Getty Images
مئی 2025 میں جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان فضائی جھڑپیں جاری تھیں تو اس دوران جہاں دونوں ملک ایک دوسرے پر برتری لے جانے کی کوشش میں مگن تھے، وہیں ہزاروں میل دور واشنگٹن میں ایک اور محاذ سرگرم تھا۔
میزائل اور ڈرون حملوں سے دور اس محاذ پر انڈیا اور پاکستان لابنگ فرمز کے ذریعے اپنے اپنے بیانیے کو امریکی پالیسی سازوں اور میڈیا کے سامنے سبقت دلانے کی کوشش کر رہے تھے۔
بی بی سی نے امریکہ کے فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (فارا) کے تحت جمع کروائی گئی دستاویزات کا جائزہ لیا ہے، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مئی کی کشیدگی کے دوران دونوں ممالک نے واشنگٹن میں بھرپور لابنگ مہم چلائی اور متعدد امریکی لابنگ اور پی آر کمپنیوں کی خدمات حاصل کیں، صدر ٹرمپ کے قریبی لابیسٹس سے رابطے کیے اور میڈیا اور کانگریس میں اپنا مؤقف پیش کیا۔
اور یہ سب کرنے کا مقصد اپنے نقطہ نظر کو اجاگر کرنا تھا۔ اِن دستاویزات سےظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے بحران کے اس وقت میں امریکی اثر و رسوخ کو ایک اہم سفارتی ذریعہ کے طور پر استعمال کیا۔
پاکستان نے بارہا یہ مؤقف دہرایا کہ 22 اپریل کے پہلگام حملے میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں تھا اور اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ پاکستان نے انڈیا کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کی مذمت کی جن میں 40 عام شہری ہلاک ہوئے اور کہا کہ انڈیا کے دہشت گرد گروہوں کی حمایت بھی مسئلے کی جڑ ہے۔
اس دوران پاکستان نے یہ واضح بھی کیا کہ اگر پاکستان پر انڈیا کی جانب سے دوبارہ حملہ ہوا تو وہ اپنے عوام اور علاقے کا دفاع کرے گا اور ساتھ ہی انڈیا کے ساتھ دہشت گردی، پانی کے معاہدے اور دیگر مسائل پر بات چیت کی خواہش بھی ظاہر کی۔
دوسری جانب انڈین اہلکاروں نے 10 مئی کو، جب جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، واشنگٹن میں امریکی لابیئسٹ جیسن ملر کے توسط سے امریکی انتظامیہ کے چار سینیئر اہلکاروں کو فون کیا تھا۔
اُس دن انڈین سفارتکاروں نے امریکی محکمہ تجارت کے نمائندے جیملسن گریر، نیشنل سیکورٹی کونسل کے ریکی گل، وائٹ ہاؤس کے سٹیوین چنگ اور چیف آف سٹاف سوزی وائلس سے رابطہ کیا تھا۔
اس کے علاوہ انڈیا، پاکستان کی لڑائی کی میڈیا کوریج کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ امریکی وزارت انصاف کی ویب سائٹ پر جو تفصیلات دی گئی ہیں ان سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ بات چیت جنگ بندی سے پہلے ہوئی تھی یا اس کے بعد۔
بی بی سی اُردو نے انڈیا اور پاکستان میں ماہرین اور تجزیہ کاروں سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی ہے واشنگٹن میں موجود لابی فرمز کتنی اہم ہیں، ان کی خدمات کیوں حاصل کی جاتی ہیں اور پاکستان اور انڈیا ان کے ذریعے کیا اپنا پیغام دینے میں کامیاب رہے یا نہیں؟
فارا فائلنگز اسلام آباد اور دلی کی سفارتی سرگرمیوں کے بارے میں کیا ظاہر کرتی ہیں؟
بیجمن فری مین، کوئنسی انسٹیٹیوٹ میں ’ڈیماکریٹائزنگ فارن پالیسی‘ کے ڈائریکٹر ہیں جہاں وہ واشنگٹن میں غیر ملکی اثر و رسوخ اور لابنگ سرگرمیوں پر تحقیق کرتے ہیں۔
بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’فارا دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے آپریشن سندور کے جواب میں چھ لابنگ اور پی آر فرموں پر تقریباً پانچ ملین ڈالر خرچ کیے۔‘
