فرانس کی وہ یونیورسٹی جہاں جاسوس بنائے جاتے ہیں: ’میں اپنے سٹوڈنٹس میں سے زیادہ تر کا اصلی نام تک نہیں جانتا‘

بی بی سی اردو  |  Jan 07, 2026

BBCیہ ڈپلومہ کرنے کے لیے فرانس کی خفیہ ایجنسی کے اہلکار بھی آتے ہیں

یونیورسٹی کے پروفیسر زاویے کریٹیے اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اپنے طالبعلموں میں سے زیادہ تر کا اصلی نام نہیں جانتے۔

سننے میں یہ عجیب سی بات لگتی ہے کہ کسی کلاس میں اُستاد کو اپنے زیر تعلیم ’طلبا‘ کا اصل نام ہی معلوم نہ ہو۔ لیکن پروفیسر کریٹیے کا کام بھی تو عام نہیں ہے۔ وہ فرانس کے جاسوسوں کو تربیت دیتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’جن انٹیلیجنس ایجنٹس کو کورس پر بھیجا جاتا ہے، میں اُن کا پس منظر کم ہی جانتا ہوں، مجھے شک ہے کہ جو نام مجھے بتائے جاتے ہیں شاید وہ بھی اصلی نہ ہوں۔‘

اگر آپ جاسوسی کی تعلیم حاصل کرنے سے متعلق کوئی سکول بنانا چاہتے ہیں تو پیرس کے مضافات میں ’سائنسز پو‘ کا کیمپس اس کے لیے مثالی جگہ ہے۔

20 ویں صدی کے اوائل میں بنائی گئی یہ عمارت، اس پر چھائی اداسی، یہاں کی مصروف مگر بے رنگ سڑکیں، اور ڈراؤنے نظر آنے والے بڑے بڑے دھاتی دروازے، اس جگہ کو مزید پراسرار بناتے ہیں۔

لیکن یہاں کی سب سے الگ بات وہ انوکھا ڈپلومہ ہے، جسے حاصل کرنے کے لیے عام طلبا کے علاوہ فرانس کی خفیہ ایجنسی کے اہلکار بھی آتے ہیں۔

اس کورس کا نام ’Diplôme sur le Renseignement et les Menaces Globales‘ ہے جس کا سادہ زبان میں مطلب ہے ’انٹیلیجنس اور عالمی خطرات‘ ڈپلومہ۔

یونیورسٹی نے یہ کورس فرانس کی سیکرٹ سروسز کے تربیتی ادارے کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے۔

یہ کورس فرانسیسی حکام کی درخواست پر ایک دہائی پہلے شروع کیا گیا تھا۔ سنہ 2015 میں پیرس میں ہوئے بڑے دہشت گرد حملوں کے بعد حکومت نے فرانسیسی خفیہ اداروں میں بڑے پیمانے پر بھرتیاں شروع کی تھیں۔

’سائنسز پو‘ فرانس کی چوٹی کی یونیورسٹیوں میں سے ایک ہے۔ فرانسیسی حکومت کی جانب سے اس یونیورسٹی سے ایسا کورس تیار کرنے کے لیے کہا گیا جو نئے جاسوسوں کے ساتھ ساتھ خفیہ اداروں میں موجود تجربہ کار ایجنٹس اور اہلکاروں کو بھی مستقل بنیادوں پر تربیت فراہم کرے۔

جلد ہی فرانس کی بڑی کمپنیاں بھی اپنے سکیورٹی سٹاف کی بہتر تربیت کے لیے اس کورس میں دلچسپی لینے لگیں۔

BBCپروفیسر زاویے کریٹیے کہتے ہیں کہ مالی جرائم سے نمٹنا اب جاسوسوں کی اہم ذمہ داری بن چکا ہے

ڈپلومہ کے لیے چار ماہ کے دوران 120 گھنٹے تک کلاس کا کام کرنا ہوتا ہے اور اس ڈپلومے کی فیس لگ بھگ فیس پانچ ہزار یورو ہے۔

کورس کا بنیادی مقصد اس بات کی تربیت دینا ہے کہ جہاں کہیں خطرہ ہو اس کی نشاندہی کی جائے، اس کا سراغ لگایا جائے اور اس پر قابو پایا جائے۔ کورس کے اہم موضوعات میں منظم جرائم، اسلامی جہاد ازم، کاروباری مقاصد کے لیے انٹیلیجنس جمع کرنا، اور سیاسی تشدد وغیرہ شامل ہیں۔

میں اس کورس کی کلاسوں میں شرکت اور وہاں زیر تعلیم طلبا سے بات کرنا چاہتا تھا۔ اور اسی غرض سے پہلے فرانسیسی سکیورٹی اداروں نے میری جانچ پڑتال کی۔ میں جس کلاس میں شامل ہوا اُس کا عنوان تھا ’انٹیلیجنس اور ٹیکنالوجی پر ضرورت سے زیادہ انحصار۔‘

