Getty Images
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اُن کے محل سے گرفتار کر کے نیویارک پہنچانے کی کارروائی کو کئی روز گزر چکے ہیں لیکن صدر ٹرمپ اب بھی مختلف مواقع پر اس کارروائی کو براہ راست دیکھنے کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔
امریکی صدر نے یہ ساری کارروائی ریاست فلوریڈا میں اپنی رہائشگاہ سے دیکھی، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سمیت دیگر امریکی حکام بھی موجود تھے۔
فاکس نیوز سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے اس ساری کارروائی کو براہ راست دیکھنے کے دوران اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’اگر اس کی رفتار دیکھیں تو یہ بہت شاندار تھی۔۔۔ یہ ان لوگوں کی زبردست کارروائی تھی۔کوئی اور ایسا نہیں کر سکتا تھا۔‘
امریکی صدر تیزی سے کامیابی حاصل کرنے کے خواہاں رہے ہیں۔ صدر منتخب ہونے کے بعد ٹرمپ نے کہا تھا کہ روس یوکرین تنازع ختم کروانے میں اُنھیں صرف ایک دن لگے گا۔
وینزویلا کے معاملے پر صدر ٹرمپ نے تیزی سے بڑی کامیابی حاصل کی۔ وینزویلا کے صدر مادورو بروکلین کی ایک جیل میں ہیں جبکہ ٹرمپ نے اعلان کر رکھا ہے کہ امریکہ وینزویلا کو ’چلائے‘ گا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وینزویلا کی نئی حکومت امریکہ کے ساتھ تعاون کرے گی اور لاکھوں بیرل تیل اور اس سے ملنے والے منافع کا کنٹرول بھی امریکہ کے پاس ہو گا۔
صدر ٹرمپ یہ بھی فخر سے بتاتے ہیں کہ وینزویلا میں کی گئی کارروائی کے دوران ایک بھی امریکی کی جان نہیں گئی جبکہ یہ اس نوعیت کا قبضہ بھی نہیں تھا، جس میں صدام حکومت کا تختہ اُلٹنے کے لیے امریکی افواج کو طویل عرصے تک عراق میں رہنا پڑا تھا۔
موجودہ صورتحال میں ٹرمپ اور اُن کے مشیر عوامی سطح پر وینزویلا اور اُس سے جڑی پیچیدگیوں کو نظرانداز کرتے رہے ہیں۔ یہ رقبے کے لحاظ سے جرمنی سے بڑا ملک ہے۔ ملک کا نظم و نسق چلانے میں مختلف گروہوں کا اثر و رسوخ ہے، جن پر بدعنوانی اور عوامی رائے کو دبانے کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔
Getty Imagesدیگر ممالک میں بھی کارروائی کی دھمکیاں
مادورو کے خلاف کارروائی کے بعد صدر ٹرمپ لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دے رہے ہیں۔
وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ بھی ٹرمپ کے عزائم کو مسلسل دہرا رہے ہیں۔ ان وزرا کا کہنا ہے کہ ٹرمپ وہ صدر ہیں، جو کہتے ہیں، اُس پر عمل بھی کرتے ہیں۔
اُن کے بقول صدر ٹرمپ کولمبیا، میکسیکو، گرین لینڈ اور ڈنمارک سے متعلق جو کچھ کہہ چکے ہیں، اس پر ان ممالک کو گھبرانا چاہیے۔
صدر ٹرمپ کو عرفیت دینا پسند ہے اور وہ اپنے پیشرو جو بائیڈن کو ’سلیپی جو بائیڈن‘ کہتے آئے ہیں۔ اب وہ دو صدیوں تک لاطینی امریکہ سے متعلق امریکی پالیسی ’منرو نظریے‘ کو اپنے نام سے منسوب کرتے ہوئے اسے نیا نام ’ڈونرو نظریہ‘ قرار دے رہے ہیں۔