انھوں نے کہا کہ دستاویزات کے مطابق یہ سب ’بحران کے دوران سفارت کاری‘ مہم کا حصہ تھا جس میں ’ٹرمپ انتظامیہ سے براہِ راست تعلقات رکھنے والے متعدد لابیسٹس کی خدمات حاصل کی گئیں۔‘
فری مین کے مطابق دستاویزات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ پاکستان نے نیو یارک ٹائمز اور وال سٹریٹ جرنل جیسے میڈیا اداروں تک وسیع رسائی حاصل کی۔۔۔ ’پاکستان کے غیر ملکی ایجنٹس نے بلاشبہ بحران کے دوران امریکی میڈیا کے بیانیے کو پاکستان کے حق میں موڑنے کی کوشش کی۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ یہ ایک معیاری تاہم ’عجلت میں کی گئی غیر ملکی اثر و رسوخ‘ کی مہم تھی، جس میں امریکی ریاست میں لاکھوں ڈالر خرچ کیے جاتے ہیں اور بدلے میں ایک غیر ملکی طاقت کو میڈیا اور واشنگٹن کے پالیسی حلقوں میں سازگار رویہ ملتا ہے۔
عالمی امور کی تجزیہ کار نروپما سبرامنین نے بی بی سی اردو کے شکیل اختر سےبات کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا نے یہ واضح پوزیشن اختیار کر رکھی ہے کہ جنگ بندی میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں۔ اس لحاظ سے لڑائی کے دوران لابی فرم نے انڈین اہلکاروں کی امریکی انتظامیہ کے اعلی اہلکاروں سے بات چیت کا جو انتظام کیا تھا، وہ بڑا عجیب سا لگ رہا ہے۔‘
نروپما سبرامنین کہتی ہیں کہ ’امریکی انتظامیہ کے اہلکاروں سے لابیئیسٹ کے توسط سے بات چیت کی یہ تفصیلات اس لیے بھی اہم ہیں کہ اس سے یہ پتہ چلتا ہے 10 مئی کو انڈین اہلکاروں نے صرف نیشنل سیکورٹی کونسل کے رکی گل اور چیف آف سٹاف سوزی وائلز سے ہی بات نہیں کی تھی بلکہ انھوں نے محکمہ تجارت کے نمائندہ جیملسن گریئر سے بھی بات کی تھی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے جنگ کے دوران انڈیا اور پاکستان کو تجارت بند کرنے کی وارننگ دے کر جنگ بندی کرائی تھی۔ 10 مئی کو جب جنگ بندی کی بات چل رہی ہو گی یا ہو چکی ہو گی اس پس منظر میں محکمہ تجارت کے نمائندے سے کیا بات چیت ہوئی ہو گی اس کے بارے میں بہت سی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ اس دن ٹریڈ ریپنزنٹیٹیو سے کیا بات چیت ہوئی تھی۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ٹرمپ انتظامیہ میں انڈیا اور پاکستان کے سفارتکاروں کو موجودہ ایڈمنسٹریشن تک اتنی براہ راست رسائی نہیں ہے جتنی ماضی کے صدور کے دور میں رہی ہے۔ اس لیے انڈیا اور پاکستان کو اپنی بات امریکہ کے اثر و رسوخ رکھنے والے اہلکاروں تک پہنچانے کے لیے لابی فرمز ہائر کرنا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔ یہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔‘
تاہم وہ کہتی ہیں کہ ’معمول کی میٹنگوں اور انتطامیہ سے وقت لینے کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر لابی سے مدد لیا جانا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انڈین میڈیا نے ماضی میں مودی کی جو امیج بنائی تھی کہ مودی اور ٹرمپ بہت اچھے دوست ہیں اور یہ کہ وہ کبھی بھی فون پر بات کر سکتے ہیں یا یہ کہ وزیر خارجہ جے شنکر کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ بہت با اثر اور بارسوخ وزیر خارجہ بن چکے ہیں، وہ سب صحیح ثابت نہیں ہوا۔ بین الاقوامی تعلقات الگ طرح کی سفارت کاری سے چلتے ہیں۔‘