جن طلبا سے میں نے بات کی، اُن میں ایک 40 سالہ شخص بھی تھا جس نے خود کو راجر کے نام سے متعارف کروایا۔

اپنے انتہائی مختصر جواب میں انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ بینکار ہیں۔ ’میں مغربی افریقہ میں سرمایہ کاری کے حوالے سے مشورے فراہم کرتا ہوں اور کورس میں اس لیے شامل ہوا ہوں تاکہ اپنے صارفین کے لیے خطرات کا جائزہ لے سکوں۔‘

وہ جاسوس جو دوسری عالمی جنگ کے کئی مشکل محاذوں سے بچ نکلیں لیکن اپنے سابق عاشق کے ہاتھوں ماری گئیںایران کے اعلیٰ ترین حلقوں تک مبینہ رسائی رکھنے والی کیتھرین شکدم اسرائیلی جاسوس یا تجزیہ کار؟کلبھوشن سے پہلے کتنے جاسوس؟معاشقوں اور سیاسی رہنماؤں پر نظر رکھنے والی خواتین جاسوس: ’ہمارا کام دلچسپ ہے اور خطرناک بھی‘

پروفیسر کریٹیے کہتے ہیں کہ حالیہ برسوں میں فرانس کے خفیہ اداروں میں توسیع ہوئی ہے اور اب 20 ہزار ایجنٹس اُس جگہ پہنچ چکے ہیں، جسے پروفیسر کریٹیے’اِنر سرکل‘ کہتے ہیں۔

یہُانر سرکل‘ دو اداروں سے مل کر بنتا ہے۔ DGSE بیرون ملک سے متعلقہ معاملات دیکھتا ہے اور یہ برطانوی خفیہ ایجنسی ’ایم آئی سکس‘ یا امریکی ’سی آئی اے‘ کے برابر ہے۔ جبکہ DGSI برطانیہ کی ’ایم آئی فائیو‘ یا امریکہ کی ’ایف بی آئی‘ کی طرح فرانس کو درپیش اندرونی خطرات پر توجہ دیتا ہے۔

پروفیسر کریٹیے کے مطابق یہ صرف دہشت گردی کے بارے میں نہیں ہے۔ ’سیکیورٹی کے دو بڑے ادارے تو ہیں ہی لیکن Tracfin نامی انٹیلیجنس ایجنسی بھی ہے جو منی لانڈرنگ جیسے معاملات کو دیکھتی ہے۔ یہ ایجنسی مافیا کی بڑھتی سرگرمیوں میں الجھی ہوئی ہے۔ سرکاری اور نجی شعبوں میں بدعنوانی کے معاملات بھی یہی ایجنسی دیکھتی ہے۔‘

ماسکو میں موجود DGSE کے افسر، لیبیا میں فرانس کے سابق سفیر اور Tracfin کے سینیئر افسر بھی اس کورس کے دیگر اساتذہ میں شامل ہیں۔ فرانس کی بڑی توانائی کمپنی ای ڈی ایف میں سکیورٹی کے سرابراہ بھی اس کورس کا ایک ماڈیول پڑھاتے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ اس ڈپلومہ میں فرانس کے نجی شعبے کی دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے اور دفاع اور خلائی ہوا بازی (ایروسپیس) جیسے شعبوں میں کام کرنے والے بڑے کاروباری ادارے بھی اس کا حصہ بن رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ فرانس میں پُرتعیش مصنوعات بنانے والے ادارے بھی یہ ڈپلومہ کرنے والوں کو بھرتی کرنا چاہتے ہیں کیوںکہ انھیں سائبر سکیورٹی، جاسوسی اور تخریب کاری جیسے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔

حال ہی میں کورس مکمل کرنے والے طلبا کو فرانسیسی موبائل فون سروسز فراہم کرنے والی کمپنی اورنج، دفاع اور ایروسپیس کی بڑی کمپنی تھیلز، اور لوئی وٹاں، ڈایور(Dior) جیسے برانڈز کی مالک کمپنی LVHM نے ملازمتیں دی ہیں۔

اس سال کی کلاس میں 28 طلبا داخل ہیں جن میں سے چھ حاضر سروس جاسوس ہیں۔ آپ آسانی سے پہچان سکتے ہیں کہ کون جاسوس ہے! وہ طلبا جو کلاس میں وقفوں کے دوران دیگر طلبا سے الگ ہو کر اکٹھے کھڑے ہوتے ہیں اور جب میں اُن کی قریب جاؤں تو انھیں زیادہ خوشی نہیں ہوتی!