’منرو نظریے‘ کی بنیاد سنہ 1829 میں اُس وقت کے امریکی صدر جیمز منرو کی جانب سے ڈالی گئی تھی۔ جس میں دیگر طاقتوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ نصف مغربی کرہ ارض (لاطینی اور جنوبی امریکی ممالک) میں امریکہ مفادات ہیں، لہذا وہ وہ امریکی اثر و رسوخ کے دائرے میں مداخلت نہ کریں۔
روس کا دوسری مرتبہ ’اوریشنِک‘ میزائل کا استعمال: یہ ہتھیارکیا ہے اور اسے ’یورپ کے لیے خطرہ‘ کیوں سمجھا جا رہا ہے؟سوویت یونین کو خفیہ معلومات فروخت کرنے والے ’ڈبل ایجنٹ‘ کی کہانی جنھوں نے امریکہ کو ’سب سے زیادہ نقصان پہنچایا‘ٹرمپ کی گرین لینڈ میں فوجی مداخلت کی دھمکی جس نے نیٹو اور یورپی یونین کو مشکل میں ڈال دیاایران، گرین لینڈ یا کیوبا: وینزویلا کے بعد صدر ٹرمپ کا اگلا نشانہ کون سا ملک بن سکتا ہے؟
’ڈونرو نظریے‘ کے ذریعے صدر ٹرمپنے 200 سال قبل کے منرو نظریے کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کا عندیہ دیا ہے۔
آنکھوں میں پٹی اور زنجیروں میں جکڑے وینزویلا کے صدر کو جب جیل کی طرف لیجایا جا رہا تھا تو اس دوران صدر ٹرمپ فلوریڈا میں گفتگو کرتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ ’منرو نظریہ ایک بہت بڑی بات تھی لیکن ہم نے اسے مزید تیزی سے آگے بڑھایا۔‘
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہماری قومی سلامتی کی نئی حکمتِ عملی کے تحت نصف کرہ ارض میں ہماری برتری پر دوبارہ کبھی سوال نہیں اُٹھایا جا سکے گا۔
Reutersجارج واشنگٹن کی نصیحت اور امریکی طاقت پر یقین کی پالیسی
صدر ٹرمپ نے یہ پیغام بلواسطہ طور پر چین کو دیا کہ وہ اب لاطینی امریکہ کے ممالک میں مداخلت سے باز رہے۔ یہ واضح نہیں کہ اس پیغام کا چین کی جانب سے ان ممالک میں کی جانے والی سرمایہ کاری کے لیے کیا مطلب ہو گا۔
ڈونرو نظریے کے نشانے پر گرین لینڈ کا شمال جسے امریکہ ’بیک یارڈ‘ کہتا ہے، پر بھی ہے۔
اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کی فوجی اور معاشی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے امریکی مفادات کے راستے میں رکاوٹ بننے والے کسی بھی رہنما کے ساتھ مادورو جیسا سلوک ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر سے متعلق کہا کہ اُنھیں بھی اپنی فکر کرنی چاہیے۔
امریکہ کی گرین لینڈ پر بھی نظر ہے، نہ صرف اس لیے کہ یہ قطب شمالی میں ایک سٹریٹجک مقام پر ہے بلکہ یہ نایاب معدنیات سے بھی مالا مال ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں اور تیزی سے پگھلتی برف کی وجہ سے رسائی کے قابل ہو رہے ہیں۔
وینزویلا میں خام تیل کے بڑے ذخائر اور گرین لینڈ کی نایاب معدنیات کو امریکہ کے سٹریٹجک اثاثے قرار دیا جا رہا ہے۔
ماضی کے امریکی صدور کے برعکس، ٹرمپ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے کسی قانونی جواز یا بین الاقوامی قوانین کو ملحوظ خاطر رکھنے کے بجائے اپنی مرضی اور امریکی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔
’منرو‘ سے ’ڈونرو‘ نظریے تک امریکی صدور اپنے انداز میں اپنی خارجہ پالیسی کا تعین کرتے رہے ہیں۔