نروپما سبرامنین کہتی ہیں کہ ’ابھی چند مہینے قبل تک کہا جاتا تھا مودی کی خارجہ پالیسی انڈیا کی اب تک کی سب سے اچھی اور بااثر خارجہ پالیسی ہے۔ مگر اب اس خارجہ پالیسی کی حدیں واضح ہو گئی ہیں اور اس کی کمیاں سامنے آ گئی ہیں۔‘
بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار ونود شرما نے کہا کہ ’انڈیا یہ کہتا رہا ہے کہ جنگ بندی میں کسی تیسرے فریق کی کو ئی مداخلت نہیں ہوئی ہے۔ وزیر اعظم مودی نے پارلیمنٹ میں کہا کہ جنگ بندی کسی کے کہنے پر نہیں ہوئي ہے۔ ہم نے اپنا فیصلہ خود کیا تھا، لیکن اب بہت سے ایسے ثبوت اور اشارے مل رہے ہیں جن سے یہ لگ رہا ہے کہ جنگ بندیامریکہکی مداخلت سے عمل میں آئی۔‘
’ٹرمپ ذاتی اور خاندانی نیٹ ورک پر غیر معمولی حد تک انحصار کرتے ہیں‘
اس حوالے سے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اٹلانٹک کونسل سے وابستہ جنوبی ایشیا کے سینیئر فیلو، مائیکل کوگلمین کہتے ہیں کہ یہ فارا فائلنگز ایک ایسی حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں جو کافی عرصے سے معلوم ہے اور وہ یہ کہ ’پاکستان کی حکومت نے واشنگٹن میں اپنے مفادات کے فروغ کے لیے نہایت بااثر اور طاقتور لابیسٹس کی خدمات حاصل کی ہیں۔‘
کوگلمین کے مطابق ’ان لابیسٹس کی اصل طاقت صدر ٹرمپ کے زیرِ قیادت واشنگٹن میں اس وجہ سے سمجھی جاتی ہے کہ متعدد مواقع پر ان کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی حلقے سے ذاتی روابط رہے ہیں، جبکہ ٹرمپ ایسے رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں جو ذاتی اور خاندانی نیٹ ورک پر غیر معمولی حد تک انحصار کرتے ہیں۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ’دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی ملاقات‘ جس میں آئی ایس آئی سربراہ بھی موجود تھے ’انسداد دہشت گردی کے شعبے میں پاکستان قابلِ اعتماد پارٹنر ہے، آرمی چیف عاصم منیر نے کال کر کے بتایا کہ ہم نے جعفر کو گرفتار کر لیا‘: امریکی سینٹ کام چیف’پاکستانی بہت اچھی مصنوعات بناتے ہیں‘: ٹرمپ پاکستان اور انڈیا سے کن شعبوں میں تجارت کر سکتے ہیں؟’لاتعلقی کے بعد ثالثی‘: ’ڈیل میکر‘ ٹرمپ انڈیا اور پاکستان سے کیا چاہتے ہیں؟
وہ کہتے ہیں کہ اسی تناظر میں یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ پاکستان کے لیے انڈیا کے ساتھ تنازع جیسے ایک نہایت نازک اور اہم موقع پر اسلام آباد نے اپنے مؤقف کو امریکی انتظامیہ تک مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے انھی لابیسٹس کا سہارا لیا۔ ’مقصد یہ تھا کہ امریکی حکومت پاکستان کے نقطۂ نظر اور تحفظات کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔‘
کوگلمین کا کہنا ہے کہ ’ان ایف اے آر اے دستاویزات سے سب سے بڑا نکتہ یہی سامنے آتا ہے کہ ایسے اہم وقت پر پاکستان کا اپنے لابیسٹس کو متحرک کرنا فطری امر تھا۔ اسلام آباد کے نقطۂ نظر سے یہی موزوں وقت تھا کہ واشنگٹن، بالخصوص وائٹ ہاؤس، کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جائے اور ان کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔ چنانچہ یہی ہوا، اور پاکستان نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے لابنگ نیٹ ورک کو استعمال کیا۔‘
پبلک پالیسی، میڈیا اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار رضا رومی کے مطابق فارا فائلنگز سے معلوم ہوتا ہے کہ مئی 2025 میں انڈیا کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاکستان نے واشنگٹن میں منظم اور بھرپور سفارتی و لابنگ مہم چلائی۔‘
