستان کی انرجی سکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس جنگ نے طول پکڑا تو پاکستان کے لئے کوئی واضح پوزیشن لینا ضروری ہو جائے گا اور یہ چیلنج پاکستان کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

تو یہ صورتحال پاکستان کو کیسے مشکل میں ڈال سکتی ہے؟ پاکستان کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بین الاقوامی سیاست کے تجزیہ کار ڈاکٹر قمر چیمہ نے کہا کہ ’پاکستان کی انرجی سکیورٹی اس صورتحال میں داؤ پر لگ سکتی ہے۔ ہماری بہت سی توانائی کی ضروریات ایران پوری کرتا ہے تو بہت سی ضروریات سعودی عرب سے پوری ہوتی ہیں۔ تو یہ بڑا چیلینج ہے۔‘

’ہماری فوج ایک طرف افغانستان کے حوالے سے دہشت گردی سے نمٹنے میں مصروف ہے، دوسری طرف ہمارا دفاعی معاہدہ سعودی عرب کے ساتھ ہے۔ ہم بورڈ آف پیس میں بھی مصروف ہیں تو فوج کی مختلف محاذوں پر توجہ ہونے سمیت دیگر مسائل پاکستان کو درپیش آ سکتے ہیں۔‘

دوسری جانب صحافی اور اینکر عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ ’ابھی تک تو پاکستان نے اپنے آپ کو ایک نیوٹرل سٹیٹ کے طور پر رکھا ہے جو کامیاب پالیسی ہے۔‘

ان کے مطابق ’یو اے ای پر حملہ ہو یا ایران پر، پاکستان نے دونوں کی مذمت کی ہے۔ اس سارے تناظر میں اب تک پاکستان کی ایک متوازن خارجہ پالیسی نظر آتی ہے لیکن اس میں آگے چیلینجز ہیں۔‘

ان کے مطابق ’یہ ایک طرح سے پاکستان کے لیے پلِ صراط ہے جسے پاکستان نے عبور کرنا ہے یوں سمجھیں کہ ایک باریک سی لکیر پر پاکستان کو چلنا ہے جس کے دونوں طرف کھائی ہے۔‘

’پاکستان کی معیشت اسے ایک طرف جھکنے پر مجبور کر سکتی ہے‘

سابق سفیر اعزاز چوہدری نے بی بی سی کے رابطہ کرنے پر تحریری جواب میں کہا کہ ’پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں جبکہ ایران ایک ہمسایہ ملک ہے جس کی گہری ثقافتی چھاپ ہے۔ جیسا کہ پاکستان کے نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ کے بیان میں اشارہ کیا گیا ہے، پاکستان دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کرنے میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پاکستان ایران سے کہہ رہا ہے کہ وہ سعودی عرب پر حملہ نہ کرے اور سعودی عرب سے یہ یقین دہانی حاصل کر رہا ہے کہ اس کی زمین ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ یہ ایک قابلِ تعریف کردار ہے جو پاکستان ادا کر رہا ہے کیونکہ وہ دونوں ممالک کا دوست ہے۔ یہی وہ کام ہے جو دوستانہ ممالک کرتے ہیں۔‘

تو اب پاکستان کو کون سی چیز ایک ملک کی طرف جھکاؤ لینے کا فیصلہ کرنے پر مجبور کرے گی؟

اس سوال کے جواب میں عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کی معاشی صورتحال مسلسل مختلف حملوں کا شکار ہے تو ہماری معیشت ہمارے دفاعی تقاضوں کو ڈیفائن کرتی نظر آ رہی ہے۔ تو بہتر تو یہی ہو گا کہ پاکستان توازن کے ساتھ پالیسی چلائے لیکن بظاہر نظر آ رہا ہے کہ ایسا کرنا مشکل ہو جائے گا اگر اسی طرح یو اے ای پر ایران کے حملے چلتے رہے۔‘