جولائی میں امریکہ اپنی 250 ویں سالگرہ منائے گا۔ سنہ 1796 میں امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن نے اپنے الوداعی خطاب میں کہا تھا کہ وہ تیسری مدت کے خواہاں نہیں۔
جارج واشنگٹن کا وہ خطاب آج کے حالات میں بھی متعلقہ دکھائی دیتا ہے۔ جارج واشنگٹن نے امریکہ اور دُنیا کو کئی معاملات پر خبردار کیا تھا۔
جارج واشنگٹن نے کہا تھا کہ جنگ کے دوران شاید فی الوقتی اتحاد ضروری ہوں لیکن امریکہ کو مستقل غیر ملکی اتحاد بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔ اسی سوچ کے سبب تنہائی پسندی کی ایک روایت قائم ہو رہی ہے۔
ملک کے اندر انھوں نے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ مستقل شراکت داریوں سے گریز کریں۔ ان کے مطابق تقیسم نوجوان امریکیوں کے لیے خطرہ ہے۔
Getty Images
امریکی سینیٹ واشنگٹن کے الوداعی خطاب کا ہر سال عوامی سطح پر مطالعے کا اہتمام کرتی ہے۔ یہ ایک ایسی روایت ہے، جس کے باوجود امریکہ میں بڑھتی سیاسی تقسیم کم نہیں ہو سکی۔
کسی بھی اتحاد میں شامل ہونے کے خطرات کے بارے میں واشنگٹن کی نصیحت پر امریکہ نے 150 سال تک عمل کیا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے یورپ سے نکل کر تنہائی کی پالیسی اپنا لی۔
لیکن دوسری عالمی جنگ نے امریکہ کو عالمی طاقت بنا دیا اور جس کے بعد امریکہ میں ایک اور نظریے نے جنم لیا، جو یورپی ممالک سے ملتا جلتا تھا، یہاں تک کے ٹرمپ اقتدار میں آ گئے۔
سنہ 1947 تک سوویت یونین کے ساتھ سرد حنگ ختم ہو چکی تھی۔ جنگ سے دیوالیہ ہو جانے والے برطانیہ نے امریکہ سے کہا کہ وہ یونانی حکومت کی کمیونسٹوں کے ساتھ لڑائی کے لیے مزید فنڈز فراہم نہیں کر سکتا۔
اُس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین کا ردِعمل یہ تھا کہ امریکہ ان کی حمایت کرے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’آزاد لوگوں نے مسلح اقلیتوں یا بیرونی دباؤ کے ذریعے محکومی کی کوشش کی مزاحمت کی۔‘ اس کا مطلب سوویت یونین یا مقامی کمیونسٹوں سے خطرہ تھا۔
ٹرومین کے اس نظریے نے مارشل پلان کو جنم دیا، جس نے یورپ کو دوبارہ تعمیر کیا، جس کے بعد 1949 میں نیٹو کی تشکیل ہوئی۔
صدر ہیری ٹرومین اور امریکی سفارت کار جارج کینن کا خیال تھا کہ سوویت یونین کا راستہ روکنا، امریکی مفاد میں ہے۔
جو بائیڈن کے دور میں یوکرین کو روس کے خلاف جنگ میں مالی مدد دینے کا تعلق بھی ٹرومین نظریے کا تسلسل تھا۔
Getty Images’دُنیا طاقت اور صرف طاقت کے ذریعے ہی چلتی ہے‘
ٹرومین نے یورپ کے ساتھ وہ تعلق قائم کیا، جسے اب ٹرمپ ختم کر رہے ہیں۔ ٹرومین نے مستقل اتحاد میں رہنے کے جارج واشنگٹن کے انتباہ کو نظرانداز کیا تھا۔
اب ٹرمپ، ٹرومین کی قائم کی گئی میراث کو توڑ رہے ہیں۔ اگر وہ گرین لینڈ پر کسی طرح سے قبضہ کرنے کی دھمکی پر عمل کرتے ہیں، جو ڈنمارک کا خود مختار علاقہ ہے تو پھر بحر اوقیانوس کے اتحاد میں جو کچھ بچا ہے، وہ بھی تباہ ہو سکتا ہے۔