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اسلام آباد نے متعدد امریکی لابنگ فرموں کی خدمات حاصل کیں اور امریکی کانگریس کے ارکان اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتیں، ای میلز اور دیگر رابطوں کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کیا۔ اس کا بنیادی مقصد انڈیا پر امریکی دباؤ کے ذریعے کشیدگی میں کمی لانا تھا۔
رضا رومی کے مطابق فائلنگز یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ ’پاکستانی نمائندوں کو خدشہ تھا کہ انڈیا کی جانب سے فوجی کارروائیوں میں عارضی توقف برقرار نہیں رہے گا۔‘ مجموعی طور پر یہ دستاویزات بتاتی ہیں کہ پاکستان نے بحران کے وقت ’امریکی اثرورسوخ کو ایک اہم سفارتی ذریعہ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔‘
’بنیادی حقیقتوں کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے‘
مائیکل کوگلمین کا کہنا ہے کہ آپریشن سندور میں پاکستان کی لابنگ کوششوں کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے تاہم وہ کہتے ہیں کہ ’پاکستان نے بین الاقوامی برادری سے وہ حاصل کر لیا جو وہ چاہتا تھا۔۔۔ اسے بین الاقوامی برادری کی توجہ تنازع کی طرف مبذول کرانے میں کامیابی ملی اور کئی معاملات میں ثالثی کی پیشکش بھی ہوئی۔ اور بین الاقوامی برادری نے دونوں فریقوں سے لڑائی روکنے کا مطالبہ کیا۔‘
کوگلمین کے مطابق ’یہ سب کچھ پاکستان کے لیے خوش آئند تھا لیکن یہ صرف لابنگ کوششوں کی وجہ سے نہیں ہوا۔ میرے خیال میں یہ صرف کچھ بنیادی حقیقتوں کی وجہ سے تھا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اصل معاملہ نیوکلیئر ایسکلیشن کے خطرات سے جڑا ہوا تھا۔ ’دنیا جوہری ہتھیاروں سے لیس دو ممالک کو لڑتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتی کیونکہ اس سے نیوکلیئر خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے ممالک، بشمول امریکہ، نے تنازع ختم کرنے کے لیے ثالثی یا کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کیں۔ دنیا کو تنازع ختم کرنے اور دونوں فریقوں کو قریب لانے میں شدید دلچسپی تھی۔‘
کوگلیمن کے مطابق ’انڈیا یہ نہیں چاہتا تھا۔ انڈیا نے وہ جنگ جاری رکھنے کی کوشش کی جسے وہ انسداد دہشت گردی کی کارروائی کہتا تھا۔ لیکن دنیا نے دیکھا کہ نیوکلیئر کشیدگی کا ایک سنگین خطرہ موجود ہے۔ اور یہ کوئی ایسی بات نہیں جو واشنگٹن میں پاکستان کے لابیسٹس کی کوششوں سے پیدا ہوئی ہو بلکہ یہ عام فہم بات تھی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اس کے علاوہ انڈیا نے پہلگام حملے میں پاکستان کی ملوث ہونے کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ یہ ایک اور وجہ تھی کہ بین الاقوامی برادری نے پیچھے ہٹ کر انڈیا کو اپنی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی پوری کرنے کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے، براہِ راست قدم اٹھانے سے گریز کیا کیونکہ دنیا کے پاس یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی کہ پاکستان کا اس حملے میں کوئی کردار تھا۔‘
کوگلیمن کا ماننا ہے کہ ’اس میں لابیسٹس کا کوئی تعلق نہیں، حالانکہ ممکن ہے کہ انھوں نے یہ پیغام بھی پہنچایا ہو۔ یہ دراصل ایک بہت سادہ حقیقت تھی جس پر دنیا نے دھیان دیا۔‘