اپنا اصل کردار بتائے بغیر اُن میں سے ایک نے کہا کہ دفتر کے کام میں ترقی پانی ہو تو اس کورس سے مدد لی جا سکتی ہے۔ ایک اور نے بتایا کہ اس تعلیمی ماحول میں انھیں نئے خیالات ملتے ہیں۔ کلاس میں حاضری لگاتے ہوئے وہ اپنے نام کا صرف پہلا حصہ لکھتے ہیں۔

ایک نوجوان طالبعلم 21 سالہ الیگزینڈرے ہیوبرٹ کہتے ہیں کہ وہ یورپ اور چین کے درمیان بڑھتی معاشی جنگ کو بہتر انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ُخفیہ معلومات جیمز بانڈ جیسی سوچ سے جمع نہیں ہوتیں، اصل کام خطرے کا تجزیہ کرنا اور اس سے نمٹنے کا طریقہ سوچنا ہے۔‘

21 سالہ ویلنٹائن گیو بھی اسی کلاس کی طالبہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں فرانس کے جاسوسی ٹی وی ڈرامہ’لی بیورو‘ نے متاثر کیا۔ ’یہاں آ کر اس دنیا کو دریافت کرنا ایک شاندار تجربہ تھا، جس کے بارے میں میں ٹی وی سیریز کے علاوہ کچھ نہیں جانتی تھی۔ اب میں سیکرٹ سروس میں بھرتی ہونے کی شدت سے خواہشمند ہوں۔‘

Sciences Po Saint-Germainحال ہی میں لی گئی کلاس کی ایک تصویر، ان طلبا نے کیمرے کی طرف پیٹھ کر رکھی ہے جو پہلے ہی باقاعدہ جاسوس ہیں

کلاس میں تقریباً نصف طالبات (خواتین) ہیں۔ جاسوسی میں ٹیکنالوجی استعمال کرنے کے ماہر استاد سبسٹیئن لارینٹ بتاتے ہیں کہُانٹیلیجنس کے میدان میں خواتین کی دلچسپی ایک نیا رجحان ہے۔ خواتین کی دلچسپی کی وجہ یہ ہے کہ ان کے خیال میں اس سے دنیا بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ ان تمام نوجوان طلبا میں کوئی ایک بات مشترک ہے تو وہ ان کا جذبہ حب الوطنی ہے۔‘

اس کورس میں داخلہ لینے کے لیے فرانسیسی شہری ہونا ضروری ہے۔ اگرچہ کچھ دوہری شہریت رکھنے والوں کو بھی داخلہ دیا جاتا ہے۔

تاہم پروفیسر کریٹیے کہتے ہیں کہ انھیں محتاط رہنا پڑتا ہے۔ ’مجھے نہایت پُرکشش اسرائیلی اور روسی خواتین کی درخواستیں باقاعدگی سے موصول ہوتی ہیں، اُن کے سی وی شاندار ہوتے ہیں۔ اس بات پر حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ درخواستیں فوراً ہی مسترد کر دی جاتی ہیں۔‘

کلاس کا ایک گروپ فوٹو حال ہی میں لیا گیا ہے۔ آپ فوراً پہچان سکتے ہیں کہ کون سے طلبا باقاعدہ جاسوس ہیں، کیوںکہ انھوں نے کیمرے کی طرف پیٹھ کر لی تھی۔

میں جتنے بھی طلبا اور جاسوسوں سے ملا، سبھی دبلے پتلے اور کسرتی جسم والے تھے، لیکن پروفیسر کریٹیے یہ بھی چاہتے ہیں کہ جیمز بانڈ جیسی مہم جوئی کا تصور ختم کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’نئے بھرتی ہونے والوں میں سے کم ہی فیلڈ میں جائیں گے، فرانسیسی خفیہ اداروں کی زیادہ تر نوکریاں دفتر میں بیٹھ کر ہی کرنا ہوتی ہیں۔‘

پانی میں بم کو ناکارہ بنانے کے ماہر وہ جاسوس جن کی پراسرار گمشدگی برسوں بعد بھی معمہ ہےجاسوسی سے جنگل میں موت تک: برطانوی جاسوس جس کی زندگی جیمز بانڈ کے کردار کی تخلیق کی بنیاد بنیچین برطانیہ سمیت دنیا بھر میں کیسے جاسوسی نیٹ ورکس چلا رہا ہے؟سوویت یونین کا دیا تحفہ جو برسوں تک امریکہ کی جاسوسی کرتا رہا
مزید خبریں

Disclaimer: Urduwire.com is only the source of Urdu Meta News (type of Google News) and display news on “as it is” based from leading Urdu news web based sources. If you are a general user or webmaster, and want to know how it works? Read More