’میک امریکہ گریٹ اگین‘ (میگا) سے متاثرہ ٹرمپ کے مشیر سٹیفن ملر نے اس ہفتے کے آغاز میں سی این این کو بتایا تھا کہ ’امریکہ حقیقی دُنیا میں کام کر رہا ہے۔ جو طاقت اور صرف طاقت سے چلتی ہے۔ یہ شروع ہی سے دُنیا کا قانون ہے۔‘
کوئی بھی امریکی صدر طاقت اور طاقت کی ضرورت سے انکار نہیں کرے گا لیکن ٹرمپ کو چھوڑ کر صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ سے ٹرومین اور ان کے تمام جانشینوں کا یہ خیال رہا کہ طاقتور ہونے کا بہترین طریقہ اتحاد کی قیادت کرنا ہے، جس میں ’کچھ دو اور کچھ لو‘ کی پالیسی اہم ہوتی ہے۔
ان صدور نے اقوامِ متحدہ کے ساتھ تعاون کیا اور اس کے ذریعے ریاستوں کو کنٹرول کرنے کے لیے قوانین بنوائے۔ امریکہ نے خود کئی مرتبہ عالمی قوانین کی خلاف ورزیاں کیں اور مبنی بین الاقوامی نظام کے خیال کو کھوکھلا کرنے کے لیے بہت کچھ کیا۔
لیکن ٹرمپ سے پہلے آنے والے صدور نے اس تصور کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی کہ بین الاقوامی نظام میں موجود خامیوں اور نقائص کے باوجود اسے ایک ضابطے کی ضرورت ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ 20ویں صدی میں طاقتور حکمرانی کے نتائج تباہ کن دو عالمی جنگوں اور لاکھوں افراد کی ہلاکت کی صورت میں نکلے۔
لیکن ٹرمپ نے ’امریکہ فرسٹ‘ کے نظریے اور ان کی ایک تاجر کی طرح کی پالیسی اور لین دین کے امتزاج نے یہ ظاہر کیا کہ امریکہ کے اتحادیوں کو اس سہولت کے عوض قیمت ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکی مفادات کی محدود تعریف کے مطابق وہ بغیر کسی اتحادی کے تن تنہا سب سے آگے رہنا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ اکثر اپنا ذہن بدل بھی لیتے ہیں لیکن ایک چیز جس پر اُن کا مستقل اصرار ہے کہ امریکہ اپنی طاقت کو بغیر کسی استثنیٰ کے استعمال کر سکتا ہے۔ ٹرمپ کے نزدیک یہی امریکہ کو دوبارہ سے عظیم بنانے کا طریقہ ہے۔
خطرہ یہ ہے کہ اگر ٹرمپ اپنے راستے پر قائم رہتے ہیں تو وہ دُنیا کو ایک صدی یا اس سے زیادہ پہلے کے سلطنتوں کے دور کی طرف دھکیل دیں گے۔
ایک ایسی دُنیا جہاں بڑی طاقتیں اپنے دائرہ کار کے اندر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ جہاں طاقتور آمرانہ قوم پرست اپنے لوگوں کو تباہی کی طرف لے جاتے تھے۔
وینزویلا کے تیل کی کہانی: سعودی عرب سے بھی بڑے ثابت شدہ ذخائر مگر امریکہ کے لیے اُن کا حصول مشکل کیوں ہو گا؟آپریشن موغادیشو، صدام حسین اور وینزویلا کے صدر کی گرفتاری: انتہائی پرخطر اور خفیہ کارروائیاں کرنے والی امریکی’ڈیلٹا فورس‘ کیا ہے؟ایران، گرین لینڈ یا کیوبا: وینزویلا کے بعد صدر ٹرمپ کا اگلا نشانہ کون سا ملک بن سکتا ہے؟کوکین سمگلنگ اور کارٹیلز سے شراکت کے الزامات: وینزویلا کے رہنما مادورو کے خلاف کیس جو امریکہ میں برسوں سے تیار کیا جا رہا تھا’قلعہ نما گھر، سی آئی اے کا مخبر اور سیف روم تک پہنچنے کی کوشش‘: صدر مادورو کو پکڑنے کے لیے امریکی کارروائی میں کیا کیا ہوا؟’آپریشن جَسٹ کاز‘: امریکہ نے آخری بار کس مُلک کے صدر کو فوجی آپریشن کی مدد سے حراست میں لیا تھا؟