’واشنگٹن میں اثر و رسوخ کی جنگ جیتنا بعض اوقات حقیقی فوجی معرکے جیتنے سے بھی زیادہ اہم ہو سکتا ہے‘AFP via Getty Images
اس حوالے سے واشنگٹن میں غیر ملکی اثر و رسوخ اور لابنگ سرگرمیوں پر تحقیق کرنے والے اور کوئنسی انسٹیٹیوٹ میں ’ڈیماکریٹائزنگ فارن پالیسی‘ کے ڈائریکٹربیجمن فری مین کہتے ہیں کہ پاکستان نے وہی کیا جو زیادہ تر ممالک کرتے ہیں جب وہ کسی سنگین بین الاقوامی خطرے کا سامنا کر رہے ہوں: یعنی واشنگٹن ڈی سی کے لابیسٹس کی خدمات حاصل کرنا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’واشنگٹن میں اثر و رسوخ کی جنگ جیتنا بعض اوقات حقیقی فوجی معرکے جیتنے سے بھی زیادہ اہم ہو سکتا ہے۔‘
فری مین کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کو اکثر ایسے لابیسٹس کے ذریعے متاثر کیا جا سکتا ہے جو ٹرمپ سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں، اور وہ ان ممالک کو اپنی حمایت، بشمول فوجی حمایت، دینے پر آمادہ ہو جاتی ہے جو ان لابنگ اور پبلک ریلیشنز فرموں کو لاکھوں ڈالر بھیج رہے ہوتے ہیں۔
تاہم ان کے مطابق یہ کہنا مشکل ہے کہ پاکستان کی اس اثر و رسوخ کی مہم کا کوئی اثر پڑا یا نہیں۔ ’انڈیا کی بھی اسی وقت اپنی الگ اثر و رسوخ کی مہم جاری تھی اور امریکہ بنیادی طور پر صرف جنگ بندی اور تنازع کے سفارتی حل کی طرف کام کر رہا تھا۔ لہٰذا، بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ اس کوشش کے ذریعے پاکستان نے امریکی حمایت میں کوئی قابلِ ذکر کامیابی حاصل کی ہو۔‘
تاہمرضا رومی کے مطابق ان کوششوں کا سب سے نمایاں اثر پاکستان کے مؤقف کی تشہیر اور توجہ کے حصول کی صورت میں سامنے آیا۔ پاکستان نے یہ یقینی بنایا کہ واشنگٹن کے بااثر پالیسی حلقوں میں اس کے خدشات سنے جائیں اور جنوبی ایشیا میں ممکنہ بڑے تصادم کے خطرات اجاگر ہوں۔
’اس سے امریکہ کے سرکاری بیانیے میں امن اور جنگ بندی کی ضرورت پر زور دینے میں مدد ملی۔ تاہم فارا فائلنگز نے ایک غیر ارادی پہلو بھی سامنے لایا: اسلام آباد کی اندرونی تشہیر اور بیرون ملک دیے گئے دلائل کے درمیان فرق واضح ہو گیا۔‘
رضا کہتے ہیں کہ ’میرے خیال میں پاکستان نے مئی 2025 کے بحران کے دوران واشنگٹن کے ساتھ مؤثر اور بروقت سفارتی engagement کر کے قابلِ ذکر کامیابی حاصل کی۔ اسلام آباد نے اعلیٰ سطح پر رابطے برقرار رکھے، اپنے مؤقف کو واضح طور پر امریکی پالیسی ساز حلقوں تک پہنچایا اور یہ باور کرانے میں کامیاب رہا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام عالمی مفاد کے لیے ناگزیر ہے۔‘
ان کے مطابق ان کوششوں سے بین الاقوامی سطح پر کشیدگی میں کمی کے لیے سازگار ماحول بنانے اور جنگ بندی کے پیغام کو تقویت ملی۔ اگرچہ لابنگ ہمیشہ فوری پالیسی تبدیلی کی ضمانت نہیں ہوتی، لیکن پاکستان نے توجہ کے حصول، مذاکراتی عمل کو زندہ رکھنے اور امریکہ کے ساتھ اپنے سٹریٹجک تعلق کی اہمیت اجاگر کرنے میں مثبت نتائج حاصل کیے۔ مجموعی طور پر یہ رابطے پاکستان کی سرگرم اور ذمہ دارانہ سفارت کاری کا مظہر تھے اور انھیں ایک تعمیری اور جزوی طور پر کامیاب سفارتی اقدام قرار دیا جا سکتا ہے۔
’اب پاکستان کی بات سُنی جا رہی ہے‘