ان کے مطابق ’صرف پاکستان کی معیشت اسے ایک طرف جھکنے پر مجبور کر سکتی ہے تاہم ایسا ہونا نہیں چاہیے۔ پاکستان کے لیے سعودی عرب اور ایران دونوں ہی اہم ہیں۔ اندرونی امن و امان، استحکام اور پاکستان میں موجود فرقہ واریت کے آتش فشاں سے بچنے کے لیے بھی۔ اگر پاکستان اس کو برقرار رکھ پایا تو بہتر ہو گا لیکن پاکستان کو صرف پاکستان کی معیشت ہی مجبور کر سکتی ہے، تاہم پاکستان کو اپنی صورتحال دوست ممالک کے سامنے رکھنی چاہیے۔‘

ان کے مطابق ’بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان ایران اور سعودی عرب دونوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتا۔‘

’سعودی عرب کو اسرائیل کے مقاصد کا بخوبی علم ہے اور بظاہر امکان نہیں کہ سعودی عرب اس کو جانتے ہوئے کوئی انتہائی قدم اٹھائے گا۔‘

’پاکستان ہر قیمت پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا‘

سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان کا ایک اہم دفاعی معاہدہ بھی ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کے پاس کیا آپشنز ہیں؟

تجزیہ کار قمر چیمہ کے مطابق صوررت حال میں پاکستان کا موقف بہت واضح ہے۔

قمر چیمہ پاکستان کے دو کشتیوں کے سوار ہونے کے خیال سے متفق نہیں۔ ان کے مطابق ’پاکستان کسی ایک طرف نہیں جھکے گا۔ پاکستان جس جانب جھکے گا اس میں یا تو بین الاقوامی قوانین ہوں گے یا معاہدے ہوں گے تو یہی بات موجودہ صورتحال میں نظر آتی ہے۔‘

’ایران کے ساتھ پاکستان نے دوستی تو نبھائی لیکن جب معاملہ آتا ہے سعودی عرب کا تو ہمارا اس کے ساتھ ایک دفاعی معاہدہ ہے۔ پاکستان ہر قیمت پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گا۔‘

’ابھی تک امریکہ کے فوجی اڈوں کے تناظر میں سعودی عرب پر حملہ ہوا تاہم اگر سعودی عرب کی سرزمین پر حملہ ہوتا ہے، سعودی عرب کی پراپرٹی انفراسٹرکچر پر حملہ ہوتا ہے اور سعودی حکومت کہتی ہے کہ حملہ کرنا ہے تو پاکستان کسی صورت اپنے معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔‘

ان کے مطابق ’ایران سمیت تمام دنیا کو پتا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہوا ہے تو وہ کیسے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے سعودی عرب میں موجود فوجی اڈوں پر بہت کم حملے کیے کیونکہ ایران کو پہلے ہی متنبہ کر دیا گیا تھا کہ یہ چیز آپ کے لیے اچھی نہیں ہو سکتی کیونکہ سعودی عرب کو نقصان پہنچانے کی صورت میں ہمیں معاہدے کے تحت کسی بھی وقت اس جنگ میں کودنا پڑے گا۔‘

اسی سوال کے جواب میں عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ ’سعودی عرب کا جہاں تک دفاعی معاہدہ ہے تو اس کے تحت پاکستان کے وزیر خارجہ نے سعودی عرب اور ایران دونوں سے رابطہ کیا تھا۔ یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ کسی لمحےمیں جب سعودی عرب نے پاکستان کو کہا کہ ان کو پاکستان کی ضرورت ہے تو پاکستان اس آپشن کو استعمال کر سکتا ہے۔‘

’ایران سعودی عرب کا دشمن نہیں‘

سابق سفیر آصف درانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران اور امریکہ اسرائیل جنگ صرف پاکستان کے لیے چیلینجنگ نہیں بلکہ خلیجی ممالک، مشرقِ وسطیٰ، سینٹرل ایشیا جنوبی ایشا سب متاثر ہو رہے ہیں۔