واشنگٹن میں ڈان اخبار سے وابستہ صحافی انور اقبال کہتے ہیں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان، جسے ایک زمانے میں واشنگٹن میں نظرانداز کیا جاتا تھا، اب وہاں اس کی بات سنی جا رہی ہے۔ میڈیا میں پاکستان کی آواز دکھائی دے رہی ہے اور کانگریس میں بھی اس کی موجودگی محسوس کی جا رہی ہے۔ اس کے مقابلے میں انڈیا کو اب بھی خاصی ترجیح حاصل ہے اور واشنگٹن میں ایک مسلسل مقابلہ چل رہا ہے۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ’میں دیکھ رہا ہوں کہ پاکستان کے اپوزیشن گروپس جو بہت فعال تھے، اب پی ٹی آئی کے حمایتی بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس وقت ایمبیسی میں ہونے والی تقریبات میں امریکی سینیئر حکام کی شمولیت اور بات چیت کا آغاز، اس بات کا اشارہ ہے کہ واشنگٹن میں یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کا پاکستان کے حوالے سے رویہ درست نہیں تھا۔‘
انور اقبال کا ماننا ہے کہ ’پینٹاگون ہمیشہ سے پاکستان کے ساتھ رہا ہے اور ٹرمپ انتظامیہ میں بھی یہ تعلق برقرار رہا۔ تاہم واشنگٹن میں اب یہ سمجھا جا رہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کمی بیشی ہو سکتی ہے مگر اسے مکمل طور پر نظرانداز کرنا بالکل غلط ہو گا۔ انڈیا کے ساتھ بہتر تعلقات کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات مستحکم ہوں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ پینٹاگون ہمیشہ سے پاکستان کی اہمیت کو سمجھتا رہا ہے اور اب یہ واضح ہو رہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کے دوران نظرانداز کیے جانے کے باوجود، لابنگ اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی میں تبدیلی نے پاکستان کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔
انور اقبال کا کہنا ہے کہ واشنگٹن میں یہ بھی محسوس کیا گیا ہے کہ پاکستان زیادہ آسانی سے تعاون پر آمادہ ہے اور اس لیے اب یہاں (واشنگٹن میں) سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔ انڈین لابی اور ڈایسپورہ کے کچھ گروپس اب ہمارے اقدامات اور صورتحال کے بارے میں بار بار سوال کر رہے ہیں۔ کسی زمانے وہ ہم سے ملنے سے گریز کرتے تھے مگر اب وہ جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔
انور کا ماننا ہے کہ پاکستان کی لابنگ کوششوں کا بھی اثر ہے مگر واشنگٹن میں سوچ اور رویے میں تبدیلی نے اس عمل کو مزید مؤثر بنایا ہے۔
اس بارے میں سابق سفیر عبدالباسط کا کہنا ہے کہ ’یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اسلام آباد نے اپنی کہانی کافی حد تک مؤثر انداز میں پیش کی۔‘
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں کہ انڈیا اب بھی پاکستان کے بیانیے کا مؤثر طور پر مقابلہ کرنے میں دشواری محسوس کر رہا ہے۔‘
ڈونلڈ ٹرمپ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ’دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہنے والی ملاقات‘ جس میں آئی ایس آئی سربراہ بھی موجود تھے ’انسداد دہشت گردی کے شعبے میں پاکستان قابلِ اعتماد پارٹنر ہے، آرمی چیف عاصم منیر نے کال کر کے بتایا کہ ہم نے جعفر کو گرفتار کر لیا‘: امریکی سینٹ کام چیف’لاتعلقی کے بعد ثالثی‘: ’ڈیل میکر‘ ٹرمپ انڈیا اور پاکستان سے کیا چاہتے ہیں؟’پاکستانی بہت اچھی مصنوعات بناتے ہیں‘: ٹرمپ پاکستان اور انڈیا سے کن شعبوں میں تجارت کر سکتے ہیں؟شہباز شریف اور عاصم منیر سے ملاقات کے دوران ٹرمپ کے کوٹ پر لگی ’لڑاکا طیارے کی پن‘ سے جڑے سوال اور جوابٹرمپ اور آرمی چیف عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں ’غیر معمولی‘ ملاقات: ’اسے صرف ایران اور اسرائیل کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے‘