ان کے مطابق ’ایران کی صورتحال کے تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے میں حقیقت پسندانہ سوچ کی ضرورت ہے۔ ہم سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایران سعودی عرب کا دشمن نہیں ہے۔‘

یاد رہے کہ مارچ 2023 میں چین کی ثالثی میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات بحال ہو گئے تھے۔سنہ 2023 میں تعلقات کی بحالی کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان وفود کی سطح پر بات چیت کا سلسلہ بھی جاری رہا تھا۔

مئی میں اسرائیل اور امریکہ کے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملوں کی بھی سعودی عرب نے کھل کر مذمت کی تھی۔

سابق سفیر آصف درانی کے مطابق ’اصل مسئلہ امریکہ اور اس کے اڈے ہیں جو استعمال ہو رہے ہیں جبکہ اسرائیل استحصال کر رہا ہے اور اس بات میں بھی ہمیں حیرانی نہیں ہو گی کہ ایران اور سعودی عرب یا ایران اور یو اے ای یا ایران اور عمان کو لڑانے کے لیے اس نے خود شرارتیں کی ہوں جیسے کہ پائپ لائن یا ہوٹل پر حملہ کرنا۔‘

انھوں نے کہا کہ پاکستان نے سکیورٹی کونسل میں بھی اس معاملے کو اٹھایا ہے اور خدشات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے میں ایسی شرائط نہ رکھی جائیں جو ناقابل قبول ہوں۔

’سعودی عرب کے ساتھ ہمارا معاہدہ موجود ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اسرائیل نے جب دوحہ پر حملہ کیا تھا تو اس کے کچھ عرصے بعد ہی پاکستان کا معاہدہ ہوا ہے۔ اس سے قبل ایران اور سعودی عرب کا چین کی ثالثی میں تعلقات میں بہتری آئی تھی۔ سعودی عرب کا رد عمل ہم سبب نے دیکھا کہ جس پس منظر میں ایران نے حملہ کیا امریکن فوجی اڈوں پر وہ موقف اہم ہے۔‘

پاکستان اور سعودی عرب کے ’باہمی دفاع کے سٹریٹجک معاہدے‘

پاکستان اور سعودی عرب نے گزشتہ سال ستمبر میں دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق ’باہمی دفاع کے سٹریٹجک معاہدے‘ (جوائنٹ سٹریٹجک ڈیفنس ایگریمننٹ) پر دستخط کیے تھے جس کے تحت ’کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘

سعودی ولیِ عہد شہزاد محمد بن سلمان اور پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں اس معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت ’اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا ہے اور ایک ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔‘

معاہدے کے بعد سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ ’سعودیہ اور پاکستان۔۔ جارح کے مقابل ایک ہی صف میں۔۔ ہمیشہ اور ابد تک۔‘

پاکستان اور سعودی عرب میں دفاعی معاہدہ: ’جوہری تحفظ پر ابہام بھی سعودی مقاصد پورا کر سکتا ہے‘پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ قطر پر اسرائیلی حملے کے تناظر میں کیا معنی رکھتا ہے؟سعودی عرب پاکستان کی مالی امداد کیوں کرتا ہے اور کیا پاکستان سعودی عرب کے لیے ایک طاقت ہے یا بوجھ؟سعودیہ، قطر کو حملوں کا سامنا اور آبنائے ہرمز کی بندش: پاکستان میں تیل اور گیس کی فراہمی اور قیمتیں کیسے متاثر ہو سکتی ہیں؟’تمام سُرخ لکیریں عبور ہو چکیں‘: کیا خلیجی ریاستوں کا ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت کا امکان بڑھ رہا ہے؟ٹرمپ کا جُوا، نیتن یاہو کی کرسی یا ایران کی بقا میں فتح: تیزی سے پھیلتی جنگ میں جیت کا معیار کیا ہو گا؟
مزید خبریں

تازہ ترین خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More